Alhuda Quranic Institute

Alhuda Quranic Institute Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Alhuda Quranic Institute, Education, Mashhad.

25/06/2025

Al Masooma Online Classes proudly presents
Personalized Persian Language Classes
Under 15 boys are allowed, and girls of any age are welcome.
Unlock the beauty of the Persian language from the comfort of your home!
Classes available on Zoom, Google Meet, and WhatsApp
Tailored schedule & flexible class timings
Learn from experienced tutors in an engaging & supportive environment
Contact Us Today:
+92 323 1588978
Limited slots — Book now to begin your learning journey!

------------------------------------------------------------

05/05/2021

*سورہ النساء ، آیت 92*

*موضوع؛ قتل کا کفارہ*

*وما کان مُؤْمِنًا خَطَئًا فَتَحْرِیرُ رَقَبَهٍ مُّؤْمِنَهٍ وَدِیَهٌ مُّسَلَّمَهٌ إِلَى أَهْلِهِ إِلاَّ أَن یَصَّدَّقُواْ فَإِن کَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّکُمْ وَهُوَ مْؤْمِنٌ فَتَحْرِیرُ رَقَبَهٍ مُّؤْمِنَهٍ وَإِن کَانَ مِن قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَهُمْ مِّیثَاقٌ فَدِیَهٌ مُّسَلَّمَهٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِیرُ رَقَبَهٍ مُّؤْمِنَهً فَمَن لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ تَوْبَهً مِّنَ اللّهِ وَکَانَ اللّهُ عَلِیمًا حَکِیمًا.*
ترجمہ
اور مسلمانوں کا یہ کام نہیں کہ کسی مسلمان کو قتل کرے مگر غلطی سے، اور جو مسلمان کو غلطی سے قتل کرے تو ایک مسلمان کی گردن آزاد کرے اور مقتول کے وارثوں کو خون بہا دے مگر یہ کہ وہ خون بہا معاف کر دیں، پھر اگر وہ مسلمان مقتول کسی ایسی قوم میں تھا جس سے تمہاری دشمنی ہے تو ایک مومن غلام آزاد کرنا ہے، اور اگر وہ مقتول مسلمان کسی ایسی قوم میں سے تھا جس سے تمہارا معاہدہ ہے تو اس کے وارثوں کو خون بہا دیا جائے گا اور ایک مومن غلام کو آزاد کرنا ہوگا، پھر جو غلام نہ پائے وہ لگاتار دو مہینے کے روزے رکھے اللہ سے گناہ بخشوانے کے لیے، اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔

*تفسیر؛
اسلام میں قتل کی تین قسمیں ہیں
1.قتل عمدی(جہاں انسان کسی کو جان بوجھ کر قتل کرے)
اس قتل کی سزا آخرت میں جہنم اور دنیا میں قصاص یا دیت ہے اور دیت کی مقدار تقریبا 3-1/2 کلو سونا ہے جو مقتول کے ورثا کو دیا جائے گا.

2.شبہ عمد( جہاں مارنے کا ارادہ ہوتا ہے لیکن قتل کرنے کا ارادہ نہیں ہوتا ہے) اس قسم میں دیت ہے قصاص کا حق نہیں ہے اور دیت خود قاتل کو دینا پڑتی ہے.

3.قتل خطا(جہاں مقتول کا تصور ہی نہیں ہوتا اور اچانک وہ زد میں آجاتا ہے) جیسے تیع لگارہا تھا کسی جانور کو شکار کرنے کے لیے اور اتفاقا اس کی زد میں کوئی آدمی آگیا اور وہ قتل ہوگیا. اس میں چونکہ ایک حق اللہ ہے اور ایک حق الناس یعنی اللہ کا حکم ہے کہ کسی آدمی کو قتل نہ کیا جائے،یہاں اس کے ہاتھ سے ایک آدمی قتل ہو گیا. یہ اور بات ہےکہ جان کر اس کو قتل. نہیں کیا مگر عموما کوئی نہ. کوئی کم توجہی ہوتی ہے جس سے ایسی اتفاقی صورت پیش آتی ہے اس لاپرواہی کے لیے کفارہ ہے کہ ایک بندہ مسلم یعنی غلام یا کنیز کو آزاد کرنا اور حق الناس یعنی وارث کو جو صدمہ پہنچا ہےاس کے لیے دیت یعنی خون بہا ہے اور چونکہ یہ ان کا حق ہے تو جب معاف کردیں یہ ساقط ہو جائے گا لیکن کفارہ غلام آزاد کرنے والا اپنی جگہ پر ہی قائم رہے گا.
اب اگر وہ شخص جس کو قتل کیا گیا ہے اس کے عزیز و اقارب سب کافر ہیں اور وہ بھی ایسے کہ مسلمانوں کے ساتھ ناہی کو ئی جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہے تو ایسی صورت میں یہ حق الناس ساقط ہے یعنی دیت نہیں دینا ہو گی البتہ کفارہ اپنی جگہ باقی رہے گا.
اور اگر وہ قوم کافر سے ہے اور جنگی معاہدہ ہوا ہے کہ جنگ نہیں ہوگی تو اس کے وہی حقوق ہیں جو مسلمانوں کے ہیں لہذا پھر دونوں باتیں ہوں گی کفارہ بھی اور دیت بھی. اور اگر کفارہ نہ دے سکے تو دو مہینے کے روزے رکھے اس کفارہ کی وجہ سے اللہ کی طرف سے معافی ہو گی جسے *توبۃ من اللہ* کے لفظوں سے ظاہر کیا گیا ہے مگر دیت بہر حال دینا ہوگی یا وارثوں سے معاف کروانا ہوگا اگر نہیں دے سکتا تب بھی وہ ایک قرضہ ہے جو اس کے ذمے ہے دیت ان روزوں کی وجہ سے ساقط نہیں ہوگی.
منابع
(تفسیر صافی، تفسیر فصل الخطاب، نور القرآن)

04/05/2021

_**شب قدر مخفی کیوں رکھی گئی* ؟_

بہت سے علماء کا نظر یہ یہ ہے کہ سال بھر کی راتوں یا ماہ مبارک رمضان کی راتوں میں شب قدر کا مخفی ہونا اس بناء پر ہے کہ لوگ ان سب راتوں کو اہمیت دیں ۔ جیسا کہ خدا نے اپنی رضا و خوشنودی کی مختلف قسم کی عبادتوں میں پنہاں کررکھا ہے تاکہ لوگ سب عبادتوں اور اطاعتوں کی طرف رخ کریں ۔ او ر اپنے غضب کو معاصی کے درمیان پنہاں رکھا ہے ، تاکہ سب لوگ گناہوں سے پر ہیز کریں ، اپنے دوستوں کو لوگوں سے مخفی رکھا ہے تاکہ سب کا احترام کریں، اور دعاوٴں کی قبولیت کو مختلف دعاوٴں میں پنہاں رکھا ہے تاکہ دعاوٴں کی طرف رخ کریں ۔
اسم اعظم کو اپنے اسماء میں مخفی رکھا ہے تاکہ تمام اسماء کو بزرگ و عظیم سمجھیں ۔ اور موت کے وقت کو مخفی رکھا ہے تاکہ ہر حالت میں آمادہ وتیار رہیں۔ اور یہ فلسفہ مناسب نظر آتا ہے ۔

03/05/2021

*موضوع؛ قسم کا کفارہ*
(سورہ مائدہ 89)

*لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّـٰهُ بِاللَّغْوِ فِىٓ اَيْمَانِكُمْ وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّـمُ الْاَيْمَانَ ۖ فَكَـفَّارَتُهٝٓ اِطْعَامُ عَشَـرَةِ مَسَاكِيْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِيْكُمْ اَوْ كِسْوَتُـهُـمْ اَوْ تَحْرِيْرُ رَقَـبَةٍ ۖ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ اَيَّامٍ ۚ ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَيْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُـمْ ۚ وَاحْفَظُوٓا اَيْمَانَكُمْ ۚ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّـٰهُ لَكُمْ اٰيَاتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَشْكُـرُوْنَ.
*
*ترجمہ*
اللہ تمہیں تمہاری فضول قسموں پر نہیں پکڑتا لیکن ان قسموں پر پکڑتا ہے جن پر تم اپنے آپ کو پابند کرو، سو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو اوسط درجہ کا کھانا دینا ہے (ایسا کھانا) جو تم اپنے گھر والوں کو دیتے ہو یا دس مسکینوں کو کپڑا پہنانا یا گردن (غلام) آزاد کرنا، پھر جو شخص یہ نہ کر پائے تو پھر تین دن کے روزے رکھنے ہیں، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھاؤ، اور اپنی قسموں کی حفاظت کیا کرو، اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنے حکم بیان کرتا ہے تاکہ تم شکر کرو۔
*تفسیر؛*
قسم کا حکم اور اسکا کفارہ
اگر بلا ارادہ قسم کھائی جائے یا بلاارادہ زبان سے کوئی لفظ نکل جائے تو اس پر کفارہ نہیں ہے کیونکہ قسم میں قصد و ارادہ شرط ہے. البتہ کسی امر میں پختہ قصد کے ساتھ قسم کھائی جائے تو اسے توڑنے کی صورت میں کفارہ لازم ہے.
( آقای محسن نجفی)
*کفارۃ*
کفارہ اسکو کہتے ہیں جو گناہ کو دور کرے اور اسے چھپا دے چنانچہ قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو اوسط درجہ کھانا کھلایا جائے یا کپڑا پہنائیں یا زیادہ میسر ہو تو ایک غلام آزاد کیا جائے ، اگر ان میں سے کچھ نہ ہو سکے تو تین دن کے روزے رکھے جائیں. چنانچہ کافی میں امام *جعفر صادق ع* سے منقول ہے کہ اوسط درجہ سے مراد یہ ہے کہ روغن زیتون یا سرکہ سے روٹی کھلائی جائے اور اعلی یہ ہے کہ گوشت روٹی اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ 10 مسکینوں میں سے ہر ایک کو ایک مد 750 گرام گندم دے دی جائے اور اگر کپڑے دئیے جائیں تو ہر ایک کو دو کپڑے دئیے جائیں.
(تفسیر صافی، ص؛ 541)
امام جعفر صادق علیہ السلام سے ہی منقول ہے کہ قسم کے روزوں کے درمیان فاصل نہیں ڈال سکتے ہیں (تفسیر صافی، ص؛ 641)

30/04/2021

**(سورہ توبہ، آیت112)
اللہ کے ساتھ سودا کرنے والے مجاہدین دین پر جان نثار کردیتے ہیں*

__التَّائِبُونَ الْعَابِدُونَ الْحَامِدُونَ السَّائِحُونَ الرَّ‌اکِعُونَ السَّاجِدُونَ الْآمِرُ‌ونَ بِالْمَعْرُ‌وفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنکَرِ‌ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللَّـهِ ۗ وَبَشِّرِ‌ الْمُؤْمِنِینَ.__*
ترجمہ؛
یہ لوگ توبہ کرنے والے، عبادات کرنے والے، حمد و ثناء کرنے والے، راہ خدا میں سفر کرنے والے، رکوع و سجود کرنے والے، نیکی کی دعوت دینے والےاور برائی سے روکنے والے اور حدود اللہ کی حفاظت کرنے والے اور( اے نبی ص) مومنین کو خوشخبری سنا دیجیے.
*تفسیر* ؛
آیت نمبر 111 میں جا مبارک سودے اور خریداری کا شرف جن مومنین کو حاصل ہوا ہے وہ تو صرف زبانی دعووں کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اسی آیت نمبر 112 میں مذکور صفات کی بنیاد پر تعمیر اور ارتقائے معاشرہ کے داعی بن جاتے ہیں اسلام چون کہ انسان ساز اور حیات بخش عقائد اور اعمال و اقدار کا حامل دین ہے، اللہ کے ساتھ جان اور مال کا معاملہ کرنے والے حیات آفرین دستور حیات کی حفاظت کرنے میں جہاد سے کام. لیتے ہیں اور اپنی جان کی پرواہ نہیں کرتے اور وہ اس عظیم کامیابی پر خوشی مناتے ہیں. *(شیخ محسن نجفی)*
السائحون کا جو ترجمہ کیا کیا ہے (روزوں میں عمر بسر کرنے والے) یہ بڑے معتبر مفسر کے قول کے مطابق ہے جس کی تائید می‍ں حدیث رسول اللہ ص کی موجود ہےورنہ لغت کی مدد اے اس کا اگر ترجمہ کیا جائے تو معنی ہوں گے رواں دواں پھرنے والے(تبیان) اس کے ساتھ قید لگانے کی ضرورت ہے کہ خدمت دین میں یا راہ خدا میں کیونکہ ظاہر ہے کہ بجائے خود رواں دواں پھرنے والے کوئی صفت مدح نہیں ہے..
*خلاصہ* ؛
پس جو آیات میں صفات بیان کی گئی ہیں یہ ایک جہادی کے لیے مھم ہے جنمیں کلمہ *السائحون* ( یعنی روزوں میں عمر بسر کرنے والے ) استعمال ہوا ہے یعنی روزہ راہ خدا میں پاکیزگی نفس کا سبب بنتا ہے.

24/04/2021

```سورہ بقرہ 185```
*دوسرا حصہ*
موضوع: قرآن کا نزول
ماہ رمضان قرآن کے نازل ہونے کا مہینہ ہے. رمضان وہ واحد مہینہ ہے جس کا نام قرآن میں آیا ہے. اور شب قدر بھی اسی مہینہ میں ہے.
آیت میں ہے *الذی انزل فیہ القرآن ھدی للناس و بینت من الھدی و الفرقان..... من ایام اخر*
قرآن رمضان میں نازل ہوا جبکہ عملا اگر دیکھا جائے تو قرآن 23 سالوں میں تدریجا یعنی مرحلہ بہ مرحلہ کم کم نازل ہوا لہذا معلوم ہوتا ہے کہ یہ عالم بالا کی کوئی تنزیل کا جسکی نوعیت کاذکر نہیں کیا گیا.
اس ماہ میں قرآن کو اتار کر اس ماہ کی فضیلیت اور انسانوں کی فضیلت کو بیان کیا ہے جو انسانوں کے لیے ھدایت ہے. اور حق و باطل. میں فرق کرنے والا ہے.
جو بھی اس ماہ مبارک کو درک کرتا ہے یا پاتا ہے بحالت بلوغ عقل اور بغیر سفر اور مریضی کے اس پر واجب ہے کہ اس ماہ کے تمام روزہ رکھے.
اور جو بیمار ہیں یا سفر میں بعد میں قضا کریں.

24/04/2021

~~```_سورہ بقرہ 185_~```~
*ماہ رمضان کے دنوں کا معین ہونا*

*رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ۖ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۗ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ*

*ترجمہ*
رمضان کا وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کے واسطے ہدایت ہے اور ہدایت کی روشن دلیلیں اور حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے، سو جو کوئی تم میں سے اس مہینے کو پا لے تو اس کے روزے رکھے، اور جو کوئی بیمار یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں سے گنتی پوری کرے، اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر تنگی نہیں چاہتا، اور تاکہ تم گنتی پوری کرلو اور تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور تاکہ تم شکر کرو۔

تفسیر
*شھر رمضان* ؛پچھلی آیت ( بقرہ 184) میں ایاما معدودات کہا گیا تھا یعنی خاص ایام اس کے بعد والی آیت بتا رہی ہے کہ ان خاص دنوں سے مراد( شھر رمضان) رمضان کا مہینہ ہے جس کے روزہ واجب کئے گئے ہیں.
اگر کہا جاتا فی شھر رمضان یعنی رمضان میں روزے اس سے مراد ان خاص ایام میں چند روزے واجب ہیں پورے ماہ کے نہیں پس اسی لیے آیت میں شھر رمضان کہا گیا یعنی پورے ماہ کے روزے رکھو.

23/04/2021

*روزہ کا لفظ قرآن میں کتنی بار آیا ہے؟*
1.کلمہ روزہ قرآن میں 8 سورتیں اور 13 آیات میں آیا ہے ( جنمیں سے 7 سورتیں مدنی اور ایک سورت مکی ہے)
اور 17 مرتبہ (صوم) کے مشتقات( کلمہ صوم سے نکالے گیے کلمات) سے استفادہ کیا گیا ہے.
الصیام 3مرتبہ
صیام 1مرتبہ
فصیام 4 مرتبہ
صیاما 1 مرتبہ
صوما 1 مرتبہ
تصوموا 1 مرتبہ
الصائمین 1 مرتبہ
الصائمات 1 مرتبہ
فلیصمه 1 مرتبہ
السائحون 1 مرتبہ ( اسکا مطلب بھی صیام یعنی روزہ ہے)
السائحات 1 مرتبہ
اور ایاما معدودات ( ان خاص دنوں سے مراد ماہ رمضان ہے اس سے پہلی اور بعد آیات ایاما معدودات کی تفسیر کرتے ہین)

23/04/2021

**کیوں روزے کے مہینے کو رمضان کہا جاتا ہے؟*

مرحوم شیخ طبرسی تفسیر *مجمع البیان* میں روزوں کے مہینے کے نام رکھنے کے بارے میں فرماتے ہیں؛
1. ایک قول کے مطابق عرب لوگوں کی عادت تھی کہ مہینوں کے نام و اسکے زمانے اور اس کی خصوصیات کے حساب سے رکھتے تھے کیونکہ روزہ کا مہینہ گرمیوں کا ہوتا ہے اور گرمی کی تپش شدید ہوتی ہے اسلئے اس ماہ کا نام رمضان(یعنی جلانے والا) رکھا گیا.

2.دوسرے قول کے مطابق بعض کا کہنا ہے کہ کلمہ *رمضان* خدا کہ ناموں میں سے ایک نام ہے کیونکہ یہ مہینہ فضیلتوں کا حامل ہے اس لیے اسکو رمضان کہا جاتا ہے.(صحیفہ سجادیہ/شرح دعا 44)

3. تیسرے قول کہ مطابق بعض کہتے ہیں کیونکہ یہ مہینہ گناہوں کو جلا دیتا ہے(صحیفہ سجادیہ/شرح دعا 44) اور (رمض) کے معنی جلانے کے ہیں اس لیے اسکو رمضان کہا جاتا ہے. (مجمع البیان، ج2، ص207)

23/04/2021

*آیت کا بقیہ حصہ* سورہ بقرہ 184
*ان تصوموا خیرلکم و ان کنتم تعلمون*
یعنی روزہ رکھنے میں خود تمہاری بہتری ہے اور اس بہتری کو ہمارے علم. کیساتھ مربوط فرمایا ہے.
کل کی نسبت آج کا انسان روزے کے طبی و اخلاقی اور نفسیاتی فواید کو بہتر سمجھ سکتا ہے.

23/04/2021

آیت کا دوسرا حصہ*سورہ بقرہ 184
*فمن کان مریضا و علی سفر*
جہاں ہم بات کررہے تھے عذر کی مریضی کی ....
یہ عذر دوطرح کا ہے
١.ایک عذر بیماری اور سفر ہے جس میں روزہ مضر ہے.( اس صورت میں روزہ کا ترک کرنا لازم ہے اور بعد میں اس کی قضا کرنی ہوگی)
٢.دوسرا عذر نہ بیماری ہے اور نہ ہی سفر ہے مگر کسی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتا یعنی روزہ رکھنے میں غیر معمولی ( عادت سے ہٹ کر) مشقت کا سامنا ہے اس صورت میں أحاديث میں بیان ہوا ہے کہ روزہ بہت شاق بن گیا ہو ( مشکل بن گیا ہو) یا حاملہ یا بچہ کو دودھ پلانے والی عورت یا کوئی ایسا شخص جسکو پیاس کا عارضہ ہو تو اس صورت میں اختیار ہے کہ وہ اس مشقت کو برداشت کرے اور روزہ رکھے یا روزہ نہ رکھے اور فدیہ دے دے جس کی مقدار بتایی گئی ہے *(فدیة طعام مسکین)* ایک مسکین کو کھانا کھلانے کی مقدار ہے. اور اس مقدارچکے معین ہونے میں شیعہ اور سنی دونوں کے یہاں ایک مد گہیوں(گندم) کے ساتھ ہوئی ہے اور آیت میں ہے کہ اگر اس سے زیادہ دے دیں تو زیادہ بھتر ہے اس صورت میں قضا نہیں ہے.
پس یہ سارے حکم صاحب عذر ( عذر رکھنے والا) کے ہیں بغیر عذر کے کوئی روزہ نہیں چھوڑ سکتا.

Address

Mashhad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Alhuda Quranic Institute posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category