تعلیماتِ اہلبیتؑ

تعلیماتِ اہلبیتؑ Its All About Invisible Islam 🇺🇲🇵🇰
invisibleislam.com
invisibleislaam.com

24/09/2026

۔

ؑ #اہلبیت Sadia #اَلّٰلھُمَّ_لْعَنْ_قَتَلَۃَ_اَلحُسَیِنَؑ_وَ_اُولاَدِ_اَلحُسَیِنَؑ_وَ_اَصحَابِ_الحُسینؑ

22/09/2026

10 ربیع الثانی وفات حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا دختر امام موسی کاظم علیہ السلام ، مومنین و مومنات کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں

22/09/2026

10 ربیع الثانی: یوم وفات فاطمہ معصومہ قم ع

قال الإمام الرضا (عليه السلام)
امام رضا (علیہ السلام) نے فرمایا:

📜ْ مَنْ زَارَهَا عَارِفاً بِحَقِّهَا فَلَهُ الْجَنَّة
📃 "جو شخص اسے اس کے حق کو پہچانتے ہوئے زیارت کرے گا، اس کے لیے جنت ہے۔"

📚بحار الأنوار، جلد 48، صفحہ 317


ؑ

🔥 محمد بن عبدالوهاب 🔥پوسٹ نمبر  3⃣ ▪️ محمد بن عبدالوهاب، اہلِ سنت کے ایک عالم کی تصریح کے مطابق مشرق و مغرب کے لوگوں کی ...
21/09/2026

🔥 محمد بن عبدالوهاب 🔥

پوسٹ نمبر 3⃣

▪️ محمد بن عبدالوهاب، اہلِ سنت کے ایک عالم کی تصریح کے مطابق مشرق و مغرب کے لوگوں کی گمر/اہی کے عوامل میں سے

⭕ مشہور عالم شیخ محمد نعیم الدین مرادآبادی اپنی کتاب التحقیقات لدفع التلبیسات میں لوگوں کی گمر/اہی کے اسباب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

📜 لوگ مشرق و مغرب میں صحیح عقیدے پر قائم تھے، یہاں تک کہ عرب کے علاقے نجد سے ایک شخص، محمد بن عبدالوهاب، ظاہر ہوا، جو اپنی واضح گمر/اہی کے سبب عذاب کا مستحق ہے۔

پس اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ خوا/رج اور ملحد/ین میں سے تھا، جیسا کہ امام، علامہ اور خاتمۃ المحققین محمد امین، جو ابن عابدین کے نام سے مشہور ہیں، نے اپنی کتاب رد المحتار علی الدر المختار کے حاشیے میں بابِ بغاة کے ضمن میں بیان کیا ہے۔

جیسا کہ ہمارے زمانے میں ابن عبدالوهاب کے پیروکاروں کا معاملہ ہے، جو نجد سے نکلے اور حرمین شریفین پر غلبہ حاصل کرلیا۔ وہ اپنے آپ کو مذہبِ حنبلی کی طرف منسوب کرتے تھے، لیکن ان کا عقیدہ یہ تھا کہ صرف وہی مسلمان ہیں اور جو ان کے عقیدے کی مخالفت کرے وہ مشر/ک ہے۔ اسی عقیدے کی بنا پر انہوں نے اہلِ سنت اور ان کے علماء کو قتل کرنا جائز قرار دیا۔

📚 شیخ محمد نعیم الدین مرادآبادی، التحقیقات لدفع التلبیسات، ص 2

یہ عالمِ اہلِ سنت بھی تصریح کرتے ہیں کہ محمد بن عبدالوهاب خوا/رج اور ملحد/ین میں سے ہے۔

پھر رسول ﷺ کی ایک حدیث نقل کرتا ہے کہ

▪️ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

📜 الخوارج كلاب أهل النار

📃 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’خوارج جہنم والوں کے کتے ہیں۔‘‘

⭕ شیخ یوسف نبهانی (مخالفین کے علماء میں سے) محمد بن عبدالوهاب کے اساتذہ کی طرف سے اس کے انحرافات کی نشاندہی کرنے والے ایک خط کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں:

📜 خلاصہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے اس کے رد میں توجہ دی، وہ مشرق و مغرب سے ایسے بے شمار افراد ہیں جو چاروں مذاہب کے علماء میں سے ہیں۔ انہوں نے اس کے رد میں مفصل اور مختصر کتابیں لکھیں۔ بعض علماء نے امام احمد بن حنبل کے مذہب کی صریح نصوص کی بنیاد پر بھی اس کے رد میں لکھا، تاکہ اس پر واضح کریں کہ وہ امام احمد رضی اللہ عنہ کے مذہب کی طرف اپنی نسبت میں جھو/ٹا اور ملمّع ساز ہے۔

📚 شواهد الحق في الاستغاثة بسيد الخلق، ص 131

جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا، یہ سنی عالم نہ صرف محمد بن عبدالوهاب کو حنبلی مذہب کا پیروکار نہیں سمجھتے، بلکہ کہتے ہیں کہ بعض علماء نے امام احمد کے مذہب کی نصوص کی بنیاد پر محمد بن عبدالوهاب کے رد میں لکھا اور کہا کہ وہ امام احمد کے مذہب کا لبادہ اوڑھے ہوئے ایک جھو/ٹا شخص ہے۔

پچھلی پوسٹس 👇

1⃣ آل سعود اصل میں آل یہود ہیں👇

https://www.facebook.com/100069571310961/posts/1091143659881334/?mibextid=Nif5oz

2⃣ وہابی کوئی فرقہ نہیں بلکہ الگ مذھب ہے 👇

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1398823469113350&id=100069571310961&mibextid=Nif5oz

Invisible Islam

علی بن الحسین علیہ السلام نے فرمایا:’’انسان کی سعادت میں سے یہ ہے کہ اس کی تجارت اس کے اپنے شہر میں ہو، اس کے ساتھی نیک ...
21/09/2026

علی بن الحسین علیہ السلام نے فرمایا:

’’انسان کی سعادت میں سے یہ ہے کہ اس کی تجارت اس کے اپنے شہر میں ہو، اس کے ساتھی نیک ہوں، اور اس کی ایسی اولاد ہو جس سے وہ مدد حاصل کرے۔‘‘

📚 الخصال، شیخ صدوق، ص 173
📚 من لا يحضره الفقيه، ج 3، ص 164
📚 وسائل الشیعہ، ج 17، ص 243

امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’انسان کی سعادت میں سے یہ ہے کہ اس کا گھر کشادہ ہو۔‘‘

📚 المحاسن، ج 2، ص 610
📚 وسائل الشیعہ، ج 5، ص 301

امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’انسان کی سعادت میں سے نیک بیوی کا ہونا ہے۔‘‘

📚 الکافی، ج 5، ص 327
📚 وسائل الشیعہ، ج 20، ص 41

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’چار چیزیں انسان کی سعادت میں سے ہیں: نیک بیوی، نیک اولاد، نیک ساتھی، اور اپنے شہر میں روزگار کا ہونا۔‘‘

📚 معارج الیقین فی اصول الدین، ص 285

بدر علی

┄┄┅━༅𖣔﷽𖣔༅━┅┄┄✅ صحابہ نے کہا: تم نے سچ کہا، رسول اللہ ﷺ اسی طرح نماز پڑھتے تھے۔▬▭▬▭▬▭▬▭▬▭▬▭▬⭕ نماز📜 ہم سے محمد بن بشار نے...
20/09/2026

┄┄┅━༅𖣔﷽𖣔༅━┅┄┄

✅ صحابہ نے کہا: تم نے سچ کہا، رسول اللہ ﷺ اسی طرح نماز پڑھتے تھے۔

▬▭▬▭▬▭▬▭▬▭▬▭▬

⭕ نماز

📜 ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابو عاصم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عبد الحمید بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے محمد بن عمرو بن عطاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا:

👈🏿 میں نے ابو حمید ساعدی کو 👉🏿 رسول اللہ ﷺ کے دس صحابہ کے درمیان سنا، جن میں ابو قتادہ بھی تھے۔

ابو حمید نے کہا: میں تم سب سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں زیادہ جانتا ہوں۔

انہوں نے کہا: کیوں؟ اللہ کی قسم! نہ تو تم ہم سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرنے والے تھے، اور نہ ہی تمہاری ان کے ساتھ رفاقت ہم سب سے زیادہ قدیم تھی۔

انہوں نے کہا: کیوں نہیں، میں زیادہ جانتا ہوں۔

انہوں نے کہا: تو پھر بیان کرو۔

انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے، پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے یہاں تک کہ وہ دونوں کندھوں کے برابر ہو جاتے،

👈 اور آپ ﷺ کے جسم کا ہر عضو اپنی جگہ پر ٹھہر جاتا۔ (یعنی ہاتھ باندھے ہوئے نہیں ہوتے تھے)

انہوں نے کہا: تم نے سچ کہا، رسول اللہ ﷺ اسی طرح نماز پڑھتے تھے۔

📚 سنن ابن ماجہ، مصنف: ابن ماجہ، جلد: ۱، صفحہ: ۳۳۷

ـــــــــــــــــ

①💢 روایت [صحیح]

𖣐➸━━➵━━━➵━━➸━┅┄···

⭕ دیگر تصحیحات ↓↓

②💢 [1] اس کی سند صحیح ہے۔

📚 سنن ابن ماجہ - تحقیق: ارناؤوط، مصنف: ابن ماجہ، جلد: ۲، صفحہ: ۱۷۱

𖣐➸━━➵━━━➵━━➸━┅┄···

③💢 (6175) اس کی سند صحیح ہے۔

📚 مسند احمد - تحقیق: شاکر، مصنف: احمد بن حنبل، جلد: ۵، صفحہ: ۴۱۲

𖣐➸━━➵━━━➵━━➸━┅┄···

④💢 [9] ابن الملقن نے کہا: ’’اس کی سند صحیح ہے۔‘‘

📚 شرح مشکل الوسیط، مصنف: ابن الصلاح، جلد: ۲، صفحہ: ۸۸

𖣐➸━━➵━━━➵━━➸━┅┄···

⑤💢 [البانی نے کہا]: صحیح ہے۔

📚 المسند الموضوعی الجامع للکتب العشرہ، مصنف: صہیب عبد الجبار، جلد: ۱۱، صفحہ: ۱۲

𖣐➸━━➵━━━➵━━➸━┅┄···

⑥💢 صحیح ہے۔

📚 سنن ابی داؤد، مصنف: سجستانی، ابو داؤد، جلد: ۱، صفحہ: ۱۹۴

𖣐➸━━➵━━━➵━━➸━┅┄···

⑦💢 صحیح ہے۔ دیکھیں (1862)۔

📚 صحیح ابن حبان - تخریج، مصنف: ابن حبان، جلد: ۵، صفحہ: ۱۹۵

𖣐➸━━➵━━━➵━━➸━┅┄···

⑧💢 صحیح ہے۔

📚 سنن ترمذی - تحقیق: شاکر، مصنف: ترمذی، محمد بن عیسیٰ، جلد: ۲، صفحہ: ۱۰۵

𖣐➸━━➵━━━➵━━➸━┅┄···

⑨💢 اس کی سند صحیح ہے۔

📚 سنن دارمی، مصنف: دارمی، ابو محمد، جلد: ۲، صفحہ: ۸۵۵

𖣐➸━━➵━━━➵━━➸━┅┄···

💡 نکتہ:

یہ روایت ۹ تصحیحات کے ساتھ شذوذ سے محفوظ ہے، اور اس کی صحت کو بلا شک ثابت کرتی ہے۔ لہٰذا مذکورہ روایت رسول اللہ ﷺ کے ۱۰ صحابہ کی تصدیق کا ذکر کرتی ہے، اور خود جناب ابو حمید ساعدی کو شامل کر کے یہ ۱۱ صحابہ بنتے ہیں، جو خود اس روایت کے متواتر ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ اور جو شخص اس کے تواتر کا انکار کرے وہ کا/فر ہے

-ـ-ـ-ـ-ـ-ـ-ـ-ـ-ـ-ـ-ـ-ـ-ـ-ـ-ـ-ـ-ـ-ـ-ـ-ـ-ـ-ـ-ـ-ـ-ـ-ـ-ـ

⁉️ میرے اہلِ سنت دوست! کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ تعصب کا پیالہ خالی کرکے حق کو پہچانو اور رسول اللہ ﷺ کی حقیقی سنت پر عمل کرو؟ ⁉️

Invisible Islam

┄┄┅━༅𖣔﷽𖣔༅━┅┄┄🔴 عائشہ کا نبی کی نبوت میں شک کرنا اور ابو بکر کا انہیں طمانچہ مارنا▪️ حدیث کا متن📜 4670 ــ حسن بن عمر بن ش...
20/09/2026

┄┄┅━༅𖣔﷽𖣔༅━┅┄┄

🔴 عائشہ کا نبی کی نبوت میں شک کرنا اور ابو بکر کا انہیں طمانچہ مارنا

▪️ حدیث کا متن

📜 4670 ــ حسن بن عمر بن شقیق بن اسماء الجرمی البصری نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے سلمہ بن الفضل سے، انہوں نے محمد بن اسحاق سے، انہوں نے یحییٰ بن عباد بن عبداللہ بن زبیر سے، انہوں نے اپنے والد سے، اور انہوں نے عائشہ سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا:

میں نے کہا:

"کیا آپ وہی نہیں ہیں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں؟"

راوی کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ مسکرائے اور فرمایا:

"اے ام عبداللہ! کیا تمہیں اس بارے میں شک ہے؟"

عائشہ کہتی ہیں: میں نے کہا:

"کیا آپ وہی نہیں ہیں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں؟ تو پھر آپ انصاف کیوں نہیں کرتے؟"

ابو بکر نے میری بات سن لی، اور ان میں سخت مزاجی تھی۔ وہ میری طرف بڑھے اور میرے چہرے پر طمانچہ مارا۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"ٹھہرو، اے ابو بکر!"

ابو بکر نے کہا:

"اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے نہیں سنا کہ اس نے کیا کہا؟"

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"یقیناً جب عورت کو غیرت آتی ہے تو وہ وادی کے اوپر سے اس کے نچلے حصے کو نہیں دیکھ پاتی۔"

📚 مسند ابی یعلیٰ الموصلی، جلد 8، صفحہ 129

⭕ روایت کی تصحیحات

① اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔

📚 مسند ابی یعلیٰ الموصلی، جلد 8، صفحہ 129

② ابو یعلیٰ نے اسے قابلِ قبول سند کے ساتھ، اور ابو الشیخ ابن حیان نے اچھی اور مضبوط سند کے ساتھ عائشہ سے روایت کیا ہے۔

📚 سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد، جلد 9، صفحہ 71

③ ابو یعلیٰ اور ابو الشیخ ابن حیان نے اسے حسن سند کے ساتھ عائشہ سے روایت کیا ہے۔

📚 سمط النجوم العوالي في أنباء الأوائل والتوالي، جلد 1، صفحہ 451

④ ناصر الدین البانی کی طرف سے روایت کی تصحیح کا اثبات

❌ البانی اس روایت پر دو اعتراضات کرتے ہیں:

📜 "میں کہتا ہوں: یہ سند ضعیف ہے، اور اس میں دو علتیں ہیں:

1⃣ پہلی: ابن اسحاق کی عنعنہ، کیونکہ وہ تدلیس کرتے تھے۔

2⃣ دوسری: سلمہ بن الفضل جو الابرش ہیں کی کمزوری۔ حافظ نے التقریب میں کہا ہے: وہ سچے ہیں مگر بہت زیادہ غلطیاں کرتے ہیں۔"

📚 سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة، جلد 6، صفحہ 555

1⃣ پہلے اعتراض کا جواب ✅

▪️ البانی کی عبارت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر مذکورہ اشکال دور ہوجائیں تو وہ کم از کم اس روایت کو حسن قرار دینے کے امکان کو تسلیم کرتے ہیں:

📜 "یہ ہیثمٰی کی بیان کردہ بات کے خلاف صریح ہے۔ ممکن ہے کہ ابو الشیخ نے اسے دو طریقوں سے روایت کیا ہو؛ ایک میں ابن اسحاق ہوں اور دوسرے طریق میں نہ ہوں، اور دوسرے طریق میں صرف لیثی ہوں، جیسا کہ ہیثمٰی نے بتایا ہے۔ اگر ان کی بات درست ہے تو میرے نزدیک کم از کم یہ حدیث حسن ہے۔ واللہ اعلم۔"

📚 سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة، جلد 10، صفحہ 707

⭕ ابن اسحاق کی تدلیس کے اعتراض کا جواب

▪️ ابن اسحاق کے بارے میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ وہ اپنے شیخ یحییٰ بن عباد سے روایت کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے، اور احمد بن حنبل اور ابن حجر عسقلانی کی طرف سے ایسی روایات میں تصریح بالتحدیث کا حوالہ دیا گیا ہے۔

▪️احمد بن حنبل کی روایت:

📜 "ہم سے یزید نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن اسحاق نے خبر دی، انہوں نے یحییٰ بن عباد بن عبداللہ بن زبیر سے..."

حاشیے میں درج ہے:

📜 "یہ روایت غیر کی وجہ سے صحیح ہے، اور محمد بن اسحاق کی وجہ سے اس کی سند حسن ہے، اور روایت (26356) میں انہوں نے تحدیث کی صراحت کی ہے، لہٰذا ان کی تدلیس کا شبہ ختم ہوجاتا ہے۔"

📚 مسند أحمد، ط الرسالة، جلد 42، صفحہ 35

اسی طرح:

📜 "اسے ابن اسحاق نے یحییٰ بن عباد سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے عائشہ سے روایت کیا۔"

اور ابن حجر نے الاصابہ میں ابن اسحاق سے یہ روایت نقل کی ہے اور اس میں تحدیث کی صراحت موجود ہے۔

📚 تاريخ الإسلام، جلد 3، صفحہ 66

▪️"مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ خود انہوں نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ چونکہ انہوں نے تحدیث کی صراحت کی ہے، اس لیے ان کی روایت قبول ہے؛ لیکن اب ان کو یہ بات یاد نہیں رہی۔ اب یہ انکے جھوٹ بولنے کی وجہ سے ہے، یا انکی یادداشت کمزور ہوگئی ہے، یا یہ دھوکا دینے کا ارادہ رکھتے تھے؟"

📜 محمد بن اسحاق کے طریق سے، یحییٰ بن عباد بن عبداللہ بن زبیر سے، وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔۔۔

▪️حاکم نے کہا:

✅ "یہ حدیث مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے۔"

✅ اور ذہبی نے بھی ان کی موافقت کی۔

▪️ترمذی نے کہا:

📜 "یہ حدیث حسن غریب ہے، اور ہم اسے صرف ابن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں۔"

📜 میں البانی کہتا ہوں: احمد، ابن ہشام اور ابن حبان کی روایت میں ابن اسحاق نے تحدیث کی صراحت کی ہے، لہٰذا اس طرح ان کی تدلیس سے اطمینان ہوگیا، پس حدیث حسن ہے، جیسا کہ منذری نے کہا ہے۔

📚 سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها، ناصر الدین البانی، جلد 2، صفحہ 628

❌ دوسرے اعتراض کا جواب ✅

اب صرف "سلمہ بن الفضل" نامی راوی کی توثیق باقی رہ گئی۔

اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ یہ راوی ضعیف ہے، کیونکہ ابن حجر نے اگرچہ اسے صدوق (سچا/قابلِ اعتماد) قرار دیا ہے، لیکن ساتھ ہی کہا ہے کہ وہ کثیر الخطأ (بہت زیادہ غلطیاں کرنے والا) ہے، لہٰذا اس کی روایت مردود ہوگی۔

✅ جواب:

اگر کثیر الخطأ راویوں کو صرف اسی وجہ سے ضعیف قرار دینا شروع کردیا جائے، 👈 تو پھر صحیح بخاری کو "صحیح بخاری" کے بجائے "غلط بخاری" کہنا پڑے گا، کیونکہ اسی وصف کے حامل راویوں سے صحیح بخاری میں بھی روایات نقل کی گئی ہیں۔

📜 6546 ــ ہم سے عثمان بن الہیثم نے بیان کیا، انہوں نے عوف سے روایت کیا۔

📚 صحیح البخاری، جلد 8، صفحہ 113

▪️عثمان بن الہیثم بن جہم بن عیسیٰ العبدي، ابو عمرو البصری المؤذن کے بارے میں حاکم کہتے ہیں:

📜 میں نے دارقطنی سے پوچھا: عثمان بن الہیثم المؤذن کیسے ہیں؟

انہوں نے کہا:

📜 "صدوق، کثیر الخطأ"
📃 یعنی سچے ہیں، لیکن بہت زیادہ غلطیاں کرتے ہیں۔

📚 موسوعة أقوال أبي الحسن الدارقطني في رجال الحديث وعلله، جلد 2، صفحہ 447

✔️ لہٰذا، البانی کی طرف سے اس روایت کو حسن قرار دینے کی تائید بھی ثابت ہوگئی۔

⑤ ابن حجر کا حوالہ

حافظ ابن حجر نے فتح الباری (9/325) میں کہا:

📜 "اسے ابو یعلیٰ نے ایسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے جس میں کوئی حرج نہیں۔"

📚 المطالب العالية، جلد 8، صفحہ 189

⭕ آخر میں سوال:

⁉️ کیا خاتم الانبیاء ﷺ کی نبوت میں شک کرنا قرآن کی آیات کا انکار کرنے کے علاوہ کوئی اور معنی رکھتا ہے؟

Invisible islam

🔴 وہابیزم Post no 2⃣وہابیت، بہائیت اور قادیانیت: نئے ظہور پذیر مذاہب‼️▪️جناب محمد ابو زہرہ جب منحرف اور نئے قائم ہونے وا...
20/09/2026

🔴 وہابیزم

Post no 2⃣

وہابیت، بہائیت اور قادیانیت: نئے ظہور پذیر مذاہب‼️

▪️جناب محمد ابو زہرہ جب منحرف اور نئے قائم ہونے والے مذاہب کا تعارف کراتے ہیں تو

📜 وہابیت کو بہائیت اور قادیانیت کے ساتھ ذکر کرتے ہیں۔

📚 تاریخ المذاھب الاسلام

▪️احمد بن زینی دحلان:

📜 وہابیوں کی حقیقتِ حال یہ ہے کہ ان کا فتنہ ان بڑے ترین فتنوں میں سے تھا جو اسلام میں ظاہر ہوئے۔

📚 کتاب تاریخ زینی دحلان

▪️شیخ احمد رضا قادری حنفی نے اپنی کتاب قوارع القهار في الرد على المجسمة الكفار میں وہابیت کو بدعتی اور گمراہ قرار دیتے ہوئے ان کے گمراہ کن عقائد کے بارے میں لکھا ہے:

مجسمہ وہابیوں کی گمراہی:
ضلالة الوهابية المجسمة: واعلموا أن الوهابية النجسة أكالون لفظلة جميع الضالين أخذوا ضلال شتى شيئاً من عقائد الضلال ووفوا نصيبهم

مجسمہ وہابیوں کی گمراہی:
’’جان لو کہ ناپاک وہابی تمام گمراہ لوگوں کی نجاستیں کھانے والے ہیں۔ انہوں نے ہر گمراہ گروہ سے گمراہی کا کچھ نہ کچھ حصہ اور گمراہ کن عقائد میں سے کچھ عقائد لے لیے ہیں اور اپنا حصہ پورا کر لیا ہے۔‘‘

📚 قوارع القهار في الرد على المجسمة الفجار، ص 42، 43

۔

⭕ وہابی قرآن و حدیث نہیں بلکہ عبدالوھاب کے پیروکار ہیں

▪️ سابق مفتیِ اعظمِ سعودی عرب عبدالعزیز بن باز لکھتے ہیں:

📜 وهابیت، محمد بن عبدالوهاب بن سلیمان بن علی تمیمی کے پیروکار اور حامی ہیں۔

📚 فتاوی ابن باز

👈👈 یعنی ان کے مطابق وہابیت سے مراد محمد بن عبدالوهاب بن سلیمان بن علی تمیمی کے اتباع اور پیروکار ہیں۔

⭕ وہابی کوئی فقہ نہیں بلکہ ایک مذھب ہے

📜 شیخ سلیمان بن صالح الدخیل نے "حقیقتِ مذہبِ وہابی" کے عنوان سے ایک رسالہ تحریر کیا۔

📚 دعاوی المناوئین

⭕ وہابی شیوخ کا مذھبِ وہابیت کے وجود کا اعتراف:

وہابیت کے مذہب کا بانی محمد بن عبدالوهاب نامی ایک تمیمی شخص تھا۔۔
کیونکہ اس کا (محمد بن عبدالوهاب کا) مقصد وہابی مذہب کی بنیاد پر لوگوں کی اصلاح کرنا تھا۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

✅📚 اہم نکتہ: یہ کتاب سعودی عرب (مدینہ) میں شائع ہوئی اور ابن باز (وہابیوں کے مفتی) نے اس کی تصحیح اور مقدمہ تحریر کیا۔

🔴 اسی کتاب میں ایک اور مقام پر آیا ہے:

📜 أساس من الدعوة الدينية الوهابية...
📃 یعنی: ’’وہابی دینی دعوت کے بنیادی اصولوں کے مطابق۔۔۔‘‘

📚 الشیخ محمد بن عبدالوهاب، عقیدتہ السلفیۃ ودعوتہ الاصلاحیۃ وثناء العلماء علیہ، ص 78۔

❓ کیا اب بھی وہابی اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ ’’وہابیت‘‘ کے نام سے کوئی مذہب یا مکتبِ فکر موجود ہی نہیں؟

🔴 پوسٹ نمبر 1⃣ کہ آل سعود اصل میں آل یہود ہیں👇

https://www.facebook.com/100069571310961/posts/1091143659881334/?mibextid=Nif5oz

Invisible islam

17/09/2026

۔
۔

ؑ #اہلبیت Sadia #اَلّٰلھُمَّ_لْعَنْ_قَتَلَۃَ_اَلحُسَیِنَؑ_وَ_اُولاَدِ_اَلحُسَیِنَؑ_وَ_اَصحَابِ_الحُسینؑ

Address

Najaf

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when تعلیماتِ اہلبیتؑ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to تعلیماتِ اہلبیتؑ:

Shortcuts

Share