Agha Muhammad Abbas Hashmi

Agha Muhammad Abbas Hashmi

Share

We want to spread light of knowledge all over the world.

05/10/2022
Photos from Agha Muhammad Abbas Hashmi's post 18/09/2022
16/05/2022

کیا سپریم کورٹ ملک کو داخلی انتشار سے بچانے کیلئے از خود نوٹس لے گی؟!
عمران خان کے قتل کی سازش
محمد عباس ہاشمی۔ قم

قائداعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح نے یہ انکشاف کیا تھا کہ قائداعظم کی ایمبولینس کو بروقت ہسپتال نہیں پہنچنے دیا گیا اور دانستہ رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔ پھر وزیراعظم لیاقت علی خان کو مجمع عام میں گولی مار دی گئی۔ اس کے بعد پاکستان کو دو ٹکڑے کرنے کی سازش ہوئی۔ کچھ عرصے کے بعد محبوب عوامی لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت گرا کر انہیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ بعد میں بھٹو کو راستے سے ہٹانے والے جنرل ضیا بھی عبرت کا نشان بن گئے۔ اسی طرح بے نظیر بھی قتل ہو گئیں۔
یہ ہماری ستر سالہ تاریخ ہے کہ ملک میں اتنے بڑے بڑے سانحات اور حادثات ہوئے مگر کبھی ذمہ داروں کا تعین نہ ہوا اور خفیہ سازشی عناصر کی گھناؤنی وارداتوں کا تسلسل جاری رہا۔ کسی نے سیاستدانوں کو ذمہ دار کہا مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ خود سیاستدان ہی اکثر و بیشتر نشانہ بنے۔ بعض نے اسٹبلشمنٹ کو ذمہ دار ٹھہرایا تو جنرل ضیاء الحق آخر حاضر سروس آرمی چیف بھی تھے۔
یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کاروائیوں کے ماسٹر مائنڈ نہ سیاستدان ہیں اور نہ اسٹبلشمنٹ! بلکہ کوئی خفیہ تیسری قوت ہے جو نہ سیاستدانوں سے مخلص ہے اور نہ ہی اسٹبلشمنٹ سے اور وہ طاقت ملک کے اندر ایسا اثر و رسوخ رکھتی ہے کہ اس کے شر سے کوئی محفوظ نہیں ہے۔ بہرحال یہ بھی ناقابل تردید حقیقت ہے کہ خفیہ طاقت ظاہری آلہ کاروں کے ذریعے ہی اپنے اہداف کو پایہ تکمیل تک پہنچاتی ہے۔
جناب عمران خان صاحب نے کل کے جلسے میں انکشاف کیا کہ ان کو قتل کرنے کی سازش تیار کی جا چکی ہے اور پانچ چھ دن پہلے انہیں اس میں ملوث تمام کرداروں کے بارے میں خبر ہو چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے کسی بھی وقت قتل کیا جا سکتا ہے لیکن قوم کو باخبر کرنے کی خاطر میں نے ایک ویڈیو بیان ریکارڈ کر کے اپنی حکومت کی برطرفی اور قتل کی سازش کے ذمہ داروں کو بے نقاب کر دیا ہے۔
واضح سی بات ہے کہ یہ خوفناک انکشاف وہ شخص کر رہا ہے جو ملک کا سابق وزیراعظم ہے اور اس وقت بھی دو صوبوں میں ان کی حکومت قائم ہے۔ اس لیول کے آدمی کی اعلیٰ درجے کی انٹیلی جنس معلومات تک رسائی ہوتی ہے جبکہ ایجنسیاں بھی گزشتہ تین سالوں سے عمران خان کی جان کو درپیش خطرات کے حوالے سے خبردار کرتی رہی ہیں۔
کیا ملکی مفاد اور عوامی فلاح و بہبود کے نام پر رات بارہ بجے عدالت کے تالے کھلوانے والے جج صاحبان از خود نوٹس لے کر سابق وزیراعظم اور موجودہ مقبول ترین سیاسی رہنما کی فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانے کیلئے ضروری احکامات دیں گے تاکہ خدانخواستہ کسی ایسے بڑے سانحے کا سد باب کیا جائے جس سے ملک میں بدترین انارکی اور افراتفری پھیل جانے کا اندیشہ ہو جبکہ حکومتی بدنیتی یا مجرمانہ غفلت کا حال یہ ہے کہ پنجاب حکومت نے خان صاحب کی مجوزہ آئینی سیکورٹی بھی ہٹا دی ہے اور دوسری طرف عدالت سے سزا یافتہ اور نا اہل ہونے والی ایک خاتون کو ہر طرح کی سیکیورٹی فراہم کر دی ہے۔
الحمد للہ اصل دشمن کو پہچاننے کے بعد قوم متحد ہونے کے علاوہ پرعزم اور بیدار ہو چکی ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں سے پاکستانیوں نے دنیا کے سامنے یکجہتی اور ثابت قدمی کے ایسے مناظر پیش کیے ہیں کہ اپنے پرائے اسے ایک انقلاب سے تشبیہہ دے رہے ہیں۔ اگر پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں سازش اور مداخلت کرنے والے خفیہ ہاتھ بے نقاب ہو چکے ہیں اور قوم ان کے نام پکار رہی ہے، انہیں للکار رہی ہے اور ان کے خلاف یلغار کی تیاری کر رہی ہے تو یہی انقلاب ہے۔
دعا ہے کہ خداوند عالم پاکستانی عوام و خواص کو شیطان بزرگ کی غلامی اور محتاجی سے آزادی عطا فرمائے اور داخلی میر جعفروں اور میر صادقوں کا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے قلع قمع کر دے!
‏اتوار‏، 15‏ مئی‏، 2022

11/04/2022

امریکہ کا جو یار ہے ۔۔۔ غدار ہے غدار ہے
ایّاک نعبد وایّاک نستعین
محمد عباس ہاشمی۔ قم
آج مورخہ چار اپریل سنہ 2022ء کو بھی عمران خان صاحب ہی پاکستان کے وزیراعظم ہیں اور ان کی تقاریر کا آغاز ’’ایّاک نعبد وایاک نستعین‘‘ سے ہوتا ہے۔ پھر وہ اس کا فلسفی تجزیہ کرتے ہوئے قوم کو باور کروا رہے ہیں کہ جب ہم پانچ نمازوں میں دس مرتبہ اس کا اقرار کرتے ہیں تو پھر ہمیں اللہ کی عبادت کرنی چاہئے اور اسی سے ہی مدد مانگنی چاہئے۔ اگر ہم اللہ کو چھوڑ کر امریکہ کی غلامی کرتے ہیں تو یہ ’’ایّاک نعبد‘‘ کے منافی اور شرک ہے۔ اسی طرح اللہ کی مدد پر بھروسہ کرنے کی بجائے اگر ہم کسی سپرپاور کی مدد پر یقین رکھیں تو یہ بھی شرک ہے۔
پاکستان کی سیاست اس وقت ایک فیصلہ کن موڑ پر ہے۔ ایک طرف وہ لبرل اور مذہبی سیاستدان ہیں جو امریکہ کی سپرمیسی کے آگے سربسجود ہیں، خود کو بھکاری اور دل و جان سے امریکا کو اپنا رازق و داتا و مددگار تسلیم کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے لیاقت علی خان کے قتل کا امریکہ سے حساب نہیں لیا، جنہوں نے امت مسلمہ کو او۔آئی۔سی کے فورم پر جمع کرنے والے اور پاکستان کیلئے آزاد خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھنے والے ذوالفقارعلی بھٹو کے خلاف امریکی پے رول پر تحریک نظام مصطفیٰ چلا کر انہیں تختہ دار تک پہنچایا، جنہوں نے امریکہ کو دنیا کی واحد سپر پاور بنوانے کیلئے جہاد کا مقدس نام استعمال کر کے افغانستان میں امریکی مفادات کی جنگ لڑی پھر سپرپاور بننے کے بعد امریکہ نے انہیں بھی ہوا میں اڑا دیا اور جنہوں نے اللہ پر ایمان اور عوام پر اعتماد کرنے کی بجائے امریکی ڈالرز کو اپنا مشکل کشا سمجھتے ہوئے نائن الیون کے بعد پاکستان کو امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی بنایا اور ملکی معیشت کو 200 ارب ڈالرز کا نقصان پہنچانے کے علاوہ اسی ہزار ہم وطنوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کا سامان فراہم کیا۔
دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ برس جب قومی اسمبلی میں افغانستان کے حوالے سے امریکی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے ایک تاریخی اور اسٹریٹیجک نوعیت کا خطاب کیا تو اسی وقت سے امریکی تھنک ٹینکس نے یہ طے کر لیا تھا کہ اس شخص کو اقتدار سے نکال باہر کریں گے۔ عمران حکومت گرانے کا باقاعدہ حکم بقول سینئر جرنلسٹ ارشد شریف’’یونائیٹڈ اسٹیٹ سیکیورٹی کونسل‘‘ نے جاری کیا جس کا چئیرمین صدر جوبائیڈن ہے جبکہ وائس پریذڈنٹس میں سیکرٹری آف اسٹیٹ، سیکرٹری آف ڈیفنس، سیکرٹری آف انرجی، سیکرٹری آف ٹرژری، چئیرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف، ڈائریکٹر انٹرنیشنل انٹیلی جنس، ڈائریکٹر نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر، ڈپٹی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر، ہوم لینڈ سیکیورٹی، اٹارنی جنرل اور وائٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف شامل ہیں۔
اس کے بعد یو۔ایس انڈر سیکرٹری آف اسٹیٹ اور ان کے دیگر آفیشلز نے پاکستانی سفیر، ڈپٹی چیف آف پاکستان مشن، ڈیفنس اتاشی سمیت پاکستان ایمبیسی کے دیگر آفیشلز کو یو۔ایس سیکیورٹی کونسل کا فیصلہ سنایا اور دھمکی دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایک ’’ووٹ آف نو کانفیڈنس‘‘ آ رہی ہے کہ جسے گورنمنٹ کے تمام ادارے کامیاب بنائیں۔ اگر ایسا ہو گیا تو آپ کو معاف کیا جا سکتا ہے اور مستقبل میں تعلقات اچھے ہو جائیں گے لیکن اگر یہ ’’ووٹ آف نو کانفیڈینس‘‘ ناکام ہوتی ہے تو پاکستان پر بہت سخت وقت آنے والا ہے۔ وزیراعظم نے آفیشل کیبل لیٹر پاکستان کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سامنے رکھا جس نے اس خط اور اس کے مندرجات کی تصدیق کے بعد امریکی وزارت خارجہ کو اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان ایک آزاد ملک ہے اور اس طرح کی کسی بھی غیر ملکی سیاسی مداخلت کی ہرگز اجازت نہیں دے سکتا۔
کل قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان نے ایسا ماسٹر سٹروک کھیلا کہ بقول اعتزاز احسن گیند ہی گم ہو گئی۔ مبصرین کے مطابق امریکی تھنک ٹینکس ، ڈپلومیٹس اور ان کے آلہ کاروں کی کئی مہینوں پر محیط اربوں روپے کی لاگت سے مسلط کردہ یہ سازش قومی اسمبلی نے پانچ منٹ کی کاروائی سے ناکام بنا دی۔ رہبر معظم کے بارے میں امریکی تھنک ٹینکس اعتراف کرتے ہیں کہ ہم کئی ماہ سخت محنت کر کے ایران کے خلاف ایک سازش تیار کرتے ہیں مگر ایران کے سپریم لیڈر ایک تقریر کر کے اسے ناکام بنا دیتے ہیں۔ کچھ ایسی ہی بے مثال بصیرت پاکستانی پارلیمنٹ میں دیکھنے کو ملی جس سے پوری قوم کے اندر خوشی کی لہر دوڑ گئی اور ساڑھے تین برس سے دن رات شورو غل اور آہ و فغاں کرنے والی اپوزیشن پر یک لخت سوگ کی کیفیت طاری ہو گئی کہ جسے عمران خان کی پیش گوئی کے عین مطابق پوری قوم نے بھرپور انجوائے کیا۔
اپوزیشن نے آئین کی خلاف ورزی اور ایوان کا تقدس مجروح کرتے ہوئے ڈرامائی انداز میں اپنا غیر قانونی اجلاس جاری رکھا۔ ایاز صادق نے ضمیر فروشوں ، میر جعفروں اور میر صادقوں کو ایک غیر رسمی کاروائی کے دوران بے نقاب کر کے وزیراعظم کی یہ تشنہ تکمیل خواہش بھی پوری کر دی ۔ بجلی کی آنکھ مچولیوں کی وجہ سے مقدس ایوان شادی ہال کے مناظر پیش کرنے لگا جس کی وجہ سے بعض بکاؤ میڈیا ہاؤسز پر بیٹھے ہوئے لفافہ صحافی بھی سنسنی پھیلانےکی بجائے ہنسی مذاق پر مجبور ہو گئے ۔
عمران خان کی حکومت کو گرانے کے قصد سے آنے والے جعلی اسپیکر ایاز صادق کے ذریعے اس حکومت کو گرانے کے بعد دوبارہ بحال کروانے کی غرض سے ایک مرتبہ پھر عدالت عظمیٰ پہنچ گئے (واقعا جو امریکہ پر بھروسہ کرتا ہے، وہ در در کی ٹھوکریں ہی کھاتا ہے) مگر تھوڑی ہی دیر میں سپریم کورٹ نے اسپیکر کی رولنگ کے خلاف دائر عبوری اسٹے کی درخواست کو خارج کر دیا تاہم اس کے باوجود معاملہ فی الحال عدالت عظمیٰ میں ہے۔ زیادہ امید یہی ہے کہ سپریم کورٹ اسپیکر کی رولنگ کو برقرار رکھتے ہوئے درخواست نمٹا دے گی۔ مگر قوم یہ چاہتی ہے کہ سپریم کورٹ متعلقہ کیبل لیٹر کو عدالت میں پیش کرنے کا آڈر جاری کرے اور اپنے تئیں اس کی تصدیق کرنے کے بعد اس غیر ملکی سازش کا حصہ بننے والوں کے خلاف آئین و قانون کی روشنی میں ملک اور آئین سے غداری کے مقدمات چلا کر انہیں عبرتناک سزائیں دے تاکہ آئندہ کوئی بھی دین اور ضمیر فروش مادر وطن کے خلاف کسی قسم کی اندرونی یا بیرونی سازش کیلئے سہولت کار بننے کی جرات نہ کر سکے۔
اب سوشل میڈیا پر ایک سازشی تھیوری یہ بھی گردش کر رہی ہے کہ امریکہ نے فوج کی مدد سے عمران خان کی ناکامیاں چھپانے اور اسے دوبارہ پوری قوت سے ایوان اقتدار میں لا کر اپنے مقاصد کی تکمیل کروانے کیلئے یہ سارا ڈرامہ رچایا ہے۔ بادی النظر میں یہ رائے غیر منطقی اور حقائق سے دور ہے۔ پھر بقول سپریم کورٹ جب تک منحرف اراکین ووٹ نہ ڈال دیں گے تو ہم ان کو سزا کیسے دے دیں۔ لہٰذا ہمیں بھی چاہئے کہ عمران خان کے کسی ناکردہ یا احتمالی جرم کو بہانہ بنا کر قومی وحدت اور یکجہتی متاثر کرنے کی بجائے امریکی غلامی سے نکلنے کے اس سنہری موقع کو من حیث القوم ضائع نہ کریں اور قومیت، لسانیت، صوبائیت اور مذہب کی بندشوں سے آزاد ہو کر پاکستانیت کے پرچم تلے ایک متحدہ پاکستان کے تصور کو فروغ دیں، اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامیں اور ’’ایّاک نعبد وایّاک نستعین ‘‘ کا فلسفہ سمجھیں، اس پر دل و جان سے ایمان لائیں اور اس پر عمل درآمد کرتے ہوئے غیر ملکی مداخلت اور بیرونی آلہ کاروں کا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے وطن عزیز سے قلع قمع کر دیں۔ ان شاء اللہ

Photos from Agha Muhammad Abbas Hashmi's post 27/03/2022

وزیراعظم پاکستان کی جانب سے امر بالمعروف کی دعوت

20/12/2021

وزیراعظم پاکستان کی خدمت میں
یکساں نصاب تعلیم کے حوالے سے چند معروضات
محمد عباس ہاشمی۔ قم

1) وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان اردو زبان کو اہمیت دیتے ہیں تو قومی نصاب کے بارے میں معلومات اور تجاویز جمع کرنے والی ویب سائٹ میں انگریزی کے ساتھ اردو زبان بھی ہونی چاہئے تھی ؛ بلکہ ہمارا پورا نصاب تعلیم اردو میڈیم ہونا چاہئے ۔۔ ورنہ ہمارے ہاں شرح خواندگی کبھی اوپر نہیں جائے گی ۔۔ جاپان، کوریا، ایران، برطانیہ، امریکہ سب اپنی اپنی زبانوں میں تعلیم دے رہے ہیں ۔۔۔ مگر ہمارے ہاں آزادی ملنے کے بعد بھی انگریزوں کی محکوم قوم کی طرح انگریزی میں ہی تعلیم دی جا رہی ہے ۔۔۔ لہٰذا پاکستان کی تعلیمی اور دفتری زبان فی الفور اردو کو قرار دیا جائے۔
2) مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس نصاب تعلیم کی تیاری میں غیر ملکی این۔جی۔اوز کام کر رہی ہیں؛ ہم قومی نصاب کی تیاری میں ہر قسم کی غیر ملکی مداخلت کو مسترد کرتے ہیں ۔۔۔ اور ان کی شمولیت سے بننے والے نصاب کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔
3) غیر ملکی آزاد ماہرین تعلیم سے مشاورت میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔۔۔ جیسے ترقی یافتہ ممالک کا ’’ریسرچ بیسڈ نظام تعلیم‘‘ ہے ۔۔ آپ ’’رٹا سسٹم‘‘ کی بجائے اس کو نافذ کریں ۔۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں ۔۔۔ کلرک اور نوکر شاہی پیدا کرنے والے نصاب تعلیم کا ’’برٹش بیوروکریسی سسٹم‘‘ سمیت خاتمہ کریں ۔۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں ۔۔۔ مغرب پرست اور حب الوطنی سے عاری پڑھے لکھے بابو پیدا کرنے کی بجائے سائنسدان، ریاضی دان اور فزکس دان پروان چڑھانے والا نصاب بنائیں ہم آپ کے ساتھ ہیں ۔۔۔ لیکن اگر پاکستانی قوم میں سے امریکی اور استعماری غلام اور سائنس و فزکس کے نام پر ملحد پیدا کرنے والا نصاب تعلیم لائیں گے تو ہم اسے سختی سے ردکرتے ہیں۔۔۔!
4) یکساں اسلامیات اگر نافذ کرنی ہے تو اصول عقائد جن پر تمام مذاہب کا اتفاق ہے ان کی تدریس ضرور کیجئے؛ باقی فقہی مسائل بھی اگر آپ نصاب میں شامل کریں تو اعتراض نہیں ہے ۔۔ مگر اس میں حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی اور فقہ جعفری سب کا تقابلی مطالعہ پڑھایا جائے* ۔۔۔ تاکہ بچے ایک دوسرے کے فقہی اصول و ضوابط سے آشنائی حاصل کریں ۔۔۔ انہیں اختلاف رائے یا علمی اختلاف کی اچھی تعبیر و تشریح سمجھائی جائے ۔۔۔ تاکہ وہ شدت پسند اور متعصب نہ بنیں ۔۔۔ پاکستانی عوام میں سے نوے فیصد آبادی بشمول شیعہ ، بریلوی ، دیوبندی اور صوفیا توسل، شفاعت، اولیاء کرام کی کرامات وغیرہ پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں ۔۔ ان پر سعودی اثر و رسوخ کے تحت متنازعہ وہابی اقلیت کا عقیدہ مسلط کرنے کی مزید کوشش نہ کی جائے (جیسا کہ ماضی میں سالہا سال سے ہوتا آ رہا ہے اور ستم بالائے ستم یہ کہ اب تو ان کے دین فروش ، شراب نوش مفتی فحاشی و عریانی کے کنسرٹس کے خلاف امر بالمعروف کرنے کو بھی اسلام کے خلاف سازش کہنا شروع ہو گئے ہیں)۔۔۔ بلکہ وہابیت تو اب ویسے ہی سیکولر روپ میں سامنے آ رہی ہے ۔۔۔ اس غیر ملکی فنڈڈ مذہب کے نام نہاد اسکالرز کی نصاب تعلیم پر اجارہ داری ختم کی جائے ۔۔۔ اور شیعہ، بریلوی اور دیوبندی حقیقی علما (نہ کہ درباری علما) سے متفقہ طور پر اسلامیات کو باقاعدہ منظور کروانے کے بعد اسے نافذ کیا جائے بصورت دیگر ایسی متنازعہ اسلامیات سے شدت پسندی کو مزید فروغ ملے گا اور ملک کا امن و امان متاثر ہو گا اور شاید یہی غیر ملکی آقاؤں کی خواہش ہے مگر علمائے کرام اور فرزندان توحید دشمن کی اس سازش کو حتمی طور پر ناکام بنائیں گے۔
5) اسلام کے نام پر محبت کا پیغام دیا جائے ۔۔۔ کسی بھی مسلمان فرقے کے خلاف تکفیر، نفرت اور تعصب پر مبنی مطالب کو شامل نصاب کرنے سے گریز کیا جائے۔
6) آئمہ اہل بیت علیھم السلام پوری امت مسلمہ کا مشترکہ اثاثہ ہیں؛ ان سے مودت و محبت قرآن کی رو سے اجر رسالت اور ان کی تعلیمات سے آشنائی ہر مسلمان کی ضرورت ہے اور اس کے بغیر کسی بھی کلمہ گو کا ایمان مکمل نہیں ہے؛ شیعہ و حنفی اکثریت کے علاوہ بریلوی اور صوفیائے کرام کے متعدد سلسلوں کی تعلیمات کے مطابق امام علی ؑ سے لے کر امام مہدی ؑ تک اہل بیت کے آئمہ علیھم السلام امت کے امام اور ولیوں کے ولی ہیں ۔۔ لہٰذا ان ذوات مقدسہ کا تعارف شاملِ نصاب کیا جائے۔۔۔ اور نبی و اہل بیت ؑ کے متفقہ دشمنوں سے برائت اور ان کی اعلانیہ مذمت اگر کچھ لوگوں پر گراں گزرتی ہے تو کم از کم نصاب کو ان کی ہر قسم کی مدح و تعریف سے پاک کیا جائے کیونکہ یہ پاکستان کے نوے فیصد مسلمانوں بلکہ ہر اہل ایمان و یقین و تسلیم کے دل پر بہت گراں ہے کہ نبی ؐ و آل نبی کے کسی علنی و عملی دشمن کی جعلی مدح و ثنا پڑھے، پڑھائے یا اس کو لکھ کر امتحانی نمبر کمائے!
7) شیعہ سنی سمیت ہر مسلمان کا عقیدہ ہے کہ آخری زمانے میں امام مہدیؑ تشریف لائیں گے، وہ حضرت فاطمہ زہرا ؑ کی نسلِ پاک سے ہوں گے، زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہو گی؛ آج پوری امت امام مہدیؑ کے ظہور کی منتظر ہے، بقول علامہ اقبالؒ:
دنیا کو ہے اس مہدی برحق کی ضرورت

ہو جس کی نگاہ زلزلہ عالم افکار

لہٰذا مہدویت کے عقیدے کو اسلامیات کے نصاب میں نمایاں جگہ دی جائے؛ کیونکہ صدر اسلام کے تاریخی واقعات میں قیل و قال موجود ہے، مگر عقیدہ مہدویت پر ایمان پوری امت مسلمہ کو ایک جگہ جمع کر دیتا ہے اور تمام مسالک کو ایک پرچم تلے جمع کر دیتا ہے لہٰذا قومی و مذہبی ہم آہنگی پیدا کرنے کے حوالے سے یہ اقدام انتہائی ناگزیز ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ وطن عزیز کو دشمن قوتوں کی ثقافتی، معاشی اور تعلیمی بالا دستی سے نجات دے، ہماری حکومت کو اس کی آئندہ نسلوں کی دنیوی ترقی ، روحانی پاکیزگی اور اخروی نجات کا ضامن نصاب تعلیم مرتب کرنے کی توفیق عنایت فرمائے!

12/11/2021

الحمد للہ، ایک اور ترجمہ آستان قدس رضوی مشھد کی جانب سے شائع کیا گیا

Want your school to be the top-listed School/college in Qom?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Qom

Address


قم پردیسان
Qom