Al-Jaria Institute

Al-Jaria Institute

Share

Islamic institute

Al-Jaria is an endeavor to respond to the immense demand originating from the educated youth and intellectuals, those who seek to establish an interactive connection with our Deen.

Photos from Al-Jaria Institute's post 08/06/2024

کورس #4
الجاریہ انسٹیٹیوٹ پیش کر رہا ہے
*تجوید القرآن کورس*(برائے خواتین)
*لیول 1* (بنیادی تجوید)

*خیرکم من تعلم القران وعلمہ*
"تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔" (بخاری)

*رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا!*
"قرآن کی عمدہ قرات کرنے والا قیامت کے روز بزرگ اور پاکباز فرشتوں کے ساتھ ہو گا اور جو اسکی تلاوت کرتے ہوئے اٹکتا ہے اسے مشکل ہوتی ہے تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔" (النسائی)

🗝️ *کورس کا نصاب:*
1۔ قواعد التجوید
2- قرآنی قاعدہ
3۔ مسنون نماز بمع ترجمہ
4۔ صبح و شام كے مسنون اذكار بمع ترجمہ
5۔ حفظ : 30th پارہ کی آخری 15 سورتیں

🗝️ *تجوید پریکٹس کے لیے:*
1۔ سورۃ کہف
2- سورۃ الملک
3- سورۃ السجدہ
4- جز عم (مکمل پارہ #30 )

*کورس انچارج:* عائشہ کنول (ریسرچر)
(6 سالہ تجربہ)

🗝️ *کورس کی خصوصیات اور فوائد:*
1- تجربہ کار معلمہ سے سیکھنے کا موقع
2- کلاسز کے لیے وقت اور ایام کا انتخاب اپنی آسانی کے مطابق کرنے کا موقع
3- کلاس نوٹس فراہم کیے جائیں گے
4- اس کورس میں پڑھایا جانے والا سلیبس مستند ہے۔ جو کہ خالص عربی کتب سے لیا گیا ہے۔
5- اس کورس کو کرنے کے بعد آپ بھی پروفشنل انداز میں تجوید سیکھانے کے قابل ہو جائیں گے۔
6- کورس مکمل کرنے اور کامیاب ہونے والی طالبات کو سرٹیفیکیٹ دیا جائے گا۔
7- کورس میں اعلی کارکردگی دکھانے والی طالبات کو آئندہ کورسز میں الجاریہ کی ٹیم میں شامل ہونے کا موقع دیا جائے گا۔

👈🏻 *کلاس کا طریقہ کار:* واٹس ایپ کال / زوم

بقیہ تفصیلات نیچے دیے گئے داخلہ فارم میں موجود ہیں۔👇🏻
https://docs.google.com/forms/d/e/1FAIpQLSd8Md3nRxmk0gwr-XshfOYqss7PYR1-qKPx1O8utGhKNEiurw/viewform?usp=pp_url

26/06/2023

جس طرح لیلۃ القدر سال بھر کی راتوں میں سب سے بڑھ کر افضل ترین اور اللہ کے ہاں محبوب ترین رات ہے بالکل اسی طرح سال بھر کے دنوں میں *عرفہ کا دن* بھی افضل ترین اور رحمن کے ہاں محبوب ترین دن ہے۔

اس دن کی قدر کیجیے۔ اپنا زیادہ تر وقت عبادت میں گزارنے کی بھرپور کوشش کریں۔

اگر بہت کچھ کرنا آپ کے لیے ممکن نہ بھی ہو تب ںھی 3 کام ضرور بہ ضرور کر لیجئے تاکہ اس دن کی خیرو برکت کا کچھ حصہ ضرور پاسکیں۔
وہ 3 کام :
1۔ عرفہ9 ذوالحج کا روزہ
2۔ کثرت سے اللہ کا ذکر
3۔ دعاؤں کی کثرت

اللہ ہم سب کو اس دن کی بھلائی نصیب فرماۓ اور ہمارے تمام صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے درگزر فرماۓ۔ آمین

20/06/2023

سوال_عشرۂ ذوالحجہ کی فضیلت کیا ہے؟
اور ان دس دنوں میں تکبیرات کا کیا حکم ہے؟ نیز تکبیرات کے مسنون الفاظ کیا ہیں؟

*عشرہ ذوالحجہ یعنی ذوالحجۃ کے پہلے دس دنوں کی فضیلت*

اعوذباللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

📚 وَالْفَجْرِ() وَلَيَالٍ عَشْرٍ() وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ() وَاللَّيْلِ إِذَا يَسْر() هَلْ فِي ذَلِكَ قَسَمٌ لِذِي حِجْرٍ
[الفجر:5-1]
قسم ہے فجر کی! اور دس راتوں کی! اور جفت اور طاق کی!اور رات کی جب وہ چلتی ہے! یقینا اس میں عقل والے کے لیے بڑی قسم ہے،

📚امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں
والليالي العشر:
المراد بها عشر ذي الحجة كما قاله ابن عباس وابن الزبير ومجاهد وغير واحد من السلف والخلف [تفسیر ابن کثیر]
دس راتوں سے مراد ذی الحجہ کا پہلا عشرہ ہے ۔جیسے کہ ابن عباس ، ابن زبیر ، مجاہد اور ان کے علاوہ سلف و خلف نے کہا ہے۔
(تفسیر ابن کثیر )

*دنیا کے سب سے بہترین دن*
📚رسول اللہﷺ نے فرمایا:
دنیا کے دنوں میں افضل ترین دن" دس دن" یعنی عشرہ ذوالحجہ ہیں ۔
(صحیح الترغیب والترہیب،1150)

*ان دنوں میں کیا گیاعمل سب سے افضل عمل*
📚رسول اللہﷺنے فرمایا
”اللہ کو کوئی نیک عمل کسی دن میں اس قدر پسندیدہ نہیں ہے جتنا کہ ان دنوں میں پسندیدہ ہے یعنی عشرہ ذوالحجہ۔
صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟ آپﷺنے فرمایا ”نہیں، جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں مگر جو شخص اپنی
جان و مال لے کر نکلا ہو اور پھر کچھ واپس نہ لایا ہو۔
(سنن ابو داود،حدیث نمبر-2438)
(مسند احمد،حدیث نمبر- 3139)
(صحیح بخاری،حدیث نمبر-969)

*پاکیزگی اور اجر عظیم پانے والے اعمال کا موقع*
📚نبیﷺ نے فرمایا:
اللہ کے نزدیک ذو الحجہ کے دس دنوں میں نیک اعمال بہت زیادہ پاکیزگی اور بہت بڑے ثواب کا باعث ہیں،
(صحیح الترغیب والترہیب،1148)

*جہاد سے بھی افضل عمل والے ایام*
📚نبیﷺ نے فرمایا:
اللہ تعالی کے نزدیک عشرہ ذوالحجہ کے دنوں سے بہترین دن کوئی نہیں ،
ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ افضل ہیں یا ان کی گنتی کے برابر اللہ کے راستے میں جہاد کرنا؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
ان کی گنتی کے برابر اللہ کے راستے میں جہادکرنے سے بھی زیادہ یہ افضل ہیں ، سوائے اس شخص کے جس کا چہرہ مٹی میں ملا دیا گیا ہو(یعنی شہید کردیا گیا ہو)۔
(صحیح الترغیب والترہیب،1150)

*صحابہ کا ان دنوں میں انتھک محنت کرنا*
📚سعید بن جبیر ذوالحجہ کے دس دن داخل ہونے کے بعدعبادت میں بہت زیادہ کوشش کرتے ،حتی کہ وہ اتنی محنت کرتے کہ لگتا وہ اس کی قدرت نہیں رکھتے ۔
(صحيح الترغيب والترهيب:1148)

*ان دس دنوں میں کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے کا حکم*
📚نبیﷺ نے فرمایا :
کوئی دن اللہ کے ہاں ان دس دنوں سےزیادہ عظمت والا نہیں ہے اور نہ ہی کسی دن کا عمل اللہ تعالی کو ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب ہے پس تم ان دس دنوں میں کثرت سےتہلیل(لا الہ الا اللہ) ،تکبیر(اللہ اکبر) اور تحمید(الحمد للہ) کہو۔
(مسند احمد، حدیث نمبر-5446)
ابن حجر العسقلاني الأمالي المطلقة ١٤- حسن)
ابن باز- حديث المساء ٢٤٨ • إسناده حسن)
( حدیث صحیح اسنادہ ضعیف)

*صحابہ اور تابعین کا طریقہ*
📚ابن عمر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما،
ان دس دنوں میں بازار کی طرف نکل جاتےاوردونوں تکبیرات پڑھتے ، لوگ ان کی تکبیر سن کرتکبیر کہتے،اور محمد بن علی نفل نمازوں کے بعد بھی تکبیر کہتے تھے،
(صحيح البخاري , بَاب فَضْلِ الْعَمَلِ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ_قبل الحدیث-969)

*عورتوں کا تکبیر کہنا*
📚عمر رضی اللہ عنہ منی میں اپنے خیمے کے اندر تکبیر کہتےتو مسجد میں موجود لوگ اسے سنتےاورتکبیر کہتے اور بازار والے تکبیر کہتے یہاں تک کہ سارا منی تکبیر سے گونج اٹھتا۔
ابن عمر منی کے ان دنوں میں نمازوں کے بعد ، بستر پر، خیمے میں ، راستے میں اور دن کے تمام ہی حصوں میں تکبیر کہتے،
میمونہ رضی اللہ عنہا (یوم النحر دس ذوالحجہ (میں تکبیر کہتی تھیں ۔
اور عورتیں، ابان بن عثمان اورعمر بن عبد العز یز کے پیچھے مسجد میں مر دوں کے ساتھ تکبیر کہا کرتی تھیں۔
(صحيح البخاري، بَاب التَّكْبِيرِ أَيَّامَ مِنًى وَإِذَا غَدَا إِلَى عَرَفَةَ، قبل الحدیث-970)

*بلند آواز سے تکبیر کہنا*
📚عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ،قَالَ خَرَجْتُ مَعَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ،وَابْنِ مَعْقِلٍ،فَكَانَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُكَبِّرُ ، يَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ
عطا ء بن سائب کہتے ہیں کہ میں ابو عبد الرحمن اور ابن معقل کے ساتھ نکلا،اور ابو عبد الرحمن اونچی آواز سے تکبیریں کہتے تھے۔
(مُصنف ابن أبي شيبة:5668)

*تکبیرات کے مسنون الفاظ یہ ہیں،*

📚اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ واللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ.
(المصنف إبن أبي شيبه : 5694)
اللہ سب سے بڑا ہے اللہ سب سے بڑا ہے،اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے اللہ سب سے بڑا ہےاور اللہ کے لیے ہی تمام تعریف ہے۔

📚اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ اللَّهُ أَكْبَرُ وَأَجَلُّ اللَّهُ أَكْبَرُ عَلَى مَا هَدَانَا.
(السنن الكبرى للبيهقي:6504)
(صححه الالباني في ارواء الغليل)
اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اور سب تعریف اللہ کے لیے ہے، اللہ سب سے بڑا ہے اورجلیل القدر ہے، اللہ کی بڑا ئی اس پر کہ اس نے ہمیں ہدایت نصیب فرمائی۔

📚اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا اللَّهُ أَكْبَرُ وَأَجَلُّ اللَّهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ
(مُصنف ابن أبي شيبة:5701)
(صححه الالباني في ارواء الغليل)
اللہ سب سے بڑا ہے بہت بڑا،اللہ سب سے بڑا ہے بہت بڑا، اللہ سب سے بڑا ہے اورجلیل ہے،اللہ سب سے بڑا ہے اور اللہ کے لیے ہی تمام تعریف ہے۔

📚اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ،
أَوْ قَالَ تَكْبِيرًا
اللَّهُمَّ أَنْتَ أَعْلَى وَأَجَلُّ مِنْ أَنْ تَكُونَ لَكَ صَاحِبَةٌ أَوْ يَكُونَ لَكَ وَلَدٌ أَوْ يَكُونَ لَكَ شَرِيكٌ فِى الْمُلْكِ أَوْ يَكُونَ لَكَ وَلِىٌّ مِنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا ، اللَّهُمَّ ارْحَمْنَا
(السنن الكبرى للبيهقي:6506)
اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ،بہت بڑا۔ اے اللہ تو اس بات سے بڑا اور جلیل ہے کہ تیری کوئی بیوی ہواور تیری کوئی اولاد ہو،اور تیری بادشاہت میں تیرا کوئی شریک ہو۔یا کمزوری کو دور کرنے کے لیےتیرا کوئی مددگار ہو، اللہ کی خوب بڑائی بیان کرو،اے اللہ ہمیں معاف فرما دے !اے اللہ ہم پر رحم فرما!۔

لہٰذا_
*یہ دس دن بہت زیادہ فضیلت والے ہیں تکبیرات کے ساتھ ساتھ نفل و نوافل ، روزے، صدقہ و خیرات ،دعائیں بڑھا دیں،*
*اللہ پاک ہمیں ان با برکت ایام سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائیں،آمین*

((واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب)))

10/06/2023

💓💓💓بہترین ازدواجی زندگی گزارنے کا راز 💓💓💓

اسلام یہ نہیں کہتا کہ بیوی ہر جگہ اور ہر جائز یا ناجائز بات میں اپنے شوہر کی تابعداری کرے ۔۔۔
اور نا ہی یورپین ممالک کی طرح ایسا ہے کہ سب امور عورت کے سپرد کر دئیے جائیں عورت مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کے چکر میں مردوں کو غلام بنائے اور مرد تابعداری کرتا پھرے"۔

اسلام یہ کہتا ہے کہ میاں بیوی دونوں باہمی الفت و محبت سے رہیں، کبھی عورت کو سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے اور کبھی مرد کو خاموشی اور رضایت دے دینی چاہیے۔۔۔۔۔
، کبھی مرد اپنی پسند سے پیچھے ہٹ جائے اور کبھی عورت اپنے میاں کی رضا پہ راضی ہو جائے تاکہ زندگی آگے بڑھ سکے۔۔۔۔بیویاں بھی انسان ہوتی ہیں ان کی بھی کچھ خواہشیں ہوتی ہیں ۔۔۔غیرت مند مرد کبھی اپنی بیویوں کو غلام نہیں بناتے ۔۔بلکہ شہزادیوں کی طرح ان کے ساتھ پیش آتے ہیں ۔۔۔بیویوں سے لاڈ کرنا ان کی دل جوئی کرنا گھر کے کاموں میں ان کی مدد کرنا ان سب سے آپ کی عزت اور شان میں کوئی کمی نہیں ہوگی بلکہ یہ سنت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔۔۔۔
اور اچھے خاندان کی تربیت یافتہ عورتیں کبھی اپنے شوہر سے برابری کرنے یا شوہر کی نافرمانی کرنے کی حرکت نہیں کرتی ہیں ۔۔۔۔اگر دونوں کی ذاتی زندگی میں کوئی مسائل ہیں تو لڑنے جھگڑنے اور چیخنے چلانے سے معاملات بڑھا کر پورے گھر اور خاندان میں ڈھنڈورا پیٹنے سے بہتر ہے کہ آپس میں ایک کمرے کے اندر ہی اپنی انا کو پس پشت ڈال کر ایک دوسرے کی بات ٹھنڈے دماغ سے سنیں ۔۔۔طویل ناراضگیاں نہ رکھیں ۔اس سے فاصلے بڑھتے ہیں ۔۔جہاں فاصلے بڑھ جائیں وہاں محبتیں کم ہونا شروع ہو جاتی ہے ۔۔۔
۔انا اور ضد سے گھر تباہ و برباد ہوتے ہیں ۔۔۔چاہے وہ عورت میں ہو یا مرد میں ۔۔۔جوائنٹ فیملی سسٹم میں شوہر بیوی کے درمیان اکثر گھر کے کسی نہ کسی افراد کی وجہ سے تناؤ رہتا ہے ۔۔۔۔لازمی نہیں کہ ہر گھر میں ایسا ہوتا ہوں لیکن اکثریت کا یہی حال ہے ۔۔۔اس صورتحال میں بہتر ہوگا کہ
اپنے تمام گھر والوں سے کہہ دیا جائے کہ ہم میاں بیوی کے ذاتی معاملات میں ٹانگ نہ آیا کریں۔۔۔ ۔۔ہمیں جہاں جانا ہوگا جو کھانا پینا ہوگا جس طرح رہنا ہو گا اس معاملے میں ہم آزاد ہیں ۔۔۔۔تمام گھر والوں کے حقوق ادا کرتے ہوئے یہ نہ بھولیں کہ جو عورت آپ کے لئے اپنے ماں باپ اپنا گھر بار سب چھوڑ کر آئی ہے اس کے حقوق بھی آپ پر لازم ہے اور ان کے لئے بھی آپ کو اللہ کو جواب دینا ہے ۔۔۔اگر آپ اپنی جنت کو ناراض نہیں کرسکتے تو اپنے بچوں کی جنت کو بھی تکلیف نہ دیں ۔۔۔اس کو بھی مکمل وقت دیں ۔۔۔۔کہیں ایسا نہ ہو کہ پھر آپ کے تمام گھر والے تو آپ سے خوش ہوں اور صرف آپ کی ازدواجی زندگی ہی تباہ حالی کا شکار بنی رہے ۔۔۔۔۔خواتین کے لئے بھی بہتر ہو گا کہ اگر جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتی ہیں تو اپنے شوہر کے گھر والوں کے ساتھ بلاوجہ کوئی عداوت نہ رکھیں ۔۔۔۔شوہر کے والدین کی خدمت اور ان سے اچھا سلوک کرنا اخلاقیات کا تقاضا ہے۔۔۔یہ سوچ کر ہی کر لیں کہ وہ آپ کے شوہر کی جنت ہیں ۔۔۔۔باقی تھوڑا بہت صبر اور درگزر کا مظاہرہ کیے بنا کوئی بھی رشتہ نبھانا ممکن نہیں ۔

✍️منجانب.. ایمان ٹیم

24/05/2023

”علم کی ابتداء قرآن مجید حفظ کرنے سے ہوتی ہے“

حافظ نووى رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ”طلبِ علم کی ابتداء قرآن مجید کے حفظ سے کرنی چاہیے، اس سے اہم علم کوئی نہیں۔ سلف صالحین حدیث اور فقہ کا علم اسی کو دیتے تھے جو قرآن کا حافظ ہوتا تھا۔ اور خبردار! حفظ کرنے کے بعد بھی حدیث اور فقہ میں اتنا مگن نہ ہو جائے کہ قرآن بھول جائے!“ (المجموع شرح المهذب : ٣٨/١)

محدثین کرام تب تک کسی کو حدیث نہیں سناتے تھے جب تک وہ قرآن مجید کا پختہ حافظ نہ بن جاتا۔

ولید بن مسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں : ہمارے استاد اوزاعی رحمہ اللہ جب مجلس میں کوئی نیا نوجوان دیکھتے تو پوچھتے : ”بیٹا! قرآن حفظ کر لیا ہے؟“ اگر جواب ہاں میں ہوتا تو کہتے : ”یہاں سے پڑھو : يوصيكم الله في أولادكم۔“ اور اگر جواب ناں میں ہوتا تو کہتے : ”جاؤ! علم حاصل کرنے سے پہلے قرآن مجید سیکھو۔“ (الجامع لأخلاق الراوي : ١٠٨/١)

اسی طرح ابو العیناء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں عبداللہ بن داؤد الخریبی رحمہ اللہ کے پاس حاضر ہوا۔ کہنے لگے کس لیے آئے ہو؟ عرض کیا : حدیث سننے۔ فرمانے لگے : ”پہلے قرآن حفظ کرو۔“ میں نے کہا : میں حافظ ہوں۔ فرمانے لگے : ”واتل عليهم نبأ نوح سے پڑھو۔“ تو میں نے وہ عُشر پورا انہیں سنایا۔ (سير أعلام النبلاء : ٣٥١/٩)

یہی وجہ ہے کہ علماء و محدثین کے تراجم میں ان کا چھوٹی عمروں میں قرآن مجید حفظ کر لینا تواتر سے منقول ہے، کیونکہ وہ طلب علم کی ابتداء ہی حفظ سے کرتے تھے۔

مثلاً امام شافعی رحمہ اللہ نے سات سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کیا۔ (جامع بيان العلم وفضله : ١١٣٤/٢)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے نو سال کی عمر میں حفظ کیا۔ (الضوء اللامع للسخاوي : ٣٦/٢)

امام الدعوۃ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے دس سال سے کم عمر میں قرآن مجید حفظ کیا۔ (الشيخ محمد بن عبدالوهاب؛ عقيدته السلفية ودعوته الإصلاحية لأحمد بن حجر آل بو طامي : ١٥)

بلکہ یہ بات ائمہ و محدثین کے ہاں اتنی راسخ و معروف تھی کہ وہ اپنے بچوں کو حفظِ قرآن سے قبل دیگر علوم میں مشغول ہونے سے منع فرما دیا کرتے تھے۔

امام ابن ابی حاتم الرازي رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”ابا جان نے مجھے تب تک حدیث لکھنے کی اجازت نہیں دی جب تک میں نے اپنے استاد فضل بن شاذان کو پورا قرآن مجید نہ سنا دیا۔“ (سير أعلام النبلاء : ٢٦٥/١٣)

اسی طرح محمد بن قاسم النجدى رحمہ اللہ نے جب اپنے والد عبدالرحمن بن قاسم رحمہ اللہ کے ساتھ فتاوی ابن تیمیہ جمع کرنے کے سلسلے میں تعاون کا ارادہ کیا تو انہوں نے شرط لگائی کہ پہلے حفظ کرو گے۔ انہوں نے چھ ماہ میں حفظ مکمل کیا، تو ابا جی نے کام کی اجازت دی۔ (ورثة الأنبياء لعبد الملك القاسم : ١٤)

اس سلسلے میں ایک تابناک واقعہ امام الأئمۃ ابن خزيمہ رحمہ اللہ کا بھی ہے۔ فرماتے ہیں کہ میں نے والد صاحب سے اجازت مانگی کہ میں قتیبہ بن سعید رحمہ اللہ کے پاس جا کر حدیث لکھنا چاہتا ہوں۔ والد نے کہا، پہلے قرآن پڑھو، پھر اجازت ملے گی۔ انہوں نے قرآن حفظ کیا۔ پھر والد نے کہا کہ تراویح میں سناؤ۔ امام صاحب نے تراویح میں سنایا۔ پھر اجازت ملی تو 'مرو' شہر کی طرف عازم سفر ہوئے۔ وہاں پہنچے تو پتہ چلا کہ قتیبہ بن سعید وفات پا چکے ہیں! (طبقات علماء الحديث لابن عبد الهادي : ٤٤٣/٢)

فی زمانہ واعظین، مفکرین اور اسپیکرز کی بہتات کا ایک بنیادی سبب حصولِ علم میں اس سلفی منہج کا خیال نہ رکھنا ہے۔ کہنے کو کہہ سکتے ہیں کہ یہ بہتر اور افضل ہے، اور اس ترتیب پر کوئی شرعی نص نہیں۔ مگر واقفانِ حال خوب سمجھتے ہیں کہ حفظِ قرآن کے بغیر علم کی عمارت استوار کرنا ایسے ہی ہے جیسے پانی پر لکھنے کی کوشش کرنا۔ والله المستعان۔

(فیضان فیصل)

05/05/2023

📍- *|[ اللهم صل على محمد ... ]|*

👈 سيدنا أنس بن مالك رضي الله عنه فرماتے ہیں کہ رسول الله - صلی الله عليه وسلم - نے فرمایا :

*❐ ’’أكثِروا الصَّلاةَ علي يومَ الجمُعةِ و ليلةَ الجمُعةِ ، فمَن صلَّى علي صلاةً صلَّى الله عليِه عَشرًا.‘‘*

"جمعے کے دن اور جمعے کی رات مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو ؛ پس جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے الله اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے !"

📕 - *|[ صحيح الجامع : ١٢٠٩ ]|*

👈 امام *شافعی* رحمه الله فرماتے ہیں :

"مجھے ہر حال میں نبی صلی الله علیه وسلم پر کثرت سے دورد بھیجنا پسند ہے، مگر جمعہ کے دن اور رات کو بہت ہی محبوب ہے۔"

📕 - *|[ الأم : ٢٣٩/١ ]|*

👈 امام *ابن حجر* رحمه الله نقل کرتے ہیں :

"نبی صلی الله علیه وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا، وباؤں اور دیگر بڑی مصیبتوں کے خاتمے کا بہت بڑا سبب ہے !"

📕 - *|[ بذل الماعون : ٣٣٣ ]|*

04/05/2023

"دوست تین طرح کے ہوتے ہیں!"

✍ شيخ محمد بن صالح العثیمین رحمه الله فرماتے ہیں کہ دوستوں کی تین قسمیں ہیں :

👈 ❶ صديق منفعة :
- جس کی دوستی صرف فائدے تک ہو -

اس کی دوستی تب تک ہوتی ہے جب تک وہ آپ کے مال اور منصب وغیرہ سے فائدہ اٹھا سکے. جب وہ فائدہ منقطع ہو گیا تو دوستی بھی ختم ؛ تو کون تو میں کون ؟! اور اکثریت انہی کی ہے ...
آپ خود دیکھیے کہ آپ کی کسی سے گہری دوستی ہو. آپ کے خیال میں وہ آپ کا سب سے معزز دوست ہو اور آپ اس کے بہترین دوست ہوں. ایک دن وہ آپ سے پڑھنے کیلیے آپ کی کتاب مانگتا ہے. آپ کہتے ہیں کہ بھائی کل مجھے خود اس کتاب کی ضرورت ہے. اسی بات پر وہ آپ سے غصہ ہو جاتا ہے اور دشمنی پر اتر آتا ہے. کیا یہ آپ کا دوست ہے؟! نہیں، یہ فائدے کا دوست ہے.

👈 ❷ صديق لذة :
- جس کی دوستی محض موج مستی ہو -

ایسا دوست جس کی دوستی صرف وقت گزاری کیلیے ہے. گپ شپ، پیار محبت کی باتیں اور رَت جگے بس. نہ آپ کو کوئی فائدہ پہنچاتا ہے اور نا آپ اس سے کوئی فائدہ لے سکتے ہیں. یہ دوست وقت کا ضیاع ہے. اس سے بھی بچیں.

👈 ❸ صديق فضيلة :
- جس کی دوستی باعثِ شرف ہے -

جو آپ کو خوبصورت کام کرنے پر مجبور کرتا ہے، معیوب عادات سے روکتا ہے، آپ پر خیر کے دروازے کھولتا ہے اور خیر کی طرف رہنمائی کرتا ہے، اور اگر کبھی آپ پھسلنے لگیں تو آپ کو اس انداز سے تنبیہ کرتا ہے کہ آپ کی عزتِ نفس پر ذرا حرف نہ آئے ؛ یہ ہے جس کی دوستی باعثِ فضل ہے!

📚 |[ شرح حلية طالب العلم : ١٠٢ ]|

23/04/2023

Completion of "Ramadan Special Series 2023" Presented by Al-Jaria Institute.

By the Grace of Allah Almighty We have Completed our Target of learning 30 Quranic Ayat & 30 Ahadith in 30 Days of Ramadan

May Allah Give us toufeeq to Act upon this Beneficial Sacred Knowledge & to Spread it as much as possible to earn reward.

Give your feedback about this Series & TO JOIN these Beneficial Future Series of Al-Jaria Institute Plz write "Yes" in comment box if not willing to Join write "No".

Your Response matters to us a lot to Move forward in a better way.

الجاریہ انسٹیٹیوٹ کی طرف سے پیش کردہ "رمضان اسپیشل سیریز 2023" اختتام پذیر ہوئی۔
اللہ کے فضل وکرم سے ہم نے رمضان کے 30 دنوں میں 30 مختصر احادیث اور 30 مختصر قرآنی آیات کو سیکھنے کا سفر مکمل کر لیا۔

اب اللہ ہم سبکو اس مقدس اور نفع مند علم پر عمل کرنے کی اور اسکو جتنا ممکن ہو سکے لوگوں تک پہنچا کر اجر کمانے کی توفیق عطا فرماۓ۔ آمین۔
اس سیریز سے متعلق اپنی قیمتی راۓ سے ہمیں ضرور آگاہ کریں۔ اور اگر آپ آئندہ مستقبل میں بھی ہماری ایسی نفع مند سیریز کو جوائن کرنا چاہتے ہیں تو کمنٹ باکس میں "ہاں" لکھ دیجیے اور اگر نہیں کرنا چاہتے تو "نہیں" لکھ دیجیے۔
آپکی راۓ ہمارے لیے بہت اہم ہے تاکہ ہم درست انداز میں آگے بڑھ سکیں۔

22/04/2023

Assalam o alaikum to everyone! 😊
May Allah ‎ﷻ accept every fast, every dua, every rakah , every ruku, every sujood, every letter recited, every dhikr uttered, every penny of sadaqah spent and every tear shed.
May Allah bless us with Ramadan once again. AMEEN

Eid Mubarak - عيد مبارك

‎ 🌷🌷🌷 *تقبل الله منا ومنكم* 🌷🌷🌷

May Allah ‎ﷻ shower His bounties on all of us

‎اللّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِك☘

21/04/2023

بسم الله الرحمٰن الرحيم

*بہترین عمل جس کے ساتھ تم رمضان کا اختتام کرو وہ استغفار ہے!*

حافظ ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

استغفار تمام نیک اعمال کی مہر ہے؛
اسی پر نماز، حج اور قیام اللیل کا خاتمہ کیا جاتا ہے،
اور مجالس کا اختتام بھی،
پھر اگر یہ(مجلس) ذکر کی ہو تو وہ اس پر مہر لگانے والا ہے اور اگر لغو ہو تو اس کا کفارہ بن جاتا ہے

اسی طرح لازم ہے کہ رمضان کے روزوں کا خاتمہ بھی استغفار کے ساتھ کیا جائے

عمر بن عبدالعزیزرحمہ اللہ نے اپنے شہروں کی طرف یہ حکم روانہ کیا کہ
*وہ رمضان کا اختتام استغفار سے کریں اور صدقہ کا صدقہ فطر سے*
کیونکہ صدقہ فطر روزے دار کے لیے لغو اور بےہودہ گوئی سے طہارت کا ذریعہ ہے

استغفار اصلاح کر دے گا جو رمضان میں غلط ہوچکا لغو اور رفث کی صورت میں،
اس لیے بعض علماء متقدمین کہتے ہیں
*”بے شک صدقہ فطر روزے دار کے لیے ایسے ہی ہے جیسے نماز میں سجدہ سہو۔”*

لطائف المعارف ص٣٨٣

Want your school to be the top-listed School/college in Imbulgoda?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


Imbulgoda