02/03/2026
سنو اے ہم نشینوا چشم بھر جانے کے دن آئے
کہ اپنے جامعہ سے کوچ کر جانے کے دن آئے
چلے جائیں گے تیری پر اثر علمی فضاؤں سے
محبت کے حسیں منظر سے اپنوں کی وفاؤں سے
یہیں علم و ثقافت میں عروج و ارتقاء آئی
یہیں فہم صحابہ سے ہوئی ہم کو شناسائی
ہماری سب خطاؤں کو سنو اب معاف کر دینا
دلوں سے رنجشیں، بغض و انا کو صاف کر دینا
خطیب و ثامر وکاشان کی وہ خوش نما یاری
نسیم و آفتاب و مرتضی کی وہ وفاداری
کہ اس علمی سفر سے اب گزر جانے کے دن آئے
کہ اپنے جامعہ سے کوچ کر جانے کے دن آئے
صلاح الدین عالمگیر عبد الرب ثمر ساجد
سبھی کو حوصلہ دیتے پریشاں دیکھ کر راشد
شہاد اللہ معین الدیں مصدق اور وارث کی
وفا شفقت رفیق اللہ صلاح الدین حارث کی
جدائی کی خبر سن کر سبھی مغموم ہیں دیکھو
عطاء کوثر ہدایت پیکرِ معصوم ہیں دیکھو
محمد حاذقل روح الامیں تواب عامر بھی
غموں کی شام میں ڈوبے ہوئے عمار صابر بھی
جدائی کے سمندر میں اتر جانے کے دن آئے
کہ اپنے جامعہ سے کوچ کر جانے کے دن آئے
عمر فاروق عبداللہ اپنے نجمِ عالم کی
حسین و دل نشیں باتیں اسد یعقوب اکرم کی
انیس و قاسم و آصف کو ہم کیسے بھلائیں گے
کہاں اتقاں کی محفل عبد رحماں سی سجائیں گے
محمد سرفراز و جاہد و احمد کی وہ باتیں
امین و مسلم و رحمت شمیم اختر کی وہ یادیں
امیں حیدر کی وہ شیریں تبسم کون لائے گا
ملنسار عبد رحماں سا بھلا اب کون آئے گا
سمجھ میں یہ نہیں آتا کدھر جانے کے دن آئے
کہ اپنے جامعہ سے کوچ کر جانے کے دن آئے
سلیماں عامر و نورالزماں کی یاد آئے گی
یہ لمحے اور اپنے اس مکاں کی یاد آئے گی
مبارک مرسلیں پرویز رمضاں کی خطابت کا
کہاں پائیں گے ہم ساتھی اسامہ کی لیاقت کا
کریم و سرفراز احمد کی باتیں اور اجمل کی
نہ یادیں بھولنا احمد محبت کے کسی پل کی
تراب و خیر عبداللہ کی یادیں ستائیں گی
وہاب و طالب و مامون کی باتیں رلائیں گی
کہ اب رختِ سفر کو باندھ کر جانے کے دن آئے
کہ اپنے جامعہ سے کوچ کر جانے کے دن آئے
کہاں محظوظ ہو پائیں گے ہم واحد کی غزلوں سے
امیں انجام باری اور رقیم عالم کی بزموں سے
ارے فیاض بھائی کی صدارت کیسے بھولیں گے
شمیم اختر ضمیر احمد ہدایت کیسے بھولیں گے
عتیق احمد کی وہ سادہ مزاجی اور خاموشی
دلوں میں رنج ہے سب کے نہ شامل ہے فراموشی
چلو اب الوداع کہتے ہیں عابد ہم نشینوں کو
ہر اک استاذ کو طالب کو اپنے نونہالوں کو
غموں کی شام میں رک کر ٹھہر جانے کے دن آئے
کہ اپنے جامعہ سے کوچ کر جانے کے دن آئے
مادر علم و فن الوداع الوداع
میرے پیارے چمن الوداع الوداع