Ik umer chaheye ah ko asar hone tak

Ik umer chaheye ah ko asar hone tak Informazioni di contatto, mappa e indicazioni stradali, modulo di contatto, orari di apertura, servizi, valutazioni, foto, video e annunci di Ik umer chaheye ah ko asar hone tak, Tutor/insegnante, Cagliari.

07/01/2024

ایک عورت جس کی عمر نوے سال سے زیادہ ہے
اس کا بیٹا کہتا ہے:

ایک دن میرے پاس ایک رشتہ دار آیا اور میری والدہ میرے پاس بیٹھی تھیں۔
جب وہ اندر داخل ہوا تو اس نے کہا: ماشاء اللہ آپکی والدہ آپکے پاس رہتی ہیں!!!

میں نے کہا:
نہیں، بلکہ میں اپنی والدہ کے پاس رہتا ہوں
بیٹے نے تعظیما ایسے کہا تھا

ماں نے کہا:
نہیں بیٹا جب تم چھوٹے تھے تو ہمارے ساتھ تھے

لیکن جب ہم بڑے ہوئے تو تمہارے ساتھ ہو گئے

کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں پڑھا اما یبلغن عندک الکبر احدھما او کلاھما فلا تقل لھما اف ولا تنھرھما

جب تیرے پاس ماں باپ میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انکو اف تک نہ کہو اور نہ جھڑکو

یہاں پر اللہ تعالیٰ نے رہنے کی نسبت اولاد کی طرف کی ہے کہ ماں باپ انکے پاس رہتے ہیں

بیٹا کہتا ہے: گویا میں نے پہلی بار یہ آیت سنی۔

ہر چیز عمر کے ساتھ کمزور ہو جاتی ہے
سوائے والدین کی محبت کے
یہ صرف مضبوط ہوتی جاتی ہے

خبردار تم اس جذبے کو اپنے احساس کی سرد مہری سے بجھا نہ دینا
اپنے والدین کو اپنی نافرمانی سے نہ تھکاؤ
کیونکہ خدا کی قسم ایک آنسو جو ماں کے گال یا باپ کے سفید بالوں والی داڑھی پر گرتا
یہ آپ کو زندگی کو اندھیروں میں غرق کر سکتا ہے!!
کثرت سے والدین کے لئیے دعا کیا کریں
رب اغفر لی ولوالدی
{اے رب مجھے اور میرے والدین کو معاف فرما}
اس میں تین عبادات جمع ہو جاتی ہیں
دعاء، نیکی اور بخشش
اے اللہ ہماری کوتاہیوں' ہمیں اور ہمارے والدین کو معاف فرما دیں۔۔آمین ثم آمین ✨🌸😔۔۔

اللہ اکبر❣️
‎ #

07/01/2024

ناظرین
رسولِ اکرمﷺ کی وفات کے وقت حضرت امام حسینؓ کی عمر مبارک تقریباً 6 سال تھی اور واقعہ کربلا کے وقت تقریباً 58 سال تھی،

ہمیں یا تو چھ سال کی عمر تک کے واقعات سننے کو مل رہے ہیں یا میدان کربلا کے، یہ جو درمیانی 52 سال ہیں، کہاں چلے گۓ کیوں بیان نہیں کیے جاتے...؟؟

اگر ہمارے علما یہ 52 سال کی سیرتِ عام کر دیں تو حضرت ابوبکر صدیق اکبرؓ حسنین کریمینؓ کو ممبر کے دائیں بائیں بٹھا کر خطبہ دیتے نظر آئیں گے...

حضرت عمر فاروق اعظمؓ خانوادہ رسولﷺ کے شہزادوں کا کھڑے ہو کر استقبال کرتے ملیں گے.✅

دونوں جنتی شہزادے حضرت عثمان غنی ذوالنورین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی حفاظت کے لیے تلواریں اٹھاۓ کھڑے ہوں گے.✅

اور حضرت ابو ہریرہؓ اپنی چادر مبارک سے شہزادگانِ رسولﷺ کے جوتے مبارک صاف کرتے ملیں گے.✅

ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام کے بچوں میں کچھ کپڑے تقسیم کئے لیکن ان کپڑوں میں کوئی کپڑا ایسا نہ تھا جو امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما کی شان کے لائق ہو لہذا آپ نے ان دونوں مقدس حضرات کیلئے یمن سے کپڑے منگوائے اور پھر کہا: اب میرا دل خوش ہوا ہے.
"ناظرین یہ تاریخ کاعظیم حصہ فرقہ پرستوں نے اپنے اپنے مفادات کی خاطر دبا کر رکھا ہے ہمیں بحیثیت مسلمان تاریخ کے ان پنوں کا مطالعہ کرتے رہنا چاہیے سارئے وہم و گمان دور ہوتے چلے جائیں گے اور پھر آپکو اندازہ ہو گا کہ دشمنان اسلام نے کس طرح کی سازشیں کرکے ہمیں فرقوں میں تقسیم کیا ہمیں سیدھی راہ سے دور کیا آج کہ ہم مسلمان جس مقام پے کھڑئے ہیں وہ انتہائی بزدلانہ ظالمانہ افسوس ناک اور انتہائی شرم ناک ہے۔
اللہ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنے دلوں کے اندر سے اسلام کا بول بالا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکیں اپنی آنے والی نسلوں کی تربیت اس ڈھنگ سے کر سکیں کہ آخرت میں ہمارئے اور ان کے درمیان آسامیوں کے معاملات پیش آئیں۔"
💐🙏🏻💐

06/01/2024

Burn the Boats کشتیاں جلا دو"
یوں تو تاریخ اسلام میں کئی نام ور سپہ سالار اور جرنیل گزرے ہیں،مگر آج ہم آپ کے سامنے افریقہ ایک مشہور مسلم سپہ سالار اور ‎ #جرنیل طارق بن زیاد کا ذکر کرتے ہیں۔ طارق بن زیاد افریقہ کے ایک بر بر قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ اس قبیلے میں بھی جب اسلام کی روح پہنچی تو ایک بہاد ر نامی گرامی جرنیل طارق بن زیاد پیدا ہوا۔سپہ سالار طارق بن زیاد بنی امیہ دور حکومت کے ایک مشہور سپہ سالار بتھے۔انہوں نے711ءمیں ہسپانیہ(اسپین) میں عیسائی حکومت کا خاتمہ کیا تھا۔ اس کے بعد یورپ میں ‎ #مسلم اقتدر کا آغاز ہواتھا۔ طارق بن زیاد کو اسپین کے مشہور عسکری رہنماﺅں میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔ ہسپانیہ فتح کرنے سے پہلے بنو امیہ کے افریقا کے گورنر موسیٰ بن نصیر کے نائب تھے۔موسیٰ بن نصیر نے اسپین کے بادشاہ کی اپنی رعایا پر ظلم ستم کرنے کی وجہ اور عوام کے مطالبہ پر طارق بن زیاد کو ہسپانیہ فتح کرنے کا کا م سونپا تھا۔طارق بن زہاد نے صرف سات ہزار مسلم سپائیوں کے ساتھ ہسپانیہ کے بادشاہ رڈارک کی ایک لاکھ جری ‎ #فوج کا مقابلہ کیا تھا۔ رڈارک کی فوج کو شکست فاش دی۔ اسپین پر اسلام کا جھنڈاگھاڑ دیا تھا۔مورخین کی رائے ہیں کہ اسپین کی فتح پر یورپ کو مسلمانوں کا احسان مند ہونا چاہےے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسپین میں عیسائی دنیا نے پسماندگی سے نکل کر علم ثقافت اور تہذیب مسلمانوں کی وجہ سے ترقی کی تھی۔مسلمانوں نے انہیں اندھیروں سے نکال کر ایک نئی بصیرت عطا کی تھی۔طارق بن زیاد کی تربیت موسیٰ بن نصیر گورنر افریقہ کی نگرانی میں ہوئی تھی۔موسیٰ بن نصیر ایک ماہر حرب اور عظیم مسلم سپہ سالارتھے۔ اس تربیت سے طارق بن زیاد نے فن سپہ گری میں بہت جلد شہرت حاصل کر لی تھی۔ہر طرف اُن کی بہادری کے چرچے ہونے لگے تھے۔ طارق بن زیاد نہ صرف دنیا کے بہترین سپہ سالار وں میں سے ایک تھے بلکہ وہ متقیٰ، فرض شاناس، بلند ہمت انسان بھی تھے۔ اس کے حسن اخلاق کی وجہ سے عوام اور سپاہی انہیں احترام کی نظر سے دیکھتے تھے۔ افریقہ کی اسلامی سلطنت کو کو اندلس کی بحری قوت سے خطرہ لا حق تھا۔جبکہ دوسری طرف اسپین کے عوام نے اپنے بادشاہ کے ظلم کی کہانیاں موسیٰ بن نصیر تک پہنچائیں تھیں۔ اسی لیے اموی گورنر موسیٰ بن نصیر نےدشمن کی قوت اور دفاعی استحکام کا جائزہ لے کر طارق بن زیاد کی کمان میں سات ہزار جوج دے کر انہیں ہسپانیہ پر حملہ کرنے اور فتح اسے کرنے کا حکم صادر کیا تھا۔تیس اپریل 711ءکا ‎ #اسلامی لشکر ہسپانیہ کے ساحل پر اُترا اور ایک پہاڑ کے دامن میں اپنے قدم جمالیے۔ بعد میں یہ پہاڑ” جبل الطارق“ کے نام سے تاریخ میں مشہور ہوا۔بات یہ ہے کہ طارق بن زیاد نے اس پہاڑ کے دامن میں محفوظ جگہ چن لی تھی۔اس موقع پر اپنے سارے سپائیوں کو جمع کیا۔ ان کے سامنے مومنانا سوچ، ایمان کی طاقت اور نہایت ولولہ انگیز خطاب کیا۔ کہا کہ دیکھو سپائیوں تمھارے سامنے ایک لاکھ دشمن کی فوج ہے۔ پیچھے سمندر ہے۔اس لیے ہم نے ہر حالت میں فتح حاصل کرنی ہے۔ سارے سپائیوں کے سامنے جنگی بحری جہازوں کو جلانے کا حکم صادر فرمایا ۔کہا کہ ہم دشمن سے لڑ کر فتح پائیں گے یا شہادت کے عظیم منصب پر فائز ہونگے۔اس میں ایک طرف تو ایمانی قوت تھی تو دوسری طرف ایک جنگی چال تھی۔ جنگی چال یہ تھی کہ دشمن کی ایک لاکھ فوج دیکھ کر ہمارے سپائیوں کے حوصلے پست نہ ہو جائیں۔ان کے دل سے پسپائی کا خیال نکل جائے۔ اس جنگی چال کی وجہ سے مسلمان فوج کے پاس ایک ہی راستہ باقی رہ گیا تھا۔ یا تو دشمن کو شکست ِفاش دیں یا جان،جان آفرین کے حوالے کر دیں۔یہ ایک ذبردست جنگی چال تھی۔ اس جنگی چال کی داد بعد میں آنے والے عظیم سپہ سالاروں نے بھی دی۔ سات ہزار کے مختصر لشکر، ایمانی قوت سے سرشار ہو کر ایک لاکھ فوج سے ٹکرا گئے۔ گھمسان کا رن پڑا۔ آخر کار شہنشاہ رڈارک مارا گیا۔ اس اعتبار سے یہ جنگ فیصلہ کن تھی کہ اس کے بعد ہسپانوی فوج کبھی بھی متحد ہوکر نہ لڑ سکی۔ فتح کے بعد طارق بن زیاد نے بغیر کسی مزاحمت کے دارالحکومت طلیطہ پر قبضہ کر لیا۔ طارق بن زیاد کی فتح کی خبر موسیٰ بن نصیر تک پہنچی تو خوشی کے موقع پر اس نے اپنے بیٹے عبداللہ کو اپنا نائب مقرر کر کے طارق بن زیاد سے ملنے اسپین پہنچ گیا۔اس کے بعد دونوں نے مل کر کئی علاقے فتح کیے۔کچھ مدت بعد بنو امیہ کے خلیفہ ولید بن عبدالملک نے اپنے قاصد بھیج کر دونوں کو دارلخلافہ دمشق بلوا لیا۔اس طرح مشہور مسلم سپہ سارلا طارق بن زیاد کی عسکری زندگی کا اختتام ہوا ۔ طارق بن زیاد نے ۰۲۷ءمیں وفات پائی

06/01/2024
06/01/2024

بلیک ہولز"

" Black Holes"

بلیک ہولز کے بارے میں قرآن نے ہمیں چودہ سو سال پہلے بتادیا ۔۔۔

"سورة طارق" اور "سورة واقعہ" میں بلیک ہولز کے بارے میں نشاندہی کی گئی اور لفظ "طارق" کو آج کی سائنسی زبان میں بلیک ہولز کہا جاتا ہے۔

آج کی سائنس نے ابھی تک دو بلیک ہولز دریافت کیئے ہیں جن کا نام S50014+18 اور 500-XTEJ1650 رکھا گیا۔...

جبکہ قرآن نے "سورة مومنین" میں بتایا ہے کہ ان کی کل تعداد سات ہے۔ اور قرآن نے بلیک ہولز کو ستاروں کے ڈوبنے کی جگہ بھی قرار دیا ہے جسکی تحقیق تک ابھی سائنس نہیں پہنچ پائی۔

"قرآن" یہ بھی بتا چکا ہے کہ اس کائنات جیسی مزید کائناتیں بھی موجود ہیں۔

جنہیں "سورة نوح" میں سات متوازن آسمانوں کا نام دیا گیا۔

اور آج سائنس نے اسے مانا کہ اس جیسی اور بہت سی کائناتیں موجود ہیں جو اس کائنات کے بلکل متوازن ہیں۔ سائنسی اصطلاح میں اسے parallel universes کا نام دیا گیا۔
اور "قرآن" سے ہی ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ بلیک ہولز ایک دنیا سے دوسری دنیا تک جانے کا راستہ ہیں۔

مگر اسے تیز ترین بجلی کی سپیڈ کے بغیر کراس نہیں کیا جا سکتا اور بجلی کی اسپیڈ سے کوئی سواری بنانا ابھی تک انسان کیلئے ایک ناممکن کام ہے۔ بلیک ہولز کو صرف ایک سواری نے ہی کراس کیا ہے وہ ہے "براق" یعنی برق سے بنا ہوا۔۔ جس کا مطلب ہے (بجلی جیسا تیزرفتار) ۔۔۔ وہ سواری جس پر حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے "شب معراج " میں سواری کی تھی

05/01/2024

ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ 20 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﻨﺎ۔ 23 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﻘﺪﻭﻧﯿﮧ ﺳﮯ ﻧﮑﻼ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﻮﺭﺍ ﯾﻮﻧﺎﻥ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺗﺮﮐﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ، ﭘﮭﺮ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺍﺭﺍ ﮐﻮ ﺷﮑﺴﺖ ﺩﯼ، ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺷﺎﻡ ﭘﮩﻨﭽﺎ، ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﺮﻭﺷﻠﻢ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺑﻞ ﮐﺎ ﺭﺥ ﮐﯿﺎ، ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﻣﺼﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ، ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﺍٓﯾﺎ، ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﺱ ﺳﮯ ﺟﻨﮓ ﻟﮍﯼ، ﺍﭘﻨﮯ ﻋﺰﯾﺰ ﺍﺯ ﺟﺎﻥ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺎﻟﯿﮧ ﺷﮩﺮ ﺍٓﺑﺎﺩ ﮐﯿﺎ، ﻣﮑﺮﺍﻥ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ، ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﭨﺎﺋﯿﻔﺎﺋﯿﮉ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ 323 ﻗﺒﻞ ﻣﺴﯿﺢ ﻣﯿﮟ 33 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺨﺖ ﻧﺼﺮ ﮐﮯ ﻣﺤﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ، ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺍٓﺝ ﺗﮏ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﻭﮦ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎ ﻋﻈﯿﻢ ﺟﺮﻧﯿﻞ، ﻓﺎﺗﺢ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﺎﺭﻧﺎﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﺩﯼ ﮔﺮﯾﭧ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﺍﻋﻈﻢ ﯾﻌﻨﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﻨﺎﺩﯾﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍٓﺝ ﺍﮐﯿﺴﻮﯾﮟ ﺻﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻣﻮﺭﺧﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﯿﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﮐﻮ ﺳﮑﻨﺪﺭﺍﻋﻈﻢ ﮐﮩﻼﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﻖ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ؟ ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﻣﻮﺭﺧﯿﻦ ﮐﻮ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﺍﻋﻈﻢ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﻓﺘﻮﺣﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﺭﻧﺎﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻮﺍﺯﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﺍٓﭖ ﺑﮭﯽ ﺳﻮچیے

ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺳﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮔﮭﮍﺳﻮﺍﺭﯼ ﺳﮑﮭﺎﺋﯽ، ﺍﺳﮯ ﺍﺭﺳﻄﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﺻﺤﺒﺖ ﻣﻠﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺑﯿﺲ
ﺳﺎﻝ ﮐﺎ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﺗﺨﺖ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺝ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ 7 ﭘﺸﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺰﺭﺍ ﺗﮭﺎ، ﺍٓﭖ ﺑﮭﯿﮍ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻧﭧ ﭼﺮﺍﺗﮯ ﭼﺮﺍﺗﮯ ﺑﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺑﺎﺯﯼ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﺍﻧﺪﺍﺯﯼ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﺍﮐﯿﮉﻣﯽ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﯿﮑﮭﯽ ﺗﮭﯽ۔

ﺳﮑﻨﺪﺭ ﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ ﺍٓﺭﮔﻨﺎﺋﺰﮈ ﺍٓﺭﻣﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ 10 ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ 17 ﻻﮐﮫ ﻣﺮﺑﻊ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻋﻼﻗﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ 10 ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍٓﺭﮔﻨﺎﺋﺰﮈ ﺍٓﺭﻣﯽ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ 22 ﻻﮐﮫ ﻣﺮﺑﻊ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻋﻼﻗﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﮐﯽ ﺩﻭ ﺳﭙﺮ ﭘﺎﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻣﻞ ﺗﮭﯿﮟ۔

ﺍٓﺝ ﮐﮯ ﺳﯿﭩﻼﺋﭧ، ﻣﯿﺰﺍﺋﻞ ﺍﻭﺭ ﺍٓﺑﺪﻭﺯﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﮍﯼ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﮔﮭﻮﮌﻭﮞ ﮐﯽ ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ ﻓﺘﺢ ﮐﺮﺍﺋﯽ ﺗﮭﯽ، ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﻭ ﺍﻧﺼﺮﺍﻡ ﺑﮭﯽ ﭼﻼﯾﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﻧﮯ ﻓﺘﻮﺣﺎﺕ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﺟﺮﻧﯿﻞ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺍﺋﮯ، ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﺟﺮﻧﯿﻠﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﮭﻮﮌﺍ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺑﻐﺎﻭﺗﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻓﻮﺝ ﻧﮯ ﺍٓﮔﮯ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺩﯾﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﺳﺮﺗﺎﺑﯽ ﮐﯽ ﺟﺮﺍٔﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ.

👇

02/01/2024

‏چھوٹی کوشش بڑی نیکی

کہیں ایک قصہ پڑھا تھا کہ سمندر کے کنارے ایک شخص چہل قدمی کرنے جاتا تھا ،اس نے وہاں ایک شخص کو دیکھا کہ وه شخص نیچے جھکتا اور کوئی چیز اٹھاتا اور سمندر میں پھینکتا جاتا... وه ذرا قریب ھوا تو دیکھا کہ ہزاروں مچھلیاں کنارے پہ پڑی تڑپ رھی ھیں شاید تازه موج نے انہیں سمندر سے نکال کر ساحل پر لا پٹخا تھا اور وه شخص ان مچھلیوں کو سمندر میں واپس پھینکنے کی کوشش کر رھا تھا......اس شخص کو اس کی بیوقوفی پر ہنسی آرہی تھی اس نے ہنستے ھوۓ اس سے کہا بھلا ان ہزاروں مچھلیوں میں سے کتنی بچا پاٶ گے؟..وه شخص جھکا اور ایک تڑپتی ھوئی مچھلی کو اٹھایا اور سمندر میں اچھال دیا....پھر سکون سے دوسرے شخص سے بولا..اس مچھلی کو فرق پڑا...
ھماری چھوٹی سی کاوش سے بھلے مجموعی حالات میں تبدیلی نہ آۓ لیکن کسی ایک کے لئے تو فائده مند ھوسکتی ھے...اپنی بساط کے مطابق اچھائی کرتے رہیں ،اس فکر میں مبتلا نہ ھوں کہ آپ کے اس عمل سے معاشرے میں کیا تبدیلی آئی .....
الله تعالی ھم سب کو آسانیاں عطا فرماۓ

02/01/2024

‏‎ #بے شک شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے!
ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺭﺳﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﮭﻨﺪﮮ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ .. ﮐﭽﮫ ﻣﻮﭨﯽ ﻣﻮﭨﯽ ﺭﺳﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﮭﻨﺪﮮ ﺗﮭﮯ' ﮐﭽﮫ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﺭﺳﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﮭﻨﺪﮮ ﺗﮭﮯ.. ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﻠﻢ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﺎ ﮔﺬﺭ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ " ..ﺍﺭﮮ ﺍﻭ ﺩﺷﻤﻦ ﺍﻧﺴﺎﮞ ! ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮮ ﮨﻮ.. ؟"
ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﺎﻡ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻻ.. "ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﻧﮭﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﻗﺎﺑﻮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭘﮭﻨﺪﮮ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﮨﺎﮨﻮﮞ "..
ﺍﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ.. "ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﭘﮭﻨﺪﮮ ﮨﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﻣﻮﭨﮯ ﮐﭽﮫ ﮨﻠﮑﮯ .. ؟"
ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ.. "ﭘﮭﻨﺪﮮ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﮯ.. ﻟﮩﺬﺍﻣﺨﺘﻠﻒ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﭘﮭﻨﺪﮮ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﮍﺗﮯ ﮨﯿﮟ .. ﮐﭽﮫ ﺧﻮﺷﻨﻤﺎ' ﮐﭽﮫ ﻣﻮﭨﮯ' ﮐﭽﮫ
ﺑﺎﺭﯾﮏ "..
ﺍﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﺠﺴﺲ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺍ.. ﭘﻮﭼﮭﺎ .. "ﮐﯿﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﮭﻨﺪﺍ ﮨﮯ.. ؟ "
ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ.. " ﺁﭖ ﻋﻠﻢ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮭﻨﺪﮮ ﺗﯿﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﮍﺗﮯ .. ﺁﭖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﭼﭩﮑﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﯿﺮ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ.. ﻋﻠﻢ ﮐﺎ ﺗﮑﺒﺮ ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﮯ ﺁﭖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﮭﺎﻧﺴنےﮐﮯ ﻟﯿﮯ "..
ﺍﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ.. " ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﻣﻮﭨﮯ ﭘﮭﻨﺪﮮ ﮐﺲ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﯿﮟ .. ؟"
ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ.. "ﻣﻮﭨﮯ ﭘﮭﻨﺪﮮ ﺍﺧﻼﻕ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻨﮑﮯ ﺍﺧﻼﻕ ﺍﭼﮭﮯ ﮨﯿﮟ.. ﺍﻥ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﭘﺎﻧﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ..
ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮯ ﺣﺪﯾﺚ ﺷﺮﯾﻒ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻭﺯﻧﯽ ﭼﯿﺰ ﺍﺧﻼﻕ ﮨﻮﮔﺎ ".. ﺍﻟﻠﻪ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺍﺧﻼﻕ ﻭﺍﻻ ﺑﻨﺎ ﺩﮮ،الہی آمین!رات کے گہرے سناٹوں میں ہلچل مچاتی ا

20/10/2023

‏ایک منقول تحریر آپ سب کے لیے۔

مشرق وسطیٰ کے موجودہ حالات اور امام مہدی کا ظہور۔۔۔

مفتی ابو لبابہ منصور نے اپنی کتاب *دجالیات* میں حضرت دانیال علیہ السلام کی تختیوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ
یہودیوں کی ایک ریاست قائم ہوگی اور اسکے پچاس سال بعد امام مہدی کا ظہور ہوگا۔ظاہر سی بات ہے کہ 1946/47 میں اسرائیل کی بنیاد ڈالی تو گئی لیکن *1973* میں جاکر اقوام متحدہ نے ملک کی حیثیت سے تسلیم کیا اور اسکے جھنڈے کو بھی تسلیم کیا تو حقیقی بنیاد ملک اور ریاست کے حیثیت سے 1973 میں سمجھی جائیگی اس لحاظ سے 2023 میں پچاس سال پورے ہوتے ہیںلہذا ممکن ہے کہ 2024 میں امام مہدی کا ظہور ہوگا۔۔)
نیز نسائی میں جس غزوہ کی نشاندہی کی گئی ہے جس میں امام مہدی کی ایک جماعت خراسان (افغانستان و مغربی پاکستان وغیرہ) سے نکل کر *مشرقی علاقہ* پر بر سر پیکار ہوگی تو حالیہ جو خبریں آ رہی ہیں اسکی پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔۔۔‏( *دجال کے خروج کے آثار* . )
قابل غور بات تو یہ بھی ہے کہ کورونا کا ڈرامہ بھی دوہزار چوبیس میں ختم کردیا جائے گا ۔
اس پر باقاعدہ 24 نیوز والوں نے ایک لمبی ڈبیٹ کی ہے ۔۔
اور ملک بھارت میں ہندو راشٹر کا آفیشیل اعلان بھی غالبا اسی سال ہوگا ۔۔۔
اور اس سے ایک سال قبل یعنی 2023‏میں ترکی پر سے پابندی بھی ہٹا لی جائے گی، جس کا واضح مطلب ہے کہ ترکی پر جنگ مسلط کردی جائے گی، جس کے ‏شاہ سلمان کی عمر 86 سال ہے، ممکن ہےکہ وہ 24 ,25 تک 90 کے آس پاس ہونگے ۔۔۔
اور خلافت عثمانیہ کے سقوط کے سوسال بھی 2023 تک پورے ہورہے ہیں۔۔۔۔
نیز ایک عرب عالم ہیں
*شیخ صادق المغلسی المرانی* انہوں نے 24 کے قریب ہی ظہور مہدی کی بات کہی ہے ۔۔۔۔

حاصل یہ نکلا کہ ظہور مھدی کے لحاظنتیجے میں قسطنطنیہ کفار کے قبضے میں جاسکتا ہے ۔۔
اور سعودی بادشاہ کی وفات کی یہ روایت رہی ہے کہ عموماً وہ 90 سال کے آس پاس ہ‏شاہ سلمان کی عمر 86 سال ہے، ممکن ہےکہ وہ 24 ,25 تک تک پورے ہورہے ہیں۔۔۔۔
نیز ایک عرب عالم ہیں
*شیخ صادق المغلسی المرانی* انہوں نے 24 کے قریب ہی ظہور مہدی کی بات کہی ہے ۔۔۔۔

حاصل یہ نکلا کہ ظہور مھدی کے لحاظ‏سے یہ دوسال یعنی 2024 اور 2025 کافی اہم ہیں
ایک بات بڑی فکر میں ڈالنے والی یہ بھی ھے کہ امت کے مختلف قسم کے گروہ امام مہدی کو تلاش بھی کررہے ہیں۔ اس عاجز کے پاس یہ بھی خبر آئی ہے کہ مختلف جہادی تنظیموں کے فکرمند لیڈران اس وقت بڑے فکرمند ہیں کہ امام مہدی کی قیادت میں‏ہرسال اسی تلاش میں جاتے ہیں کہ کسی طرح انہیں پہچان سکیں۔۔
ایک بات اور یاد آئی بڑی مزے کی بات ہے ،
بندہ *مولانا سجاد نعمانی* صاحب کا ایک بیان سن رہا تھا جس میں حضرت نے سورۂ کہف کی تفسیر کرتے ہوئے بڑا عجیب نکتہ پیش کیا فرمایا کہ ۔۔‏اللہ نے دجال کے فتوں کا ذکر سورۂ کہف میں کیا ہے، اور سورۂ کہف پندرھویں پارے کے نصف سے شروع ہوتی ہے اس سے معلوم ہوا کہ دجال کا خروج پندرھویں صدی کے نصف پر ہوگا،
آگے فرمایا کہ سولہواں پارہ شروع ہوتے ہوتے دجال کا ذکر ختم ہوجاتاہے جس سے معلوم ہوا کہ‏سولہویں صدی سے قبل ہی یہ فتنہ ختم ہوجائے گا،
مزید یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دجال کے ذکر سے پہلے بنی اسرائیل کا ذکر کیا ھے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس سے پہلے کافی چرچہ میں ہوں گے ۔۔۔۔۔یعنی انہیں عروج ملے گا۔

اب ہم حضرت کی ان باتوں پر غور کرتے ہیں تو‏اس سے بھی یہی اندازہ نکل کے سامنے آتا ہے کہ چونکہ دجال کے پندرھویں صدی کے نصف میں آنے کا امکان ہے اور حضرت مہدی اس سے تقریبا پانچ چھ سال قبل آئیں گے، اور اس وقت1443ہجری چل رہی ہے ۔ پانچ چھ سال قبل مطلب 45۔ 46 ہجری جو انگریزی سال کے حساب سے 2024 اور25 بنتے ہیں ۔‏امام مہدی کے ظہور کے بعد بہت ممکن ہے کہ 2025 کے بعد امام مہدی کی قیادت میں تیسری عالمی اسلامی جنگ ہو۔

بہر حال آپ جس طرح بھی غور کریں گے یہی دو سال سامنے آئیں گے معلوم ہوا کہ یہ دوسال امت مسلمہ کے لئے بڑی اہمیت کے حامل ہیں‏پہلے سیاہ جھنڈے نکلیں گے.
2 پھر غزوہ ہند ہوگی.
3 پھر ہندستان میں ہندؤوں کا قتل عام ہوگا.
4 پھر ہندستان میں دین کے بد خواہ لوگوں کا قتل عام ہوگا. جیسے گستاخ اور لعنتی قادیانی وغیرہ
5 پھر تیسری جنگ عظیم شروع ہوگی.
6 پھر قسطنطنیہ مسلمانوں کے ہاتھوں نکل جائگا.ی فوت ہوتے ہیں اور اس وقت موجودہ بادشاہ‏شاہ سلمان کی عمر 86 سال ہے، ممکن ہےکہ وہ 24 ,25 تک تک پورے ہورہے ہیں۔۔۔۔
نیز ایک عرب عالم ہیں
*شیخ صادق المغلسی المرانی* انہوں نے 24 کے قریب ہی ظہور مہدی کی بات کہی ہے ۔۔۔۔

حاصل یہ نکلا کہ ظہور مھدی کے لحاظ‏سے یہ دوسال یعنی 2024 اور 2025 کافی اہم ہیں
ایک بات بڑی فکر میں ڈالنے والی یہ بھی ھے کہ امت کے مختلف قسم کے گروہ امام مہدی کو تلاش بھی کررہے ہیں۔ اس عاجز کے پاس یہ بھی خبر آئی ہے کہ مختلف جہادی تنظیموں کے فکرمند لیڈران اس وقت بڑے فکرمند ہیں کہ امام مہدی کی قیادت میں‏ہرسال اسی تلاش میں جاتے ہیں کہ کسی طرح انہیں پہچان سکیں۔۔
ایک بات اور یاد آئی بڑی مزے کی بات ہے ،
بندہ *مولانا سجاد نعمانی* صاحب کا ایک بیان سن رہا تھا جس میں حضرت نے سورۂ کہف کی تفسیر کرتے ہوئے بڑا عجیب نکتہ پیش کیا فرمایا کہ ۔۔‏اللہ نے دجال کے فتوں کا ذکر سورۂ کہف میں کیا ہے، اور سورۂ کہف پندرھویں پارے کے نصف سے شروع ہوتی ہے اس سے معلوم ہوا کہ دجال کا خروج پندرھویں صدی کے نصف پر ہوگا،
آگے فرمایا کہ سولہواں پارہ شروع ہوتے ہوتے دجال کا ذکر ختم ہوجاتاہے جس سے معلوم ہوا کہ‏سولہویں صدی سے قبل ہی یہ فتنہ ختم ہوجائے گا،
مزید یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دجال کے ذکر سے پہلے بنی اسرائیل کا ذکر کیا ھے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس سے پہلے کافی چرچہ میں ہوں گے ۔۔۔۔۔یعنی انہیں عروج ملے گا۔

اب ہم حضرت کی ان باتوں پر غور کرتے ہیں تو‏اس سے بھی یہی اندازہ نکل کے سامنے آتا ہے کہ چونکہ دجال کے پندرھویں صدی کے نصف میں آنے کا امکان ہے اور حضرت مہدی اس سے تقریبا پانچ چھ سال قبل آئیں گے، اور اس وقت1443ہجری چل رہی ہے ۔ پانچ چھ سال قبل مطلب 45۔ 46 ہجری جو انگریزی سال کے حساب سے 2024 اور25 بنتے ہیں ۔‏امام مہدی کے ظہور کے بعد بہت ممکن ہے کہ 2025 کے بعد امام مہدی کی قیادت میں تیسری عالمی اسلامی جنگ ہو۔

بہر حال آپ جس طرح بھی غور کریں گے یہی دو سال سامنے آئیں گے معلوم ہوا کہ یہ دوسال امت مسلمہ کے لئے بڑی اہمیت کے حامل ہیں‏پہلے سیاہ جھنڈے نکلیں گے.
2 پھر غزوہ ہند ہوگی.
3 پھر ہندستان میں ہندؤوں کا قتل عام ہوگا.
4 پھر ہندستان میں دین کے بد خواہ لوگوں کا قتل عام ہوگا. جیسے گستاخ اور لعنتی قادیانی وغیرہ
5 پھر تیسری جنگ عظیم شروع ہوگی.
6 پھر قسطنطنیہ مسلمانوں کے ہاتھوں نکل جائگا.

Indirizzo

Cagliari

Telefono

+393510034953

Sito Web

Notifiche

Lasciando la tua email puoi essere il primo a sapere quando Ik umer chaheye ah ko asar hone tak pubblica notizie e promozioni. Il tuo indirizzo email non verrà utilizzato per nessun altro scopo e potrai annullare l'iscrizione in qualsiasi momento.

Scelte rapide

Condividi