20/12/2024
آج شب یلدا ہے۔ سال کی طویل ترین رات۔
What is yalda night?
شب یلداتہوار کیا ہے؟کیسے، کیوں اور کہاں کہاں منایا جاتا ہے۔ جاننے کے لیے کلک کریں۔
پروڈیوسر: حاجی شبیر احمد شگری
پیشکش: نورپروڈکشنز
Yalda night II شب یلدا یا شب چلہ
ایرانی اور بہت سے دوسرے اقوام شب یلدا میں جشن مناتے ہیں۔ یہ رات طویل ترین راتوں میں سے ایک ہے اور اس رات کے بعد دن بڑھتا جائیگا اور راتیں چھوٹی ہوتی جائیں گی...
18/12/2024
٭سبسکرائب کرنا نہ بھولیں۔٭
نورپروڈکشن منفرد اسلامک میڈیا سینٹر ہے جہاں آپ کو دلچسپ اور معلوماتی ملتی ہیں۔جن میں ترجمے کے ساتھ قران پاک، تفسیر، دعائیں، دینی معلومات، ڈرامے، کارٹون، ڈاکومنٹریز، شخصیات کے انٹرویوز اور سفرنامے موجود ہیں۔ یہ واحد بہترین فیملی اسلامی، اخلاقی اور تفریحی چینل ہےجہاں بالخصوص بچوں اور جوانوں کے لئے تربیتی اور تفریحی ویڈیوز موجود ہیں۔خود بھی سبسکرائب کریں اور اپنے عزیزوں اور گروپس میں بھی شئیر کرکے اسکار خیر میں شامل ہوں۔ جزاک اللہ۔
Noor productions
Noor Productions is an Islamic cultural media center. welcome to Noor productions. Noor productions is an Islamic Cultural Media Centre I am Shabbir Ahmed Shigri, the founder of this channel and I am here to serve Islamic culture media. 's productions #نورپروڈکشن #نو....
02/03/2024
سری لنکاکے اعزازی قونصل جنرل یاسین جوئیہ سے خصوصی گفتگو
💫سری لنکا کے تعاون سے 100 نابینا افراد کو آنکھوں کا مفت عطیہ دلواچکے ہیں۔
💫سیاحت، کرکٹ، تجارت، اور تعلیم اور کھیل میں پاک سری لنکا کے بیشمار پراجیکٹس پر کام کررہے ہیں۔
💫سری لنکا میں وہ مقام موجود ہے جہاں حضرت آدمؑ زمین پر تشریف لائے۔
💫تمام آئمہ معصومینؑ اور اولیا اللہ کی زیارات کر چکے ہیں۔
💫ایمان افروز واقعہ کہ امام رضا علیہ السلام کی جانب سے ان کے اخراجات کی پوری رقم واپس عطا کردی گئی۔
💫خواب دکھانے کے صرف نو دن کے اندرخواجہ معین الدین سرکار نے اجمیر شریف میں قدموں میں بلالیا۔
💫اس طرح کی بیشمار دلچسپ گفتگو کے لئے دیکھئے ُپروگرام "ملاقات"
میزبان: شبیر احمد شگری
پیشکش: نورپروڈکشنز
"Mulaqaat" With Honorary Consul General Sri Lanka Honorable Yasin Joya
سری لنکاکے اعزازی قونصل جنرل یاسین جوئیہ سے خصوصی گفتگو سری لنکا کے تعاون سے 100 نابینا افراد کو آنکھوں کا مفت عطیہ دلواچکے ہیں۔ سیاحت، کرکٹ، تجارت، اور تعلی...
05/11/2023
پاکستان کشور زیبایی است ۔ در زبان فارسی
پاکستان کشور زیبایی است. (مستند به زبان فارسی)۔پاکستان کشور زیبایی است که مورد برکت خداوند متعال قرار گرفته است. افراد مختلف در پاکستان به زبان های مختلف صحب...
28/10/2023
السلام علیکم۔
ھمارے اسلامک کلچرل گروپ کو جوائن کرنے کے لئے کلک کریں۔
یہ اوپن گروپ نہیں ھے یہاں صرف ھم اپنی پوسٹ شئیر کرتے ہیں تاکہ آپ کو میسیجز کی بھرمار سے اذیت نہ ھو۔
فرہنگستان (ثقافتی گروپ)
WhatsApp Group Invite
12/10/2023
Glass work art in Iran
Glass work Art in Iran
It is an Islamic cultural media center. Noor Productions offers here videos of Quran, Ahlul Bayt, pilgrimage, tourism, jurisprudence, literary, moral trainin...
08/10/2023
مسجد پادشاہی در لاھور، پاکستان
زبان ۔ فارسی
تولید کنندہ۔ شبیر احمد شگری
مسجد بادشاهی (به اردو: بادشاهی مسجد) یا مَسجـِدِ پادْشاهی یا مسجدِ عالَمگیری یکی از مساجد تاریخی پاکستان است که در شهر لاهور واقع شدهاست. این مسجد به دستور اورنگزیب عالمگیر، آخرین امپراتور گورکانی هند در سال ۱۶۷۳ میلادی (۱۰۵۰ شمسی) ساخته شد و از بناهای مهم معماری اسلامی در پاکستان بهشمارمیرود. این مسجد دومین مسجد بزرگ پاکستان به حساب میآید.
از مسجد بادشاهی به عنوان نقطه تحولی در تاریخ معماری شبهقاره هند یاد میشود که همه شکوه و زیبایی دوره گورکانی در آن متمرکز شدهاست.
این بنا پس از بنای تازهساز مسجد شاه فیصل که در اسلامآباد واقع شده دومین مسجد بزرگ در پاکستان و جنوب آسیا و پنجمین مسجد بزرگ جهان است که گنجایش 50000 نمازگزار را دارد و از جاذبههای مهم گردشگری پاکستان بهشمار میرود.
مسجد پادشاہی در لاھور، پاکستان
مسجد پادشاہی در لاھور، پاکستانزبان ۔ فارسیتولید کنندہ۔ شبیر احمد شگریمسجد بادشاهی (به اردو: بادشاهی مسجد) یا مَسجـِدِ پادْشاهی یا مسجدِ عالَمگیری یکی از مساج...
05/07/2023
ایران کا پہلا فرھنگی سفر
تحریر: شبیر احمد شگری
یہاں سفرنامے کے مختلف حصے الگ الگ مقامات کی تفصیل کے ساتھ پیش کئے جارہے ہیں۔ امید ہے پسند فرمائیں گے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کو چار موسمی اور بڑی تہذیبوں کا ایک بڑا ملک سمجھا جاتا ہے، ایران میں بے پناہ سیاحتی مقامات ہونے کی وجہ سے اسے سیاحوں کی جنت بھی کہا جاتا ہے۔اسلامی جمہوریہ ایران کی سرزمین مقدس مقامات کے ساتھ ساتھ بے شمار تفریحی اور سیاحتی مقامات سے بھری پڑی ہے جس کی وجہ سے پاکستان سمیت دنیا بھر سے سالانہ ہزاروں زائرین اور سیاح ایران کا رخ کرتے ہیں۔ایران جغرافیائی محل وقوع، تفریح گاہوں، قدرتی مناظر، زیارت گاہوں اور عظیم تہذیب کی وجہ سے دنیا بھر کے ذی شعور انسانوں کو اپنی طرف کھینچتا کرتا ہے۔جب آپ ایران کی سیر پر جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وسیع و عریض دشت و صحرا، بڑے بڑے جنگلات کے علاوہ یہ ملک دریا، قدرتی مناظر، پہاڑ اور قدرتی وسائل سے بھی مالا مال ہے۔انقلاب اسلامی ایران کے بعد حکومت نے عوام کی سیرو تفریح اور ثقافتی مراکز، اشیا کی حفاظت اور ترقی کے لئے بے شمار پیسہ خرچ کرکے ان کی خوبصورتی کو دو بالا کردیا ہے۔
پاکستان اور ایران کے روابط کو مزید مظبوط بنانے کے لئے ہم نے زیارتی اور سیاحتی سلسلہ شروع کیا ہے۔ چونکہ پاکستان سے جو گروپ ایران جاتے ہیں وہ صرف مقدس مقامات کی زیارت کر کے واپس آتے ہیں اس لئے ہم نے اس مرتبہ ایک ایسا گروپ تشکیل دیا کہ نہ صرف ایران کی زیارات سے مشرف ہوں بلکہ سیاحت کے حوالے سے بھی مختلف مقامات کی سیر کی جائے۔ ایران کے لوگ انتہائی ملنسار اور مہمان نواز ہیں آپ کو خندہ پیشانی سے خوش آمدید کہیں گے۔ کیونکہ پاکستان اور انڈیا سے بیشمار زائرین ایران آتے ہیں اس لئے بازاروں میں اکثردکاندار تھوڑی بہت اردو بول اور سمجھ لیتے ہیں۔ لیکن اگر آپ کو فارسی آتی ہوتوکیا ہی بات ہے۔ اس لئے میرا مشورہ ہے کہ اگر ایران کے سفر سے لطف اندوز ہونا ہو توایران جانے سے پہلے تھوڑی فارسی ضرور سیکھ کر جائیں۔
15 مئی کی گرم صبح تھی جب ہم لاہور ائیرپورٹ سے مشھد کے لئے روانہ ہوئے۔ راستے کے بادلوں نے ہمیں اطلاع دے دی تھی کہ آگے موسم خوشگوار ہے جوں جوں ہم آگے برھتے گئے یہ بادل مزید گہرے ہوتے گئے حتٰی کہ جب مشھد ائیرپورٹ پر اترے تو مشھد کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں نے ہمارا استقبال کیا۔ہمار ا یہ کاروان آل عبا کےبھی زیر اہتمام تھا اور میں بھی انجمن دوستی پاکستان ایران کےحوالے سے خصوصی طور پر گروپ کے ساتھ تھا کیونکہ علی جاوید جعفری صاحب بضد تھے کہ میں ضرور ساتھ سفر کروں تاکہ زبان کا مسئلہ بھی نہ ہواورذاتی تعلقات کی بنا پر اس گروپ کو نہ صرف زیادہ سے زیادہ سہولیات مہیا کی جائیں بلکہ زیارات کے ساتھ ساتھ سیاحت بھی کرائی جائے۔ایران کے سفری انتظامات 14ٹریول اینڈ ٹورز کے ایم ڈی عباس رضا خان نےانجام دئیے ہیں۔مشھد مقدس کےائیرپورٹ پر ہماری ٹیم انتظامات کے ساتھ موجود تھی۔ ائیرپورٹ پر جوس اور شربت سے گروپ کی تواضع کی گئی۔ اور پھر ہمیں حرم امام رضا علیہ السلام کے نزدیک بازار رضا کے ایک ہوٹل میں پہنچایا دیاگیا جہاں پہلے سے ہمارے کمرے بُک تھے۔ اور کھانا تیار تھا۔ مشھد میں ہمارا سب سے پہلا کام حضرت امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں حاضرہوکر سلام پیش کرنا تھا۔ جس کے لئے گروپ ممبران بے چین تھے۔اذن زیارت پڑھ کر حرم میں حاضر ہوئے اور اپنی روح و قلوب کو منورکیا۔ یہ معمولی آستان نہیں ہے آل رسول پاک کا دربار ہے۔یہاں منتخب اورخوش نصیب لوگ ہی پہنچتے ہیں۔ کیونکہ انھوں نے اپنے گناہوں کی بخشش بھی کروانی ہے اور عبادتوں کے معراج پر بھی پہنچنا ہے۔
حضرت رسولصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے کہ تھوڑی مدت کے بعد میرے جسم کا ایک ٹکڑا سر زمین خراسان میں دفن کیا جائے گا تو جو مومن ان کی زیارت کرنے جائے گا خدائے تعالیٰ اس کے لیے جنت واجب کر دے گا اس کے بدن کے لیے آتش جہنم کو حرام کر دے گا۔ خودامام رضا علیہ السلام کا فرمان ہے کہ جو شخص بہت دور ہونے کے باوجود میری قبر کی زیارت کرے گا تو میں قیامت میں تین وقتوں میں اس کے پاس آئوں گا تاکہ اسے قیامت کی سختیوں سے نجات دلائوں۔ پہلا وقت وہ ہے جب نیکوکاروں کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں اور بدکاروں کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے‘ دوسرا وقت وہ ہے جب لوگ پل صراط سے گزر رہے ہونگے اور تیسرا وہ وقت جب اعمال کا وزن کیا جائے گا۔
ہم نے اس گروپ کے لئے بہترین ایام کا انتخاب کیا تھا۔ جس دن ہم مشھد پہنچے ایران کے مشہور نامور اور معروف فارسی شاعرابولقاسم فردوسی کا یوم پیدائش تھا۔جن کا مزار بھی طوس کے نواح میں ہی موجود ہے۔ دوسرے روز امام جعفر صادق علیہ السلام کا یوم شہادت تھا۔ تین روز بعد 18 مئی کو حکیم عمر خیام کا یوم پیدائش تھا۔21 مئی کو حضرت امام رضا علیہ السلام کی خواہرحضرت معصومہ قُم سلام اللہ علیھا کا یوم ولادت باسعادت تھا اور31 مئی کو امام رضا علیہ السلام کی ولادت باسعادت کا دن تھا۔ ایران میں یہ دس روزہ ایام عشرہ کرامت کے طور پر منائے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی 3 جون کو بانی انقلاب اسلامی ایران امام خمینی ؒ کی برسی بھی تھی۔ یوں ہمارے اس گروپ کے ایران میں گزرنے والے ایام بہت اہم تھے۔
امام رضا علیہ السلام کے حرم مطہر کی تعمیرات ،وسیع پیمانے پر زائرین کے لیے جدید مقدس مقامات کی جدید تعمیر اور ہر طرح کی سہولتوں کی خاطر اقدامات حرم مطہر کے ادارے آستان قدس رضوی کی خدمات میں شامل ہیں کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آستان قدس رضوی، حرم مطہر رضوی کے حدود سے بہت زیادہ وسیع و عریض ہے کہ جس کے دامن میں میوزیمز ،لائبریریز، یونیورسٹیاں، دینی مدارس، عصری مدارس، ہسپتال اور کمپنیاں، وغیرہ شامل ہیں۔
جس وقت ایک زائر حرم مطہر رضوی میں حاضر ہوتا ہے،تو احساس آرامش وسکون اس کے وجود میں متجلی ہوتا ہے ۔ یہ احساس اس منور بارگاہ کے خادموں پر زائرین کے دلوں میں اعتماد کی نشانی و علامت ہے اس وقت وہ تمام آرام و سکون کےساتھ حرم مطہر کے معنوی ماحول میں آداب زیارت کو انجام دیتا ہے۔ اوراسی طرح ہم نے بھی کیا۔ حرم کے خادمین زائرین کے ساتھ انتہائی ادب پیش آتے ہیں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ یہ کس کے مہمان ہیں۔مشہد مقدس میں نہ صرف ایران کے مختلف مقامات سےبلکہ برصغیرپاک و ہند،افغانستان عراق اور عربستان سے باشندوں کی آمدورفت ہوتی ہے۔جس کی وجہ سے اس شہر کے اکثرباشندے اردو، افغانی،عربی اور ترکی زبانوں سے بھی آشنا ہوگئے ہیں۔
حرم رضوی میں اردو زائرین کی رہنمائی اور مدد کے لئے صحن غدیر میں شعبہ اردو زائرین بنایا گیا ہے۔ جہاں پر آقائی محمد علی سعادتی ، آقای محمد یعقوب، آقای ذاکر علی ذاکری، آقائی شہزاد ، مولانا مجاہدحسین نقوی اور مولانا عبدالخالق جعفری ہمیشہ مستعدی سے رہنمائی کے لئے موجود ہوتے ہیں۔ اس شعبے میں اردو زائرین کے لئے نماز باجماعت اورمختلف پروگرامز منعقد کئے جاتے ہیں۔چونکہ مجھے بھی خادم امام رضا علیہ السلام ہونے کا اعزاز حاصل ہے اس لئے یہ سب دوست میری بات کا بھی احترام رکھتے ہیں جس کے لئے ان کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ مولا امام رضا علیہ السلام کی ہم پر نظر کرم تھی کہ آستان قدس رضوی کے ادارے نے ہمیں اس وسیع اور عالیشان حرم کا دورہ بھی کرایا اور حرم کے حصوں اور میوزیمز کے کا مکمل تعارف بھی کرایا۔ اور اردو زائرین کے ترجمان شہزاد صاحب نے ہمیں تفصیل سے اس بارے میں آگاہ کیا۔ حرم کے میوزیمز میں قدیم تاریخی اشیا اور قدیم قرآنی نسخے موجود ہیں۔ جس میں آئمہ طاہرین سے منسوب قرآنی نسخے بھی موجود ہیں۔ یہ نسخے رہبر معظم آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای کی جانب سے میوزیم کے لئے وقف کئے گئے ہیں۔ حرم کے وزٹ کے علاوہ آستان قدس کے اردو زائرین شعبے کی جانب سے ہمارے گروپ کو مختلف تحائف بھی عطا کئے گئے۔
زیارت امام رضا علیہ السلام کے بعد ہمارا سب سے پہلا کام مشھد کے نواح میں زیارات اور دیدنی مقامات کی سیر کرنا تھا۔ نیشاپور،ایران کا ایک قدیم شہر،صوبہ خراسان کا صدر مقام ، بہت پرانا اور تاریخی شہر ہے۔یہاں پر سب سے پہلے ہم قدم گاہ پہنچے۔قدمگاہ کی موجودہ عمارت گیارہویں صدی ہجری سے متعلق ہے جو کہ اس وقت کے ایرانی بادشاہ، شاہ عباس صفوی کے حکم پر آٹھ گوشوں پر مشتمل فیروزی رنگ سے آراستہ دو منزلوں پر مشتمل تعمیر کی گئی تھی، قدمگاہ کی جذابیت صرف مذہبی مقام ہونے کی وجہ سے ہی نہیں ہے، بلکہ اس کے آس پاس نہایت خوبصورت اور قابل دید طبیعی نظارے بھی موجود ہیں۔
حرم امام رضا علیہ السلام کے بارے میں ہمارے پاکستانی گروپ کو حرم کے مختلف حصوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ اس ویڈیو کو دیکھنے کے لئے کلک کریں۔
حرم کا تعارفی وزٹ
https://www.youtube.com/watch?v=3Xbisg7U2y0
حرم امام رضا علیہ السلام میں مختلف پروگرامز
https://www.youtube.com/watch?v=tsTw8Ah5l-k&t=36s
جشن ولادت امام علی ابن موسٰی الرضا علیہ السلام کے موقع پر پاک و ہند کا زائرین کا حرم امام جلوس
https://www.youtube.com/watch?v=3qfnwG929Nc
جشن ولادت امام علی ابن موسٰی الرضا علیہ السلام کے موقع پر خواتین پھول لئےحاضری کے لئے جارہی ہیں۔
https://www.youtube.com/watch?v=q2fq8Blh3OI
Pilgrimage and tourism tour of Iran II ایران کا زیارتی و سیاحتی ٹور
https://www.youtube.com/watch?v=MhJhFb_jaLw
Pilgrimage,Tourism and Cultural Tour of Iran II ایران کا زیارتی، سیاحتی و فرھنگی ٹور
https://www.youtube.com/watch?v=6q4sNijT5sk&t=37s
سفرنامہ شگری سے ایک ورق ۔ ایران کا فرھنگی ٹور مئی 2023
05/07/2023
نیشاپور کی سیر اور مقدس مقامات:
زیارت امام رضا علیہ السلام کے بعد ہمارا سب سے پہلا کام مشھد کے نواح میں زیارات اور دیدنی مقامات کی سیر کرنا تھا۔ نیشاپور،ایران کا ایک قدیم شہر،صوبہ خراسان کا صدر مقام ، بہت پرانا اور تاریخی شہر ہے۔یہاں پر سب سے پہلے ہم قدم گاہ پہنچے۔قدمگاہ کی موجودہ عمارت گیارہویں صدی ہجری سے متعلق ہے جو کہ اس وقت کے ایرانی بادشاہ، شاہ عباس صفوی کے حکم پر آٹھ گوشوں پر مشتمل فیروزی رنگ سے آراستہ دو منزلوں پر مشتمل تعمیر کی گئی تھی، قدمگاہ کی جذابیت صرف مذہبی مقام ہونے کی وجہ سے ہی نہیں ہے، بلکہ اس کے آس پاس نہایت خوبصورت اور قابل دید طبیعی نظارے بھی موجود ہیں۔
قدمگاہ در اصل امام رضا علیہ السلام کے پتھر پرقدموں کے نشان کی ایک عظیم یاد گارہے، قدمگاہ میں 53 سینٹی میٹر سیاہ رنگ کا ایک پتھر موجود ہے جس میں دو قدموں کے نشانات پائے جاتےہیں اور لوگوں کا عقیدہ ہے کہ اس پتھر پر کھڑے ہوکرحضرت امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے نماز ادا کی تھی اورعاشقان امام نے قدموں کے نشان والے پتھرکو محفوظ کرلیا تھا۔ جبکہ بعض علماء کا کہنا ہے کہ عاشقان امام رضا علیہ السلام نے اسے ایک یادگار کے طور پر بنایا ہے۔
اس قدمگاہ کی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ یہاں ایک نہایت خوبصورت صاف شفاف پانی کا چشمہ بھی موجود ہے یہ چشمہ، امام رضا علیہ السلام کے حکم سے ہی جاری ہوا ہےجو امام ہشتم علیہ السلام کے معجزات اور کرامات میں سے ایک ہے۔یہاں کے خوبصورت پارک میں بیٹھ کر اپنے ساتھ لائی ہوئی مزیداربریانی سے لطف اندوز ہونے اور مسجد میں نماز پڑھنے کے بعد ہم نے چشمے کا پانی پیا اورقدم گاہ کی زیارت کی۔
قدمگاہ مولا امام رضا علیہ السلام، زائرین امام ہشتم ع کےعلاوہ عام سیاحوں کےلئے بھی نہایت پرکشش اور جاذب نظرمقام ہے، قدمگاہ کی جذابیت صرف مذہبی مقام ہونے کی وجہ سے ہی نہیں ہے، بلکہ اس کے آس پاس کے نہایت خوبصورت اور قابل دید طبیعی نظارے بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ قدمگاہ کے ساتھ ایک خوبصورت باغ بھی ہے جس میں انتہائی قدیمی بلند و بالا درخت موجود ہیں۔
ایرانی بادشاہ ناصرالدین شاہ قاجار کے دور میں قدمگاہ میں موجود باغ کی توسیع کی گئی اور 1971 کو باقاعدہ طور پر اسے ایرانی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دیا گیا۔
باغ کی خصوصی حفاظت کی جاتی ہے اس کی ایک وجہ اس میں موجود بعض دیگر صفوی دور کے تاریخی یادگاروں کا موجود ہونا بھی بتایا جاتا ہے۔
تاریخی اعتبار سے قدمگاہ کی عمارت کے ساتھ کچھ اور عمارتیں بھی تعمیر کی گئی تھیں ان میں سے ایک میں پانی ذخیرہ کیا جاتا تھا جبکہ ایک عمارت میں مسافروں کو جگہ دی جاتی تھی، جبکہ تیسری عمارت ایسی تھی کہ جس میں مویشی رکھے جاتے تھے۔
قدمگاہ کے نزدیک ہی ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جو خود تاریخی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے اور اس گاؤں میں ایک پرانے قلعے کے آثار پائے جاتے ہیں۔
قدمگاہ تاریخی اعتبارسے بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ جب امام رضا علیہ السلام مدینہ منورہ سے مرو کی طرف روانہ ہوئے تو اس وقت نیشابور ایران کے ایک پررونق اور آباد شہر کے طور پر پہچانا جاتا تھا، جب امام ہشتم نیشابور پہنچے تو لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے امام علیہ السلام کا استقبال کیا بعض روایات میں استقتبال کرنے والوں کی تعداد، ایک لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔
اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: جب امام رضا(ع)، نیشابور کے مقام پر پہنچے تو مُحدِّثین کا ایک گروہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: فرزند رسول ص ہمارے لئے کوئی حدیث بیان بیان فرمائیں، امام(ع) نے اپنا سر کجاوے سے باہر نکالا اور فرمایا: میں نے اپنے والد گرامی موسی بن جعفر(ع) سے؛ انہوں نے اپنے والد گرامی جعفر بن محمّد(ع) سے؛ انہوں نے اپنے والد گرامی محمّد بن علی(ع) سے؛ انہوں نے اپنے والد گرامی علی بن الحسین (علیہما السّلام) سے؛ انہوں نے اپنے والد گرامی حسین بن علی(ع) سے؛ انہوں نے اپنے والد گرامی امیرالمؤمنین علی بن أبی طالب(ع) سے؛ انہوں نے رسول خدا(ص) سے آپ(ص) نے جبرئیل سے سنا جبرئیل کہتے ہیں پروردگار عزّ و جلّ فرماتے ہیں: "اللَّه جَلَّ جَلَالُهُ یقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ حِصْنِی فَمَنْ دَخَلَ حِصْنِی أَمِنَ مِنْ عَذَابِی قَالَ فَلَمَّا مَرَّتِ الرَّاحِلَةُ نَادَانَا بِشُرُوطِهَا وَ أَنَا مِنْ شُرُوطِهَا.
(ترجمہ: اللہ تعالی نے فرمایا: کلمہ "لَا إِلَہ إِلَّا اللَّہ" میرا مظبوط قلعہ ہے، پس جو بھی میرے اس قلعہ میں داخل ہوگا وہ میرے عذاب سے محفوظ رہے گا، جب سواری چلنے لگی توامام رضا(ع) نے فرمایا: البتہ اس کی کچھ شرائط ہیں اور میں ان شرائط میں سے ایک ہوں۔
چونکہ اس حدیث شریف کے سارے راوی معصوم ہیں اس لئے اسے سلسلۃ الذہب کہا جاتا ہے، اور اس حدیث کو اس مقام پر ایک ساتھ بیس ہزار سے زائد افراد نے امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام سے بنفس نفیس سن کرقلم بند کیا ہے۔
قدمگاہ تاریخی اعتبار سے بھی نہایت اہمیت کی حامل ہے، اگرآپ خود نیشابور شہر سے قدمگاہ کی زیارت پر جانا چاہیں تو اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ شہر سے قدمگاہ کی طرف عام طور پر ٹیکسی سروس موجود ہے جو بہ آسانی دستیاب ہے۔ مشہد مقدس سے اگر آپ جانا چاہیں تو ریل گاڑی، بس اور ٹیکسی کے ذریعے بھی جا سکتے ہیں۔
قدم گاہ کی زیارت کے بعد ہم یہاں سے امام زادہ محروق کے مزار پر جانے کے لئے روانہ ہوئے ۔
سفرنامہ شگری سے ایک ورق ۔ ایران کا فرھنگی ٹور مئی 2023