Dr Syed Ahmer - Psychiatrist

Dr Syed Ahmer - Psychiatrist

Share

نفسیاتی بیماریوں اور ان کے علاج کے بارے میں مستند معلومات۔
Authentic iformation about mental illnesses and their treatments

Dr Syed Ahmer MRCPsych

2011 to date - Consultant Psychiatrist, MidCentral District - Te What Ora - Health New Zealand, Palmerston North, New Zealand

2014 to 2017 - Clinical Director, Mental health & Addictions Service, MidCentral District Health Board, Palmerston North, New Zealand

2006 to 2011 - Assitant Professor & Consultant Psychiatrist, Aga Khan University, Karachi, Pakistan

November 200

19/08/2026

موڈ اور جذبات کی خرابیاں: ۱

سائیکائٹری کی بے شمار بیماریاں ایسی ہیں جن میں انسان کے موڈ یا جذبات کی خرابی بنیادی علامت ہوتی ہے مثلاً ڈپریشن، مینیا، یا اینگزائٹی (گھبراہٹ) کی بیماریاں، اور بہت سی اور بیماریوں میں موڈ کی خرابی موجود ہوتی ہے چاہے وہ بنیادی علامت نہ ہو جیسے کہ مثلاً شیزوفرینیا کی بیماری۔

سائیکائٹری کی اصطلاح میں موڈ کا لفظ ان جذبات کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جو ہم زیادہ تر وقت اندر سے محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔ اس میں تین طرح کی خرابیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
۱۔ اس کی کیفیت بدل جاتی ہے۔
۲۔ اس میں تبدیلی بہت زیادہ یا بہت کم ہو جاتی ہے۔
۳۔ بعض بیماریوں میں انسان کا موڈ اس کے حالات کے بالکل الٹ ہو سکتا ہے۔

17/08/2026

ہر وقت کی تھکن کا کیسے مقابلہ کریں؟ - دسوا اور آخری حصہ

۸۔ پانی زیادہ پیئیں

جو لوگ پانی کم پیتے ہیں اور اس کی وجہ سے انہیں جسم میں پانی کی کمی (dehydration) ہو جاتی ہے، انہیں اس کی وجہ سے بھی تھکن ہو سکتی ہے۔ خاص طور سے ورزش کرنے کے تھوڑی دیر بعد پانی ضرور پیئیں۔ اس سے آپ کی تھکن کم ہو گی۔

ہم مناسب مقدار میں روزانہ پانی پی رہے ہیں کہ نہیں، اس کو جانچنے کا ایک آسان طریقہ پیشاب کے رنگ کو دیکھنا ہے۔ جو لوگ کافی مقدار میں پانی پی رہے ہوتے ہیں ان کا ہلکے پیلے رنگ کا ہوتا ہے۔ اگر انسان کا پیشاب روزانہ ہی بہت گہرے بھورے رنگ کا ہو اور دن میں صرف ایک دو دفعہ ہو تو عام طور سے اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی ضروریات کے حساب سے کم پانی پی رہا ہے۔

عام طور سے یہ کہا جاتا ہے کہ ہر انسان کو روزانہ چھ سے آٹھ گلاس پانی پینا چاہیے، جو کہ تقریباً ڈیڑھ سے دو لیٹر روزانہ بنتا ہے۔

بعض حالات میں اور بھی زیادہ پانی پینے کی ضرورت ہوتی ہے مثلاً:

جو خواتین حاملہ ہوں یا اپنے بچے کو دودھ پلا رہی ہوں
گرم موسم میں
بہت زیادہ ورزش کرنے یا چلنے کے بعد
بیماری کے دوران یا اس کے فوراً بعد۔

14/08/2026

ہر وقت کی تھکن کا کیسے مقابلہ کریں؟ - نواں حصہ

۔ کیفین (caffeine) کا استعمال کم کریں

کیفین ایک اسٹیمیولنٹ (stimulant) ہے جس کے کبھی کبھی کے استعمال سے انسان کی توجہ بہتر ہوتی ہے، اس کو لگتا ہے کہ اس کا دماغ زیادہ بھرپور طریقے سے جاگ رہا ہے، اور اس کو اپنی ذہنی توانائی بہتر محسوس ہوتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس سے انسان کا سونے جاگنے کا معمول خراب ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی اس رات کی نیند خراب ہو سکتی ہے اور اگلے دن تھکن زیادہ ہو سکتی ہے۔

کیفین عام طور سے ان مشروبات اور دوائیوں میں موجود ہوتی ہے:

کافی
چائے (بشمول سبز چائے)
کوکا کولا، پیپسی اور اس طرح کے دوسرے مشروبات
انرجی ڈرنکس مثلاً ریڈ بل، وی، وغیرہ
بعض درد کی دوائیاں اور جڑی بوٹیوں سے تیار کی جانے والی ادویات

ایک دفعہ استعمال کے بعد کیفین کے جسم اور دماغ پہ اثرات سات گھنٹے تک باقی رہ سکتے ہیں اس لیے جن لوگوں کو نیند کا مسئلہ رہتا ہو انہیں دوپہر کے بعد سے کوئی ایسا مشروب جس میں کیفین ہو استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

12/08/2026

ہر وقت کی تھکن کا کیسے مقابلہ کریں؟ - آٹھواں حصہ

۔ اپنی توانائی بہتر کرنے کے لیے اپنا ذہنی دباؤ (اسٹریس) کم کریں

جب انسان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا ہے تو اس کے جسم میں کئی ایسے ہارمون اور کیمیائی مادے خارج ہوتے ہیں جو تھوڑے وقت کے لیے تو اسے کسی بڑی مشکل کا سامنا کرنے میں مدد دیتے ہیں، لیکن اگر یہ ہارمون طویل عرصے کے لیے خارج ہوتے رہیں تو ان کی وجہ سے انسان شدید تھکن کا شکار ہونے لگتا ہے اور اسے ایسا لگتا ہے کہ اس کے ذہن اور بدن میں طاقت اور توانائی ہی نہیں ہے۔اس کی بھی بہت تفصیل پہلے آ چکی ہے اور اس ویب پیج پہ یہ مکمل تحریر "ہم سب اپنے ذہنی دباؤ کو خود کیسے کم کر سکتے ہیں"موجود ہے۔

https://sites.google.com/view/mentalhealthmadeeasy/اپنی-مدد-آپ-self-help .u3sti1ok3yi0

مختصراً یہ کہ اس کی عادت ڈالیں کہ روزانہ کچھ نہ کچھ ایسے مشاغل اختیار کریں جن سے آپ پر سکون ہوتے ہیں، مثلاً ورزش کرنا، یوگا کرنا، ایسی کتابیں پڑھنا جن کو پڑھنے میں آپ کو مزا آتا ہو، اچھے دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا، وغیرہ۔

بہت سی ایسی مشقیں ہیں مثلاً اپنے عضلات کو پرسکون کرنے کی مشقیں، سانس کی مشقیں، جن سے انسان اپنے آپ کو پر سکون کر سکتا ہے، اور ان کو سیکھنا کافی آسان ہوتا ہے۔ ان کی تفصیل بھی اسی صفحے پہ پہلے آ چکی ہے۔

کوئی بھی ایسا کام جس کے کرنے سے انسان کو سکون ملتا ہو، اس سے انسان کی توانائی بہتر ہوتی ہے۔

10/08/2026

ہر وقت کی تھکن کا کیسے مقابلہ کریں؟ - ساتواں حصہ

۴۔ اپنی نیند کا بہت خیال رکھیں

بہت سارے لوگ روزانہ اتنی دیر نہیں سوتے جتنا سونا ان کے لیے دن میں چاق و چوبند رہنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

ان عادتوں کو اپنانے سے انسان کی نیند بہتر ہوتی ہے:

ا۔ ہفتے میں ساتوں دن رات میں ایک ہی مخصوص وقت پہ بستر میں جانا، اور صبح ایک ہی وقت پہ بستر سے نکلنا

ب۔ دن میں سونے سے گریز کرنا۔ (یہ ہدایت ٹھنڈے ملکوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے زیادہ اہم ہے۔ گرم ملکوں میں رہنے میں رہنے والے بہت سے لوگ دن میں ایک آدھ گھنٹے کے لیے سوتے ہیں اور اس سے ان کی رات کی نیند پہ برا اثر نہیں پڑتا)

بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ اگر انسان کو کسی رات کسی وجہ سے صحیح نیند آئے تو چونکہ اسے اگلے دن تھکن ہوتی ہے اس لیے وہ سوچتا ہے کہ اگلے دن دوپہر میں تھوڑی دیر کے لیے سو لوں تا کہ تھکن دور ہو جائے۔ لیکن اس سے ہوتا ہے کہ اگلی رات کی نیند بھی خراب ہو جاتی ہے۔ اس لیے اگر آپ کو روزانہ دن میں سونے کی عادت نہ ہو تو ایک آدھ رات نیند خراب ہونے کی وجہ سے دن میں نہ سوئیں، بلکہ اگلی رات کا انتظار کریں۔ اس سے آپ کی نیند کا معمول واپس نارمل ہونے میں مدد ملے گی۔

پ۔ رات کو سونے سے پہلے اپنے آپ کو پر سکون کرنے کے لیے کچھ مخصوص عادات اپنائیں جن سے آپ کے ذہن کو سوئچ آف ہونے میں مدد ملے مثلاً بتیاں بند کر دینا، دانت صاف کرنا، سونے کے کپڑے پہننا، کوئی ہلکی پھلکی کتاب پڑھنا، وغیرہ۔ یہ عادات ہر ایک کے لیے الگ ہوتی ہیں۔

08/08/2026

ہر وقت کی تھکن کا کیسے مقابلہ کریں؟ - چھٹا حصہ

ڈاکٹر سید احمر ایم آر سی سائیک، کنسلٹنٹ سائیکائٹرسٹ، نیوزی لینڈ

بہت سے لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جی وزن کم یا زیادہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ فلاں کو ہم نے دیکھا تھا کہ ا سکا وزن اتنا کم تھا اور وہ اتنی ورزش بھی کرتا تھا، پھر بھی اس کو دل کا دورہ پڑ گیا، اور فلاں تو اتنا موٹا ہے سب کچھ کھاتا ہے اور پھر بھی اتنی عمر تک زندہ ہے۔ اس اعتراض کی وجہ یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ یہ خطرات پاپولیشن یعنی پوری قوم کے حساب سے ہوتے ہیں، کسی ایک فرد کے حساب سے نہیں۔ اس کو ایک مثال سے سمجھنا زیادہ آسان ہو گا وہ یہ کہ فرض کریں سو لوگوں کا باڈی ماس انڈیکس تیس ہے، اور سو اور لوگوں کا باڈی ماس انڈیکس اکیس ہے، تو اگر پہلے سو لوگوں میں سے ستر کو دل کا دورہ پچاس سال کی عمر میں ہونے کا خطرہ ہو گا، تو اکیس باڈی ماس انڈیکس والے سو لوگوں میں صرف پندرہ لوگوں کو اسی عمر میں دل کا دورہ ہونے کا امکان ہو گا۔

ریسرچ کہتی ہے کہ جو لوگ اپنا وزن دس فیصد تک بھی کم کر لیتے ہیں ان کو اپنی ذہنی اور جسمانی توانائی میں واضح اضافہ محسوس ہوتا ہے، ان کے لیے مزید ورزش کرنا بھی آسان ہو جاتا ہے، اور مزید وزن کم کرنا بھی آسان ہو جاتا ہے۔

صحت مند، یعنی زیادہ شکر اور چکنائی سے محفوظ، غذا کھانے کے علاوہ وزن کم کرنے، اور کم کیے ہوئے وزن کو دوبارہ بڑھنے سے روکنے، کا بہترین طریقہ جسمانی طور پہ زیادہ متحرک ہو جانا اور باقاعدگی سے ورزش کرناہے۔

06/08/2026

ہر وقت کی تھکن کا کیسے مقابلہ کریں؟ - پانچواں حصہ

ڈاکٹر سید احمر ایم آر سی سائیک، کنسلٹنٹ سائیکائٹرسٹ، نیوزی لینڈ

۳۔ بدن کی توانائی بڑھانے کے لیے اپنا وزن کم کریں

یہ جاننے کے لیے کہ انسان کا وزن صحتمندانہ حد کے اندر ہے یا زیادہ ہے، ایک آسان طریقہ باڈی ماس انڈیکس (Body Mass Index) معلوم کرنا ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے اپنا وزن کلوگرام میں معلوم کریں۔ پھر اپنا قد میٹر (meters) میں ناپیں۔ باڈی ماس انڈیکس کا فارمولا یہ ہے۔

Weight in kilograms divided by height in meter squared

مثلاً ایک شخص کا وزن ستر کلو گرام ہے اور اس کا قد پانچ فٹ نو انچ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کا قد میٹرز میں ایک اعشاریہ سات دو میٹر ہے جس کا اسکوائر دو اعشاریہ نو سات میٹرز ہوا۔ اس لیے اس کا باڈی ماس انڈیکس ۲۳ اعشاریہ ۵۷ ہوا۔

ریسرچ کہتی ہے کہ باڈی ماس انڈیکس کی صحت مندانہ رینج ۲۰ سے ۲۵ تک ہے، یعنی اگر باڈی ماس انڈیکس بیس سے کم ہو یا پچیس سے زیادہ ہو تو بیماری کا خطرہ بڑھنے لگتا ہے۔ بعض ریسرچ یہ بھی کہتی ہے کہ ایشیائی ممالک کے لوگوں میں باڈی ماس انڈیکس کی صحت مندانہ اوپری حد تئیس ہے، یعنی اس سے زیادہ وزن ہونے سے بیماریوں کا خطرہ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے ہماری غذاؤں میں چکنائی اور شکر کا استعمال عموماً زیادہ ہوتا ہے، اور ہمارے لوگوں میں باقاعدگی سے ورزش کرنے کا رجحان عموماً کم ہوتا ہے۔

04/08/2026

ہر وقت کی تھکن کا کیسے مقابلہ کریں؟ - چوتھا حصہ

ڈاکٹر سید احمر ایم آر سی سائیک، کنسلٹنٹ سائیکائٹرسٹ، نیوزی لینڈ

جو لوگ بالکل بھی ورزش نہ کرتے ہوں ان کو ہم یہ کہتے ہیں کہ پہلا ٹارگیٹ یہ رکھیں کہ ہفتے میں صرف دو یا تین دن، دس سے پندرہ منٹ روزانہ کے لیے چلنا ہے۔ جب ایسا کرتے ہوئے کم از کم ڈیڑھ دو مہینے گزر جائیں، اور ایک بھی ہفتہ ایسا نہ گزرے کہ ٹارگیٹ پورا نہ ہوا ہو تو اب اس کو ذرا سا بڑھا کے یا تو ہفتے میں ایک دن بڑھا دیں، یا دن اتنے ہی رکھیں لیکن پانچ منٹ بڑھا دیں۔ حتمی ٹارگیٹ یہ ہونا چاہیے کہ بہت آہستہ آہستہ بڑھاتے بڑھاتے چاہے اس میں کئی مہینے لگیں، ہفتے میں کم از کم ڈیڑھ سو منٹ (ڈھائی گھنٹے) درمیانی شدت کی ورزش کرنے کی عادت ڈالیں۔ شدت کا پتہ تو دل دھڑکنے کی رفتار سے چلتا ہے جو اسمارٹ گھڑی سے بھی پتہ چل سکتا ہے اور اسمارٹ فون سے بھی۔ لیکن جن لوگوں کے پاس یہ دونوں نہ ہوں وہ اس سے اندازہ کر سکتے ہیں مثال کے طور پہ چلنے کی رفتار اتنی ہو کہ پسینہ آئے اور تھوڑا سا سانس پھولے۔ اب اس ڈیڑھ سو منٹ فی ہفتہ درمیانی درجے کی شدت کی ورزش کو ساری عمر جاری رکھیں جب تک زندگی اور صحت اجازت دے۔

02/08/2026

برومازیپام
(Bromazepam, Lexotanil, Lexilium, Bromalex, Sedonil, Sambro, etc.)

(ڈاکٹر سید احمر ایم آر سی سائیک، کنسلٹنٹ سائیکائٹرسٹ، نیوزی لینڈ)

(ایک جملہٴ معترضہ: یہ تحریر عمومی آگہی بڑھانے کے لیے ہے، علاج کرنے کے لیے نہیں۔ علاج کے لیے اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں)

برومازیپام کن بیماریوں کے علاج کے لئے استعمال کی جاتی ہے؟
- اینگزائٹی کے مختصر مدت کے علاج کے لئے

ان کے علاوہ ڈاکٹرز بعض اور علامات کے لئے بھی آپ کو برومازیپام تجویز کر سکتے ہیں۔

برومازیپام بنیزوڈایازیپین (Benzodiazepine) گروپ میں آتی ہے۔ اس گروپ کی دوائیں صرف مختصر مدّت کے لئے استعمال کی جانی چاہیئیں، مثلاً دو سے چار ہفتے کے لئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دوائیں اس مدّت سے زیادہ کے لئے روزانہ استعمال کی جائیں تو ان سے عادت پڑنے (addiction) کا ڈر ہوتا ہے۔ ان سے ذہنی طور پہ بھی عادت پڑ سکتی ہے اور جسمانی طور پہ بھی۔

یہ دوا ہرگز نہ لیں اگر
- آپ کو پہلے برومازیپام سے الرجی کا ری ایکشن ہو چکا ہو
- آپ کو طویل عرصے کی پھیپھڑوں کی شدید درجے کی بیماری ہو
- آپ کو جگر کی شدید درجے کی بیماری ہو
- رات کو سونے کے دوران وقتاً فوقتاً آپ کا سانس رک جاتا ہو
- آپ کو عضلات کی شدید کمزوری ہو

اپنے ڈاکٹر کو برومازیپام شروع کرنے سے پہلے بتا دیں اگر آپ کو کوئی بھی جسمانی یا ذہنی بیماری ہو، اور خصوصاً ان میں سے کوئی بیماری ہو؛
- جگر، گردوں یا پھیپھڑوں کی بیماری
- بلڈ پریشر کم یا زیادہ ہونے کی بیماری ہو
- ڈپریشن، سائیکوسس، شیزوفرینیا
- کالا موتیا
- مرگی کی بیماری
- نشہ آور چیزیں لینے کی بیماری

اگر آپ حاملہ ہوں یا اپنے شیر خوار بچے کو دودھ پلا رہی ہوں
- جو خواتین حاملہ ہوں انہیں برومازیپام نہیں استعمال کرنی چاہیے۔ اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں کہ اس صورت میں آپ کے اور آپ کے بچے کے لئے دوا لینے کے فائدے اور نقصانات کیا ہو سکتے ہیں۔برومازیپام نال (placenta) کے ذریعے بچے کے جسم میں منتقل ہو جاتی ہے، اور اس کی وجہ سے نوزائیدہ بچے کو یہ علامات ہو سکتی ہیں؛ عضلات کا بہت زیادہ نرم ہونا، سانس لینے میں دشواری، بدن کے درجہٴ حرارت کا اچانک گر جانا۔
- جو مائیں حمل کے دوران باقاعدگی سے برومازیپام لیتی رہی ہوں ان کے بچوں میں پیدائش کے فوراً بعد دوا بند کرنے کی علامات (withdrawal symptoms) ہو سکتی ہیں۔
- برومازیپام ماں کے دودھ کے ذریعے بچے کے جسم میں منتقل ہو جاتی ہے، اور اس کی وجہ سے بچے میں کچھ اثرات ہو سکتے ہیں۔ جو مائیں بچوں کو دودھ پلا رہی ہوں انہیں برومازیپام نہیں استعمال کرنی چاہیے۔

اگر آپ اور دوائیاں لے رہے ہوں تو
اگر برومازیپام بعض مخصوص دواؤں کے ساتھ لی جائے تو دونوں دوائیں ساتھ لینے سے ری ایکشن ہوسکتا ہے ۔ اگر آپ کوئی بھی دوا لے رہے ہوں، اور خصوصاً مندرجہ ذیل دوائیوں میں سے کوئی بھی دوا لے رہے ہوں، تو برومازیپام شروع کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر کو ضرور بتا دیں؛
- نیند لانے والی یا گھبراہٹ کم کرنے والی کوئی بھی دوا
- اینٹی ڈپریسنٹ دوائیں
- مرگی کے علاج کی دوائیں
- الرجی کے علاج کی بعض دوائیں مثلاً اینٹی ہسٹامین ادویات (antihistamines)
- درد کی بعض دوائیں مثلاً کوڈین یا مورفین
- عضلات کو ریلیکس کرنے والی دوائیں (muscle relaxants)
- سیمیٹیڈین (cimetidine)
- ڈائی سلفیرام (disulfiram)

ان دوائیوں کے علاوہ بعض اور دوائیوں سے بھی برومازیپام کے ساتھ ری ایکشن ہو سکتا ہے، اس لئے آپ کے ڈاکٹر کو ان تمام دوائیوں کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے جو آپ لے رہے ہوں

برومازیپام کس وقت اور کس ڈوز میں لینی چاہیے؟
یہ آپ کے ڈاکٹر آپ کو بتائیں گے کہ برومازیپام کس وقت، کتنے ڈوز میں، اور کتنے دن کے لئے لینی چاہیے۔

دوسری تمام بینزوڈایازیپین دوائیوں کی طرح برومازیپام کو بھی دو سے چار ہفتوں سے زیادہ کے لیے نہیں لینا چاہیے ورنہ عادت پڑنے یعنی ایڈکشن کا خطرہ ہوتا ہے۔

جب آپ برومازیپام لینا شروع کریں توگاڑی اور مشینری چلانے سے احتیاط کریں جب تک کہ آپ کو اندازہ نہ ہو جائے کہ آپ کو اس ے کتنی غنودگی ہوتی ہے اور آپ کی کارکردگی اور ری ایکشن ٹائم پہ کتنا اثر پڑتا ہے۔

اگر آپ برومازیپام طویل عرصے سے لے رہے ہوں تو اسے ہر گز اچانک بند نہ کریں کیونکہ اس سے مندرجہ ذیل مضر اثرات ہو سکتے ہیں؛
- شدید گھبراہٹ
- رعشہ
- نیند اڑ جانا
- ہوش و حواس صحیح نہ رہنا
- عضلات میں اکڑن
- ٹینشن، بے چینی، چڑچڑاپن
- پیٹ خراب ہو جانا، متلی سی محسوس ہونا
- پسینہ زیادہ آنا

بعض مریضوں کو برومازیپام اچانک بند کرنے پہ یہ شدید مضر اثرات ہوسکتے ہیں؛
- غیبی آوازیں آنے لگنا، غیر مرئی چیزیں نظر آنے لگنا
- مرگی کے دورے
- ہوش وحواس برقرار نہ رہنا، ہذیان کی سی کیفیت ہو جانا

جب اس طرح کے شدید مضر اثرات نظر آنے لگیں تو عام طور سے مریض کو ہسپتال میں داخلے اور علاج کی ضرورت پڑ جاتی ہے، اس لئے اگر آپ طویل عرصے سے برومازیپام لے رہے ہوں تو اسے کبھی بھی اچانک خود سے بند نہ کریں، بلکہ ڈاکٹر کے زیرِ نگرانی بہت آہستہ آہستہ بند کریں!

برومازیپام کے ممکنہ مضر اثرات (سائیڈ ایفیکٹس)
تمام دوائیوں کے کچھ نہ کچھ مضر اثرات ہوتے ہیں۔ ان میں سے اکثر مضر اثرات کم شدّت کے ہوتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ کم یا ختم ہو جاتے ہیں۔ ان کی وجہ سے دوا بند کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن بعض مضر اثرات زیادہ شدید نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان کی وجہ سے فوراً دوا بند کرنا ضروری ہوتا ہے۔ دوا کےمعلوماتی کتابچے میں بے شمار مضر اثرات لکھے ہوئے ہوتے ہیں جو دنیا میں کبھی بھی کسی بھی مریض کو ہوئے ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے آپ کو ان میں سے بیشتر یا کوئی بھی مضر اثر نہ ہو۔

کم شدّت کے مضر اثرات (اپنے ڈاکٹر کو بتائیں اگر یہ آپ کے لئے تکلیف دہ ہوں)
- غنودگی، تھکن
- چکر آنا،
- یادداشت کمزور ہو جانا، توجہ برقرار رکھنے میں مشکل ہونا، ہوش و حواس مکمل برقرار نہ رہنا
- الفاظ منہ سے واضح نہ نکلنا
- ڈراؤنے خواب آنا

شدید مضر اثرات (اگر یہ نمودار ہوں تو فوراً اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں یا ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ جائیں)
- دھندلا نظر آنے لگنا
- جلد پہ ریش پڑ جانا
- رعشہ
- بھوک اڑ جانا، منہ میں خشکی محسوس ہونا
- بولنے میں زبان کا لڑکھڑانا
- ہوش و حواس خراب ہو نے لگنا، ارد گرد کا مکمل ادراک نہ رہنا
- اچانک شدید گھبراہٹ یا بے چینی
- غیبی آوازیں آنے لگنا، غیر مرئی چیزیں نظر آنے لگنا
- ڈراؤنے خواب آنا
- سانس لینے میں تکلیف یا دشواری ہونے لگنا
- دل کی دھڑکن بہت تیز اور بے قاعدہ ہو جانا، دل کا رک جانا
- شدید الرجی کا ری ایکشن: جس میں سانس لینے میں مشکل ہو سکتی ہے، چہرے، ہونٹوں، زبان، گلے یاجسم کے دوسرے حصوں کی سوجن ہو سکتی ہے جس سے سانس لینے میں نگلنے میں مشکل ہو سکتی ہے، یا جلد میں الرجی کی علامات نمودار ہو سکتی ہیں۔

ان کے علاوہ بھی کچھ مضر اثرات ہوسکتے ہیں ا سلئے بہتر ہوتا ہے کہ اگر آپ کو دوا شروع کرنے کے بعد کچھ نئی تکلیف دہ علامات شروع ہوں تو اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کر لیں۔

اینگزائٹی کی کسی بھی دوا کو ڈاکٹر کے مشورے کے بغیراچانک ہرگز بند نہ کریں کیونکہ ایسا کرنا خطرناک ہو سکتا ہے!

31/07/2026

ہر وقت کی تھکن کا کیسے مقابلہ کریں؟ - تیسرا حصہ

ڈاکٹر سید احمر ایم آر سی سائیک، کنسلٹنٹ سائیکائٹرسٹ، نیوزی لینڈ

۲۔ باقاعدگی سے ورزش کرنے کی عادت ڈالیں۔

ہمارے پاس بہت سے مریض آتے ہیں جو آ کر کہتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب! مجھے ہر وقت بہت کمزوری رہتی ہے۔ اگر ان کا بنیادی جسمانی چیک اپ نارمل ہو، مثلاً ہیموگلوبن کی کمی یا تھائی روائڈ کی بیماری نہ ہو، تو ہم انہیں یہ کہتے ہیں کہ طویل عرصے کی کمزوری کا بہترین اور سب سے آزمودہ علاج باقاعدگی سے ورزش کرنا ہے۔ ان کا پہلا ردِّ عمل یہ ہوتا کہ ڈاکٹر صاحب! آپ کیسی بات کر رہے ہیں؟ ہم سے تو روز مرہ کے ضروری کام بھی نہیں ہوتے، اور آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روز ورزش کیا کرو۔ ہم انہیں یہ سمجھاتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کل سے جم جانا شروع کر دیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ ورزش کو بہت معمولی سطح سے شروع کریں اور پھر بہت بہت آہستہ بڑھائیں کیونکہ طویل عرصے کی کمزوری کا اور اپنی ذہنی اور جسمانی توانائی بڑھانے کا اس سے بہتر کوئی اور طریقہ آج تک دریافت نہیں ہوا۔ ریسرچ یہ کہتی ہے کہ جو لوگ صرف پندرہ منٹ کی واک بھی کریں اس سے ان کی جسمانی اور ذہنی توانائی میں اضافہ ہوتا ہے، اور وہ جتنی زیادہ دفعہ ورزش کریں گے اتنا ہی ان کی توانائی اور بڑھتی جائے گی۔

Want your school to be the top-listed School/college in Palmerston North?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address


Palmerston North