07/04/2026
اصل تصویر مبارک
شیخ العرب والعجم حضرت مولانا پیر فضل علی قریشی مسکین پوری مجددی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ❤
Dargah e Aalia Ghareeb Abad
جماعت غفاري الهاشمي........................💚
قلبی ذکر اللّٰهﷻ اللَّهﷻ........................💚
07/04/2026
اصل تصویر مبارک
شیخ العرب والعجم حضرت مولانا پیر فضل علی قریشی مسکین پوری مجددی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ❤
نصیحت :
حضور قبلہ عالم پیر فضل علی قریشی مجددی نقشبندی رحمته الله تعالیٰ علیه 🌹💗
الله الله الله!! 💗
حق پیر مِٹھا 🌹
https://youtu.be/VoJp_sbLclM?si=s3k7dRbEitz_5wJE
30/03/2026
حضرت خواجہ پیر سید فضل علی قریشی نقشبندی ؒ کے فرمودات
29/03/2026
تصویر مبارک
شیخ العرب والعجم حضرت مولانا پیر فضل علی قریشی مسکین پوری مجددی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ❤
حضرت پیرفضل علی قریشی مسکین پوری رحمتہ اللہ علیہ
جواہر صدیقیہ میں ہے کہ
آپ رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت 1270 ہجری میں ہوئی۔عربی، فارسی، دینیات اور دورہ حدیث کی تعلیم کی تکمیل حاصل کی تھی۔
آپ رحمۃاللہ علیہ داؤدخیل کے قیام کے زمانہ میں حضرت عثمان دامانی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں بیعت کے لیے حاضر ہوئے۔لیکن اس وقت حضرت بہت ضعیف تھے اس لیے آپ کے خلیفہ حضرت لعل شاہ رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت کی اور بہت سے مدارج سلوک طے کئے۔جب شاہ صاحب کا وصال ہوگیا تو حضرت خواجہ سراج الدین رحمۃ اللہ علیہ سے تکمیل سلوک کی۔
تجلیات قریشی میں صفحہ پندرہ پر ہے کہ ایک مرتبہ خواجہ سراج الدین رحمۃ اللہ علیہ نے دہلی کا سفر اختیار کیا تو آپ رحمۃ اللہ علیہ کے قلب مبارک میں شوق پیدا ہوا اور دعا کی کہ یا اللہ! خواجہ سراج الدین مجھے دہلی بلوائیں اور میں دہلی پہنچوں۔اتنے میں خواجہ رحمۃ اللہ علیہ نے مکتوب روانہ کیا کہ آپ دہلی جائیں۔آپ رحمۃ اللہ علیہ دہلی چتلی قبر پہنچے جہاں کہ (حضرت مظھر جان جاناں رحمۃ اللہ علیہ اور شاہ غلام علی دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے مزارات کے)شاہ ابوالخیر محافظ تھے۔خواجہ سراج الدین رحمۃ اللہ علیہ کا وہاں قیام تھا۔خواجہ سراج الدین رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو اس مقام پر خلافت عطا فرمائی۔سفر کے اختتام پر آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنے مقام پہنچے اور سلسلہ بیعت شروع کیا۔مخلوق خدا بکثرت بیعت میں داخل ہونے لگی۔آپ کی توجہات میں انتہا درجہ کا جذب پیدا ہوا۔
ایک بار آپ رحمۃ اللہ علیہ کسی تبلیغی سفر میں کسی مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لے گئے تو پیش امام قاری طیب صاحب نے نماز پڑھائی سر پر کپڑے کی ٹوپی تھی۔بعد فراغت نماز ظہر آپ رحمۃ اللہ علیہ نے قاری صاحب سے کہا کہ افضل سنت کا ترک؟فورا ہی قاری صاحب نے اشارہ کیا کہ صافحہ لایا گیا اس کو مسجد کے مصلی پر رکھ دیا گیاـ ہر نماز کے وقت جو کوئی نماز کو آتا ٹوپی پر عمامہ باندھتا۔
کرامت:آپ رحمۃ اللہ علیہ کسی فقیر کی دعوت پر کسی جگہ پہنچے اور وہاں حضرت کا ایک فقیر اسی دن وفات پایا ہوا تھا۔جب آپ رحمۃ اللہ علیہ کو اطلاع ہوئی تو آپ رحمۃ اللہ علیہ اس کے ہاں تشریف فرما ہوئے۔وفات شدہ فقیر کی بیوی اسی وقت اپنے شوہر کی میت کے پاس کہ رہی تھی کہ اے میرے شوہر! آپ مجھے ہر وقت کہتے تھے کہ میرے مرشد آئیں گے تو میں آپ کو اپنے مرشد کی بیعت کرواؤنگا۔ آج تو آپ کے مرشد تشریف فرما ہو چکے ہیں تو آپ مجھے بیعت کروائیں نا۔حضرت قبلہ قریشی رحمۃ اللہ علیہ عورت کی محبت بھری باتیں سن کر جوش میں آئے اور میت کی طرف اٹھنے کا اشارہ فرمایا۔ فورا وہ وفات شدہ فقیر اٹھ بیٹھ کر اپنے بیوی سے کہنے لگا کہ حضرت قبلہ کی بیعت کریں۔آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اسے ذکر بتایا۔پھر وہ فقیر سوکر وفات پایا۔(شفاءالصدور 204)
لطائف کا بند ہونا: آداب حضور جلد دوم میں ہے کہ شیخ فضل علی قریشی مجددی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک مرید صادق نے حاضر خدمت ہوکر شکایت کی کہ حضرت کئی دنوں سے لطائف بند ہوگئے ہیں معلوم نہیں کیا وجہ ہے۔ حضرت نے فرمایا سوچو! شیخ کی بے ادبی تو نہیں ہوئی۔ وہ شخص کافی دیر تک سوچ بچار کرتا رہا بالآخر کہنے لگا؛ حضرت ایک دن آپ کا عصا پڑا تھا میں اوپر سے گزر گیا شاید اس بے ادبی کی وجہ سے لطائف بند ہوگئے ہیں۔ حضرت نے فرمایا ٹھیک ہے، شیخ کی زرا سی بے ادبی بھی باطنی نعمتوں کے ضائع ہونے کا سبب بن جاتی ہیں۔
شیخ فضل علی قریشی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جو شخص اہل جذبہ کی دل سے مخالفت کرتا ہے نقصان اٹھاتا ہے۔
دہلی کے تبلیغی سفر میں آپ کو فالج ہوگیا۔اسی حالت میں مسکین پور واپس ہوئے۔ بروز پنج شنبہ رمضان المبارک کی چاند رات کو 84 سال کی عمر میں 1354 ہجری بمطابق 28 نمبر 1935 کو وصال ہوا۔