Ziyayi Channel

Ziyayi Channel

Share

islamic videos

09/10/2023
19/09/2023

🥀
.
.
.
.




(فیضان فرض علوم گروپ) 19/09/2023

https://chat.whatsapp.com/H7qC9dNMcQNIGVDtp52jAD
*سوال:*
*کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں مسئلہ یہ ہے کہ احادیثِ مبارکہ میں جو فضائل علماء کیلئے وارد ہیں کیا وہ وہ فضیلت ہر عالم کیلئے ہے یا پھر باعمل پارسا کیلئے؟*

*الجواب بعون الملک الوهاب*

*اللہ تعالیٰ کافرمان ہے "* *انمایخشی اللہ من عبادہ العلمآء*
*(📕پارہ 22رکوع16)*
ترجمہ اللہ سےاس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جوعلم والے ہیں
اورامام شعبی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا " انماالعالم من خشی اللہ عزوجل "
یعنی عالم صرف وہی ہے جسے خدائے عزوجل کی خشیت حاصلِ ہو اورامام ربیع بن انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا " من لم یخشی اللہ فلیس بعالم "
یعنی جسے خشیت الٰہی حاصل نہ ہو وہ عالم نہیں
*(📗تفسیر خازن ومعالم التزیل جلدپنجم ص 302 بحوالہ علم اورعلماء )*
لہذا ____.!!!

حدیث سے ہرسند یافتہ عالم کاوارث انبیاء ہوناہرگز ثابت نہیں
اس سے مراد صرف وہ علماء ہیں جوحقیقت میں عالم باعمل ہیں اوراللہ سےڈرتے ہیں اور علم حاصل کرنے کے بعد فرائض وسنن مؤکدہ ضروری عبادات کرتے ہیں اور علم کی نشرواشاعت اوردین کی ترویج میں لگے رہتے ہیں چاہے وہ سند یافتہ ہوں یا نہ ہوں کہ سندکوئی چیز نہیں علم ضروری ہے

*(📙فتاویٰ فقیہ ملت باب العلم و التعلیم صفحہ 362)*
اس سے معلوم ہوا کہ
علماء کےجوفضائل احادیث مبارکہ میں بیان کئے گئے ہیں اس سے مراد باعمل علماء ہیں
*واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب*

(فیضان فرض علوم گروپ) WhatsApp Group Invite

Photos from Ziyayi Channel's post 27/07/2023
27/07/2023

https://chat.whatsapp.com/H7qC9dNMcQNIGVDtp52jAD
*سوال:*
*تعزیہ کی ابتدا کب سے ہوئی کیسے وجود میں آئی اور عوام الناس میں کیسے اتنا مشہور ہوا؟ مزید یہ بتائیں تعزیہ کے بارے کے میں علماء کا کیا اختلاف ہے؟*

*الجواب :* تعزیہ جو آج کل مروج ہے یہ سراسر ناجائز و حرام ہے اور اس کی حرمت میں علماء حق کا کوئی اختلاف نہیں تقریباً سو سے بھی زائد کتب فتاویٰ میں حرام مرقوم ہے، مخالفت تو اہل تشیع کرتے ہیں اور بڑی دھوم دھام سے مناتے ہیں اور وہی حلت کے قائل ہیں، مگر ہمارا مذہب اور مسلک اعلی حضرت کا یہی پیغام ہے کہ مروجہ تعزیہ داری ناجائز و حرام ہے،
*(📕فتاویٰ رضویہ شریف جدید جلد (۱۶) ص (۱۲۱) و ج (۲۱) ص (۴۲۵) و ج (۲۴) ص (۵۵۷/۱۴۱/۵۰۰/۵۰۲/۵۰۴/۵۰۹) مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور )*

مزید وضاحت کے لئے رسالہ *اعالی الافادۃ فی تعزیۃالھندوبیان شھادۃ ۱۳۲۱ھ*
*(ہندوستان میں تعزیہ داری اوربیان شہادت کے احکام سے متعلق بُلند پایہ فوائد)*

رہی بات تعزیہ داری کب سے رائج ہے تو سب سے پہلے سلطان تیمور لنگ نے بنوایا اور اس نے ایسا تعزیہ بنوایا جیسا ہوبہو روضہ پر فتوح سید الشہداء حضرت امام حسین رضی ﷲ تعالٰی عنہ ہے ویسا بنوایا تھا ساتھ ہی ساتھ اسے ایک جگہ رکھ دیا گیا تھا اسے پھرایا نہیں گیا،
*( 📒المرجع السابق جلد (۲۶) ص (۵۱۸) مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور )*

لیکن جو مروجہ تعزیہ داری ہے وہ کس نے ایجاد کیا تو اس کے جواب میں امام اہلسنت فقیہ باکمال امام احمد رضا خان قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں:
*بہت جدید، ہندوستانیوں کی ایجاد ہے*
*(📚المرجع السابق جلد (۲۴) ص (۵۰۹) مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور )*

*واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم*

*کتبـــہ*
*حضرت مولانا محمد راشد مکی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی*

29/06/2023

تمام عالم اسلام کو عید
الاضحی بہت بہت مبارک ہو
اللہ تعالیٰ آپ کو خوش رکھے ،تمام پریشانیاں دور ہوں ،رفعت وبلندی عطا ہو،مدینہ منورہ کی باادب حاضری نصیب ہو۔

22/06/2023

شان سیدناصدیق اکبر زندہ باد: ایک اہل تشیع اپنے مسلک کے اعتبار سے بڑے علمی گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے پاس کافی معلومات بھی تھیں۔ اس کے بقول میرے ان سوالات کا جواب کسی مولوی کے پاس نہیں ہے۔
میں نے اس سے جب ملاقات کی تو اس کی ہر ہر ادا سے گویا علماء سے حتیٰ کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی نفرت و حقارت کی جھلک واضح تھی۔

میں نے میزبان ہونے کی حیثیت سے بڑے اخلاق سے بٹھایا۔تھوڑی دیر حال احوال دریافت کرنے کے بعد گفتگو شروع ہو گئی۔

اس کا پہلا سوال ہی بزعم خود بڑا جاندار تھا اور وہ یہ کہ تم ابوبکر کو نبی کا خلیفہ کیوں مانتے ہو؟۔ ہم تو ابوبکر کو خلیفہ رسول اسلیئے نہیں مانتے کہ انہوں نے سیَّدہ کائنات، خاتون جنت کو ان کاحق نہیں دیا تھا۔بلکہ ان کا حق غصب کر لیا تھا۔

میں نے کہا ذرا کھل کر بولیں جو آپ کہنا چاہ رہے ہیں۔ اور اس حق کی وضاحت کر دیں کہ وہ حق کیا تھا؟۔

کہنے لگا وہ، باغ فدک؛ جو حضور ﷺ نے وراثت میں چھوڑا تھا۔ وہ حضور ﷺ کی صاحبزادی فاطمہ کو ملنا تھا۔لیکن وہ باغ انہیں ابوبکر نے نہیں دیا تھا۔
یہ صرف میرا دعویٰ ہی نہیں بلکہ میرے پاس اس دعوے ہر مسلک کی کتابوں سے ایسے وزنی دلائل موجود ہیں جنہیں آپ کا کوئی عالم جھٹلا نہیں سکتا۔
یہ بات اس نے بڑے پر اعتماد اور مضبوط انداز میں کہی۔

مزید اس نے کہا کہ میری بات کے ثبوت کیلئے یہی کافی ہے کہ وہ باغ فدک؛ آج بھی سعودی حکومت کے زیر تصرف ہے۔ اور وہ حکومتی مصارف کیلئے وقف ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آج تک آل رسول کو ان کا حق نہیں ملا ہے۔

اب آپ ہی بتائیں جنہوں نے آل رسول کے ساتھ یہ کیا ہو ہم انہیں کیسےخلیفہ رسول تسلیم کر لیں؟

میں نے اس کی گفتگو بڑے تحمل سے سنی۔ اور اس کا اعتراض سن کر میں نے پوچھا کہ آپ کا سوال مکمل ہو گیا یا کچھ باقی ہے؟
وہ کہنے لگا میرا سوال مکمل ہو گیا ہے اب آپ جواب دیں۔

میں نے عرض کیا کہ آپ نبی کریم ﷺ کے بعد پہلا خلیفہ کن کو مانتے ہو؟

وہ کہنے لگا ہم مولیٰ علی کو خلیفہ بلا فصل مانتے ہیں۔

میں نے کہا کہ عوام و خواص کے جان و مال اور ان کے حقوق کا تحفظ خلیفة المسلمین کی ذمہ داری ہوتی ہے کسی اور کی نہیں۔مجھے آپ پر تعجب ہو رہا ہے کہ آپ خلیفہ بلا فصل تو سیَّدنا علی رضی اللہ عنہ کو مان رہے ہیں اور اعتراض سیَّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر کر رہے ہیں۔ یا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پہلا خلیفہ مانو پھر آپ کا ان پر اعتراض کرنے کا کسی حد تک جواز بھی بنتا ہے ورنہ جن کو آپ پہلا خلیفہ مانتے ہو یہ اعتراض بھی انہی پر کر سکتے ہو کہ آپ کی خلافت کے زمانے میں خاتون جنت رضی اللہ عنہا کا حق کیوں مارا گیا؟

میری بات سن کر اسے حیرت کا ایک جھٹکا لگا مگر ساتھ ہی اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا جی بات دراصل یہ ہے کہ ہمارے ہاں مولیٰ علی کی خلافت ظاہری آپ کے خلفاء ثلاثہ کے بعد شروع ہوتی ہے اس سے پہلے تو ہم ان کی خلافت کو غصب مانتے ہیں یعنی آپ کے خلفائے ثلاثہ نے مولیٰ علی کی خلافت کو ظاہری طور پر غصب کیا ہوا تھا۔ اسلیئے مولیٰ علی تو اس وقت مجبور تھے وہ یہ حق کیسے دے سکتے تھے؟۔

اس کی یہ تاویل سن کر میں نے کہا عزیزم ! میرے تعجب میں آپ نے مزید اضافہ کر دیا ہے ایک طرف تو آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ مولیٰ علی مشکل کشا ہیں۔ عجیب بات ہے کہ انہیں کے گھر کی ایک کے بعد دوسری مشکل آپ نے ذکر کر دی یعنی ان کی زوجہ محترمہ کاحق مارا گیا لیکن وہ مجبور تھے اور وہ مشکل کشا ہونے کے باوجود ان کی مشکل کشائی نہ کر سکے۔ پھر ان کا اپنا حق (خلافت) غصب ہوا لیکن وہ خود اپنی مشکل کشائی بھی نہ کر سکے۔ یا تو ان کی مشکل کشائی کا انکار کر دو اور اگر انہیں مشکل کشا مانتے ہو تو یہ من گھڑت باتیں کہنا چھوڑ دو کہ طاقتوروں نے ان کے حقوق غصب کر لیئے تھے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر بالفرض و المحال آپ کی یہ بات تسلیم بھی کر لی جائے کہ اصحاب ثلاثہ نے ان کی خلافت غصب کر لی تھی، اب سوال یہ ہے کہ خلفاء ثلاثہ کے بعد جب أمیر المؤمنين علی رضی اللہ عنہ کو ظاہری خلافت مل گئی اور ان کی شہادت کے بعد انہی کے صاحبزادے سیَّدنا حسن رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو کیا اس وقت انہوں نے باغ فدک لے لیا تھا؟

جب آپ کےبقول وہ خلفاء ثلاثہ کے زمانے میں غصب کیا گیا تھا، اب تو انہی کی حکومت تھی جن کا حق غصب کیا گیا۔ لیکن انہوں نے اپنی حکومت ہونے کے باوجود اس حق کو کیوں چھوڑ دیا تھا؟۔ آج بھی آپ کے بقول وہ سعودی حکومت کے زیر اثر ہے تو بھائی وہ باغ جن کا حق تھا جب انہوں نے چھوڑ دیا ہے تو آپ بھی اب مہربانی کر کے ان قِصُّوں کو چھوڑ دیں اور اگر آپ کا اعتراض سیَّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر ہے کہ ان کی ظاہری خلافت میں آل رسول کو باغ فدک کیوں نہیں ملا؟ تو یہی اعتراض آپ کا أمیر المؤمنين علی رضی اللہ عنہ پر بھی ہو گا کہ ان کی ظاہری خلافت میں آل رسول کو باغ فدک کیوں نہیں ملا؟؟؟

Want your school to be the top-listed School/college in Nepalganj?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Udhrapur, 5
Nepalganj