قرآن، رحمان و رحیم اللہ کی عظیم کتاب ہے، اسے پڑھانا بھی اچھے طریقے سے چاہیے-
بچوں کو مار پیٹ کر، تشدد کرتے ہوئے قرآن پڑھانا قرآنی اخلاقیات کے منافی اور قرآن کی توہین ہے۔
کتابِ ہدایت کی تعلیم دینے والے معلم کا اخلاق، قرآنی اخلاقیات کے مطابق ہونا چاہیے۔
Bintul Huda Institute For Quranic Studies
Bintul Huda Institute of Quranic Studies is basically for Quranic thoughts.
دنیا میں سب سے زیادہ، بغیر سمجھے پڑھی جانے والی کتاب قرآن مجید ہے-
ماہ مبارک رمضان میں بعض لوگ تین بار مکمل قرآن کی تلاوت کرتے ہیں لیکن بلا سمجھے، کیونکہ وہ عربی پڑھ لیتے ہیں لیکن سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں-
ضرورت اس امر کی ہے کہ قرآن مجید کو سمجھا جائے- اس کے مطالب پر توجہ دی جائے، محض ریڈنگ یا سننے پر اکتفاء نہ کیا جائے- اس سے ہدایت حاصل کرنی چاہیے۔
قرآن کریم کے تحریف شدہ نہ ہونے پر اہل بیت (علیہم السلام) کی احادیث:-
کیا اہل بیت (علیہم السلام)، موجودہ قرآن کو خدا کی کتاب سمجھتے تھے؟
جواب :حضرت امیر المومنین (علیہ السلام) کے خطبوں اور آپ کے معصوم جانشینوں کی حدیثوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ حضرات ،موجودہ قرآن کو خدا کی کتاب سمجھتے تھے جوکہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر نازل ہوئی ہے اور اس میں نہ کسی چیز کا اضافہ ہوا ہے اور نہ اس میں سے کوئی چیز کم ہوئی ہے ۔ یہ حقیقت آپ کے کلمات سے واضح ہے ہم یہاں پر چند نمونے پیش کرتے ہیں :
۱۔ امیر المومنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں : خداوند عالم نے قرآن کریم کو تمہارے درمیان نازل فرمایا جس میں ہر چیز کی وضاحت ہے اور اس نے اپنے پیغمبر کر ایک مدت کیلئے تمہارے درمیان بھیجا تاکہ جو کچھ قرآن کریم میں نازل ہوا ہے اس کو تمہارے لئے بیان کریں اور تمہارے دین کو کامل کریں (۱) ۔
اس خطبہ میں یہ بات واضح ہے کہ دین اسلام ،خدا کی کتاب کے سایہ میں کامل ہوا ہے ۔ پس اگر قرآن کریم میں تحریف ہوئی ہے تو پھر اس کے ذریعہ دین کس طرح کامل ہوگیا ؟! امام (علیہ السلام) ، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی رحلت کے بعد لوگوں کو رغبت دلاتے ہیں کہ کامل دین سے تمسک کرو اور یہ قرآن کریم کا کمال ہے کہ جو دین کی سند اور اس کا مآخذ ہے ۔
۲۔ تمہارے درمیان خدا کی کتاب ہے جو بیان کرنے والی ہے اور قرآن کی زبان کبھی کند اور کمزورنہیں ہوگی اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی عترت ایسا خاندان ہے جس کی بنیاد کبھی ختم نہیں ہوگی اور ان کے پاس ایسی عزت ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگی(۲) ۔
۳۔ امام جواد (علیہ السلام) نے سعد الخیر (۳) کو جو خط لکھا ہے اس میں بیان ہوا ہے : انہوں نے قرآن کو چھوڑ دیا ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ انہوں نے قرآن کریم کے حروف کو یاد کرلیا ہے لیکن اس کی تعریف میں تحریف کردی ہے (۴) اس وضاحت سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کے الفاظ باقی ہیں اور اپنی زندگی میں اس کی تطبیق اور اجراء میں تحریف کرلی ہے (۵) ۔
۱۔ نہج البلاغہ، خطبہ ۸۶۔
۲۔ گذشتہ حوالہ، خطبہ ۱۳۳۔
۳۔ یہ عمر بن عبدالعزیز کے بیٹے ہیں جو امام جواد (علیہ السلام) کے پاس آکر رونے لگے ،کیونکہ وہ جانتے تھے کہ میرا شمار انہی لوگوں میں ہوتا ہے جس کو قرآن کریم نے شجرہ ملعونہ کے نام سے یاد کیا ہے ۔امام (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا : تم ان میں سے نہیں ہو، تم ہم میں سے ہو، کیا تم نے نہیں سنا کہ قرآن کریم نے فرمایا ہے : جو میری پیروی کرے گا وہ مجھ سے ہوگا؟ (قاموس الرجال: ج۵، ص ۳۵) ۔ اسی وجہ سے ان کو سعدالخیر کے نام سے پہچانا جاتا ہے ۔
۴۔ کافی ، ج ۸، ص ۵۳، حدیث ۱۶۔
۵۔ سیمای عقاید شیعہ، ص ۱۶۵۔
قرآن مجید، بنیادی طور پر سمجھنے اور عمل کرنے کی کتاب ہے۔
ہمارے ہاں اس کی محض قرائت اور وہ بھی عربی زبان میں رائج ہے، جس سے تلاوت کرنے والا، قرآنی الفاظ تو ادا کر لیتا ہے؛ لیکن معانی سے غافل رہتا ہے، یوں قرآن فہمی کی نوبت نہیں آتی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ قرآن مجید کو درست انداز میں سمجھ کر پڑھا جائے۔
(بنت الہُدیٰ ادارہ براے مطالعاتِ قرآن)
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Website
Address
Qom
37100