Sheikh Ali Noorani - Najaf

Sheikh Ali Noorani - Najaf قرآن مجید اور اھل بیت اطھار علیہم السلام کی تعلیمات ہی میں امت کی نجات کا سر پوشیدہ ہے۔

جب اصلاح حکمت سے خالی ہو جائے...آج سوشل میڈیا پر ایک تصویر نظر سے گزری، جس کے کیپشن میں لکھا تھا:"امام حسینؑ کی زیارت صر...
30/07/2026

جب اصلاح حکمت سے خالی ہو جائے...

آج سوشل میڈیا پر ایک تصویر نظر سے گزری، جس کے کیپشن میں لکھا تھا:

"امام حسینؑ کی زیارت صرف اپنے جسم کو کربلا پہنچانے کا نام نہیں۔"

مجھے اس پوسسٹ لکھنے والے اور اس جیسے دیگر افراد کی نیتوں کا علم نہیں۔ ان شاء اللہ ان سب کی نیت خیر ہی ہوگی، اور اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات کے مطابق مومن کے بارے میں حسنِ ظن رکھنا ہمارا دینی فریضہ بھی ہے۔

البتہ اصل سوال نیت کا نہیں، طریقۂ اصلاح کا ہے۔

کیا واقعی ہم اصلاح کے لیے جو اسلوب اختیار کر رہے ہیں، وہ حکمت، بصیرت اور اہلِ بیتؑ کی سیرت کے مطابق ہے؟

کیا ہمارے اکابر علماء، فقہاء اور مراجعِ کرام دین کا درد نہیں رکھتے ؟

یقیناً ایسا نہیں۔
لیکن ان کی دعوت کا انداز ہمیشہ حکمت، شفقت اور تدریج پر مبنی رہا۔

اگر ہم کسی عزادار کو نماز کی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں تو کیا یہ کہنا درست ہے کہ:

"اگر تم نماز نہیں پڑھتے تو تمہاری عزاداری کا کوئی فائدہ نہیں۔"

یا کسی زائرہ سے کہنا کہ:

"اگر تم پردے کا خیال نہیں رکھتی تو تمہاری زیارت بے فائدہ ہے۔"

قبولیتِ اعمال کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ کسی عبادت کے قبول یا رد ہونے کا قطعی فیصلہ کرنا ہمارا اختیار نہیں۔

فقہ کی دنیا میں بھی عبادات اور ان کی صحت و قبولیت کے بارے میں نہایت دقیق مباحث موجود ہیں، اور فقہاء نے مختلف اصولوں کی روشنی میں ان مسائل کو بیان کیا ہے۔ مسئلہ ترتّب کے ذریعے نے عبادات کی صحت پر گفتگو کی گئی ہے۔

لیکن اس سے بھی بڑھ کر اہم بات یہ ہے کہ دعوت اور اصلاح کا انداز کیا ہونا چاہیے؟

آج ہم اصلاح کے نام پر ایک ایسے اسلوب کو فروغ دے رہے ہیں جس کے کم از کم دو سنگین نتائج سامنے آ رہے ہیں:

اوّل: ملتِ تشیع کے اندر تقسیم اور باہمی فاصلے بڑھ رہے ہیں۔

دوم: بہت سے ایسے مومنین، جو دین سے وابستہ ہیں، آہستہ آہستہ اہلِ علم، علماء اور دینی مراکز سے بدظن ہوتے جا رہے ہیں۔

بلاشبہ ایک طبقہ ایسا ہمیشہ موجود رہا ہے جو پہلے ہی علماء سے دور تھا، لیکن افسوس یہ ہے کہ اصلاح کے غیر حکیمانہ طریقے ان لوگوں کو بھی دور کر رہے ہیں جو دین سے محبت رکھتے ہیں اور رہنمائی کے طلبگار ہیں۔

ہمارے مراجع اور علماء بھی اصلاح کرتے ہیں، بلکہ مسلسل کرتے ہیں۔

مثلاً سید سیستانی حفظہ اللہ نے اربعین کے زائرین اور مواکب کے لیے اپنے پیغامات میں اول وقت نماز، حجاب، اخلاق، نظم و ضبط اور دیگر شرعی و اخلاقی امور کی بارہا تلقین فرمائی ہے۔

لیکن ان کا انداز یہ نہیں ہوتا کہ وہ کسی زائر سے یہ کہیں:

"اگر تمہارا دوپٹہ درست نہیں تو تمہاری زیارت بے فائدہ ہے۔"

یا

"اگر تم نماز نہیں پڑھتے تو تمہارا حسینؑ سے کوئی تعلق نہیں۔"

یہ اہلِ بیتؑ کے مدرسے کا اسلوب نہیں، بلکہ ان کا طریقہ دلوں کو جوڑنا، امید دلانا اور حکمت کے ساتھ اصلاح کرنا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ کربلا بلایا ہی اس لیے جاتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام "مصباح الہدیٰ" ہیں۔

کربلا ہدایت کا مرکز ہے، فیصلوں کی عدالت نہیں۔

یہ وہ در ہے جہاں انسان اپنی کمزوریوں کے ساتھ آتا ہے، اور امامؑ کی تربیت سے اپنے آپ کو بہتر بنا کر واپس لوٹتا ہے۔

ہمیں لوگوں کو امام حسینؑ سے دور کرنے کی نہیں، بلکہ امام حسینؑ کے ذریعے اللہ کے قریب لانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

اصلاح ضرور ہونی چاہیے، لیکن اصلاح حکمت، شفقت اور امید کے ساتھ ہونی چاہیے؛ کیونکہ یہی اہلِ بیت علیہم السلام کا طریقہ ہے۔

اور اگر اس حکمت کو چھوڑا تو گمراہی یہاں تک پہنچے گی کہ ہم کربلا اور امام حسین ع کا رستہ الگ الگ بنا دیں گے۔

ائمۂ اہل بیتؑ کی اپنے شیعوں کی حفاظت پر خصوصی توجہمرحوم فقیہ آیت اللہ سید محمد سعید الحکیمؒ فرماتے ہیں:ائمۂ اہل بیتؑ ا...
02/07/2026

ائمۂ اہل بیتؑ کی اپنے شیعوں کی حفاظت پر خصوصی توجہ

مرحوم فقیہ آیت اللہ سید محمد سعید الحکیمؒ فرماتے ہیں:

ائمۂ اہل بیتؑ اپنے شیعوں کو مسلسل اس بات کی تلقین فرماتے رہے کہ وہ اپنی جانوں کی حفاظت کریں، اپنے خون کو محفوظ رکھیں، ظالم حکمرانوں سے بلا ضرورت ٹکراؤ اختیار نہ کریں، نہ ایسے حالات پیدا کریں جن سے خود کو ذلت میں ڈالیں، اور نہ ہی کھلم کھلا ان کی مخالفت کا اظہار کریں۔

اسی طرح وہ اپنے پیروکاروں کو یہ بھی ہدایت دیتے تھے کہ عوام کے ساتھ فضول بحث و مناظرہ اور جھگڑوں سے اجتناب کریں، شہرت اور نمایاں ہونے کے مواقع سے دور رہیں، اور ایسے تمام امور سے بچیں جن کے نتیجے میں لوگ ان کی بدنامی کریں یا انہیں تمسخر کا نشانہ بنائیں۔

ائمہؑ نے دین میں تقیہ کی اہمیت پر بھی بہت زور دیا، اہلِ حق کے علاوہ دوسروں سے حقائق کو پوشیدہ رکھنے کی تعلیم دی، غصے کو پی جانے، دشمنوں کی طرف سے پہنچنے والی اذیتوں پر صبر کرنے، اور اسی نوعیت کی دیگر ہدایات بار بار ارشاد فرمائیں۔

اس سلسلے میں ائمۂ معصومینؑ سے اتنی کثرت کے ساتھ روایات منقول ہیں کہ ان سب کو یہاں جمع کرنا ممکن نہیں۔ ان تعلیمات کا اندازہ ان کے علمی و روائی ورثے کے معمولی سے مطالعے، نیز خود ائمہؑ اور ان کے ممتاز اصحاب کی عملی سیرت پر نظر ڈالنے سے آسانی سے ہو جاتا ہے۔

انہی حکیمانہ تعلیمات کے ذریعے ائمہؑ نے شیعوں کے جذبات اور غصے کو قابو میں رکھا، ان کے جذباتی اور فوری ردِعمل کو ایک حد تک اعتدال میں رکھا، تاکہ ان کی جان و مال اور مستقبل محفوظ رہ سکے۔

یہ تمام ہدایات اس لیے تھیں کہ ائمۂ اہل بیتؑ کو مومنین کی بقا، سلامتی اور تعداد میں اضافے کی شدید فکر تھی، تاکہ وہ دعوتِ حق کو آگے بڑھا سکیں، اس کی حفاظت کر سکیں، اسے لوگوں تک پہنچا سکیں، اور اپنی عملی زندگی کے ذریعے اس کی تعلیمات کو مجسم کر سکیں، تاکہ یہ الٰہی پیغام نسل در نسل زندہ اور مؤثر رہے۔

اسی حقیقت کی ایک نہایت قابلِ توجہ مثال صحیحِ حسین بن ابی العلاء میں مذکور ہے۔ وہ کہتے ہیں:

«سألت أبا عبد الله (ع) عن الرجل يقاتل دون ماله فقال: قال رسول الله (ص): من قتل دون ماله فهو بمنزلة الشهيد. فقلت: أيقاتل أفضل أو لا [لم. خ ل‌] يقاتل؟ فقال: [إن لم يقاتل فلا بأس‌] أما أنا فلو كنت لم أقاتل وتركته»

"میں نے امام جعفر صادقؑ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے لڑتا ہے۔ امامؑ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہو جائے، وہ شہید کے مرتبے پر ہے۔

میں نے عرض کیا: کیا لڑنا بہتر ہے یا نہ لڑنا؟

امامؑ نے فرمایا: اگر وہ نہ لڑے تو بھی کوئی حرج نہیں۔ اگر میں خود اس کی جگہ ہوتا تو میں لڑائی نہ کرتا اور مال چھوڑ دیتا۔"

اس روایت کے ابتدائی حصے میں مال کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہونے کی عظمت بیان کی گئی ہے، لیکن اس کے آخری حصے سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جان کی حفاظت مال کی حفاظت پر مقدم ہے۔

اور یہی اس بات کی دلیل ہے کہ ائمۂ اہل بیتؑ کی نظر میں اہلِ ایمان کی جانوں کا محفوظ رہنا، ان کی بقا اور ان کی تعداد میں اضافہ اس لیے انتہائی اہم تھا تاکہ وہ دعوتِ حق کی خدمت انجام دیتے رہیں۔

ماخوذ از
كتاب فاجعة الطف

(واضح رہے کہ ظالم کے خلاف مد مقابل ہونے کے لحاظ سے مذکورہ رائے فقہاء کے ایک گروہ کی رائے ہے ، اس مسئلے میں ایک دوسری رائے بھی موجود رہی ہے، گفتگو اجتہادی گفتگو ہے لہذا فیس بک پر نہیں ہوسکتی ۔ البتہ یہ بات مسلم ہے کہ حفظ جان ایک اہم ترین شئی ہے ، جذبات کے بہاؤ میں اپنی جان قربان کرنا کسی طور بھی قابل مدح نہیں اور ایک حرام فعل ہے۔ دور غیبت میں جس فقیہ کی انسان تقلید کرتا ہے اس کے حکم کے بغیر یہ کام سوائے حماقت اور بیوقوفی کے کچھ نہیں ہے۔)

الحمد للہ۔  حوزہ علمیہ نجف اشرف میں جوانوں کے لیے منعقد ہونے والا ایک منفرد پروگرام ۔ شہر نجف اشرف میں جوانوں کے لیے چوت...
10/01/2026

الحمد للہ۔
حوزہ علمیہ نجف اشرف میں جوانوں کے لیے منعقد ہونے والا ایک منفرد پروگرام ۔

شہر نجف اشرف میں جوانوں کے لیے چوتھے Spiritual Retreat کی رجسٹریشن کا آغاز کل شب سے ہو جائے گا۔

یہ دورہ زیارت کے ساتھ ساتھ ایک تربیتی اور تعلیمی دورہ بھی ہے۔
جس میں نوجوان اپنے بہت سے شبہات اور سوالات کے جوابات کا حل تلاش کر پاتے ہیں ۔
حوزہ علمیہ نجف اشرف کے بزرگ اساتذہ کرام سے ملاقات اور راہنمائی کا بہترین موقع۔

26/07/2025
03/06/2025

حج کا ثواب
اور قضاءِ حاجت مومن کا ثواب

22/05/2025

انتخاب رشتہ
شادی سے پہلے درست فیصلہ کیجیے
ہمسفر کے انتخاب سے پہلے اپنی ترجیحات طے کیجیے۔

سوال:اگر کوئی شخص امیرالمؤمنین (علیہ السلام) سے محبت و ولایت رکھتا ہو، لیکن عبادات کا پابند نہ ہو یا گناہگار ہو (فاسق ہو...
21/05/2025

سوال:
اگر کوئی شخص امیرالمؤمنین (علیہ السلام) سے محبت و ولایت رکھتا ہو، لیکن عبادات کا پابند نہ ہو یا گناہگار ہو (فاسق ہو)، تو کیا وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہے گا؟

جواب:
اگر وہ اسلام اور ولایت پر مر گیا ہو، تو احادیثسے یہ ظاہر ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں نہیں رہے گا۔
البتہ اصل مسئلہ یہی ہے کہ کیا وہ واقعاً ولایت پر مرا؟ کیونکہ گناہ بعض مرتبہ انسان کے دل کو سیاہ کر دیتے ہیں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی مدد اس کے شامل حال نہیں رہتی ہے، اور اللہ شیطان کو اس پر مسلط کر دیتا ہے، جو اسے کفر کی دعوت دیتا ہے، اور وہ اسے قبول کر لیتا ہے۔
لہٰذا کبیرہ گناہوں کے مرتکبین کو اس بات پر مطمئن نہیں ہونا چاہیے۔

اس کے علاوہ انسان اتنا کمزور ہے کہ وہ جہنم کا عذاب، چاہے وہ دائمی نہ بھی ہو، برداشت نہیں کر سکتا۔
بلکہ وہ قبر اور برزخ کے عذاب، حتیٰ کہ سکراتِ موت اور دنیا میں گناہوں کی تلافی کے لیے آنے والی آزمائشوں کو بھی برداشت کرنے کے قابل نہیں۔
پس اللہ تعالیٰ کی مہلت کو معمولی نہ سمجھو، اور بار بار خبردار رہو!

ماخذ:

مرجع دینی آیت اللہ العظمیٰ سید محمد سعید حکیم (قدّس سرہ) کی آفیشل ویب سائٹ.

09/05/2025

امام رضا علیہ السلام نے آقا حائری سے کہا کہ
تم مشہد مقدس میری زیارت کے لیے 38 مرتبہ تشریف لائے
میں بھی اتنی ہی دفعہ تمہاری زیارت کے لیے تشریف لاؤنگا۔

07/05/2025

زیارت امام رضا علیہ السلام

30/04/2025

اسلام کی بنیاد 5 چیزوں کو قرار دیا گیا ہے۔
(الکافی)

Address

Shahrahe Ghadeer
Najaf

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sheikh Ali Noorani - Najaf posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share