General knowledge

General knowledge

Share

Education

17/11/2024
15/11/2024

کوئی تدبیر کرو، وقت کو روکو،
صبح دیکھی ہی نہیں،شام ہوئی جاتی ہے💔

11/11/2024

افلاطون، جو کہ ایک مشہور یونانی فلسفی تھے، نے تقریباً اڑھائی ہزار سال قبل یہ کہا تھا کہ اگر معاشرے کے دو طبقات، یعنی تاجر طبقہ اور فوجی طبقہ، میں سے کوئی بھی طبقہ آگے بڑھ کر حکمرانی پر قبضہ کر لے تو ریاست میں تباہی ضرور آئے گی۔ ان کے خیالات آج بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور ان کی فلسفیانہ بصیرت نے سیاست، معیشت، اور معاشرتی ڈھانچے پر گہرا اثر ڈالا ہے۔
تاجر طبقہ.
افلاطون نے تاجر طبقے کی حکمرانی کے خطرات پر زور دیا تھا۔ ان کے مطابق، تاجر اپنے مفادات کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔ جب تاجر حکمرانی کرتے ہیں، تو ان کی اولین ترجیح اپنی دولت اور کاروبار کو بڑھانا ہوتی ہے۔ اس طرح کی حکمرانی میں عوامی مفاد پسِ پشت ڈال دیے جاتے ہیں اور ریاست کا نظام دولت کے ارتکاز اور خود غرضی پر مبنی ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً، عدم مساوات بڑھتی ہے، عوام میں عدم اطمینان پیدا ہوتا ہے، اور معاشرتی انتشار جنم لیتا ہے۔
فوجی طبقہ.
افلاطون نے فوجی طبقے کی حکمرانی کے نقصانات بھی بیان کیے۔ ان کے مطابق، فوجی حکمران جنگ و جدل اور طاقت کے استعمال پر زیادہ زور دیتے ہیں۔ جب فوجی طبقہ حکمرانی کرتا ہے، تو ریاست میں عسکریت پسندی اور جبر کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اس طرح کی حکمرانی میں عوامی آزادیوں کو کچلا جاتا ہے، جمہوریت کا خاتمہ ہو جاتا ہے، اور انسانی حقوق کی پامالی ہوتی ہے۔ فوجی حکمرانی کے نتیجے میں ریاست میں خوف و ہراس پھیلتا ہے اور عوام کا حکومت پر اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔
افلاطون کی مثالی ریاست.
افلاطون نے اپنی کتاب "جمہوریہ" (The Republic) میں ایک مثالی ریاست کا تصور پیش کیا تھا جس میں حکمرانی کرنے والے طبقے کو فلسفی بادشاہ (Philosopher King) کہا جاتا ہے۔ ان کے نزدیک، فلسفی بادشاہ وہ ہوتا ہے جو عقل و دانش، اخلاقیات اور انصاف پر مبنی فیصلے کرتا ہے۔ وہ نہ تو تاجر کی طرح دولت کی ہوس رکھتا ہے اور نہ ہی فوجی کی طرح طاقت کی۔ فلسفی بادشاہ عوامی مفاد کو اولین ترجیح دیتا ہے اور معاشرتی انصاف کو فروغ دیتا ہے۔
موجودہ دور کے تناظر میں.
افلاطون کی یہ پیشگوئی آج کے دور میں بھی درست ثابت ہوتی ہے۔ کئی ممالک میں جہاں تاجر طبقہ یا فوجی طبقہ حکمرانی کر رہا ہے، وہاں معاشرتی عدم مساوات، بدعنوانی، جبر اور عوامی عدم اطمینان جیسے مسائل دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ان حالات میں افلاطون کے خیالات کی روشنی میں ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حکمرانی کا اصل مقصد عوامی خدمت اور انصاف کا قیام ہونا چاہیے، نہ کہ ذاتی مفادات کا حصول۔
افلاطون کے الفاظ آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ ان کی بصیرت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ حکمرانی کے لئے ایسے افراد کی ضرورت ہے جو عقل و دانش، انصاف اور عوامی خدمت کے اصولوں پر مبنی ہوں۔ جب تک حکمرانی ایسے اصولوں پر مبنی نہیں ہوگی، تب تک ریاست میں حقیقی ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں

04/11/2024

مٹی_کےبرتن کا استعمال

مٹی کے برتن میں کھانا آہستہ آہستہ پکتا ہے
اس کے برعکس سِلور، سٹیل، اور پریشر کُکر میں کھانا جلدی جلدی تیار ہوتا ہے لیکن
یہ کھانا پکتا نہیں بلکہ گلتا ھے،
تو سب سے پہلے اپنے برتن بدلیں، جن لوگوں نے برتن بدل لیے، اُن کی زِندگی بدل گئی،
2- کُوکِنگ آئل
کوکنگ آئل وہ استعمال کریں،
جو کبھی نہ جَمے،
دُنیا کا سب سے بہترین تیل جو جمتا نہیں،
وہ زیتون کا تیل ہے،
لیکن یہ مہنگا ھے، ہمارے جیسے غریب لوگوں کے لیے سرسوں کا تیل ہے،
سرسوں کا تیل جمتا نہیں،
یہ وہ واحد تیل ہے،
جو ساری عُمر نہیں جمتا،
اور اگر جم جائے تو سرسوں نہیں ہے،
ہتھیلی پر سرسوں جمانے والی بات
بھی اسی لیے کی جاتی ہے
کیونکہ یہ ممکن نہیں ہے
سرسوں کے تیل کی ایک خوبی یہ بھی ھے کہ اس کے اندر جس چیز کو بھی ڈال دیں گے،
اس کو جمنے نہیں دیتا،
اس کی زِندہ مِثال اچار ہے
جو اچار سرسوں کے تیل کے اندر رہتا ہے
اس کو جالا نہیں لگتا،
اور اِن شاءالله جب یہ سرسوں کا تیل آپ کے جسم کے اندر جاۓ گا تو آپ کو کبھی بھی فالج،
مِرگی یا دل کا دورہ نہیں ہوگا،
أپ کے گُردے فیل نہیں ہونگے،
پوری زندگی آپ بلڈ پریشر سے محفوظ رہیں گے،
اِن شاء الله
کیونکہ
سرسوں کا تیل نالیوں کو صاف کرتا ہے،
جب نالیاں صاف ہوجاٸیں گی تو دل کو زور نہیں لگانا پڑے گا،
سرسوں کے تیل کے فاٸدے ہی فاٸدے ہیں،
ہمارے دیہاتوں میں جب جانور بیمار ہوتے ہیں تو بزرگ کہتے ہیں کہ ان کو سرسوں کا تیل پلاٸیں،
أج ہم سب کو بھی سرسوں کے تیل کی ضرورت ہے،

3- نمک (نمک بدلیں)
نمک ہوتا کیا ھے؟
نمک اِنسان کا کِردار بناتا ھے،
ہم کہتے ہیں بندہ بڑا نمک حلال ھے،
یا پھر
بندہ بڑا نمک حرام ھے
نمک انسان کے کردار کی تعمیر کرتا ھے،
ہمیں نمک وہ لینا چاہیٸے جو مٹی سے آیا ہو،
اور وہ نمک أج بھی پوری دنیا میں بہترین پاکستانی کھیوڑا کا گُلابی نمک ھے،
پِنک ہمالین نمک 25 ڈالر کا 90 گرام یعنی 4000 روپے کا نوے گرام اور چالیس ہزار روپے کا 900 گرام بِکتا ھے،
اور ہمارے یہاں دس تا بِیس روپے کلو ھے،
بدقسمتی دیکھیں
ہم گھر میں آیوڈین مِلا نمک لاتے ہیں،
جس نمک نے ہمارا کردار بنانا تھا،
وہ ہم نے کھانا چھوڑ دیا۔
اس لٸے میری أپ سے گذارش ھے کہ ہمیشہ پتھر والا نمک استعمال کریں،

4- مِیٹھا
ہم سب کے دماغ کو چلانے کے لٸے میٹھا چاہیٸے،
اور میٹھا الله نے مٹی میں رکھا ہے ،
یعنی گَنّا اور گُڑ،
اور ہم نے گُڑ چھوڑ کر چِینی کھانا شروع کر رکھی ہے ،
خدارا گُڑ استعمال کریں گڑ

5- پانی
انسان کے لیے سب سے ضروری چیز پانی ہے ،
جس کے بغیر انسان کا زندہ رہنا ممکن نہیں،
پانی بھی ہمیں مٹی سے نِکلا ہُوا ہی پینا چاہیٸے،
پوری دنیا میں زمزم کا پانی سب سے بہترین پانی ہے،
اس کے بعد پھر پنچاب اور وادئ ھزارہ کا پانی ہے ،
اہم بات
کبھی بھی گندم کو چھان کر استعمال نہ کریں،
گندم جس حالت میں آتی ہے،
اُسے ویسے ہی استعمال کریں،
یعنی سُوجی، میدہ اور چھان وغیرہ نکالے بغیر
کیونکہ
ہمارے آقا کریم حضرت محمد بغیر چھانے أٹا کھاتے تھے،
تو پھر طے یہ ہوا کہ ہمیں یہ پانچ کام کرنے چاہٸیں،
1- مٹی کے برتن،
2- سرسوں کا تیل،
3- گُڑ،
4- پتھر والا نمک،
اور
5- زمین کے اندر والا پانی،
یاد رہے یہ پانی مٹی کے برتن میں رکھ کر مٹی کے گلاس یا پیالے میں پئیں،
اس کے علاوہ گندم کا ان چھنا آٹا،
اب سوال یہ ہے کہ ہم یہ ساری چیزیں کیوں لیں ؟
یہ ساری چیزیں ہم نے اس لیے لینی ہیں کہ اسی میں ہماری صحت ہے،
ہم پیدا بھی مٹی سے ہوئے ہیں اور واپس دفن بھی اسی مٹی میں ہونا ہے ..
ہر قسم کی معلومات کے لئے فالو کر لیں شکریہ

Want your school to be the top-listed School/college in Bishkek?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Bishkek