Greenway Global Heritage School

Greenway Global Heritage School Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Greenway Global Heritage School, Middle School, Village: Padariya, Post: Lumbini, Distt: Rupandehi, Lumbini Garden.

Welcome to Greenway Global Heritage School
We are on a mission to transform Nepal’s education system through innovation, creativity, and excellence.
📚 Quality Education | 🌍 Global Vision | 🤝 Strong Values | 🚀 Bright Future

اساتذہ اور والدین کے درمیان رابطے کی حد بندیایک آگاہی رپورٹآج کے تعلیمی نظام میں اساتذہ کو درپیش سب سے بڑا مگر نظر انداز...
21/04/2026

اساتذہ اور والدین کے درمیان رابطے کی حد بندی
ایک آگاہی رپورٹ
آج کے تعلیمی نظام میں اساتذہ کو درپیش سب سے بڑا مگر نظر انداز کیا جانے والا مسئلہ
غیر محدود رابطہ (Unrestricted Communication) ہے۔
یہ مسئلہ خاموشی سے استاد کی ذہنی صحت، پیشہ ورانہ وقار اور ذاتی زندگی کو متاثر کر رہا ہے۔
حقیقت پر مبنی صورتحال
رات 8:00 بجے
واٹس ایپ کی گھنٹی بجتی ہے۔
پیغام ہوتا ہے:
“مس، میرا بچہ کیپ بھول گیا ہے، صبح چیک کر لیجیے گا۔”
رات 9:00 بجے
ایک اور پیغام:
“مس، کاپی آج چیک نہیں ہوئی۔”
رات 12:00 بجے
تیسرا پیغام موصول ہوتا ہے:
“میرا بچہ پانی کی بوتل اسکول میں چھوڑ آیا ہے۔”
یہ پیغامات بظاہر معمولی محسوس ہوتے ہیں،
لیکن جب یہ روزانہ، اسکول اوقات کے بعد موصول ہوں
تو استاد کا ذہنی سکون ختم ہو جاتا ہے۔
مسئلے کی سنگینی
واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے
اساتذہ کو غیر محسوس طریقے سے
چوبیس گھنٹے دستیاب فرد بنا دیا ہے۔
ایک بار اسکول وقت کے بعد جواب دینا
ہمیشہ کے لیے ایک نئی توقع قائم کر دیتا ہے۔
نتائج:
استاد کی ذاتی زندگی متاثر ہوتی ہے
ذہنی دباؤ اور جذباتی تھکن میں اضافہ ہوتا ہے
استاد کی پیشہ ورانہ حیثیت کمزور پڑتی ہے
تعلیمی ماحول غیر متوازن ہو جاتا ہے
اہم آگاہی پیغام
ہر وقت دستیاب ہونا
پیشہ ورانہ ذمہ داری نہیں۔
ہمدردی اور دستیابی میں فرق ہوتا ہے۔
ایک باشعور تعلیمی نظام میں:
اساتذہ کے لیے واضح اوقاتِ رابطہ مقرر ہوتے ہیں
والدین کو صرف اسکول اوقات میں رابطے کی اجازت ہوتی ہے
ہنگامی اور غیر ہنگامی امور میں فرق واضح کیا جاتا ہے
سفارشات (Awareness Points)
✅ اسکول سطح پر واضح Communication Policy بنائی جائے
✅ والدین کو آغازِ سال میں رابطے کے اصول بتائے جائیں
✅ واٹس ایپ کو صرف معلوماتی پیغامات تک محدود رکھا جائے
✅ اساتذہ کے ذاتی وقت کا احترام سکھایا جائے
نتیجہ
ایک پُرسکون استاد
ہی ایک مؤثر استاد ہوتا ہے۔
اساتذہ کو ہمدرد ہونے کا حق ہے،
لیکن ہر وقت دستیاب رہنے کا دباؤ
نہ ان کی ذمہ داری ہے
اور نہ ہی تعلیمی معیار کے حق میں۔
یہ آگاہی ہم سب کے لیے ضروری ہے۔
— نعیمہ امین
(تعلیم و تربیت سے وابستہا

یہ اِنفوگرافِک ہمارے ایک مضمون کا خلاصہ ہےاِس میں بچے کےلیے انفرادی اور اجتماعی سطح پر ذمہ دارانہ زندگی گزارنے کے جامع ا...
09/03/2026

یہ اِنفوگرافِک ہمارے ایک مضمون کا خلاصہ ہے
اِس میں بچے کےلیے انفرادی اور اجتماعی سطح پر ذمہ دارانہ زندگی گزارنے کے جامع اُصول بیان کیے گئے ہیں۔
احساسِ ذمہ داری دراصل اپنے اور دوسروں کے حقوق کو بہترین طریقے سے ادا کرنے کا نام ہے، جو متوازن معاشرے کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہے۔
اِس میں انسانی فرائض کو ذاتی، گھریلو اور سماجی، تین بنیادی زمروں میں تقسیم کیا ہے تاکہ ہر پہلو کی وضاحت ہو سکے۔ ذاتی نظم و ضبط میں صحت، صفائی اور وقت کی پابندی پر زور دیا گیا ہے، جبکہ خاندانی سطح پر والدین کے کاموں میں ہاتھ بٹانے اور بہن بھائیوں کی مدد کی تلقین کی گئی ہے۔
آخر میں، شہری فرائض کے تحت ماحول کی حفاظت، قانون کی پاسداری اور انسانی ہمدردی کو ایک کامیاب اور باشعور انسان کی پہچان قرار دیا گیا ہے۔
شفقت علی (ہولِسٹِک ایجُوکیٹر)

#تعلیم

🗳️ Election is over. Now it’s Education Time 📚While we focus on politics and leaders, the most important decision for ou...
09/03/2026

🗳️ Election is over. Now it’s Education Time 📚

While we focus on politics and leaders, the most important decision for our future is choosing the right school for our children.

A good school builds character, confidence, knowledge, and values — not just academic results.

Greenway Global Heritage School is committed to nurturing young minds and providing quality education for a brighter future.

🎓 Choose the right school today, because our children will shape tomorrow.

چیونٹی سے سیکھنے والا استادتحریر: نعیمہ امینقدرت میں بعض چھوٹی سی مخلوقات بھی انسان کو بڑی بڑی باتیں سکھا دیتی ہیں۔ چیون...
08/03/2026

چیونٹی سے سیکھنے والا استاد
تحریر: نعیمہ امین
قدرت میں بعض چھوٹی سی مخلوقات بھی انسان کو بڑی بڑی باتیں سکھا دیتی ہیں۔ چیونٹی ان میں سے ایک ہے۔ بظاہر یہ نہایت معمولی دکھائی دیتی ہے، مگر اس کی محنت، نظم و ضبط اور ثابت قدمی انسان کے لیے ایک طاقتور مثال ہے۔ اگر غور کیا جائے تو ایک اچھے استاد کی زندگی بھی کسی حد تک چیونٹی کی محنت سے ملتی جلتی ہے۔
چیونٹی اپنے جسم سے کئی گنا زیادہ وزن اٹھا کر مسلسل آگے بڑھتی رہتی ہے۔ اسی طرح ایک استاد بھی بظاہر چھوٹے چھوٹے کام کرتا دکھائی دیتا ہے: روزانہ سبق کی تیاری، بچوں کو سمجھانا، غلطیاں درست کرنا، اور بار بار ایک ہی بات صبر سے دہرانا۔ مگر یہی مسلسل محنت دراصل بچوں کے مستقبل کی بنیاد بناتی ہے۔
استاد کی کامیابی بھی فوراً نظر نہیں آتی۔ جیسے چیونٹی آہستہ آہستہ اپنے مقصد تک پہنچتی ہے، ویسے ہی ایک استاد کی محنت کے نتائج بھی وقت کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں۔ آج جو بچہ حروف پہچان رہا ہوتا ہے، کل وہی معاشرے کا بااعتماد اور باصلاحیت فرد بن سکتا ہے۔
چیونٹی کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ راستے میں رکاوٹ آئے تو وہ رکتی نہیں بلکہ راستہ بدل کر آگے بڑھتی ہے۔ ایک کامیاب استاد بھی یہی کرتا ہے۔ اگر کوئی طریقہ کار مؤثر نہ ہو تو وہ نیا طریقہ آزمانے سے نہیں گھبراتا۔ وہ بچوں کی ضرورت کے مطابق اپنی تدریس کو بہتر بناتا رہتا ہے۔
چیونٹیاں اپنے کام پر توجہ دیتی ہیں اور دوسروں سے موازنہ نہیں کرتیں۔ یہی سبق استاد کے لیے بھی اہم ہے۔ ایک حقیقی معلم اپنی محنت اور مقصد پر توجہ رکھتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم کا اصل اثر فوری نہیں بلکہ وقت کے ساتھ نسلوں پر ظاہر ہوتا ہے۔
درحقیقت استاد کی محنت بھی چیونٹی کی طرح خاموش ہوتی ہے، مگر اس کے اثرات بہت بڑے ہوتے ہیں۔ روزانہ کی چھوٹی چھوٹی کوششیں، صبر، مستقل مزاجی اور لگن آخرکار کامیابی کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔
ایک استاد اگر مستقل مزاجی سے اپنا کام کرتا رہے تو وہ صرف نصاب نہیں پڑھاتا، بلکہ انسان بناتا ہے۔
— نعیمہ امین










Azaa

NOTICEVacancy for English TeachersOur school is looking for two qualified and passionate English teachers to join our te...
07/03/2026

NOTICE
Vacancy for English Teachers

Our school is looking for two qualified and passionate English teachers to join our team.

Available Positions:

1. English Teacher for KG Classes
2. English Teacher for Upper Classes

We welcome individuals who have a strong desire to teach, good communication skills, and dedication to students’ learning.

Interested candidates are requested to contact us for further details.

Contact Person:
Amiruddin
Phone Number 982-5425817

Join us and be a part of shaping young minds.

Free Admissions During The Month of Brakah-RamadhanAmiruddin Azaad  Ataullah Shah Siddharth Nagri Greenway Global Herita...
04/03/2026

Free Admissions During The Month of Brakah-Ramadhan
Amiruddin Azaad Ataullah Shah Siddharth Nagri Greenway Global Heritage School Moinollah Khan Kasmi

یہ اِنفوگرافِک ہمارے ایک مضمون ”بچوں کو دعا مانگنا سکھائیں“ کا خلاصہ ہے۔ اِس میں بچوں کی روحانی تربیت اور ان میں دعا مان...
04/03/2026

یہ اِنفوگرافِک ہمارے ایک مضمون ”بچوں کو دعا مانگنا سکھائیں“ کا خلاصہ ہے۔ اِس میں بچوں کی روحانی تربیت اور ان میں دعا مانگنے کی عادت راسخ کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالتی ہے۔
دعا انسان کی بے بسی اور اللہ کی بے پناہ قدرت کے درمیان ایک مضبوط تعلق کا نام ہے، جو ہر مشکل میں رہنمائی اور پناہ فراہم کرتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو روزمرہ کی مختصر دعائیں یاد کروائیں اور انہیں انبیا کے واقعات کے ذریعے دعا کی تاثیر سے آگاہ کریں۔
ضروری ہے کہ بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ اللہ ہر پکار سنتا ہے اور دعا ہمیں امید اور حوصلہ بخشتی ہے۔ اس عمل کا مقصد بچوں کی شخصیت کو مضبوط بنانا ہے تاکہ وہ زندگی کے ہر موڑ پر خالق سے رجوع کرنے کے عادی بن سکیں۔

شفقت علی (ہولِسٹِک ایجُوکیٹر)

#تعلیم

سوال: بچے بہت شرارتی ہیں، استاد کی بات نہیں مانتے اور کلاس میں شور کرتے ہیں، انہیں مؤثر طریقے سے کیسے کنٹرول کیا جائے؟جو...
02/03/2026

سوال: بچے بہت شرارتی ہیں، استاد کی بات نہیں مانتے اور کلاس میں شور کرتے ہیں، انہیں مؤثر طریقے سے کیسے کنٹرول کیا جائے؟

جواب: سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ زیادہ شور اور شرارت اکثر توانائی کی زیادتی، توجہ کی کمی یا غیر دلچسپ تدریسی انداز کا نتیجہ ہوتی ہے، اس لیے صرف ڈانٹ یا سزا مستقل حل نہیں بنتی، کلاس کے آغاز میں ہی واضح اور سادہ اصول بنا دیں جیسے بات کرنے سے پہلے ہاتھ کھڑا کرنا، دوسروں کی بات نہ کاٹنا اور کام مکمل کرنا، یہ اصول بچوں سے مل کر طے کریں اور دیوار پر آویزاں کریں تاکہ انہیں اپنی ذمہ داری کا احساس ہو۔
عملی طور پر کلاس کو مصروف رکھنا سب سے مؤثر طریقہ ہے، اگر سبق لمبا اور یکسانیت والا ہوگا تو بچے شور کریں گے، اس لیے 10 سے 15 منٹ کے چھوٹے حصوں میں سبق تقسیم کریں، درمیان میں سوال جواب، گروپ ورک یا مختصر سرگرمی شامل کریں، جب بچے کام میں مصروف ہوں گے تو شرارت کم ہوگی، خاص طور پر زیادہ شرارتی بچوں کو کوئی ذمہ داری دے دیں جیسے بورڈ مانیٹر یا کاپی چیک کرنے میں مدد، ذمہ داری ملنے سے ان کا رویہ بہتر ہوتا ہے۔
شور کنٹرول کرنے کے لیے ایک مستقل سسٹم بنائیں، مثلاً ہاتھ اوپر کر کے خاموشی کا اشارہ دینا یا تین تک گن کر مکمل خاموشی کا اصول، شروع میں اس کی پریکٹس کروائیں اور جو بچہ فوراً خاموش ہو جائے اس کی تعریف کریں، تعریف اور مثبت توجہ سزا سے زیادہ اثر رکھتی ہے، بار بار چیخنے سے استاد کی آواز کمزور ہو جاتی ہے اور اثر بھی ختم ہو جاتا ہے۔
اگر کوئی بچہ بار بار حد پار کرے تو سب کے سامنے ذلیل کرنے کے بجائے الگ سے بات کریں، اسے سمجھائیں کہ اس کا رویہ پوری کلاس کے لیے مسئلہ بن رہا ہے، اس کے والدین سے بھی مثبت انداز میں رابطہ رکھیں اور صرف شکایت نہ کریں بلکہ حل پر بات کریں، کیونکہ گھر اور اسکول کا مشترکہ پیغام زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔
مختصراً، واضح اصول، مصروف اور دلچسپ تدریس، مثبت حوصلہ افزائی، مستقل مزاجی اور ذاتی رہنمائی ہی شرارتی بچوں کو کنٹرول کرنے کا پائیدار طریقہ ہے، جب استاد پُرسکون، منظم اور اعتماد کے ساتھ کلاس سنبھالتا ہے تو بچے آہستہ آہستہ اسی انداز کو قبول کر لیتے ہیں۔
(منصور اختر غوری)

#تعلیم

سوال: میرا بیٹا سات سال کا ہے اور ون کلاس میں پڑھتا ہے، گھر میں وہ اچھا ریسپانس دیتا ہے اور کام بھی درست کر لیتا ہے، لیک...
01/03/2026

سوال: میرا بیٹا سات سال کا ہے اور ون کلاس میں پڑھتا ہے، گھر میں وہ اچھا ریسپانس دیتا ہے اور کام بھی درست کر لیتا ہے، لیکن اسکول کے ٹیسٹ یا کسی مقابلے میں لازمی ایک غلطی کر دیتا ہے حالانکہ گھر پر وہی کام بہت اچھے سے کیا ہوتا ہے، اسکول میں کسی قسم کا دباؤ بھی نہیں ہوتا، میں اس بات سے بہت پریشان ہوں، میں کیا کروں؟

جواب: سب سے پہلے آپ مطمئن ہو جائیں کہ یہ مسئلہ بہت عام ہے، خاص طور پر چھوٹی عمر کے بچوں میں، اس عمر میں بچے گھر کے آرام دہ ماحول میں بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں لیکن اسکول کے ٹیسٹ یا مقابلے کے وقت ان کے اندر ہلکی سی گھبراہٹ یا جوش پیدا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ جلدی میں چھوٹی سی غلطی کر دیتے ہیں، یہ کمزوری نہیں بلکہ عمر کا فطری مرحلہ ہے۔
عملی طور پر آپ گھر پر ٹیسٹ جیسا ماحول بنا کر پریکٹس کروائیں، مثلاً ہفتے میں دو بار 15 سے 20 منٹ کا مختصر ٹیسٹ لیں، ٹائمر لگا دیں اور کہیں کہ جیسے اسکول میں پیپر ہوتا ہے ویسے حل کرنا ہے، اس کے بعد اسے خود اپنا کام چیک کرنے کی عادت ڈالیں، خاص طور پر آخر میں دو منٹ “دوبارہ دیکھنے” کے لیے لازمی رکھوائیں تاکہ وہ اپنی غلطی خود پکڑنا سیکھے، اکثر بچے علم کی کمی سے نہیں بلکہ جلد بازی سے غلطی کرتے ہیں۔
دوسرا اہم قدم یہ ہے کہ مقابلے کو دباؤ نہ بنائیں، بچے کو بار بار یہ نہ کہیں کہ غلطی نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے سمجھائیں کہ غلطی ہونا نارمل بات ہے، اصل بات کوشش کرنا ہے، جب والدین حد سے زیادہ فکر ظاہر کرتے ہیں تو بچہ لاشعوری طور پر پریشر محسوس کرنے لگتا ہے چاہے اسکول میں کوئی دباؤ نہ ہو، اس لیے آپ کا پُرسکون رہنا بہت ضروری ہے۔
اس کے ساتھ اس کی توجہ اور یکسوئی بہتر بنانے کے لیے روزانہ پانچ سے دس منٹ کی چھوٹی سرگرمیاں کروائیں جیسے فرق تلاش کرنا، آسان پہیلیاں، میموری گیمز یا مختصر تحریری کام جس میں اسے ہدایت دیں کہ آہستہ اور صاف لکھنا ہے، اس سے اس کی فوکس کرنے کی عادت مضبوط ہوگی، اور جب بھی وہ ٹیسٹ میں بغیر غلطی کے کام مکمل کرے تو اس کی تعریف ضرور کریں تاکہ اس کا اعتماد بڑھے۔
مختصراً، آپ کے بیٹے کا مسئلہ ذہانت کا نہیں بلکہ ٹیسٹ کے ماحول میں جلد بازی یا ہلکی گھبراہٹ کا ہے، صبر، پریکٹس اور مثبت حوصلہ افزائی سے چند ماہ میں واضح بہتری آ جائے گی، ان شاء اللہ آپ پریشان نہ ہوں اور اسے محبت اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے دیں۔
(منصور اختر غوری)

#تعلیم

आदरणीय अभिभावकज्यूहरू,हजुरहरूको जीवनको सबैभन्दा ठूलो जिम्मेवारी र सबैभन्दा सुन्दर आशीर्वाद भनेको आफ्ना सन्तानको भविष्य न...
27/02/2026

आदरणीय अभिभावकज्यूहरू,

हजुरहरूको जीवनको सबैभन्दा ठूलो जिम्मेवारी र सबैभन्दा सुन्दर आशीर्वाद भनेको आफ्ना सन्तानको भविष्य निर्माण गर्नु हो। आज हजुरहरूले गर्नुहुने प्रत्येक निर्णयले उनीहरूको भोलि निर्धारण गर्छ। ती निर्णयहरूमध्ये सबैभन्दा महत्वपूर्ण निर्णय भनेको सही विद्यालयको छनोट हो।

आज शिक्षाको नाममा ठूला भवन, आधुनिक प्रविधि र आकर्षक प्रचार धेरै छन्। तर हामी नम्रतापूर्वक सोध्न चाहन्छौं — के शिक्षा केवल अंक, प्रमाणपत्र र प्रतिस्पर्धासम्म सीमित छ? कि शिक्षा भनेको असल बानी, इमानदारी, अनुशासन, नैतिकता र सही बाटोमा हिँड्ने साहस सिकाउनु पनि हो?

सन्तानलाई केवल सफल मात्र होइन, असल मानिस बनाउनु आवश्यक छ। उनीहरूले ठूलालाई सम्मान गर्न सिकून्, सत्य बोल्न सिकून्, कर्तव्यनिष्ठ र जिम्मेवार नागरिक बनून् — यही नै साँचो शिक्षा हो।

पवित्र भूमि Lumbini मा अवस्थित Greenway Global Heritage School यही उद्देश्यका साथ समर्पित छ। यहाँ केवल आधुनिक र गुणस्तरीय शिक्षा मात्र प्रदान गरिँदैन, इमानदारी र प्रतिबद्धताका साथ नैतिक मूल्य, धार्मिक भावना र संस्कारसमेत सिकाइन्छ।

यहाँका विद्यार्थीहरूलाई विज्ञान, गणित र प्रविधिसँगै जीवन जिउने कला, सत्य र असत्य छुट्याउने क्षमता, र सही मार्गमा अघि बढ्ने प्रेरणा दिइन्छ। शिक्षा केवल रोजगारीका लागि होइन, जीवनका लागि हो — यही सोचका साथ यहाँ प्रत्येक बालबालिकाको व्यक्तित्व निर्माण गरिन्छ।

आदरणीय अभिभावकज्यूहरू, यदि हजुरहरू साँच्चिकै आफ्ना सन्तानको भविष्यप्रति चिन्तित हुनुहुन्छ भने, केवल पढाइ होइन, संस्कार दिने विद्यालय रोज्नुहोस्। यदि हजुरहरू आफ्ना प्रिय सन्तानलाई सबैभन्दा अमूल्य उपहार दिन चाहनुहुन्छ भने, साँचो शिक्षा उपहार दिनुहोस्।

सही निर्णय लिनुहोस्। उज्ज्वल भविष्यका लागि आजै छनोट गर्नुहोस् — Greenway Global Heritage School।
जहाँ शिक्षा केवल दिमागका लागि होइन, हृदय र चरित्रका लागि पनि प्रदान गरिन्छ।

Address

Village: Padariya, Post: Lumbini, Distt: Rupandehi
Lumbini Garden

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Greenway Global Heritage School posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Greenway Global Heritage School:

Shortcuts

Share

Category