چین 'دو نمبر' کی مینوفیکچرنگ سے ٹیکنالوجی میں سپر پاور کیسے بنا
تحریر: قدیر قریشی
دسمبر 31، 2025
آج سے پچاس سال پہلے جب پاکستان میں بھی بہت سی چیزوں کی مینوفیکچرنگ ہوتی تھی لیکن اچھی کوالٹی کی چیزیں یورپ سے درامد کی جاتی تھیں، اچانک مارکیٹ میں ایسی 'دو نمبر کی چیزیں' بھی ملنے لگیں جن کی کوالٹی پاکستان میں بنی اشیاء سے بھی گھٹیا تھی لیکن ان کی قیمت بھی پاکستانی پراڈکٹس سے کم تھی۔ یہ چیزں چین سے درامد کی جاتی تھیں اور شروع میں انہیں کوئی بھی خریدنے کو تیار نہیں تھا۔
لیکن پھر آہستہ آہستہ چین میں بنی چیزوں کی کوالٹی بہتر ہونے لگی، لیکن ان کی قیمتیں پھر بھی دوسرے ممالک میں بنی چیزوں سے کم تھی۔ اس طرح دنیا بھر میں چین کے پراڈکٹس کی مانگ بڑھنے لگی۔ مختلف انٹرنیشنل کمپنیوں نے چین کی مینوفیکچرنگ ایفیشینسی سے فائدہ اٹھانے کے لیے چین میں اپنے دفاتر اور پروڈکشن ہاؤس کھولے اور یوں چین دنیا کا سب سے بڑا مینوفیکچرر بن گیا جہاں بنی چیزیں اب دنیا بھر میں سپلائی کی جاتی ہیں۔ کھلونوں، روزمرہ کی چیزوں، اور لو ٹیک صنعتی پراڈکٹس کی مینوفیکچرنگ سے آگے بڑھ کر اب چین ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ پر توجہ دے رہا ہے اور آج چین سائنس، انجینیئرنگ اور ٹیکنالوجی کاعالمی مرکز بن چکا ہے۔ یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی — یہ ایک سوچا سمجھا، ریاستی سطح پر چلایا گیا ارتقائی عمل تھا، جس کے پیچھے چینی قیادت کی برسوں پر محیط حکمت عملی پوشیدہ ہے۔
تبدیلی کا آغاز:
چین کے سابق وزیر اعظم ڈنگ ژیاو پنگ نے 1977 میں پورے ملک کا انتظامی ڈھانچہ تبدیل کیا اور یہ اعلان کیا کہ آئندہ تمام تقرریاں اور کالجوں۔یونیورسٹیوں میں داخلے سیاسی بنیادوں پر نہیں بلکہ صرف اور صرف قابلیت یعنی میرٹ کی بنیاد پر ہوں گی۔ اس طرح ہر قسم کی سیاسی سوچ رکھنے والے طلبا کو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سٹڈی کرنے کا موقع ملا اور نیا ٹیلنٹ سامنے آنے لگا۔ اس کے علاوہ ڈنگ ژیاؤ پنگ نے تعلیمی پالیسیز کو از سرنو ترتیب دیا اور پرائمری سکول سے ہی سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق موضوعات کو نصاب کا حصہ بنایا۔
اس کے بعد 1985 میں وسیع پیمانے پر تعلیمی اصلاحات کی گئیں، انجینیئرنگ اور اپلائڈ سائنسز کے شعبوں کو کثیر رقوم فراہم کی گئیں، دنیا بھر سے چینی ماہرین کو بھاری تنخواہوں پر چین واپس بلایا گیا جس سے پوری نئی نسل کو دنیا کی بہترین سائنسی، انجینیرئنگ اور ٹیکنالوجی کی تعلیم میسر آنے لگی۔ 1995 میں اگلے دس سالہ منصوبے میں دنیا کی بہترین یونیورسٹیان چین میں بنانے کا پلان بنایا گیا اور سو یونیورسٹیوں کو اس پروگرام کے لیے منتخب کیا گیا۔ ان یونیورسٹیوں کو بہترین فیسلییٹیز فراہم کی گئیں، ریسرچ کے لیے کثیر فنڈنگ فراہم کی گئی، اور سائنس دانوں پر سائنسی پیپر شائع کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ ان اصلاحات کا نتیجہ یہ ہوا کہ اکیسویں صدی کے آغاز تک چین دنیا بھر میں سب سے زیادہ انجینیرنگ گریجویٹس پیدا کرنے والا ملک بن گیا۔
اکیسویں صدی:
سنہ 2006 کے پندرہ سالہ منصوبے میں ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ کے لیے فنڈنگ اور انفراسٹرکچر فراہم کیا گیا اور چین کے مقامی انجینیرز کو نئی ایجادات پر انعامات دینے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ اس طرح چین میں سائنسی اور ٹیکنالوجیکل انقلاب کا آغاز ہوا
2015 میں نئے دس سالہ منصوبے کا اعلان ہوا جس میں 'میڈ ان چائنا 2025' کی مہم کا آغاز ہوا۔ اس مہم کا مقصد یہ تھا کہ 2025 تک چین ہر قسم کی جدید ترین ٹیکنالوجی خود پیدا کرے، اعلیٰ ٹیکنالوجی میں مکمل طور پر خود کفیل ہو جائے اور دوسرے ممالک پر انحصار کرنے کی ضرورت نہ رہے۔
اس وقت چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت بن چکا ہے اور شاید اگلی دہائی میں دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن جائے۔ جہاں امریکہ میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی فنڈنگ ختم کی جا رہی ہے اور تعلیم کے مرکزی اداروں کو بند کیا جا رہا ہے، وہیں چین اپنی سالانہ جی ڈی پی کا 2.5 فیصد ریسرچ اور ڈویلپمنٹ پر خرچ کرتا ہے۔ اپنی مقامی کمپنیوں کو کامیاب بنانے کے لیے انہیں کم سود پر قرضے دیتا ہے اور حکومت ان کمپنیوں کے پراڈکٹس ترجیحی بنیادوں پر خریدتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین کی مقامی کمپنیوں کا شمار اب دنیا کی سب سے بڑی اور بہترین کمپنیوں میں ہونے لگا ہے
اس کامیابی کی وجہ صرف حکومت کے رویوں اور پالیسیز میں تبدیلی نہیں ہے، بلکہ عوام کے رویوں میں بھی تبدیلی ہے۔ آج سے محض پچاس سال پہلے، چین کے لوگوں کو دنیا بھر میں افیمی کہہ کر دھتکارا جاتا تھا۔ آج دنیا بھر میں کمپنیاں اس بات کا اعتراف کرتی ہیں کہ چینی کارکن بے انتہا محنتی، دیانت دار، ذہین، اور productive ہوتے ہیں
ہمارے ہاں حکومتی رویے ابھی تک وہی ہیں جیسے پچھلے پچھتر سالوں سے رہے ہیں۔ لیکن دیانت داری سے سوچیے کہ کیا پاکستان کے دنیا سے پیچھے رہ جانے میں تمام کا تمام الزام صرف حکومت کو ہی دینا چاہیے؟ کیا ہم نے انفرادی طور پر حالات کو بہتر بنانے کے لیے کچھ کیا ہے؟ کیا ہم دیانت داری سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایک دیانت دار، محنت کش، اور productive قوم ہیں؟ ہمیں سب سے پہلے اپنے رویے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے رویے تبدیل ہوں گے تو ہی ملک کی حالت تبدیل ہو پائے گی۔ دنیا کے بیسیوں ملک جو محض چند دہائیاں پہلے غریب ممالک سمجھے جاتے تھے، اب ترقی یافتہ ممالک میں شمار کیے جاتے ہیں۔ چین کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ اگر چین ترقی کر سکتا ہے تو پاکستان ترقی کیوں نہیں کر سکتا؟ دوسروں کو اس ناکامی کا الزام دینے کے بجائے ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا ہے کہ ہمیں اپنے رویوں میں کیا تبدیلی کرنا ہے
Ali Shujaa
if I'm wrong educated me
Don't belittle me.
15/11/2025
حکمتِ عملی! اس پوسٹ کا کسی بھی سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم کہنے کے زمہ دار ہیں مگر آپ کی سمجھ کے نہیں۔
جنگل میں شیروں نے گدھے کا بچہ شکار کر لیا،
گدھے کا بچہ کافی حد تک زخمی تھا تو ایک بزرگ شیر نے کہا: اسے مزید مارنے یا کھانے کے بجائے کیونکہ گوشت پوست بھی زیادہ نہیں۔ اسے اپنے پاس رکھ کر پال پوس کر بڑا کرنا زیادہ فائدہ مند ہے...
بوڑھے شیر کی بات مان کر شیروں نے اس گدھے کو گود لے لیا اور اس کا اچھے سے خیال رکھا حتیٰ کہ وہ شیروں کا وفادار گدھا بن گیا...
ایک دن اسی بزرگ شیر نے کہا، اب وقت آگیا ہے کہ اس گدھے کو واپس اس کی برادری میں چھوڑ دیا جائے...
شیروں نے ایسا ہی کیا اور اس گدھے کو اپنی ہمراہی میں لے جا کر گدھا برادری کے سپرد کردیا اور کہا یہ گدھا تم میں سے باقی گدھوں سے ممتاز ہے کیونکہ یہ ہمارا حمایت یافتہ گدھا ہے...
گدھوں نے فورا اس گدھے کو اپنا سردار مان لیا اور
شیروں کی حمایت حاصل ہونے کی وجہ سے اس کے ہر حکم کی تعمیل کرتے اور نافرمانی سے ڈرتے رہتے۔
کیونکہ جو بھی گدھا اس سردار گدھے کی حکم عدولی کرتا تو سردار گدھا اس نافرمان گدھے کو گرفتار کرکے شیروں کے حوالے کر دیتا اور وہ اس نافرمان کو چیر پھاڑ کر کھا جاتے تھے..
اس طرح گدھوں کو سردار مل گیا اور شیروں کو شکار کی پریشانی سے نجات مل گئی۔۔۔
جہاں تک بات ہے اس سردار گدھے کی تو وہ گدھوں کے نزدیک شیر تھا اور شیروں کے درمیان گدھا ........!!!!🥱
13/11/2025
اگر تمہیں کبھی حوصلے کی ضرورت محسوس ہو تو اپنے والد کی طرف دیکھو۔ وہ شخص جس نے اپنی جوانی تمہاری خوشیوں کے لیے قربان کر دی، اپنے خواب ادھورے چھوڑ دیے تاکہ تمہارے خواب مکمل ہو سکیں۔ دھوپ میں پسینہ بہایا، سردی میں محنت کی، بس اس لیے کہ تمہیں کبھی کسی کمی کا احساس نہ ہو۔ ان کے چہرے کی جھریاں محنت کی داستان سناتی ہیں اور ان کے ہاتھوں کی سختی قربانیوں کی گواہ ہے۔ آج وہ بڑھاپے کی دہلیز پر ہیں، مگر تمہارے لیے ان کی دعاؤں میں وہی محبت، وہی فکر باقی ہے۔ اب تمہاری باری ہے کہ ان کا سہارا بنو، ان کے چہرے پر اطمینان کی مسکراہٹ واپس لاؤ۔ اُن ہاتھوں کو آرام دو جو تمہارے لیے مسلسل کام کرتے رہے۔ زندگی کے اس مرحلے پر ان کے ساتھ کھڑے رہنا تمہارا فرض ہی نہیں، تمہارا فخر بھی ہے۔ کیونکہ جس باپ نے تمہیں زندگی دی، اب اس کی زندگی تمہارے سہارے کی محتاج ہے۔ اسے احساس دلاؤ کہ اس کی قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں۔.
13/11/2025
زندگی میں جیت صرف اُنہیں نصیب ہوتی ہے جو اپنی قابلیت بڑھانے پر یقین رکھتے ہیں، نہ کہ اُنہیں جو قسمت کے سہارے بیٹھ جاتے ہیں۔ قسمت کی روٹی واقعی "کتوں" کو بھی مل جاتی ہے، مگر عزت، مقام اور کامیابی صرف اُنہیں ملتی ہے جو خود کو بہتر بنانے کی جنگ لڑتے ہیں۔ دنیا اُن لوگوں کی نہیں جو خواب دیکھتے ہیں بلکہ اُن کی ہے جو جاگ کر اُن خوابوں کو حقیقت میں بدلتے ہیں۔ جو انسان ہر دن کچھ نیا سیکھتا ہے، اپنی غلطیوں سے سبق لیتا ہے اور ہار کر بھی ہمت نہیں ہارتا — وہی دراصل قسمت لکھنے والا بن جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تقدیر اُس کے سامنے جھک جاتی ہے جو خود کو ہار ماننے نہیں دیتا۔ محنت کبھی ضائع نہیں جاتی، وہ ایک دن ضرور چمکتی ہے جیسے سورج رات کے اندھیروں کو توڑتا ہے۔ اگر تم اپنی قابلیت بڑھاتے رہو، تو ایک دن قسمت تمہارے قدموں میں ہوگی۔ یاد رکھو! کامیابی اُنہیں نہیں ملتی جو قسمت کے آس پر جیت کا خواب دیکھتے ہیں، بلکہ اُنہیں ملتی ہے جو خواب کے لیے نیند قربان کرتے ہیں۔ زندگی کا راز ایک ہی ہے — “اپنی صلاحیت بڑھاؤ، قسمت خود ہاتھ جوڑے گی۔”
13/11/2025
Official website: https://en.szu.edu.cn/info/1024/1845.htm
Programs: https://lxs.szu.edu.cn/info/1279/4737.htm
Faculty Link: https://lxs.szu.edu.cn/info/1217/4717.htm
Application Link: https://status.szu.edu.cn/szulxs/html/vue/stuBm.html?fxq=2026-03&lxslbm=10
SZU Admission Brochure for the Doctoral Program of International Students (March 2026 Intake)-Shenzhen University (SZU) Ⅰ.ProgramsFor admission programs, please refer to the SZU PhD PROGRAMS FOR INTERNATIONAL STUDENTS, (March2026Intake).Ⅱ.Study form and duration1. Full-time study2. Duration of the programs is 3 to 4 years, specific with different program,with the maximum of 5 years.Ⅲ.Eligibility1.The applican...
*Programming Beginner Roadmap* 💻✨
📂 *Start Here*
∟📂 Choose a Language (Python, Java, C, JavaScript)
∟📂 Set Up Your Development Environment (IDE, Code Editor)
∟📂 Learn How to Write & Run Your First Program
📂 *Fundamentals*
∟📂 Variables & Data Types
∟📂 Input & Output
∟📂 Operators (Arithmetic, Logical, Comparison)
∟📂 Control Flow (if, else, switch)
∟📂 Loops (for, while, do-while)
📂 *Functions & Modular Code*
∟📂 Defining & Calling Functions
∟📂 Parameters & Return Values
∟📂 Understanding Scope & Lifetime
📂 *Data Structures*
∟📂 Arrays / Lists
∟📂 Strings
∟📂 Dictionaries / Maps / Objects
∟📂 Sets
📂 *Object-Oriented Programming (OOP)*
∟📂 Classes & Objects
∟📂 Encapsulation, Inheritance, Polymorphism, Abstraction
📂 *Error Handling & Debugging*
∟📂 Exceptions / Try-Catch
∟📂 Debugging Basics & Tools
📂 *File Handling*
∟📂 Reading & Writing Files
📂 *Practice Projects*
∟📌 Calculator
∟📌 To-Do List App
∟📌 Simple Game (Guess the Number)
📂 ✅ *Next Steps*
∟📂 Learn Algorithms & Problem Solving
∟📂 Version Control with Git
∟📂 Explore Frameworks & Libraries
*React "❤️" for more!*
🌳 Postdoc Position – Genomics & Bioinformatics, University of Göttingen
The Department of Forest Genetics and Forest Tree Breeding at Georg-August-University of Göttingen, Germany invites applications for a 3-year full-time Postdoctoral Researcher to study drought tolerance in Northern Red Oak (Quercus rubra).
💡 Project Focus:
Precision phenotyping under drought stress
Whole genome sequencing of 570 individuals
Bioinformatic analysis, SNP calling, genotyping
Genome-Wide Association Studies (GWAS) and comparative genomics
Publication and project coordination support
🎓 Qualifications:
Master’s and PhD in Biology, Forest Sciences, or related fields
Expertise in bioinformatics, GWAS, molecular breeding, statistics, and quantitative genetics
Strong publication record and excellent English skills
📍 Location: University of Göttingen, Germany
💰 Salary: 100% TV-L E13 (public sector scale)
📧 Contact: Prof. Dr. Oliver Gailing — [email protected]
🗓️ Deadline: Within three weeks of publication
Chang’an University CSC Scholarship 2026-2027
• The application time of both first and second batch has been adjusted. The first batch is from 1st November of 2025 to 28th February of 2026. The second batch is from 1st March to 31st March.
• There is NO LIMITATION OF MAJORS for the FIRST batch.
• FIVE ELIGIBLE MAJORS of SECOND batch is LIMITED TO: Communication and Transportation Engineering, Computer Science and Technology, Mechanical Engineering, Civil Engineering, Vehicle Engineering
• [There are MORE QUOTAS for the FIRST batch. If you are not selected in the first batch, your application will automatically enter the selection of the second batch. Thus, we strongly recommend all the students to apply for the FIRST BATCH as early as possible.]
12/11/2025
ایک تُرکش کہاوت ہے کہ اگر آپ کسی سے سچی محبت کرتے ہیں تو درحقیقت آپ اس سے دو مرتبہ محبت کرتے ہیں۔
پہلی مرتبہ جب اس کی مسکراہٹ، آواز اور اس کی موجودگی آپ کی توجہ کا مرکز بنتی ہے تو ان ظاہری خصوصیات کی وجہ سے وہ انسان آپ کو ہر لحاظ سے پرفیکٹ لگنے لگتا ہے لیکن آہستہ آہستہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب آپ اس کے مزاج، عادات، جذباتی بدلاؤ اور حالاتِ زندگی کو دیکھتے ہیں تو جو پرفیکشن کا تصور آپ نے قائم کیا ہوتا ہے وہ ختم ہو جاتا ہے۔
لیکن اس سب کے باوجود بھی تمام تر خوبیوں اور خامیوں سمیت اگر آپ اس شخص سے پیار کرتے ہیں تو اس کا مطلب آپ کو اس سے وقتی لگاؤ نہیں بلکہ سچی محبت ہے۔
12/11/2025
یہ جو لاٹھی والا ہے اس کا نام برین میسٹ ہے
یہ وہ امریکی کانگریس مین ہے جو اسرائیلی فوج کے یونیفارم میں کانگریس آیا تھا۔
یعنی مانا ہوا صہیونی
جبکہ یہ جو امیر جولانی صاحب کے پہلو میں کھڑی ہے،
یہ کوئی نامحرم نہیں بلکہ جنت والی 72 حوروں کا چانس مس ہونے پر انہیں امریکیوں کی جانب سے اسی دنیا میں پیش کی گئی
"73ویں حور"
ہے 🤣
(رعایت اللہ فاروقی کی وال سے)
21/08/2025
سیلاب سے حکمران پیسہ کیسے بناتے ہیں
پاکستان میں جب بھی سیلاب آتا ہے، سب سے زیادہ نقصان غریب عوام اور کسانوں کا ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سب سے زیادہ “فائدہ” ہمارے حکمران طبقے کو ہوتا ہے۔ کیونکہ سیلاب ان کے لیے ایک طرح سے “کاروبار” ہے۔
💰 پیسہ کیسے بنتا ہے؟
جب بھی سیلاب آتا ہے، لاکھوں لوگ بے گھر ہوتے ہیں، کھیت تباہ ہو جاتے ہیں، انفراسٹرکچر ڈوب جاتا ہے، لیکن ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں کے چہرے کھل اٹھتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ:
• باہر کی دنیا سے اربوں ڈالر کی امداد آتی ہے۔
• عالمی ادارے (World Bank، IMF، UN) اور امیر ممالک پاکستان کو “Flood Relief Aid” کے نام پر پیسہ دیتے ہیں۔
• یہی امداد بعد میں شفاف استعمال نہیں ہوتی بلکہ کرپشن اور ذاتی مفاد کی نذر ہو جاتی ہے۔
📌 چند مثالیں:
1. 2010 کا سیلاب – پاکستان کی تاریخ کا بدترین سیلاب، جس میں تقریباً 20 ملین لوگ متاثر ہوئے۔ عالمی برادری نے 10 بلین ڈالر سے زائد امداد دینے کا اعلان کیا، لیکن آج تک اس پیسے کا کوئی حساب کتاب عوام کے سامنے نہیں آیا۔
2. 2014 کا سیلاب – پنجاب اور سندھ میں لاکھوں ایکڑ زمین زیرِ آب آگئی۔ حکومت نے دنیا سے اپیلیں کیں اور کروڑوں ڈالر ملے، لیکن زمینی سطح پر “پریونٹیو اقدامات” نہ ہونے کے برابر تھے۔
3. 2022 کا تباہ کن سیلاب – اندازاً 40 بلین ڈالر کا نقصان ہوا۔ تقریباً 3 کروڑ 30 لاکھ لوگ متاثر ہوئے۔ اس کے بعد جنیوا کانفرنس (Geneva Conference 2023) میں پاکستان نے دنیا سے 16 بلین ڈالر امداد کی اپیل کی۔ کئی ممالک اور اداروں نے اربوں ڈالر دینے کا وعدہ کیا، لیکن عوام آج بھی خیموں میں زندگی گزار رہے ہیں۔
❌ مسئلہ اصل میں کہاں ہے؟
حکومتوں کو سیلاب سے پہلے یاد نہیں آتا کہ:
• درخت لگائے جائیں تاکہ بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کا اثر کم ہو۔
• ڈیم بنائے جائیں تاکہ پانی ذخیرہ بھی ہو اور سیلاب کو روکا بھی جا سکے۔
• فلڈ فورکاسٹنگ اور وارننگ سسٹم کو بہتر بنایا جائے۔
• دریاؤں کے کناروں پر حفاظتی پشتے مضبوط کیے جائیں۔
یہ سب “پریونٹیو میئرز” ہیں، لیکن کبھی بھی ان پر سنجیدگی سے کام نہیں کیا گیا۔ کیونکہ اگر سیلاب کی شدت کم ہو گئی، لوگ کم متاثر ہوئے، تو پھر باہر سے آنے والی “امداد” بھی کم ہو جائے گی، اور ان کا “پیسہ بنانے کا کاروبار” رک جائے گا۔
🛑 حقیقت سیلاب ایک قدرتی آفت ضرور ہے، لیکن پاکستان میں یہ آفت “مصنوعی طور پر” بڑھائی جاتی ہے۔ اور جب تک حکمران طبقہ اسے اپنی کمائی کا ذریعہ سمجھتا رہے گا، عوام اسی طرح ڈوبتے، تڑپتے اور لٹتے رہیں گے
طور پر” بڑھائی جاتی ہے۔ اور جب تک حکمران طبقہ اسے اپنی کمائی
عنوان: وہابی لڑکی
میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ میرے جیسے نظریاتی انسان کے دل میں بھی کسی کے لیے ایسی جگہ بن سکتی ہے، لیکن وہ آ گئی۔ جیسے خزاں میں اچانک بہار کا ایک دن اتر آئے۔ وہ پہلی بار یونیورسٹی کے کیمپس میں ملی تھی، مکمل پردے میں، آنکھوں میں حیاء کا سمندر اور لہجے میں عجیب سا سکون۔ وہ ایک وہابی گھرانے سے تھی، اور میں… میں ایک شیعہ طالب علم، جس کے نظریات واضح، آواز بلند اور عقائد غیر لچکدار تھے۔
یہ سب کچھ لائبریری سے شروع ہوا۔ میں حسبِ معمول اسلامی تاریخ پر تحقیق کر رہا تھا کہ اس نے ایک دن پاس آ کر پوچھا۔
"یہ کتاب کیا واقعی امام حسینؑ کی اصل جدوجہد کو بیان کرتی ہے؟"
میں حیران بھی ہوا اور خوش بھی۔ اس کے سوال میں علم کی جستجو تھی، اور شاید وہ پہلی لڑکی تھی جس نے امام حسینؑ پر مجھ سے سوال کیا تھا، اس انداز سے۔ وہ سوال ہماری پہلی گفتگو بن گیا، اور پھر ملاقاتیں ہونے لگیں۔
کبھی لائبریری، کبھی ڈیپارٹمنٹ کی راہداری میں، اور اکثر یونیورسٹی کی کنٹین پر۔ ابتدا میں ہمارا تعلق صرف تاریخ، دین اور فلسفے کی باتوں تک محدود تھا، مگر جلد ہی یہ تعلق دلوں کی گہرائی تک اترنے لگا۔
میں جانتا تھا کہ ہمارا تعلق ایک عام رشتہ نہیں ہو سکتا، کیونکہ ہمارے درمیان ایک ایسی لکیر کھنچی ہوئی تھی جو چودہ سو سال پرانی تھی فرقے کی لکیر۔
وہ اکثر مجھ سے کہا کرتی،
"ہم محبت تو کر سکتے ہیں، لیکن ہمارا انجام؟ ہماری حقیقت؟ ہماری شناخت؟"
میں چپ رہتا، کیونکہ میں جانتا تھا وہ ٹھیک کہتی ہے۔ ہم دو الگ دنیاؤں کے باسی تھے۔ محبت ہمارے درمیان تھی، لیکن ہمارے پیچھے جو معاشرہ کھڑا تھا، وہ ہمیں ساتھ دیکھنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔
پھر ایک دن… خزاں کی ایک سرد شام تھی۔ میں یونیورسٹی کی کنٹین میں بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا۔ فضا میں زرد پتوں کی خوشبو تھی، اور میرے اندر عجیب سا خلاء۔ میں تنہا تھا، لیکن دل اس کی موجودگی کو ڈھونڈ رہا تھا۔
وہ آئی، چپ چاپ میرے سامنے بیٹھ گئی۔ اس کی آنکھیں کچھ کہہ رہی تھیں، پر لب خاموش تھے۔ پھر اس نے نظریں جھکا کر کہا۔۔۔۔
"ہم ایک دوسرے کو پا نہیں سکتے۔ ہم وہ دریا ہیں جو ایک دوسرے سے جُڑنے کے لیے نہیں، بہہ جانے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ ہمارا فرقہ ہماری محبت سے بڑا ہے۔"
یہ سن کر میرے اندر جیسے سب کچھ خاموش ہو گیا۔ میں نے کوئی جواب نہیں دیا، صرف اسے دیکھا۔ وہ اٹھی اور چلی گئی ہمیشہ کے لیے۔
میں وہیں بیٹھا رہا۔ دل میں ایک سناٹا تھا۔ میں نے دوسری سگریٹ جلائی۔ دھواں آسمان کی طرف جا رہا تھا، اور میرے خیالات ماضی میں تیرنے لگے۔ میں نے خود سے کہا۔۔۔
"چودہ سو سال پہلے ایک دین آیا تھا، جو انسانیت، محبت اور اخوت کا پیامبر تھا۔ نبیِ آخر الزماں ﷺ نے جس دین کو پہنچایا، وہ نفرت سے پاک تھا۔ لیکن ان کی وفات کے بعد ان کے ماننے والوں کے درمیان اختلاف نے جنم لیا۔ یہ اختلاف رفتہ رفتہ فرقوں میں ڈھل گیا۔ اور فرقے، جو صرف فکری تنوع کا نام ہونا چاہیے تھا، نفرت، تعصب اور بیزاری کا سرچشمہ بن گئے۔"
میں سوچنے لگا، کیا واقعی ہمارا عقیدہ ہماری محبت سے زیادہ اہم ہے؟ کیا ہم نبی ﷺ کے دین کو یوں بانٹ سکتے ہیں؟ کیا ہم نے اس دین کو صرف اپنی پہچان کی خاطر نفرت کا ذریعہ بنا دیا ہے؟
اس کی آنکھیں بار بار میرے تصور میں آ رہی تھیں۔ وہ معصوم، روشن آنکھیں، جنہوں نے شاید محبت کے بدلے صرف جدائی لکھی تھی۔ اور پھر میں نے سگریٹ کا آخری کش لیا، آسمان کی طرف دیکھا، دھواں اڑتا رہا، اور دل سے ایک آخری جملہ نکلا۔۔ ایک ایسا جملہ جو میری کہانی کا انجام تھا، اور شاید اس عہدِ نفرت پر سوال بھی۔۔
"ہم صرف دو دل نہیں تھے جو ایک دوسرے سے جُڑنا چاہتے تھے، ہم دو تاریخیں تھے۔۔ جنہیں چودہ سو سال کی دیوار نے جدا کر دیا۔"
محبت کی یہ کہانی شاید کبھی مکمل نہ ہو سکے، لیکن یہ سوال ہمیشہ زندہ رہے گا۔۔
کیا ہم نے فرقے بنائے تھے، یا فرقوں نے ہمیں توڑ دیا؟
(تحریر: وجاہت میر علوی (ایک شیعہ لڑکا)
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Website
Address
Hentian Kajang
Kuala Lumpur
43000