AFAQI TV

AFAQI TV

Delen

قرآن و سنت کی آفاقی تعلیمات کو فروغ دینے کی معمولی سی کاوش۔
آپ سے تعاون کی درخواست۔

11/09/2024

بہت سارے پیارے دوست بذریعہ این ٹی ایس امتحان پاس کر کہ ایلمنٹری ٹیچر تعینات ہوئے ہیں جن میں محمد قیصر اشتیاق ( ماسٹر ٹرینر کریکٹر ایجوکیشن فاؤنڈیشن کھوئی رٹہ ) ، قمر صدیق (( ماسٹر ٹرینر کریکٹر ایجوکیشن فاؤنڈیشن کھوئی رٹہ) ، ساجد بخاری صاحب (( ماسٹر ٹرینر کریکٹر ایجوکیشن فاؤنڈیشن فارورڈ کہوٹہ) ، رضا احمد ( سابق معلم ریڈ فاءؤنڈیشن کالج چڑہوئی) نبیل عظیم ( دیہاڑی باغ کھوئی رٹہ) ان سب کو بہت بہت مبارک ۔ اللہ کرے ان کا اور ان جیسے بت سارے ہونہار دوستوں کا محکمہ تعلیم میں آنا محکمہ تعلیم کی بہتری کا باعث بنے ۔
ویسے میری رائے آزادکشمیر کے سراکری تعلیمی نظام کے بارے میں کوئی اچھی نہیں ہے ۔ دو سال سرکاری تعلیمی اداروں میں جانے اور لوگوں کے ساتھ ملنے کا موقع ملا تھا اس دوران جو کچھ دیکھا بظاہر بڑا مشکل لگتا ہے اس سسٹم کو ٹھیک کرنا ، یوں سمجھیں کے آوے کا آوہ ہی بگڑا ہوا ہے ۔ جو لوگ بھی ہمارے اس سسٹم میں جاتے ہیں کچھ عرصہ ان میں توانائی نظر آتی پھر وہ بھی ویسے ہی ہوجاتے ہیں اور اپنی کوتائی یا لغزش ماننے کے بجائے وہ سسٹم کو دوش دینے لگتے ہیں ۔ کئی سارے دوستوں کو دیکھا پرائیویٹ سسٹم میں کم تنخواہ اور مشکل کام کے باوجود بہت محنت اور لگن سے کام کر رہے ہوتے ہیں وقت کی پابندی بھی کرتے ہیں لیکن سرکاری نظام میں جاننے کے کچھ ہی عرصے بعد ان کے مزاج میں تبدیلی آنے لگتی ہے ۔ تنخواہ زیادہ ہونے کے باجود کوئی کاروبار بھی شروع کر لیتے ہیں سیاسی اور سماجی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگتے ہیں ۔ کچھ تو اسکول جاتے ہیں حاضری لگانے کے لیے ہیں اور کچھ کندھوں پر پڑے ایک بوجھ کو اتارنے ، آتے میں نمک کے برابر ایسے لوگ ملتے ہیں جو واقعی استاد کے مقدس فریضہ کی نزاکت کو سمجھتے ہیں اور اس کا حق ادا کرتے ہیں ۔
گزشتہ آٹھ دس برسوں میں ایک بڑی تعداد میں نوجوان اساتذہ بذریعہ مقابلہ جاتی امتحانات ٹیچرز تعینات ہوئے ہیں اب امید کی جا سکتی ہے یہ سسٹم میں کچھ بہتری لائیں گے اور اگر سسٹم میں بہتری نہیں لاسکتے تو کم از کم اپنے حصے کا کردار ادا کرتے رہیں گے ۔
ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں کیونکہ قوم کا مستقبل ان کے ہاتھ میں ہے ۔

26/05/2024

جب ہم پاکستان سے نیدر لینڈ آئے ، بچوں کو اسکول میں داخل کروایا تو ایک چیز کی بڑی حیرت ہوئی بچوں کو نہ کوئی ہوم ورک دیا جا رہا ہے ، نہ بچے کےبستہ میں کتابیں ہیں اور نہ ہی اس کو پڑھایا یا لکھایا جا رہا ہے ۔ ابتداً ہم یہی سمجھے کہ ابھی بچے لینگویج اسکول جا رہے ہیں جب ریگولر اسکول جانا شروع ہونگے تو ان کی پڑھائی بھی شروع ہوگی اور ہوم ورک بھی دیا جائے گا ۔ لیکن چھے سات ماہ بعد جب وہ ریگولر اسکول جانے لگے تو صورت حال حسب سابق وہی نہ نہ کوئی کتاب ، نہ کچھ یاد کرنے کے لیے نہ ہی کچھ لکھنے کے لیے ۔بچے خوشی خوشی اسکول جاتے ہیں کھیل کود کے واپس آجاتے ہیں ۔ اس صورتحال میں ایک پاکستانی فیملی کا پریشان ہونا تو بنتا تھا ہم نے جا کر ٹیچر سے پوچھ ہی لیا ، بنتا تو یہ تھا کہ ہم پوچھیں بھائی بچوں کو پڑھا کیوں نہیں رہے لیکن احتیاطاً پوچھا " جناب گروپ 1 کا سلیبس تو دیجیے ، لرننگ آوٹ کم کیا ہیں ، سال میں بچے کو کیا پڑھایا جائے گا تاکہ ہم گھر میں بھی بچے کو کچھ تیار کر سکیں " یاد رہے گروپ 1 میں چار سے پانچ سال کا بچہ ہوتا ہے ۔ جواب انتہائی حیران کن تھا کہنے لگیں اس عمر کے بچوں کے لیے کوئی خاص سلیبس تو نہیں ہے البتہ کچھ سرگرمیاں ہیں جو ہم کرواتے ہیں ۔ جس کا مقصد بچوں میں ٹیم ورک پیدا کرنا ، ان میں دوسروں کے لیےاحساسات اور جذبات بیدار کرنا اور کھیل کود کے ذریعے ذہنی و جسمانی نشوونما کرنا اور ان میں تخلیقی کام کی لگن پیدا کرنا ۔ ہم نے کہا تو بچوں کی "پڑھائی" کب شروع ہوگی پہلے تو ٹیچر کو ہمارے سوال کی سمجھ نہ آئی کہ" پڑھائی" ہماری سے یا مراد ہے جب اس اسے سمجھ آئی کہ ہم پڑھائی "ریڈنگ اور رائٹنگ " کو ہی سمجھتے ہیں تو اس نے بتایا کہ یہ "پڑھائی " گروپ 3 سے شروع ہوگی۔ مطلب 6 سے 7سال کی عمر میں ۔ میری بڑی بیٹی کیونک گروپ 3 میں تھی لہذا اس کلاس میں جا پہنچے اور اس کی ٹیچر سے ہمت کر کہ پوچھ لیا کہ گروپ 3 کا سلیبس کیا ہے تو کہا گیا کہ حروف تہجی کی پہچان ہو جائے ، ان کو لکھنا آجائے 100 تک گنتی آجائے ریاضی کی بنیادی اشکال ( سرکل، ٹرائی اینگل ، ریکٹ اینگل وغیرہ) کی پہچان ہوجائے اور جمع تفریق کے بہت بنیادی 2 اور 2 چار کی طرح سوال کر سکے ۔ میں نے کہا "بس" اس نے حیرت سے ہماری طرف دیکھا اور کہا "ہاں جی بس " 6، 7 سال کی عمر کے بچے کے لیےاتنا کم نصاب جان کر ہمارا یوں حیران ہونا تو بنتا تھا کہ ہم ایک ایسے ملک ے ہیں جہاں اس عمر کے بچے تو کیا کچھ یاد کر چکے ہوتے ہیں۔
ہم اسلام آباد ہوتے تھے میری بیٹی کے اسکولز کا پتہ کر رہے تھے تو پتہ چلا کہ اسلام آباد کے ایک بڑے ادارے میں پلے گروپ میں بچے کو دو سال آٹھ ماہ سے ساڑھے تین سال کی عمر میں داخلہ ملتا ہے بچہ اس سے بڑا ہو جائے تو اس کو اگلی کلاس میں داخلہ مل سکتا ہے وہ بھی ان کا ٹیسٹ پاس ہونے کی صورت میں ۔ مزید معلومات پر پتہ چلا کہ نیا سیشن تو چار ماہ بعد شروع ہوگا لیکن داخلہ کی آخری ایک ہفتے کے بعد کی ہے اور ساتھ یہ کہ پلے گروپ میں داخلے کا بھی ٹیسٹ ہوتا ہے حیرت ہوئی بھئی پلے گروپ میں داخلے کا کیا ٹیسٹ ہوگا ۔ یاد رہے کہ اس وقت بیٹی کی عمر دو سال اور چار ماہ ہے ۔ سیشن شروع ہوتے وقت اس کی عمر دو سال آٹھ ماہ ہو جائے گی اس سال اگر داخل نہ کروایا تو اگلے سال وہ تین سال اور آٹھ ماہ کی ہو جائے گی لہذا وہ پلے گروپ میں داخل نہیں ہو سکے گی۔ مَرتا کیا نَہ کَرتا کی ضرب المثل کے مصداق کچھ چیزیں جو معلوم ہو سکیں وہ بچے کو سکھائیں ۔ ۔ اگلے ہفتے بھاگم بھاگ اسکول پہنچے ، آخری تاریخ تھی اسکول میں کافی رش تھا کافی لمبے انتظار کے بعد باری آئی ایک ٹیچر نے بچے سے کچھ چیزوں کے بارے میں پوچھنا شروع کیا ۔ وہ تو اچھا ہے بیٹی شروع سے ڈے کیئر جا رہی تھی نامانوس چہروں سے اسے کوئی پریشانی نہیں ہوتی تھی اور اس دوران مختلف نظمیں اور جانوروں کے نام بھی یاد تھے لہذا اس کا "ایڈمشن ٹیسٹ" پاس ہوگیا ۔ اگلے مرحلے میں ہمیں پچاس ہزار ڈاخلہ فیس اور باقی کچھ لوازمات جمع کروانے کا کہا گیا تو "پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی " کے مصداق ہمارا ارادہ بدل گیا خیر اچھا ہی ہورا اتنا چھوٹا بچہ پڑھائی کے اس بوجھ کو کیسے سہہ پاتا ۔ پھر ہم نے چار سال کی عمر میں اس کو ایک اور اسکول میں داخل کروا دیا ۔ داخلہ فیس اور دیگر ضروری اخراجات کے ساتھ اسکول نے کتابوں کی فہرست بھی تھما دی پتہ چلا یہ سری کتابیں اور نوٹ بکس آپ کو اسکول سے قیمتاً مل جائیں گی ۔ وہ کتابیں اتنی وزنی تھی کہ اگر ان سب کو ایک وقت میں بیگ میں ڈالا جائے تو بچہ کسی صورت بھی ان کو اٹھا نہ پائے ۔ خیر اللہ بھلا کرے اسکول انتظامیہ نے یہ سہولت کر دی کہ باقی ساری کتابیں اور کاپیاں اسکول میں رکھ لیں اور روزانہ ایک کتاب اور کاپی اور ڈائری ساتھ بھیج دیتے ۔ اب بچے کا روزانہ کا ہوم ورک بھی ہوتا ، روازنہ اسے کچھ یاد بھی کروانا پڑتا۔ ایک سال میں ہی اچھا خاصا "مواد" بچی کو یاد ہو چکا تھا اور ہم بھی بڑے فخر سے لوگوں کو بتاتے پھرتے تھے کہ اس کو اتنا کچھ آتا ہے ۔ خیر وہ ایک انتہا تھی تو یہ دوسری ۔ ایک طرف تو بچے کو سب کچھ پڑھا دینے کی ایک دوڑ تھی اور ایک طرف کچھ نہ پڑھانے کی قسم ۔
بقول اقبال ۔"ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا، نہ وہ دنیا"
ویسے تعلیم و تعلم کے ساتھ وابستگی اور تھوڑی بہت سمجھ بوجھ کی بنیاد پر کم عمری میں پڑھائی اور لکھائی کی اس مشقت کے میں خلاف تو تھا لیکن اس قدر آزادی کے تو حق میں نہیں تھا میرا یہ خیال تھا کہ اتنا پڑھایا جائے جتنا بچہ شوق سے پڑھ لے اور اس کا دل نہ بجھ جائے ۔ لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹا تھا ۔ دوست و احباب سے ڈسکشن شروع کی تو ملا جلا رجحان ملا کسی نے کہا کہ یہ سسٹم بہت اچھا ہے چھوٹے بچے پر اتنا بوجھ نہیں ہونا چاہیے ، کسی نے کہا بالکل بیکار سسٹم ہے بچوں کو ناکارہ بنا دیتے ہیں بچے دو ، تین سال سے اسکول جا رہے ہیں انہیں آتا جاتا کچھ نہیں۔ انڈیا کے ایک دوست سے بات ہوئی انہوں نے بتایا کہ ان کے ایک جاننے والے صاحب نے اپنی فیملی کو واپس انڈیا بھیج دیا ہے کہ یہاں پڑھایا کچھ نہیں جا رہا ۔ جب کہ ان کے کزن کے بچے تو بہت کچھ "یاد" کر چکے ہیں اور انہیں لکھنا پڑھنا بھی آتا ہے ۔پھر میں نے اس پر کچھ ریسرچ شروع کی کیا بہت ابتدائی عمر میں بچوں کو رسمی تعلیم میں ڈالنا چاہیے ؟ کیا اس عمر میں لکھنا اور پڑھنا بچوں کے لیے فائدہ مند ہے ؟ ہمارے ہاں پڑھائی لکھائی کی اتنی جلدی کیوں ہے ؟ ترقی یافتہ ممالک میں ابتدائی عمر میں بچے کو اتنا ریلیکس کیوں رکھا جاتا ہے ؟ جب میں نے اس پار ریسرچ کی تو میں اس نتیجے پر پہنچا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (جاری)

07/04/2024

کیف چوہدری صاحب کی فیس بک وال سے مستعار

گزشتہ دنوں پاکستان میں گھومنے پھرنے کے بعد میں کہہ سکتا ہوں کے بازار اشیائے خورد و نوش سے بھرے ہیں اور مہنگائی کا واویلا ہونے
کے باوجود آپ کو ریسٹورنٹس میں ٹیبل کے لئے انتظار کرنا پڑتا ہے
‎بھکاری سے لے کر صنعت کار تک سب ہی کل کی طرح روتے بھی جاتے ہیں، کماتے بھی جاتے ہیں اور ٹیکس بھی نہیں دینا چاہتے۔ منافقت کا گراف بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ دھینگا مشت انسانی
معاشروں میں ہوتا ہے
‎مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ کیا چھن گیا ہے مگر ہاں لوگ اب خالص جھوٹ یا خالص سچ بولتے ہوئے گھبراتے ہیں۔ دل کھول کے سامنے نہیں رکھتے بلکہ سامنے والے کا ذہنی ناپ لے کر ایسا باتونی لباس سیتے ہیں جو سننے والے کو تنگ محسوس نہ ہو۔ سب پرتپاک ہیں لیکن کسی کو کسی پر یقین نہیں کہ کس کے ڈانڈے کہاں پر مل رہے ہیں۔ میرے منہ سے نکلی بات کا دوسرا کیا مطلب لے گا اور اس پر کیا ردِعمل دے گا۔ یہ ردِعمل فوری ہوگا یا بعد میں کسی اور شکل میں سامنے آئے گا۔
‎سب بظاہر ایک دوسرے کو فیس ویلیو پر لے رہے ہیں۔ الفاظ وہیں ہیں مگر گودا غائب ہے۔ میز پر گفتگو کے چھلکوں کا انبار ہے۔ روز ساتھ بیٹھنے والوں میں اب یہ لاشعوری احتیاط اور ٹٹول بھی در آئی ہے کہ اللہ جانے پردے کے پیچھے کیا ہے۔
‎ہاں یہی سماج تھا جہاں کبھی ننگی آمرانہ فضا میں بھی کوئی بات کہتے ہوئے دائیں بائیں نہیں دیکھنا پڑتا تھا۔ حساس ترین مذہبی و غیر مذہبی معاملات پر دوستوں سے الجھتے ہوئے بھی کوئی اندر سے لگامیں نہیں کھینچتا تھا۔رک جا، ابے رک جا، پاگل ہوگیا ہے کیا،لیکن اب یوں لگتا ہے کہ ہوا تیز چل رہی ہے مگر سانس رک رہی ہے۔ بظاہر کوئی کسی پر نگراں نہیں مگر ہر کوئی اپنا ہی ہمہ وقت نگراں ہے۔ سب آزاد گھوم رہے ہیں مگر اپنی سوچ اور روح اپنی ہی زنجیروں میں جکڑے ہوئے۔ صرف اس لالچ میں کہ اس جیسی کیسی زندگی کے چند دن اور میسر آ جائیں کہ جس زندگی سے ہر کوئی تنگ ہے

10/03/2024

اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالَأمْنِ وَالإِيمَانِ، وَالسَّلَامَةِ وَالِإسْلَامِ، وَالتَّوْفِيقِِ لِمَا تُحِبُّ رَبَّنَا وَتَرْضَى، رَبُّنَا وَرَبُّكَ اللَّهُ ۔

08/03/2024
31/12/2023

کھٹی میٹھی یادوں کے ساتھ یہ سال بھی گزر گیا ۔یہ سال 2023ء اس لحاظ سے بہت خوبصورت رہا کہ اس سال پیارے اللہ میاں نے ایک بار پھر اپنے گھر کی زیارت نصیب فرمائی ، نئی دنیا اور نئے افق دکھائے خوشگوار اور غم ناک یادوں کے ساتھ 2023 کا سورج غروب ہوگیا ۔ کچھ بہت پیارے اس سال رخصت ہوئے جن کی یادیں ہمیشہ دل میں رہیں گی ۔ بالخصوص انتہائی شفیق اور مہربان تائی امی اور بہت ہی پیارے دوست ، مربی ، قائد اور بھائی نثار صابر صاحب کی جدائی نے بہت دکھی کیا ۔ ان کے لیے علامہ کے اشعار
مثلِ ایوانِ سحَر مرقد فرُوزاں ہو ترا
نُور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو ترا
آسماں تیری لحَد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نَورُستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
کل صبح نئی امیدوں اور نئی امنگوں کے ساتھ 2024 کا سورج طلوع ہونے جارہا ہے ۔ اللہ سے دعا گو ہیں اس سال کو ہمارے لیے سلامتی اور خیر و برکت کا باعث بنائے ۔
وطن عزیز پاکسان کے حالات سے دل مغموم رہتا ہے مرحوم احمد ندیم قاسمی کی یہ خوبصورت دعا وطن کے نام

خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو

یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

ہر ایک خود ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو

خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو۔
اس برس جو ہمارے پیارے ہم سے رخصت ہوگئے مالک کائنات ان پر اپنا خصوصی کرم فرمائے کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے ۔ جو بیمار ہیں ان کو شفا ء کاملہ عطا فرمائے ۔ ہمیں انسانیت کی بھلائی کے لیے اپنے حصے کی شمع جلانے کی توفیق عطاء فرمائے آمیں

Thanks Google Photo for the Picture

22/06/2023

💔 It is truly heartbreaking to learn about the recent Greek shipwreck incident, resulting in the loss of over 300 young Pakistani lives. Our deepest condolences go out to the families and loved ones affected by this tragic event.

🌍 Everyone has the right to explore opportunities in developed countries like Europe by going abroad. However, it is crucial to emphasize that risking one's life in pursuit of a better future is unfair and unnecessary. Safety should always be a priority.

🤔 It is essential for us to reflect on the factors that may have contributed to this tragedy. Multiple elements come into play in incidents like these. Firstly, the current political and economic conditions in Pakistan have driven many individuals, especially the youth, to seek opportunities abroad. Additionally, the attitudes and living standards of our overseas Pakistanis, particularly those in developed countries, can fuel the desire of our young people to move abroad. Lastly, our society's focus on solely accumulating wealth as the primary life objective also plays a significant role.

⚠️ In light of this incident, it is imperative for authorities to thoroughly analyze and address the underlying issues that may have led to such a devastating loss of life. By doing so, we can prevent future occurrences and ensure the safety of those seeking opportunities abroad.

🙏 Let us take a moment to remember and honor the lives that were tragically lost. This incident should serve as a powerful reminder to prioritize safety and responsible migration. Together, we must work collaboratively to provide individuals seeking opportunities abroad with the necessary information about safe migration channels and offer support in their pursuit of a better life.

💡 If you or anyone you know is considering going abroad for work, it is vital to reach out to trusted resources, consult with migration experts, and explore legal channels to avoid embarking on dangerous journeys. Your life is valuable, and your dreams can be pursued in a safe and responsible manner.

🌟 By promoting awareness, taking proactive steps, and addressing the root causes, we can prevent future incidents like the Greek shipwreck tragedy. Let us strive to create a world where individuals have the opportunity to build a prosperous future while prioritizing their well-being and safety. Together, we can make a difference. 🌍💙

11/06/2023

In this enlightening video, Mr. Tauseef Ur Rehman Afaqi delves into the topic of "How to Plan the Summer Vacation for Kids." Unfortunately In Pakistan, summer vacations often confine kids to their homes, Where as developed countries embrace summer vacations as a time for leisure and enjoyment. Drawing upon his expertise, In this video we will discuss how we can create an unforgettable summer experience for our children. From planning and organizing to ensure a vacation as per kids' interests and maximizing their enjoyment.

02/04/2023

Character Education Foundation (CEF) was established to endow quality education, especially pertaining to Quranic teachings and character education, among different schools, colleges, educational institutions and organizations in the country. It was formed in January 2016.
It has emerged as a leading not-for-profit organization in Pakistan that is working in the fields of curriculum development, Quranic Education and Character Building. CEF is an independent operational entity registered as a non-for-profit company setup under section 42 of the companies Act,2017.
CEF envision holistic development new young ones. It is for each and every individual in society. We believe that sustainable change can be achieved by developing the lives of individuals and communities. Building the character and developing humanity is the only way to bring a positive change in society.

Considering this we equally focus on the children, particularly school going children as they are in the best of life to learn and adopt good practices for their life and impact or benefit society. Similarly, we believe it is equally important that we focus on parents and elders. If they are on the same wavelength and of the same approach then building the characters and developing the human being will be easy.

Wilt u dat uw scholen hét hoogst genoteerde School in Enschede wordt?

Klik hier om uitgelicht te worden.

Plaats

Type

Telefoon

Adres


Rembrandtlaan
Enschede
7545ZP

Openingstijden

Maandag 09:00 - 17:00
Dinsdag 09:00 - 17:00
Woensdag 09:00 - 17:00
Donderdag 09:00 - 17:00
Vrijdag 09:00 - 17:00
Zaterdag 09:00 - 17:00