21/10/2024
وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ
دل افسردہ ہے ۔ جب سے یہ خبر موصول ہوئی کہ قائد کی شہادت کی تصدیق اسلامی مزاحمتی تحریک کی طرف سے بھی کی جا چکی ہے ۔
وہ ستارہ جو 1962 میں خان یونس کے ایک کیمپ سے طلوع ہوا اور 2024 تک اپنے آب و تاب سے چمکتا رہا ۔ ظالم و جابر حکمرانوں کے سامنے ڈٹا رہا ۔ ایک اسیر سے سپاہی اور پھر قیادت تک کا سفر طے کیا ۔ جس نے اپنی زندگی کو راہِ خدا میں وقف کیا اور جام شہادت نوش کیا ۔ یروشلم تصادم 2021 میں حصہ لینے سے لیکر طوفان الاقصیٰ کو بپا کرنے تک کا سفر کیا ۔ جو اسلامی مزاحمتی تحریک کے حفاظتی آلات کے بانیوں میں سے تھا ۔ وہ ستارہ بظاہر غروب ہوا لیکن اپنی قربانیوں اور جہد مسلسل سے اپنے پیچھے ہزاروں سپاہی اقصیٰ کے لئے کھڑا کر گیا اور اپنی شہادت سے بہت سے منافقین کے چہروں کو ظاہر کرگیا۔
اللہ شہید قائد کے درجات کو بلند فرمائے ۔
از قلم۔ محمد یونس شاہین
Muhammad Yunus Shaheen