30/07/2026
جب اصلاح حکمت سے خالی ہو جائے...
آج سوشل میڈیا پر ایک تصویر نظر سے گزری، جس کے کیپشن میں لکھا تھا:
"امام حسینؑ کی زیارت صرف اپنے جسم کو کربلا پہنچانے کا نام نہیں۔"
مجھے اس پوسسٹ لکھنے والے اور اس جیسے دیگر افراد کی نیتوں کا علم نہیں۔ ان شاء اللہ ان سب کی نیت خیر ہی ہوگی، اور اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات کے مطابق مومن کے بارے میں حسنِ ظن رکھنا ہمارا دینی فریضہ بھی ہے۔
البتہ اصل سوال نیت کا نہیں، طریقۂ اصلاح کا ہے۔
کیا واقعی ہم اصلاح کے لیے جو اسلوب اختیار کر رہے ہیں، وہ حکمت، بصیرت اور اہلِ بیتؑ کی سیرت کے مطابق ہے؟
کیا ہمارے اکابر علماء، فقہاء اور مراجعِ کرام دین کا درد نہیں رکھتے ؟
یقیناً ایسا نہیں۔
لیکن ان کی دعوت کا انداز ہمیشہ حکمت، شفقت اور تدریج پر مبنی رہا۔
اگر ہم کسی عزادار کو نماز کی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں تو کیا یہ کہنا درست ہے کہ:
"اگر تم نماز نہیں پڑھتے تو تمہاری عزاداری کا کوئی فائدہ نہیں۔"
یا کسی زائرہ سے کہنا کہ:
"اگر تم پردے کا خیال نہیں رکھتی تو تمہاری زیارت بے فائدہ ہے۔"
قبولیتِ اعمال کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ کسی عبادت کے قبول یا رد ہونے کا قطعی فیصلہ کرنا ہمارا اختیار نہیں۔
فقہ کی دنیا میں بھی عبادات اور ان کی صحت و قبولیت کے بارے میں نہایت دقیق مباحث موجود ہیں، اور فقہاء نے مختلف اصولوں کی روشنی میں ان مسائل کو بیان کیا ہے۔ مسئلہ ترتّب کے ذریعے نے عبادات کی صحت پر گفتگو کی گئی ہے۔
لیکن اس سے بھی بڑھ کر اہم بات یہ ہے کہ دعوت اور اصلاح کا انداز کیا ہونا چاہیے؟
آج ہم اصلاح کے نام پر ایک ایسے اسلوب کو فروغ دے رہے ہیں جس کے کم از کم دو سنگین نتائج سامنے آ رہے ہیں:
اوّل: ملتِ تشیع کے اندر تقسیم اور باہمی فاصلے بڑھ رہے ہیں۔
دوم: بہت سے ایسے مومنین، جو دین سے وابستہ ہیں، آہستہ آہستہ اہلِ علم، علماء اور دینی مراکز سے بدظن ہوتے جا رہے ہیں۔
بلاشبہ ایک طبقہ ایسا ہمیشہ موجود رہا ہے جو پہلے ہی علماء سے دور تھا، لیکن افسوس یہ ہے کہ اصلاح کے غیر حکیمانہ طریقے ان لوگوں کو بھی دور کر رہے ہیں جو دین سے محبت رکھتے ہیں اور رہنمائی کے طلبگار ہیں۔
ہمارے مراجع اور علماء بھی اصلاح کرتے ہیں، بلکہ مسلسل کرتے ہیں۔
مثلاً سید سیستانی حفظہ اللہ نے اربعین کے زائرین اور مواکب کے لیے اپنے پیغامات میں اول وقت نماز، حجاب، اخلاق، نظم و ضبط اور دیگر شرعی و اخلاقی امور کی بارہا تلقین فرمائی ہے۔
لیکن ان کا انداز یہ نہیں ہوتا کہ وہ کسی زائر سے یہ کہیں:
"اگر تمہارا دوپٹہ درست نہیں تو تمہاری زیارت بے فائدہ ہے۔"
یا
"اگر تم نماز نہیں پڑھتے تو تمہارا حسینؑ سے کوئی تعلق نہیں۔"
یہ اہلِ بیتؑ کے مدرسے کا اسلوب نہیں، بلکہ ان کا طریقہ دلوں کو جوڑنا، امید دلانا اور حکمت کے ساتھ اصلاح کرنا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کربلا بلایا ہی اس لیے جاتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام "مصباح الہدیٰ" ہیں۔
کربلا ہدایت کا مرکز ہے، فیصلوں کی عدالت نہیں۔
یہ وہ در ہے جہاں انسان اپنی کمزوریوں کے ساتھ آتا ہے، اور امامؑ کی تربیت سے اپنے آپ کو بہتر بنا کر واپس لوٹتا ہے۔
ہمیں لوگوں کو امام حسینؑ سے دور کرنے کی نہیں، بلکہ امام حسینؑ کے ذریعے اللہ کے قریب لانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
اصلاح ضرور ہونی چاہیے، لیکن اصلاح حکمت، شفقت اور امید کے ساتھ ہونی چاہیے؛ کیونکہ یہی اہلِ بیت علیہم السلام کا طریقہ ہے۔
اور اگر اس حکمت کو چھوڑا تو گمراہی یہاں تک پہنچے گی کہ ہم کربلا اور امام حسین ع کا رستہ الگ الگ بنا دیں گے۔