آئیے دیکھتے ہیں کوریا کے لوگ 🇺🇸 کے بارے میں کیا سوچ رکھتے ہیں ۔۔۔۔
Sheraz Jammuana
Sheraz Jammuana, a Korean-Pakistani vlogger. Find out more at youtube.com/sherazjammuana
زندگی کی مصروفیات میں اپنے لئے وقت لازمی نکالنا چاہئے۔۔
آج آپ کو دکھاتے ہیں کوریا کے ایک چوہدری صاحب یا وڈیرے کی حویلی، جو آج سے 50 یا 70 سال پہلے تک کسی زمانے میں آباد رہی ہوگی لیکن آج اس گھر میں کوئی نہی، اور حکومت نے اس گھر کو آباد کرنے کی ذمہ داری اٹھائی ہے۔
کوریا میں بھی آج سے 50 سال پہلے تک پاکستان جیسے ہی extended family والا نظام تھا، جس میں دادا دادی، چاچے تائے، اور ان کے بچے سب ایک ہی گھر میں رہتے تھے ۔ پھر جیسے جیسے کوریا ترقی کرتا گیا، extended family والا نظام nuclear family میں تبدیل ہو گیا۔
21/03/2026
عید مبارک 😊
کوریا میں بسنے والے مسلمانوں کے لئے افطاری کی تیاری۔۔
ہم، کوریا کے شہر Gwangju میں رہنے والے مسلمان، رمضان میں ہر ہفتہ اور اتوار کے روز، اور باقی پورا سال مہینے میں ایک بار ایسے کھانا بناتے ہیں جس میں سب لوگوں کو کھلی دعوت دی جاتی ہے۔
کبھی سٹوڈنٹ، کبھی ورکر، کبھی بزنس کمیونٹی، کبھی پاکستانی، کبھی ازبکستانی، اور کبھی اور ممالک کے مسلمان لوگ، سب اپنی اپنی باری سے اس اتحاد امت کے انتظام میں حصہ لیتے ہیں۔
یہ میرے ایک عزیز دوست، ڈاکٹر اشفاق کے والد ہیں جو کوریا 🇰🇷 میں تقریبا ایک مہینہ گزارنے کے بعد آج واپس جا رہے ہیں۔
سنتے ہیں ان کے زندگی کے تجزیے میں سے کچھ نصیحت کے بول ۔۔۔۔
#ᴛʀᴀᴠᴇʟᴋᴏʀᴇᴀ
Seoul Central Mosque
کوریا میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے، تقریبا کم آبادی کا تقریبا 0•4%، تقریبا 2 لاکھ، جبکہ سنہ 2000 تک یہ تعداد محض 1 لاکھ تھی۔
اس کم تعداد کے باوجود آج کوریا میں آپ کو ہر شہر میں مسجد ملے کی، جہاں وہاں کے رہائشی مسلمان مل کر، فرقہ واریت کو سائیڈ پر پھینک کے، ایک ساتھ نماز پڑھتے ہیں اور مسجد کے مالی امور کو سنبھالتے ہیں۔ حنفی، مالکی، شافعی، ہنبلی، اہل تشیع، دیوبندی، بریلوی، وہابی، وغیرہ، سب ایک ساتھ، کسی بھی امام کے پیچھے، اگر کوئی باقاعدہ امام نا ہو تو آپس میں اپنے میں سے ایک کو امام بناتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔ یہی اتحادامت ہے جس کی آج کے دور میں مسلمانوں کو ضرورت ہے۔
چھوٹے بھائی صائم کی گریجویشن۔
یہ ایک طویل سفر کی منزل ہے، اللہ بھائ بھائ کو مزید کامیابیاں عطا فرمائے--- آمین 😊
🎓
جنوبی کوریا ایک ایسا ملک ہے جہاں تقریباً 36 فیصد گھرانے ایسے ہیں جن میں صرف ایک فرد رہتا ہے۔
اسی طرح تقريباً 55 فیصد لوگ اپارٹمنٹ یا فلیٹس میں رہتے ہیں، جبکہ باقی لوگ علیحدہ مکانات یا دیگر رہائشی اقسام میں رہائش پذیر ہیں۔
یہ لوگ اپس میں کٹ کر اکیلے رہنا پسند کرتے ہیں، اولاد والدین سے الگ، بہن بھائ ایک دوسرے سے دور، چاچے مامے اور باقی برادری کا تو تقریبا کوئی رواج ہی نہی رہا۔۔
ایسے میں غیر ملکی افراد بھی کوریا میں الگ رہائش اختیار کرتے ہیں، مطب ایک گھر میں ایک بندا۔
کوریا میں بہت سے پاکستانی اور جنوبی ایشیائی ہوٹل ہیں، لیکن خالص پاکستانی ہوٹل ڈھونڈنا بہت مشکل ہے کیونکہ 90% ہوٹلوں میں انڈین شیف ہوتے ہیں جن کے خانوں کا ذائقہ پاکستانی ذائقوں سے بہت مختلف ہے۔۔
آج آپ کو خالص پاکستانی ریسٹورنٹ کی سیر کرواتے ہیں اور آپ کو دیکھتے ہیں کہ کوریا میں ان کھانوں کے کیا ریٹ ہیں۔۔۔
🇵🇰 🇰🇷
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Website
Address
광주
Gwangju
61448