Qur'anic Lessons

Qur'anic Lessons Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Qur'anic Lessons, Education, Masina, Rupandehi, Lumbini.

اس پیج پر قرآن کی تلاوت ، انگلش ، اردو ترجمہ اور دیگر اسلامک کونٹینٹ نشر کئے جاتے ہیں اس طرح کے کونٹینٹ اور قرآن کی تلاوت سننے کے لئے ہمارے پیج کو ابھی فالو کریں
This Page for Qur'anic Lessons & The world best Qur'an reciters

   #اخلاق    جس کے پاس پیسہ نہیں، اکثر لوگ اس کی عزت نہیں کرتے۔اور جس کے پاس پیسہ آ جائے، وہ اکثر دوسروں کی عزت نہیں کرت...
28/07/2026



#اخلاق





جس کے پاس پیسہ نہیں، اکثر لوگ اس کی عزت نہیں کرتے۔
اور جس کے پاس پیسہ آ جائے، وہ اکثر دوسروں کی عزت نہیں کرتا۔

22/07/2026



ہم ایک ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں ہر طرف نئی نسل کے رویّوں، اخلاق، بے راہ روی اور اقدار کے زوال کی بات کی جاتی ہے۔ محفلوں میں شکایتیں کی جاتی ہیں کہ آج کے بچے پہلے جیسے نہیں رہے، ان میں ادب، برداشت اور احترام کم ہو گیا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی اس بات پر غور کیا کہ یہ نسل تیار کس نے کی ہے؟

ہم اکثر اولاد کو قصوروار ٹھہرا دیتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ بچے خالی ذہن کے ساتھ دنیا میں آتے ہیں۔ ان کی سوچ، عادات، زبان، رویّے اور شخصیت کی پہلی درسگاہ ان کا گھر ہوتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں بہت سے والدین نے تربیت کو صرف چند چیزوں تک محدود کر دیا ہے؛ بچے کو پیدا کرنا، کھانا کھلانا، لباس دینا، اسکول بھیج دینا اور پھر یہ سمجھ لینا کہ ذمہ داری مکمل ہو گئی۔

حالانکہ اولاد کو صرف سہولتیں نہیں، بلکہ وقت، توجہ، محبت، رہنمائی اور ایک اچھا نمونہ بھی چاہیے ہوتا ہے۔

آج بہت سے گھروں میں والدین کے پاس اولاد کے لیے وقت نہیں، لیکن شکایت کے لیے وقت ضرور ہے۔ بچوں کی بات سننے کے بجائے انہیں خاموش کر دیا جاتا ہے، ان کے جذبات سمجھنے کے بجائے انہیں کمزور سمجھا جاتا ہے، اور تربیت کے نام پر صرف ڈانٹ، سختی اور حکم چلانے کو کافی سمجھ لیا جاتا ہے۔

پھر جب یہی بچے بڑے ہو کر والدین سے فاصلے اختیار کرتے ہیں، گفتگو میں سختی آتی ہے یا معاشرے میں مسائل پیدا ہوتے ہیں تو صرف اولاد کو ذمہ دار قرار دے دیا جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہر خراب عادت کے پیچھے صرف بچے کا قصور نہیں ہوتا، کہیں نہ کہیں ماحول، گھر کی فضا اور تربیت کا بھی کردار ہوتا ہے۔

والدین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اولاد کوئی چیز نہیں جسے صرف قابو میں رکھا جائے، بلکہ وہ انسان ہیں جن کے دل، جذبات اور خواب ہوتے ہیں۔ انہیں صرف حکم نہیں، بلکہ حکمت اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایک بچہ جب گھر میں عزت، سچائی، صبر، رحم اور اچھے اخلاق دیکھتا ہے تو وہ انہی اقدار کو اپنی زندگی کا حصہ بناتا ہے۔ لیکن اگر گھر میں غصہ، نفرت، بے توجہی اور غلط رویّے ہوں تو اس کے اثرات نسلوں تک جاتے ہیں۔

ہمیں نئی نسل کو الزام دینے سے پہلے اپنے گھروں کا جائزہ لینا ہوگا۔ کیونکہ معاشرے کی اصلاح سڑکوں، اداروں اور تقریروں سے پہلے گھروں کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔

والدین ہونا صرف ایک رشتہ نہیں، بلکہ ایک امانت اور ذمہ داری ہے۔
اچھی اولاد کی خواہش رکھنے والوں کو اچھی تربیت کا چراغ بھی جلانا ہوگا۔

16/07/2026

وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُۥ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُۥ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ أَعْمَىٰ
(سورۃ طٰہٰ: 124)

"اور جو میرے ذکر (قرآن) سے منہ موڑے گا، تو یقیناً اس کے لیے تنگ زندگی ہوگی، اور قیامت کے دن میں اسے اندھا اٹھاؤں گا۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص اس کے ذکر، یعنی قرآن سے منہ موڑتا ہے، وہ حقیقی سکون اور اطمینان سے محروم ہو جاتا ہے۔ اگرچہ اس کے پاس دنیا کی نعمتیں موجود ہوں، لیکن اس کے دل کو حقیقی راحت نصیب نہیں ہوتی۔ جو اللہ کی ہدایت کو قبول کرتا ہے اور قرآن پر ایمان لا کر اس پر عمل کرتا ہے، اللہ اسے دنیا و آخرت کی کامیابی اور دل کا اطمینان عطا فرماتا ہے۔

ایمان کا دعویٰ اور عمل کی حقیقتآج کے دور کا ایک عجیب المیہ یہ ہے کہ ایمان اور عمل کو گویا دو الگ حقیقتیں بنا دیا گیا ہے۔...
15/07/2026

ایمان کا دعویٰ اور عمل کی حقیقت

آج کے دور کا ایک عجیب المیہ یہ ہے کہ ایمان اور عمل کو گویا دو الگ حقیقتیں بنا دیا گیا ہے۔

کہا جاتا ہے:
"بس ایمان صحیح ہونا چاہیے، اعمال میں کمی رہ جائے تو کوئی بات نہیں۔"

مگر سوال یہ ہے کہ جس ایمان کا اثر انسان کی زندگی پر نظر ہی نہ آئے، وہ ایمان اپنی موجودگی کا ثبوت کس چیز سے دے گا؟

اگر دل میں ایمان کی شمع روشن ہو تو اس کی روشنی کردار میں ضرور جھلکتی ہے۔
اگر اللہ کی محبت دل میں جاگزیں ہو تو اس کی اطاعت اعضاء و جوارح پر بھی ظاہر ہوتی ہے۔
اگر آخرت کا یقین زندہ ہو تو دنیا کی بے لگام خواہشات پر کچھ نہ کچھ روک ضرور لگتی ہے۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ درخت زندہ بھی ہو، مگر اس پر کبھی ایک پتا بھی نہ نکلے؟
یہ کیسے ممکن ہے کہ بارش برسے، مگر زمین پر اس کا کوئی اثر نہ ہو؟
اور یہ کیسے ممکن ہے کہ ایمان دل میں موجود ہو، مگر زندگی کے کسی گوشے میں اس کی جھلک دکھائی نہ دے؟

یقیناً بندہ خطا کرتا ہے، گناہوں میں مبتلا بھی ہو جاتا ہے، عبادت میں کمزور بھی پڑ جاتا ہے۔ کوئی انسان کامل نہیں۔ مگر ایمان کی علامت یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی طرف پلٹتا ہے، اپنی کوتاہی پر شرمندہ ہوتا ہے، اور اصلاح کی کوشش کرتا رہتا ہے۔

دوسری طرف، ایک اور خطرناک رویہ یہ ہے کہ جو شخص نماز پڑھنے لگے، داڑھی رکھ لے، قرآن سے تعلق جوڑ لے یا سنت پر عمل کی کوشش کرے، اس پر فوراً "ریاکار" یا "منافق" ہونے کا فتویٰ لگا دیا جائے۔

یہ فیصلہ انسان کا نہیں، اللہ تعالیٰ کا اختیار ہے۔

ریاکاری کا تعلق دل سے ہے، اور دلوں کے بھید صرف وہی جانتا ہے جس نے دل پیدا کیے ہیں۔

ممکن ہے جسے ہم ریاکار سمجھ رہے ہوں، وہ اللہ کے نزدیک مخلص ہو۔
اور ممکن ہے جسے ہم بہت نیک سمجھ رہے ہوں، اس کے دل کا حال کچھ اور ہو۔

اس لیے نہ صرف ایمان کا دعویٰ کافی ہے، نہ صرف اعمال پر غرور جائز ہے۔

اصل کامیابی یہ ہے کہ ایمان بھی صحیح ہو، نیت بھی خالص ہو، اور عمل بھی سنت کے مطابق ہو۔

اپنے ایمان کو اعمال سے زندہ رکھیے، اور دوسروں کے اعمال کو ان کی نیتوں کے ترازو میں تولنے کے بجائے اللہ کے سپرد کر دیجیے۔

10/07/2026

08/07/2026

دل کا سکون دنیا کی چیزوں میں نہیں، بلکہ اللہ کی یاد میں ہے۔

"أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ" (سورۃ الرعد: 28)
"خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے۔"

07/07/2026

What Does It Really Mean to Love the Quran?

Is loving the Quran only about kissing it, keeping it in a high place, covering it with a beautiful cover, or reading it only during Ramadan?

Not at all.

True love for the Quran means that we try to understand it, think about its message, follow its teachings in our daily life, accept what it declares as lawful and unlawful, and shape our character, behavior, and actions according to it.

The Quran was not sent only to be read. It was sent to guide us in how to live our lives.

If our lips recite the Quran, but our lives do not follow its teachings, then we should honestly ask ourselves: Do we truly love the Quran?

O Allah, give us the ability to read the Quran, understand it, act upon it, and share its message with others. Ameen.

قرآن سے محبت کا اصل مطلب کیا ہے؟کیا صرف قرآنِ مجید کو چوم لینا، اونچی جگہ رکھ دینا، خوبصورت غلاف میں سجانا، یا رمضان میں...
07/07/2026

قرآن سے محبت کا اصل مطلب کیا ہے؟

کیا صرف قرآنِ مجید کو چوم لینا، اونچی جگہ رکھ دینا، خوبصورت غلاف میں سجانا، یا رمضان میں صرف تلاوت کر لینا ہی قرآن سے محبت ہے؟

ہرگز نہیں۔

قرآن سے حقیقی محبت یہ ہے کہ ہم اسے سمجھیں، اس کے پیغام پر غور کریں، اس کے احکام کو اپنی زندگی میں نافذ کریں، اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام مانیں، اور اپنے اخلاق، معاملات اور کردار کو قرآن کے مطابق ڈھالیں۔

قرآن صرف پڑھنے کے لیے نہیں، بلکہ زندگی گزارنے کے لیے نازل ہوا ہے۔

اگر ہمارے ہونٹ قرآن کی تلاوت کریں، مگر ہماری زندگی اس کی تعلیمات سے خالی ہو، تو ہمیں اپنے آپ سے ضرور سوال کرنا چاہیے کہ کیا ہم واقعی قرآن سے محبت کرتے ہیں؟

اے اللہ! ہمیں قرآن کو پڑھنے، سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔

05/07/2026

Address

Masina, Rupandehi
Lumbini
977

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Qur'anic Lessons posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Qur'anic Lessons:

Shortcuts

Share

Category