اپنے بچوں کو تجوید کے قواعد کے مطابق پڑھوانے کے لیے رابطہ کیجیے!
Wasal Tariq
Online Quran academy
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Online Quran academy, Education, Abbottabad.
A golden opportunity for people of all ages, now sitting at home in a safe environment to educate themselves and their children according to the rules of Tajweed, reciting the Holy Quran etc.
03/07/2023
{ نضر بن حارث بن کلدہ اور سویڈن۔۔۔۔۔ }
نضر بن حارث بن کلدہ مکہ کا ایک اسلام دشمن سردار تھا؛ تجارت اس کا پیشہ تھا؛ امیر آدمی تھا؛ گاہے بگاہے تجارتی سرگرمیوں کی غرض سے دوسرے ممالک کے دورے کرتا رہتا؛ انتہائی بدکردار اور ننگی ذہنیت کا حامل ناپاک شخص؛ ابوجھل کی طرح اسلام کا کٹر دشمن۔
اس نے اپنے قبحہ خانے میں زر خرید لونڈیاں رکھی ہوئی تھیں؛ جوں ہی اسے کسی ایسے شخص کے بارے میں خبر ملتی جس کا دل اسلام کی طرف مائل ہوا ہو؛ یہ اس کی جانب اپنی کسی لونڈی کو طوائفہ کے روپ میں بھیج دیتا؛ طوائفہ اسے اپنی قاتل اداؤں کے سحر میں جکڑ لیتی؛ اسے اپنے لمس کی گرمی سے نوازتی؛ اس پر جان چھڑکتی؛ سریلی آواز میں گیت سناتی رقص کرتی؛ یوں وہ شخص واپس پلٹ جاتا؛ یہ سب جانتے بوجھتے انتہائی منصوبہ بندی کے تحت کیا جاتا۔
یہ شخص صرف اسی پر بس نہیں کرتا؛ اس نے عجمیوں کے قصے کہانیوں پر مشتمل چند کتابیں خرید رکھی تھیں؛ یہ مکہ کے لوگوں کو جمع کرتا اور انہیں رستم، اسفندیار اور فارس کے بادشاہوں کے قصے سناتا؛ یہ ان سے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کہتا: سنو لوگو۔۔۔!! دیکھو!! محمد ( صلی اللّٰہ علیہ وسلم ) تمہیں عاد و ثمود کے قصے کہانیاں سناتا ہے اور میں تمہیں رستم، اسفندیار اور فارس کے بادشاہوں کے قصے کہانیاں سناتا ہوں؛ جو وہ سناتا ہے وہ تو میں بھی سناتا ہوں۔ ( نعوذ باللہ من ذالک )
لوگوں کو قرآن پاک سے دور کرنے میں یہ شخص اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا؛ اس کے ان تماشوں کی مذمت میں قرآن پاک کی یہ آیت نازل ہوئی:
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ ﳓ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًاؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ ( پارہ نمبر: 21، سورہ لقمان، آیت نمبر: 06 )
ترجمہ:
اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں تاکہ بغیر سمجھے الله کی راہ سے بہکادیں اورانہیں ہنسی مذاق بنالیں ۔ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔
قرآن پاک کی پیش گوئی حرف بحرف سچ ثابت ہوئی؛ یہ شخص غزوہ بدر میں کفار کا علم بردار تھا؛ دوران جنگ
قید کرلیا گیا؛ اس کے جرائم کی فہرست اس قدر طویل تھی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اسے مدینہ روانگی کے دوران وادی صفراء میں قتل کرڈالنے کا حکم صادر فرمایا؛ یوں اس گستاخ نے دنیا میں بھی ذلت کے عذاب کا مزہ چکھا اور آخرت کا عذاب تو ہے ہی ان بدکرداروں کے لیے۔
سویڈن میں سرکار کی آشیر باد سے قرآن پاک کی بے حرمتی کا واقعہ ہو یا مذہبی تعصب میں ہر حد پار کرجانے والی باقی شیطانی قوتیں۔۔۔۔۔۔ان سب کا انجام نضر بن حارث بن کلدہ کے انجام جیسا ہی ہوگا؛ دنیا میں بھی ذلت اور رسوائی آخرت میں بھی ذلت اور رسوائی۔
قرآن کی عظمت پہلے بھی تھی، اب بھی ہے، اور یوں ہی
تا قیامت رہے گی۔
سب فنا، رہے نام اللّٰہ کا۔
#شعور
وصال طارق
01/07/2023
01/07/2023
{ یہ سب ہمارے باپ دادا کی زمین تھی پر اب۔۔۔۔۔ 😭 }
یہی کوئی چار سال پہلے کی بات ہے؛ تب پرائیویٹ جاب تھی؛ ہم لوگ کالا پل ایبٹ آباد سے ملحقہ علاقے "" میاں دی سیری "" میں رہائش اختیار کیے ہوئے تھے؛ 2007 میں جب لال مسجد کا دل خراش واقعہ رونما ہوا تو میں جامعہ فریدیہ کو الوداع کہ کر جامعہ صدیقیہ ( میاں دی سیری ) میں داخل ہوگیا۔
میاں دی سیری سرسبز نوکیلے پہاڑ کے دامن میں واقع ہے؛ اس زمانے میں یہ کسی گاؤں کی طرح کا ہی ایک گاؤں تھا؛ زراعت، کھیتی باڑی اور مال مویشی پالنا، رکھنا مقامی لوگوں کے مشاغل تھے؛ اکثر جگہ خالی پڑی تھی البتہ بعض جگہوں پر نئی نئی پلاٹنگ ہوئی ہوئی تھی۔
کل کی بات ہے؛ باتوں باتوں میں ایک جاننے والے کہنے لگے: ہمارے پاس ایک پارٹی آئی تھی؛ پٹھان لوگ تھے؛ انہیں دس مرلہ زمین چاہیے تھی؛ ہم نے کہا: فی مرلہ پانچ لاکھ
روپے۔
میں حیرت زدہ نظروں سے ان کی جانب دیکھ رہا تھا؛ میری نگاہوں کے سامنے اس خاتون کے آنسو آگئے جس کے گھر کھانے کو کچھ نہیں تھا اور وہ ہمارے پاس ہزار روپیہ ادھار لینے آئی ہوئی تھی؛ اس کی گفتگو میں غربت، حسرت اور افسوس کے ساتھ ماضی کے تلخ تجربات کا بیان تھا؛ کہنے لگی: یہ جو کوٹھیاں، بنگلے آپ کو نظر آرہے ہیں ناں۔۔۔۔؟؟ یہ ہمارے باپ دادا کی زمین تھی جو انہوں نے
اپنے وقتوں میں غیر مقامی افراد کو بیچ ڈالی تھی۔میں
نے پوچھا: زمین کی فروخت سے ملا پیسہ کہاں گیا۔۔۔۔؟؟ وہ سب تو ایسے ہی اڑا دیا گیا؛ یہی اس کا جواب
تھا۔
میں نے دیکھا غیر مقامی افراد کی زندگی میں روشنی ہی روشنی ہے؛ پکی گلیاں، خوبصورت گھر، گاڑیاں، روزگار اور معتدل ہوا کے پر لطف جھونکے؛ کیا نہیں جو ان کے پاس نہیں۔۔۔۔؟؟
رہی بات مقامی آبادی کی تو غربت اور افلاس ان کے گھروں میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں؛ مایوسی، حسرت اور افسوس ان کی دیواروں سے لگ کر انہیں ان کی غلطی کا احساس دلاتے ہیں پر اب پانی سر سے گزر چکا؛ ان کے جھونپڑی نما گھر ان کے باپ دادا کے غلط فیصلوں کا اعتراف ہیں نصیحت ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ہر اس شخص کے لیے نصیحت جو اپنی قیمتی زمین بیچ کر لمحوں میں ہی امیر ہونے کے خواب دیکھ رہا ہے۔
لمحوں میں ہی امیر ہونے کے خواب۔
#شعور
وصال طارق
30/06/2023
{ اچھا انسان، پاکستان اور یورپ }
رواں ہفتے ہی کی بات ہے؛ میں کیری ڈبہ کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھا ڈرائیور سے ہی محو گفتگو تھا کہ اس کی نظر شاہ صاحب پر پڑی؛ شاہ صاحب بہت اچھے انسان ہیں؛ پہلے ٹریفک پولیس میں تھے اب عام پولیس میں ہیں؛ ہمارا ہمیشہ خیال رکھا۔۔۔۔۔۔۔
میں نے اس کی گفتگو سنی تو مجھے اس معاشرے کے اچھے انسان اور یورپ کے اچھے انسان کے مابین واضح فرق محسوس ہوا۔
اب یہ مت کہیے گا کہ: آپ کب یورپ سے ہو آئے۔۔۔۔۔؟؟ بھائی یہ دور میڈیا کی ترقی کا دور ہے یہاں کسی سے کچھ ڈھکا چھپا نہیں؛ پل بھر میں خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی ہے جو دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے، یہ تو پھر بھی اچھے انسان کی بات ہے۔
یہاں کا اچھا انسان مفادات سے وابستہ ہے؛ جس انسان سے اس معاشرے کے مفادات کی دیگ چڑھتی ہو وہی اچھا انسان ہے خواہ اس دیگ میں زہر ملا دیا گیا ہو، معاشرے کی تباہی و بربادی کا زہر۔
کمزور معاشرے میں حق پرست، سچے، ایماندار اور فرض شناس انسان کو لوگ گالیاں دیتے نہیں تھکتے؛ ایسا انسان ہر ایک کی آنکھ میں چبھتا ہے کیونکہ! اس کے ہاں لوگوں کے ناجائز مفادات کی دیگیں نہیں چڑھتیں۔
یورپ کا اچھا انسان واقعی میں اچھا انسان ہے؛ وہ قول و فعل میں سچا، عمل میں کھرا، کام میں مخلص، ایماندار اور دیانت دار؛ اسے کسی انسان کے مفادات سے بڑھ کر اپنے ملک کا مفاد عزیز ہے؛ وہ اپنی ذات سے زیادہ اپنی مٹی کا بیٹا ہے؛ اسے اپنے ملک کی ترقی اور خوشحالی کی فکر ہے اور بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہی فرق ہے پاکستان اور یورپ میں۔
#شعور
وصال طارق
27/06/2023
{ لوگ کہتے رہتے ہیں بس آپ۔۔۔۔۔۔۔}
بعض لوگوں کو لگتا ہے میں نے گاؤں میں رہائش رکھ کر اپنے بچوں کا مستقبل تباہ کر ڈالا ہے؛ مجھے حیرت ہوتی ہے ان کی سوچ پر؛ سکول کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا؛ تربیت ماحول اور نصیب بڑا ہوتا ہے۔
سکول خوبصورت بلڈنگ، اعلیٰ تعلیم یافتہ سٹاف، بہترین سہولیات اور مہنگی فیسوں سے والدین کا خون پسینہ نچوڑنے والے سرمائے دار کا نام نہیں؛ سکول نام ہے ماضی کا حال کا مستقبل کا؛ جس سکول کا ماضی چالیس سال پر محیط ہو اور کامیابی نوے فیصد وہی اصل سکول کہلانے کا مستحق ہے۔
ممکن ہے آپ کو میری بات مضحکہ خیز لگے پر اپنی اوقات سے بڑھ کر اخراجات کا ٹرینڈ والدین کا حال ہی نہیں مستقبل بھی تباہ کر ڈالتا ہے۔
مہنگے پرائیویٹ سکولز کے بچے اخلاقی طور پر نحیف، جسمانی خدوخال کمزور، احساسِ ذمہ داری کا فقدان اور والدین کی خدمت کے جذبے سے محروم ہوتے ہیں۔
اولاد والدین کا فخر ہوتی ہے؛ جو اولاد بوڑھے ماں باپ کی قدر سے نابلد ہو بڑھاپے میں کیا اس کا اچار ڈالنا ہے۔۔۔۔۔۔؟؟
دوسروں کی نقالی میں اپنی خوشیاں برباد ناں کریں! وہ کریں جو آپ کے لیے آپ کی فیملی کے لیے اچھا ہو! لوگ کیا کہتے ہیں کیا سوچتے ہیں اس بات کی جانب دھیان ہی ناں پڑے۔
بچوں کو ذمہ داری قبول کرنا سکھائیں! بچے اگر ذمہ دار ہوں گے تو وہ خود ہی اپنی جگہ بنا لیں گے اپنا مقام پیدا کرلیں گے۔
دوسروں سے مقابلہ ناں کریں! اپنی اولاد کی نیک تربیت پر غور کریں! اولاد نیک ہوگی تو سکون ہوگا ورنہ ہاتھ ملتے ملتے سانس نکل جائے گی پر اولاد کا سکھ نصیب ناں ہوگا۔
#شعور
وصال طارق
22/06/2023
{ سگریٹ نہیں کمیٹی }
آپ سگریٹ نوش ہیں؛ سگریٹ پیتے ہیں اور بے تحاشا پیتے ہیں؛ اس کے بغیر آپ کا جینا دوبھر ہے؛ کھانا کھانے سے قبل سگریٹ، کھانا کھانے کے بعد سگریٹ؛ چائے نوش کرنے سے قبل سگریٹ، چائے نوش کرنے کے بعد سگریٹ؛ واشروم جانے سے قبل سگریٹ واشروم جانے کے بعد سگریٹ۔آپ کو لگتا ہے اس کے بغیر جینا مشکل ہے۔
حالانکہ۔۔۔!! ایسا بلکل بھی نہیں ہے؛ انسان جس چیز کا قصد کر لے اسے حاصل کر ڈالتا ہے؛ یہ سب شیطان کے بھڑکاوے ہیں اور کچھ نہیں۔
آپ مسلمان ہیں؛ روزے تو رکھتے ہی ہیں ناں۔۔۔۔؟؟ کیا رمضان میں سگریٹ پیتے ہیں۔۔۔۔۔؟؟ نہیں ناں۔۔۔۔!! تب سگریٹ کے بغیر کیسے جی لیتے ہیں۔۔۔۔۔؟؟
کبھی آپ نے سوچا۔۔۔۔؟؟ یہ آپ کے جسم کا دشمن ہی نہیں مال کا بھی دشمن ہے؛ منھ کا کینسر، پھیپھڑوں کی تباہی، معدے کا ستیاناس تو آپ جانتے ہی ہیں پر گھبراتے نہیں؛ اس امید پر کہ دو دن کی زندگی ہے مزے سے جی لو۔۔۔۔!! کبھی دیکھا اس شخص کو جو بیمار ہو اور رات بھر درد کی شدت سے کراہتا ہو۔۔۔۔۔؟؟ اس کے لیے ایک ایک لمحہ کٹنا کتنا دشوار ہوتا ہے کتنا کٹھن۔۔۔۔۔؟؟
اچھا چھوڑیے!!
آپ پیسہ کماتے ہیں؛ اس کے لیے دن رات ایک کرتے ہیں محنت مشقت خون پسینہ؛ جانتے ہیں یہ کمبخت آپ کی جیب پر کتنا بڑا ہاتھ مارتا ہے۔۔۔۔۔؟؟
فرض کریں!!
آپ یومیہ سو روپے کے سگریٹ پی جاتے ہیں؛ ماہانہ تین ہزار ، سالانہ چھتیس ہزار؛ یعنی مڈل کلاس سرکاری ملازم کی ایک مکمل تنخواہ کے برابر؛ اگر مسلسل تین سال یونہی چلتا رہے تو ایک لاکھ آٹھ ہزار؛ اتنے پیسوں سے آپ کوئی چھوٹا موٹا کاروبار شروع کر سکتے ہیں۔
جی ہاں۔۔۔۔!! ریڑھی لگا سکتے ہیں؛ جوسر مشینیں خرید سکتے ہیں؛ گنا مشین لے سکتے ہیں؛ بائیک خرید کر ٹیوشنز لے سکتے ہیں؛ سواریاں بٹھا سکتے ہیں؛ کوئی ہلکا پھلکا بزنس کرسکتے ہیں؛ حتی کہ نصف تولہ سونا لیکر اپنی آمدن بڑھا سکتے ہیں۔
یہ سب تب ہی ہوگا جب آپ سگریٹ چھوڑ کر کمیٹی ڈالیں گے؛ بلکل! ڈالیں گے۔
#شعور
وصال طارق
عید قرباں پر اپنے سکول میں بچوں سے تقاریر کروائیے!! مناسب اجرت پر شاندار تقاریر ہم سے لکھوائیے!!
Contact: 0347-8481520 Wasal Tariq ( Urdu content creator and writer )
20/06/2023
{ گھپ اندھیرے میں تڑپتا دوست......... }
شام کا سورج ڈھل چکا تھا؛ رات اپنے جوبن پر تھی؛ آس پاس کی دنیا خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھی پر ہم۔۔۔۔۔۔۔۔پھوپھی زاد لڑکے کی شادی تھی؛ مہمانوں کا تانتا بندھا ہوا تھا؛ پھر رات کا فنکشن؛ دوستوں کی آمد، شرارتیں۔۔۔۔۔۔کب سوتے۔۔۔۔۔۔؟؟
حافظ صاحب!! ہم درجن بھر دوستوں کا ایک گروپ تھا؛ رات ساری سڑکوں پر آوارہ گردی کرتے گزر جاتی؛ ہر دوست کے پاس اپنا بائیک تھا؛ ون ویلنگ کا نشہ سر چڑھ کر بول رہا تھا؛ بے خوفی کا بھوت سوار تھا؛ پولیس کو ہم کسی خاطر میں لاتے ہی کب تھے۔۔۔۔۔۔؟؟
یونہی رات دن بے وقوفی کی نذر ہوتے گئے؛ ایک رات دامنِ کوہ کا پروگرام بنایا؛ خوب ہلہ گلہ کیا؛ موج مستی میں واپسی کی راہ لی؛ قدم زمین پر لگتے ہی نہیں تھے؛ شودہ پن اپنی انتہا پر تھا؛ جس جگہ کبھی مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا اسی کے اس جانب ایک موڑ ہے جس پر کافی سارے لوگ جمع تھے۔
میں نے اپنا بائیک روکا، اترا اور نیچے جنگل کی جانب افسردگی کے عالم میں دیکھتے لوگوں سے سوال کیا: نیچے کیا دیکھ رہے ہیں سب۔۔۔۔؟؟ کیوں، کیا ہوا۔۔۔۔۔؟؟ نیچے ایک بائیک والا اپنے بائیک سمیت گر گیا ہے؛ ان کا جواب تھا۔
حافظ صاحب!! مارگلہ کی پہاڑیاں کانٹے دار جھاڑیوں سے اٹی پڑی ہیں؛ چیتوں کا راج ہے؛ کئ بار ہم نے چیتوں کو لب سڑک دیکھا ہے؛ میں نے کہا: مجھے معلوم ہے؛ میں نے اسلام آباد میں آٹھ سال گزارے ہیں؛ وہاں کے چپے چپے پر میرے قدموں کے نشانات ہیں؛ جس جگہ کی آپ بات کر رہے ہیں وہاں کبھی ہم جون کی چلچلاتی دھوپ میں پہنچ جایا کرتے؛ اس زمانے میں چیتوں کی موجودگی کی کوئی شنید نہیں تھی؛ بے خوف بچپن میں ہم پیر سوہاوہ سے آتے پانی میں جی بھر کر ڈبکیاں لگاتے، سکون پاتے۔
گھپ اندھیرے میں کس کی ہمت جو اپنے آپ کو موت کے منھ میں دھکیل کر نیچے کانٹے دار جھاڑیوں سے الجھ بیٹھے۔۔۔۔۔؟؟ میں نے ہمت کی اور نیچے اتر گیا؛ پہلے بائیک پر نظر پڑی پھر گھپ اندھیرے میں کراہتی آوازوں کا پیچھا کیا؛ جھک کر دیکھا تو نعمان تھا؛ درد انگیز نالوں میں سانسیں حلق میں اٹکی ہوئیں؛ میں نے باقی دوستوں کو بھی بلوا لیا؛ نعمان ہمارے ساتھ ہی موج مستی میں بائیک دوڑاتا ہوا واپس لوٹ رہا تھا کہ اچانک رفتار پر قابو نہیں رہا اور سیدھا گہری کھائی میں جاگرا؛ رات ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں رہ کر صبح تڑپتا ہوا زندگی کی بازی ہار گیا۔
دوسرا واقعہ بھی سنیے!!
سنانے والا دلہا کا دوست تھا اور سننے والا ماموں زاد بھائی؛ حافظ صاحب!! ایک اور دوست کی عبرت ناک موت میری آنکھوں میں کھب کر رہ گئی ہے؛ F/10 اسلام آباد کی ایک سڑک پر آگے آگے سریا کی سلاخوں کو جھولے جھولاتی ٹرالی تھی اور پیچھے ہمارا ہی ایک دوست؛ رفتار اس قدر تیز کے قابو ہی نہیں رہا؛ موت اس قدر عبرت ناک کہ ٹرالی کے پیچھے جھولتی سلاخیں اس کے جسم سے پار ہوگئیں اور وہ سیخوں کی طرح لٹک کر رہ گیا؛ میرے لیے یہ منظر اس حد تک ہیبت ناک تھا کہ مجھے بائیک سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کنارہ کش ہونا پڑا؛ اب آٹھ سال ہو پڑے ہیں شادی کو؛ طبیعت میں بھی ٹہراؤ ہے؛ بائیک سے منھ موڑے برسوں گزر گئے؛ اپنی گاڑی ہے خوشی غمی میں وہی ہمسفر وہی ہمنوا۔
حافظ صاحب!! ( چہرے اور جسم کے نشانات دکھاتے ہوئے ) یہ دیکھیں! ان بے وقوف حرکتوں کے سبب کتنی چوٹیں کھائی ہیں میں نے؛ جسم کا شاید ہی کوئی حصہ بچا ہو جہاں کوئی ناں کوئی چوٹ ناں لگی ہو؛ ابو نے صاف صاف کہ دیا تھا: بس! اب بہت ہوگیا؛ روز کوئی ناں کوئی دوست تمہارا بائیک کے حادثے میں زندگی کی بازی ہار جاتا ہے ؛ اگلی باری تمہاری ہوگی؛ بائیک سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے منھ موڑ لو ورنہ اس قاتل کو میں لگا دوں گا۔
وہ دن اور آج بائیک سے ایسا منھ موڑا کہ پھر کبھی پلٹ کر اسے دیکھنا بھی گوارا ناں ہوا۔
شعور #
وصال طارق
18/06/2023
0347 8481520
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Abbottabad
Opening Hours
| Monday | 15:00 - 02:00 |
| Tuesday | 15:00 - 02:00 |
| Wednesday | 15:00 - 02:00 |
| Thursday | 15:00 - 02:00 |
| Friday | 15:00 - 02:00 |
| Saturday | 15:00 - 02:00 |
| Sunday | 09:00 - 00:00 |