1 Samuel 3:19
[19]And Samuel grew, and the LORD was with him, and did let none of his words fall to the ground.
Words of Eternal Life , Dr Anwar Zeshan Nathaniel Christian Apologist
Simon Peter answered him, "Lord, to whom shall we go?
You have the words of eternal life(John 6:68)
We are Defenders of the Christian Faith and We Got Mission to Tell the Nations that Jesus Christ is the Lord, He have Word of Eternal life.
15/12/2023
I've just reached 800 followers! Thank you for continuing support. I could never have made it without each and every one of you. 🙏🤗🎉
Walking with God
Heb. 11:5, Gen. 5:24
Enoch walk with God. Not ahead of God, not behind God but with God
I. It was a personal walk Jer. 29:11, Rom. 8:28
A. We must be conscious of God’s will
B. We must be cooperative to God’s will
C. We must be contributing to God’s will
II . It was an intimate walk Rom. 12:2, Rom. 8:29
A. It drives us closer to God
B. It defines our character like God
C. It display our consecration to God
III. It was a faithful walk Acts 20:24
A. There will be present temptations
B. There will be pressing obstruction
C. There will be proving determination
IV. It was a rewarded walk 2 Tim. 4:7-8
A. Life that loving not hating Lk. 6:35-37
B. Life that is serving not ruling Mt. 25:21
C. Life that is Spiritual not Carnal
Gal. 5:16
His life doesn’t only continue but he was a blessings to others
His life was mentioned very short yet very positive. He walk with God
05/08/2020
03/08/2020
A missionary to Africa told the story of an elderly woman who was reached with the gospel. Though she was blind and could neither read nor write, she wanted to share her new found faith with others. She went to the missionary and asked for a copy of the Bible in French. When she got it, she asked the missionary to underline John 3:16 in red and mark the page it was on so she could find it. The missionary wanted to see what she would do, so one day he followed her.
In the afternoon, just before school let out, she made her way to the front door. As the boys came out when school was dismissed, she would stop one and ask if he knew how to read French. When he said “Yes” she would ask him to read the verse that was marked in red. Then she would ask, “Do you know what this means?” and tell him about Christ.
The missionary said that twenty-four of the school boys that lady led to the Lord became pastors.
: Colossians and Philemon: The Supremacy of Christ, R. Kent Hughes
03/08/2020
:
ایک مِشنری جو افریکہ میں کلام کی خدمت سرانجام دیتا تھا۔ اس نے ایسی خاتون خادمہ کی شخصی گواہی بیان کی کہ کیسے لوگوں کو کلامِ خُدا بیان کرکے آسمان کی بادشاہی کےلیے روحیں جیتتی تھی۔
ایک اور عجیب بات یہ بھی تھی کہ وہ اندھی ہونے کےساتھ ساتھ پڑھنے لکھنے سے بھی قاصر تھی لیکن ایمان کے جذبے سے سرشار تھی اور بڑی دلیری سے نئے حاصل کردہ ایمان کی گواہی دیتی اور مسیح کے شخصی تجربہ کو دوسروں کے ساتھ بیان کرتی رہتی تھی۔
ایک دفعہ وہ کسی مِشنری کے پاس گئی اور اس سے ایک فرانسیسی بائبل مقدس دینے کی درخواست کی ۔ جب اسے فرانسیسی زبان میں بائبل مقدس مِل گئی تو اس نے مزید مِشنری سے درخواست کہ اگر ممکن ہو سکے تو مقدس یوحنا کے انجیلی بیان میں سے
3 : 16 کو لال رنگ سے رنگین کردیں اور کسطرح سے اُس صفحہ پر کوئی نشانی لگا دیں تاکہ مجھے تلاش کرنے میں دشواری نہ ہو۔
یہ سب کچھ جاننے کےبعد اس مِشنری کی دل میں خیال آیا کہ وہ ضرور اس خادمہ کو چھپ کرجاننے کی کوشش کریگا کہ وہ اس بائبل مقدس کو کہاں، کیسے ، کب اور کس کے ساتھ شئیر کرتی ہے۔ اور ایک دن وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوگیا اور دبے پاؤں اس خاتون کے پیچھے پیچھے چلتا رہا کہ وہ اس کو دیکھے کہ وہ کیا کرتی ہے۔
دوپہر کے قریب وہ ایک بوائز سکول کے دروزے کے پاس جاکر اس طرح بیٹھ گئی کے سکول سے نکلنے والے طالب علم اُسے آسانی سے دیکھ سکیں۔ جیسے ہی سکول کو چُٹھی ہوئی بوائز سکول سے باہر نکلنے لگے تو اس نے ایک نوجوان آواز دےکر بُلایا اور کہا کہ کیا وہ فرانسیسی زُبان پڑھنا جانتا ہے؟ اور جیسے ہی جواب ہاں میں آیا تو اُس نے جلدی سے لڑکے سے کہا کہ لال رنگ سے رنگین کی گئی آیت کوپڑھے جیسے ہی وہ لڑکا اس آیتِ مقدسہ کو مکمل کیا تو اس سے سوال کیا کہ کیا جو کچھ اس نے پڑھا ہے کیا اسے سمجھتا بھی ہے؟ یوں اس طرح ہر روز وہ مختلف لڑکوں کو خدا باپ کی محبت اور مسیح کے نجات بخش کفارے کے بارے میں بتاتی یوں یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا یوں وہ اندھی اور انپڑھ خادمہ چوبیس لڑکوں کو مسیح پاس لانے میں کامیاب ہوئی اور وہ چوبیس کے چوبیس لڑکے مِشنری بنے جو اس خاتون کے وسیلے سے مسیح کہ پاس آئےتھے۔
: Colossians and Philemon: The Supremacy of Christ, R. Kent Hughes
بہشت کی کنجیاں
جہنم کے خطرات
ہمیں اکثر خُطبات میں بہشت(جنت) اور جہنم (دوزخ) جنت اور دوزخ میں بتایا جاتا ہے اور یہ بھی فرمایا جاتا ہے دونوں جگہوں کی صورتحال کتنی خطرناک یا خوبصورت ہوگی اور اِن کا حصول کسی بھی شخص کے اپنے انتخاب اور چُناؤ پر انحصار کرتا ہے۔ ایک انگریزی کا محاورا ہے”ہمارے اِنتخاب ہمارےلئے یا تو مفید ہوسکتے ہیں یا گمبیر “ اگر آپ چاہتے کہ آپ خُدا کی بنائی گئی حسین و دلفریب بہشت کا لُطف اُٹھائیں تو اپنے اِنتخاب بدلیں، اپنی سوچ بدلیں اورتلاش کرنے کی کوشش کریں کہ ہم کیسے جنتِ دلفریب کو حاصل کریں ۔ اُس کی کُنجیاں کیسے حاصل ہوسکتی ہیں؟
اگرآپ کو بُرا نا لگے تو میں آپ سے کچھ شیئر کرنا چاہتا ہوں جو شائد آپ کے اِنتخاب میں مددگار یا مفید ثابت ہوسکتا ہے؟
اِس سے پہلے کہ میں وہ اِنتخاب آپکو بتاؤں ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا ۔ یہ دُنیا عارضی ہے اور اِسکی ہر ایک چیز جو ہمیں بہت حسین وجمیل لگتی ہے یہ بھی چند دِن کی ہیں۔ یوں کہہ لیجئے ہم اِس دُنیا میں پردیسی اور مسافر ہیں اور یہ ایک ایسے کانٹے دار جھاڑیوں کی مانند ہے جو کسی بھی مسافر کو اپنی لپیٹ میں لے سکتیں ہیں ۔ اِس دُنیا سے گزارتے ہوئے ہمیں بےحد احتیاط سے اپنے کپڑوں کی سمیٹ کرگزار ہوگا۔ ورنا اگر ہم اِن جھاڑیوں کی لپیٹ میں اگر آجاتے ہیں تو ہمیں اِس سے باہر نکلنے کی کوئی اُمید نظر نہیں آتی اور ہمیشہ کےلئے نااُمید اور پست ہوکر رہے جاتے ہیں۔ لیکن اگر ہم ٹھان لیں کہ ہم اِس دُنیا میں ایک پردیسی کی طرح ہیں اور ہم اپنے اِنتخابات پر غور کرنا اور ایک ایسی تلاش محوہوناہے جو ہمیں جنت الفردوس میں شامل کردے۔ اگر آپ عیسٰی المسیح کے بارے میں واقف ہیں تو وہ آپ کی مدد کرنے کو ہماتن تیار ہیں ۔ آپ کو صرف اُسے اپنی زندگی میں دعوت دینا ہوگی ۔ وہ فرماتے ہیں” آسمان اور زمین کا اِختیار میرے پاس ہے “ (متی28 : 16) اور پھر یہ بھی فرمایا کہ” راہ اور حق اور زندگی میں ہوں کوئی میرے وسیلے کہ بغیر خُداتعالیٰ کے پاس نہیں آسکتا “(یوحنا 14 : 6)۔
المسیح مزید بیان فرماتے ہیں ” … اول اور آخر میں ہوں۔ اور زندہ ہوں۔ میں مرگیا تھا اور دیکھ !ابدالاباد زِندہ رہونگا اور موت اور عالمِ ارواح کی کنجیاں میرے پاس ہیں“(مکاشفہ 1: 17۔18)۔ اگر ہم المسیح کو بطورِ نجات دہندہ اپنی زندگی میں دعورت دیں گے تو وہ ہرگز ہمیں شرمندہ نہیں ہونے دے گا کیونکہ آپ مسیح کے پاس بہشت کی کنجیاں ہیں اور صرف اُسی کے وسیلے سے ہم جنت الفردوس کو حاصل کرسکتے ہیں۔ المسیح کو اپنی زندگی میں دعوت کےلئے آپ صرف چند اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے جیسے میں ABC کے نام سے بیان کرتا ہوں۔
A: اے سے مراد Admit یعنی تسلیم کرنا۔ تسلیم کرناکہ آپ گناہگار ہیں یعنی آپ نے اپنی زندگی کےہر موڑ پر خُدا تعالیٰ کی پاک ذات کے خلاف گناہ کیاہے جب ہم اِنسان گناہ کرتے ہیں تو دراصل ہم خُدائے بُزرگ کے دُشمن ٹھہرتے ہیں کیونکہ خُدا تعالیٰ نےہمیں اس لئے تخلیق نہیں کیا کہ ہم گناہ کریں بلکہ اس لئے کہ ہم آپ کی پاک و پوتر ذات کی تعظیم و تعریف کریں لیکن گناہ ہمیں آپ کی ذاتِ پاوتر کے خلاف اُکستا ہے۔ اِسلئے اِنجیلِ مقدس میں مرقوم ہے۔ ” چونکہ سب نے گناہ کیا اور خُدا تعالیٰ کے ازلی جلال سے محروم ہوگئے “(رومیوں 3: 23) ۔ گناہ ہمیں خُدا سے جُدا یعنی الگ تھلگ کردیتا ہے اور ہم اُس کے جلیل والقدر مقام سے محروم ہوکر رہ جاتے ہیں۔
B: بی کے معنی ہیں Believe اگر آپ المسیح پر ایمان لائینگے اور اُسکو اپنی زندگی کا مالک اور آقا قبول کریں گے تو وہ آپ ہمیشہ کی زندگی کا وارث بنائیگا اور ہمیشہ کی گمبیر آگ سے جس کے بےشمار خطرات ہیں یعنی وہ آگ جو کبھی بجھنے کی نہیں اور جس کا کیڑا کبھی نہیں مرتا ، جہاں پر صرف رونا اور دانت پیسنا اور ہمیشہ کےلئے چیخ وپُکار ہے۔ مسیح پر ایمان لانا آپ کو ہمیشہ کےاطیمنان میں شامل کرسکتا ہے۔ جیسے کہ بیان کیا گیا ہے ” خُدا تعالیٰ نے دُنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اُس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جوکوئی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہوبلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے“ (یوحنا 3 : 16)۔ جب ہم المسیح کو اپنا شخصی نجات دہندہ قبول کرتے ہیں تو ہمیں اِن خصوصی نکات کو اپنے رکھنے کی ضرورت ہے کہ: المسیح ہمارے گناہوں کے مصلوب ہوئے ، مرگئے، دفن ہوئے اور تیسرے دن مرُدوں میں سے جی اُٹھے۔ اور پھر آسمان پر زندہ اُٹھا لئے گئے اور وہاں سے پھر زندوں اور مردوں کی عدالت کرنے کو آنے والے ہیں جب ہم اِ ن باتوں کو اپنے سامنے رکھتے ہیں تب ہی ہم اُسے قبول کرپاتے ہیں۔
C: سی کے معنی ہیں Confess یعنی اقرار کرنا دوسرے معانوں میں اِسے توبہ بھی کہا جاتا ہے ۔ اِنجیلِ مقدس میں رقم ہے” توبہ کرؤ اور رجوع لاؤ تاکہ تمہارے گناہ مِٹائے جائیں اور اسطرح خُدا تعالیٰ کی طرف تمہارے لئے تازگی کہ دِن آئیں“ (اعمال 3 : 19 )۔ مزید یہ تحریر کیا گیا ہے کہ ” اگر ہم اپنے گناہوں کا اقرار کریں تو ہمیں معاف کرنے اور ہمیں ساری ناراستی سے پاک کرنے میں سچا اور عادل ہے“ (۱۔یوحنا 1: 9)۔ لیکن اگر ہم اپنے گناہوں کو چھپاتے ہیں تو ہر گزکامیاب نہ ہونگے۔
کیونکہ جنت الفردوس کی کنجیاں صرف اور صرف المسیح کے پاس ہے اور صرف وہی اپنی ذات میں بہشتِ کبُرہ ہیں اور وہ ہمیں جہنم کی آگ کے خطرات سے بچا سکتے ہیں۔ اگر آپکا کوئی سوال ہو تو ہمیں اس پتے پر بھیج سکتے ہیں۔ [email protected]
آپ کے وقت کا بہت شکریہ۔ آپکا بھائی : ڈاکٹر انور ذیشان
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Imus
4013