#ایران
باب مدینة العلم
Education
✍️ تاریخ علم رجال کا ایک مختصر جائزہ ✍️
اس میں کوئی شک نہیں کہ علمِ رجال اسلامی علوم میں سے ہے۔ اسلام سے پہلے اس کا کوئی وجود نہیں تھا، کیونکہ یہ علم نبی اکرم ﷺ اور ائمہ علیہم السلام سے روایت کرنے والے راویوں کے حالات و اوصاف کا مطالعہ کرتا ہے۔ لہٰذا یہ علم خود روایت کے پیدا ہونے کے ساتھ پیدا ہوا۔ اس کے برعکس تاریخ، نسب نامہ اور تذکرہ نگاری ایسے علوم ہیں جو انسانی تاریخ جتنے قدیم ہیں۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام میں سب سے پہلے علمِ رجال کو کس نے مدوّن کیا؟
اور غالباً اس میدان میں سب سے پہلے قلم اٹھانے والے عبیداللہ بن ابی رافع تھے، جو امیرالمؤمنین علیہ السلام کے کاتب تھے۔
شیخ الطوسیؒ نے الفہرست میں ان کا ایک کتابچہ ذکر کیا ہے:
"تسمیۃ مَن شَہِدَ معَ أمیر المؤمنین علیہ السلام الجمل و صفّین و النہروان من الصحابہ"
یعنی وہ صحابہ جنہوں نے امیرالمؤمنینؑ کے ساتھ جنگِ جمل، صفین اور نہروان میں شرکت کی۔
محقق آقا بزرگ طہرانیؒ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"یہ شخص دراصل سب سے پہلا انسان ہے جس نے رجال و رواۃ کے نام درج کیے، کیونکہ وہ خود امیرالمؤمنینؑ کے دور میں تھے اور ان کے کاتب تھے، اور ان کے والد ابو رافع نے امیرالمؤمنینؑ کی تمام جنگوں میں شرکت کی۔ انہوں نے صرف صحابہ کے مخصوص گروہ کا ذکر کیا اور ان میں بھی صرف ان لوگوں کو درج کیا جنہوں نے امیرالمؤمنینؑ کی جنگوں میں شرکت کی، تاکہ بعض ناواقف یا کمزور لوگوں پر حجت تمام ہو جائے۔"
آقا بزرگ طہرانیؒ نے متقدمین میں سے ایک اور نام لوط بن یحییٰ ازدی (ابو مخنف) کا لیا ہے، جو 151 ہجری میں وفات پائے۔
انہوں نے کئی کتابیں لکھیں جن میں مختلف اصحاب اور شخصیات کے حالات موجود ہیں، جیسے مختار ثقفی، محمد بن ابی بکر، محمد بن حنفیہ، حجاج بن یوسف وغیرہ۔
تاہم یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ ان کی یہ کتابیں علمِ رجال کے معنی میں نہیں آتیں، کیونکہ وہ زیادہ تر تاریخ، سیرت اور تذکرہ نگاری کے زمرے میں آتی ہیں۔
رجال کے ماہر کا اصل مقصد صرف راوی کی عدالت، وثاقت، ضعف یا اس کی روایت کے پہلو کو جانچنا ہوتا ہے، نہ کہ اس کی مکمل شخصیت یا سوانح عمری کو بیان کرنا۔
شاید اسی باریک نکتے کی وجہ سے سید حسن الصدرؒ نے تاسیس الشیعہ میں لکھا:
"ہماری دسترس میں جو مستند معلومات پہنچی ہیں، ان کے مطابق علمِ رجال کا سب سے پہلا مصنف عبداللہ بن جبلة الكنانی ہے، جو 219 ہجری میں وفات پائے۔"
اگرچہ حسن بن محبوب (وفات: 224ھ) نے بھی اسی دور میں اپنی مشہور کتاب المشیخة لکھی، بلکہ ممکن ہے کہ انہوں نے ابن جبلة سے پہلے لکھا ہو، مگر چونکہ ان کی وفات بعد میں ہوئی، اس لیے ابن جبلة کو مقدم سمجھا جاتا ہے۔
رجال اور تراجم کی کتابوں میں یہ بات درج ہے کہ اصحابِ ائمہؑ نے اس فن میں بہت تصانیف لکھیں۔ نجاشی اور شیخ طوسی کے فہارس میں تقریباً 120 کتابوں کا ذکر موجود ہے جو ان کے زمانے تک اس موضوع پر لکھی جا چکی تھیں۔
شیعہ امامیہ کے ہاں علمِ رجال کی اہمیت پر شیخ طوسیؒ نے عدۃ الاصول میں نہایت واضح بیان کیا ہے:
"ہم نے دیکھا کہ ہماری طائفہ (شیعہ) نے حدیث بیان کرنے والے راویوں کو الگ الگ کیا، ثقہ کو ثقہ قرار دیا، اور کمزور کو کمزور۔ انہوں نے واضح کیا کہ کس کی روایت پر اعتماد کیا جا سکتا ہے اور کس کی نہیں۔
انہوں نے کہا: فلاں شخص متہم ہے، فلاں کذّاب ہے، فلاں غالی ہے، فلاں مخالفِ مذہب ہے، فلاں واقفی ہے، فلاں فطیحی ہے… اور اس سلسلے میں کتابیں تصنیف کیں، اور فہارس میں راویوں کے حالات بطورِ استثناء درج کیے۔ یہاں تک کہ اگر کسی کی روایت مشکوک ہوتی تو اس کی سند اور اس کے رواة کا باریک بینی سے جائزہ لیا جاتا۔ یہ سلسلہ ابتدا سے آج تک جاری ہے اور کبھی منقطع نہیں ہوا۔"
یہ عبارت صاف لفظوں میں ظاہر کرتی ہے کہ شیعہ فقہاء نے ہمیشہ علمِ رجال کو غیر معمولی اہمیت دی۔
سيوطی نے کتاب الأوائل میں لکھا کہ اہل سنت کے نزدیک علمِ رجال میں سب سے پہلے گفتگو کرنے والے شعبہ تھے، جن کی وفات 160 ہجری میں ہوئی۔
مگر یہ بات درست نہیں، کیونکہ ابن سعد (مصنف طبقات الکبریٰ) اس سے پہلے وفات پا چکے تھے (230 ہجری) اور ان کی کتاب طبقات ہی اہل سنت کے نزدیک اولین رجال کی کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔
لہٰذا صحیح بات یہ ہے کہ عامہ (اہل سنّت) میں سب سے پہلے رجال پر مستقل کتاب محمد بن سعد نے لکھی، جو 230 ہجری میں وفات پائے۔
تحریر و ترتیب۔۔۔۔ابو حسین الغروی
سلسلہ بحث مہدویت
غیبت کا فلسفہ ( پہلی قسط)
امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: اللھم بلی لاتخلوا الارض من قائم اللہ بحجتہ اما ظاھرا مشھورا و اما خائفا مخمورا لئلا تبطل حجج اللہ و بیناتہ (نہج البلاغہ فیض الاسلام ص ۱۱۵۸)
اے پروردگار کیوں نہیں زمین تو کبھی بھی اللہ کی حجت کے ساتھ قائم سے خالی نہیں ہوگی خواہ وہ قائم آشکار اور معروف ہو خواہ و خائف اور پس پردہ ہو (بہرحال زمین حجت خدا سے خالی نہیں رہ سکتی)تاکہ اللہ تعالی کی حجتیں اور نشانیاں باطل نہ ہوں-
ہماری احادیث کے ماخذات میں امام حسن عسکری علیہ السلام سے نقل ہوا ہے آپ نے ارشاد فرمایا : ھوالذی یجری فیہ سنن الانبیاء علیھم السلام (بحار الانوار ج۵۱ ص۲۲۴)
مہدی وہ ذات ہے کہ جس میں تمام انبیاء علیھم السلام کی سنتیں اور صفات جاری ہوں گی ، تو ان میں سے ایک سنت لوگوں سے ایک طویل زمانہ تک غائب رہنا ہے ۔
امام زمانہ عج کی دو غیبتیں ہیں ایک غیبت صغری ہے جس میں اگر وہ مخفی زمانہ بھی شامل کیا جائے کہ جب آپ اپنے والد بزرگوار کے ساتھ تھے تو یہ غیبت کل ۷۵سال بنتی ہے، اس کے بعد ۳۲۹ھجری سے آپ کی غیبت کبری شروع ہوئی کہ جو ابھی تک جاری ہے ، یہاں ایک قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ ان دونوں غیبتوں میں امام عالی مقام( عج )کا رابطہ لوگوں سے مکمل طور پر منقطع نہ ہوا ہے اور نہ ہو گا۔
آپ کی غیبت صغری کے زمانے میں آپ کے نائبین حضرات ترتیب کے ساتھ یہ ہیں: (۱)عثمان بن سعید اسدی (۲)محمد بن عثمان بن سعید عمروی (۳)حسین بن روح نوبختی (۴)علی بن محمد سمری ، یہ مکتب تشیع کی چار ممتاز شخصیات عظیم علماء میں سے تھیں اور تمام اھل ایمان و ولایت کے نزدیک محترم تھیں اور امام علیہ السلام اور لوگوں کے درمیان امام کی سفیر اور رابطہ کا وسیلہ تھیں، لیکن غیبت کبری کے زمانے میں امام زمانہ (عج )کا لوگوں سے رابطہ کچھ اور انداز سے شروع ہوا اب امام اور لوگوں کے درمیان رابطہ ،لوگوں کی فقہی ضروریات پوری کرنا اور ان کی معاشرتی ،سیاسی اور دینی مشکلات میں ان کی رہنمائی اور ان پر رہبری کا کام ان فقہاء حضرات کے کاندھوں پر ہے کہ جو آئمہ اھل بیت علیھم السلام کی شرائط پر پورے اترتے ہیں ،یہ شرائط فقہی کتابوں میں مذکور ہیں ان کا خلاصہ یہی ہے کہ وہ علماء اور فقہاء اس منصب (نیابت امام زمان عج) کی لیاقت رکھتے ہیں جو علم و عمل دانائی و کردار اور تقوی میں سب سے زیادہ ائمہ اھل بیت کے نزدیک ہوں اور دین الھی کا زبان و کردار کے ساتھ پرچار کرنے والے ، تمام مسائل پر گہری مخلصانہ بصیرت کے حامل اور اسلام و مسلمین کی حفظ کی خاطر ہر قسم کی مالی و جانی قربانی سے دریغ نہ کرنے والے ہوں .جاری ہے..... طالب دعا: علی اصغر سیفی
اسلام میں فرقوں کی حقیقت
ابو حسین الغروی
کلامی مناہج جنہوں نے مسلمانوں کو مختلف مذاہب میں تقسیم کیا، پہلی صدی ہجری کے آخر میں وجود میں آئے اور بعد کی صدیوں میں جاری رہے۔ ان سے مختلف اسلامی فرقے پیدا ہوئے جیسے مرجئہ، جہمیہ، معتزلہ، حشویہ، اشعریہ اور کرامیہ اپنی شاخوں کے ساتھ۔
یہ تمام فرقے دراصل فکری مباحث اور مناظرات کے نتیجے میں سامنے آئے۔ یہ ایک منطقی نتیجہ تھا اس افقی توسیع کا جو دائرہ اسلام میں ہوئی اور جس میں مختلف اقوام اور قومیتیں شامل ہوئیں۔ اس میل جول اور فکری ٹکراؤ، اور باہمی اثر و تأثر نے اکثر اوقات غیر محسوس طور پر ایسے افکار و نظریات کی بنیاد رکھی، جنہیں بہت سے لوگ شعوری طور پر بھی نہ سمجھ سکے، اور یہی افکار بعد میں اسلامی فرقوں کی صورت میں ڈھل گئے۔
چنانچہ ان فرقوں کا وجود براہِ راست پیغمبر اکرم ﷺ کے زمانے سے مربوط نہیں ملتا۔
مثال کے طور پر
خوارج ایک سیاسی جماعت تھی جو 37 ہجری میں جنگ صفین کے دوران پیدا ہوئی، پھر پہلی صدی کے آخر اور دوسری صدی کے آغاز میں ایک مذہبی فرقہ بن گئی۔
مرجئہ کا ظہور مسلمانوں میں اُس وقت ہوا جب لوگ خلیفہ عثمان اور امام علیؑ کے بارے میں اختلاف میں پڑ گئے۔ بعد میں یہ نظریہ بدل کر اس نتیجے تک پہنچا کہ ایمان کو مقدم رکھا جائے اور عمل کو مؤخر۔
جہمیہ دراصل جہم بن صفوان کے خیالات کا نتیجہ ہے، جو 128 ہجری میں فوت ہوا۔
معتزلہ کا سرچشمہ واصل بن عطا ہے، جو حسن بصری کا شاگرد تھا۔
اسی طرح قدریہ، کرامیہ، ظاہریہ اور اشعریہ بھی وہ فرقے ہیں جو مباحثِ کلامی کے نتیجے میں وجود میں آئے اور جنہیں صدیوں کے دوران جدلیاتی مناظروں نے تقویت ملی ۔ ان فرقوں کا سلسلہ براہِ راست نبی اکرم ﷺ سے متصل نہیں ملتا۔
لیکن شیعہ امامیہ کے عقائد اس کے برعکس ہیں، اس کی اساس اور نشوونما کا کسی لحاظ سے بھی ربط ان فرقوں سے نہیں ہے، کیونکہ ان کے عقائد اسلام کے اصل اور حقیقی منابع سے ماخوذ ہیں،
یعنی
سب سے پہلے قرآنِ حکیم،
دوسرے نمبر پر سنتِ نبوی ﷺ،
اور تیسرے نمبر پر امام علیؑ کے خطبات اور عترتِ طاہرہ کے وہ کلمات جو براہِ راست نبی اکرم ﷺ سے صادر ہوئے۔
اسی بنا پر ان کے عقائد کی تاریخ دراصل اسلام اور ائمہ طاہرینؑ کی زندگی کے ساتھ وابستہ ہے۔
یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ شیعہ صرف ان نصوص پر جمود اختیار نہیں کرتے جو اصولِ دین سے متعلق ہیں، بلکہ ان میں غور و فکر کرتے ہیں۔ ان کے علما نے انہی مصادر سے ان اصولِ عقائد کو اخذ کیا، پھر انہیں نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کیا اور روشن دلائل سے ان کی تائید کی۔ نیز وہ اعتقادات کی بنیاد کسی واحد روایت (خبرِ واحد) پر نہیں رکھتے بلکہ اس کے لیے یا تو تواتر کو لازم سمجھتے ہیں یا پھر ایسی قرائن و شواہد کو شرط قرار دیتے ہیں جو یقین اور علم فراہم کریں، کیونکہ بابِ اعتقاد میں محض عمل کافی نہیں ہوتا بلکہ اصل مطلوب ایمان اور یقین ہے، اور یہ محض خبرِ واحد سے حاصل نہیں ہوسکتا۔
اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ شیعہ امامیہ کے عقیدے کی بنیاد اس یقین پر ہے کہ امام علیؑ کی وصایت نبی اکرم ﷺ کی زبانِ مبارک سے منصوص ہے، اور یہ کہ وہ اور ان کی عترتِ طاہرہ قرآن کے بعد امت کے سب سے بڑے مرجع ہیں۔ یہی تشیع کا بنیادی عنصر ہے۔ باقی اصولِ دین تو اسلامی عقائد ہیں جو صرف شیعہ امامیہ کے ساتھ خاص نہیں بلکہ سب مسلمانوں کے مشترک ہیں۔
ان شاء اللہ اگلی تحریر میں ہم کوشش کریں گے کہ شیعہ امامیہ کے بعض عقائد کو ائمہؑ کی احادیث اور ان کے علما کے بیانات کی روشنی میں پیش کریں گے
تاکہ پڑھنے والا ان عقائد کی اساس سے واقف ہو سکے اور اس کے سامنے ان اعتقادات کی اصل و اساس واضح ہو جائے کہ جس کا تعلق اور بنیاد ائمہ طاہرین سے منقولہ اخبار و روایات ہیں۔ جن میں سب سے زیادہ حصہ امام علی علیہ السلام کے کلمات اور خطبات کا ہے۔ یا پھر ان کے علما کی کلامی آراء سے، جو اپنے مختلف پہلوؤں میں عام مسلمانوں کے ساتھ بہت زیادہ ہم آہنگی رکھتی ہیں
آیت اللہ العظمی سید علی الحسینی سیستانی دام عزہ کی طرف سے غزہ میں آج پہلا موکب الحمداللہ شروع کیا گیا ہے #فلسطین
سید مہدی بخاری کی وال سے
“سرخ رنگ ملوکیت یا سامراج یا تانا شاہی کی ہر شکل کے خلاف مزاحمت کا استعارہ ہے جبکہ سیاہ رنگ سوگ اور ٹھہراؤ کی کیفیت ظاہر کرتا ہے۔عباسی دور کے اختتامی زمانے تک جب اصولوں کی سربلندی کے لیے تن من دھن کی پرواہ نہ کرنے والا آئمہ کرام کا سلسلہ تھما تو آلِ بویہ اور پھر صفوی دور میں نظریہ مزاحمت کو رسومات و ادب آداب کے سانچے میں ڈھالنے کا سلسلہ شروع ہوا اور یوں ایک اور طرح کی دربار نشین مذہبی اسٹیبلشمنٹ وجود میں آئی (اسٹیبلشمنٹ کا مطلب ہی سٹیٹس کو کی برقراری اور نظریاتی جمود کا دفاع ہے۔)۔ اس کی وجہ یہ ڈر رہا کہ کہیں عوام الناس میں کربلائی تحریک ملوکیت یا تاناشاہی کے خلاف کوئی نئی روح نہ پھونک دے لہٰذا ملوکیت کے خلاف تلوار اُٹھانے کے دینی پیغام کو بدل کر سوگ و آہ و بُکا کے سانچے میں ڈھال دیا جائے۔
یوں باطل کی ہر شکل کے خلاف جدوجہد اور کسی صورت سمجھوتا نہ کرنے کی کربلائی تحریک کو رسومات کے جسم میں قید کر کے محض سوگ کا رنگ اوڑھا دیا گیا اور سرخ پرچم پیچھے ہوتا چلا گیا۔ ایک طبقہ فکر نے وہ تلوار جو طاغوت و جبروت کے سینے پر چلانا تھی وہ سیاہ رنگ اوڑھ کر اپنی ہی پیٹھ پر برسا لی اور دوسرے طبقہ فکر نے سفید رنگ اوڑھ کر حسینیت یا حسینی مشن کو ختم شریف، قُل خوانی اور قبرستان کے دورے تک محدود کر دیا۔
مذہبی اسٹیبلشمنٹ سے مراد وہ تمام راہب، پنڈت، بھکشو، پادری و علماء ہیں جنہوں نے اہلِ حق کو راہ سے ہٹانے کے لیے حاکمِ وقت کو شریعت کے نام پر جواز یا فتوے مہیا کیے اور انسانوں کی مزاحمتی روح یا تحریک کو تھپک تھپک کے سلا دیا اور بدلے میں مراعات، شاہی خطابات، اقتدار میں حصہ داری، گدی نشینیاں اور فروغ دین کے نام پر نسل در نسل جاگیریں پائیں اور اس سب کا جواز دین سے جوڑ کر اسے جائز ثابت کرنے اور دکھانے کی کوشش کی۔
آپ دیکھیں کہ جتنے بھی بڑے مذاہب اور نظریات وجود میں آئے ان کا بنیادی ہدف باطل کے مقابلے میں حق و انصاف کا بول بالا تھا۔مثلاً یہودیت حضرت ابراہیم علیہ سلام سے شروع ہوتی ہے جنہوں نے نمرود کی خدائی کو چیلنج کیا اور پھر حضرت موسیٰ فرعونیت کے آگے سینہ سپر ہو گئے ۔ شریعتِ موسوی وجود میں آ گئی۔اور پھر رفتہ رفتہ شریعت موسوی کے بدن سے روح نکلتی چلی گئی اور رسومات کی شکل میں جسم باقی رہ گیا اور پھر جسم کو بھی یہودی راہبانیت چاٹ گئی۔
حضرت عیسی علیہ سلام کی جدوجہد یہودی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف شروع ہوتی ہے ۔آپ سمیت آپ کے حواریوں اور پھر ان کے بعد آنے والے تابعین نے عدم تشدد کی بنیاد پر عیسوی نظریے یا بقائے امن کے پیغام کی سربلندی کے لیے کیا کیا مظالم نہ سہے اور کون سی قربانیاں نہیں دیں۔ خود عیسیٰ کو مصلوب ہونا پڑا۔مگر پھر آنے والے سالوں میں ریاست اور مسیحی نظریے میں اتحاد ہو گیا اور جدوجہد کا پیغام ایک نئے سٹیٹس کو اور رسوماتی جال میں پھنس گیا۔ اور پھر آنے والی صدیوں میں پاپائیت نے بھی وہی شکل و حربے اختیار کئے جو کسی بادشاہت کے ہوتے ہیں۔
اسلام بنیادی طور پر انسان کے ہاتھوں انسان کے استحصال اور ملوکیت کی ہرشکل کے خاتمے کے لیے آیا۔ مگر رسول اللہ نے خطبہ حجتہ الوداع میں اتحادِ بین المسلمین، ردِ عصبیت، عربی و عجمی پر تقویٰ کی فوقیت کے بارے میں جو جو نصیحتیں کیں وہ سب آپ کے پردہ فرمانے کے بعد چند عشروں میں ہی ایک کے بعد ایک ہدایت و نصیحت طاق پر رکھ دیے گئے اور پھر وہی ہوا جو کہ ہوتا ہے یعنی ہر شکل کی ملوکیت و مذہبی اسٹیبلشمنٹ کا گٹھ جوڑ یا پھر دین کو ڈھال بناتے ہوئے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور عوام الناس کو جہالت سے نجات دلانے کے بجائے اسے اپنے فائدے کے لیے ہتھیار بنانے کی کوشش۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ سرخ کا سیاہ میں بدلنا جتنا آسان ہے ۔سیاہ پر دوبارہ سرخ رنگ چڑھانا اتنا ہی مشکل ہے۔ خود ہمارے گرم خون کے ساتھ بھی تو یہی ہوتا ہے۔ کچھ دیر سرخ رہتا ہے مگر گرنے کے بعد سیاہی مائل ٹھنڈا ہوتا چلا جاتا ہے اور پھر جم کر لوتھڑا بنا رہ جاتا ہے۔”۔ یہ نظریہ ڈاکٹر علی شریعتی کا تھیسس “سرخ شعیت” ہے جس کو وسعت اللہ خان نے قلمبند کیا تھا۔
جب آپ فلسفہ حسینیت یا مشنِ حسین کو سوگ و عزاداری کی رسومات، قل شریف، ختم قرآن، محفل مسالمہ، سوز و سلام کی چادر میں چھپا دیتے ہیں تو پھر کوئی حسینی پرچم تھامے میدانِ حق میں نہیں اُبھرتا۔ مسلمانوں کی کم و بیش ہزار سال کی تاریخ تو یہی بتاتی ہے۔ کربلا میں امام حسین کے روضے پر آج بھی سرخ پھریرا لہراتا ہے ۔یعنی باطل کے مقابل حق کا بنیادی رنگ۔میرا ماننا ہے کہ سیاہ و سفید کی بجائے مزاحمتی روح و قربانی کا اصل رنگ سرخ ہے جو ہم سے کھو گیا ہے۔پروین شاکر کا ایک دعائیہ شعر ہے اس پر آمین کہتے ختم شد۔
پہروں کی تشنگی میں بھی ثابت قدم رہوں
دشتِ بلا میں روح مجھے کربلائی دے”
01/07/2025
عاشورہ کے واقعہ کے بعد تقریبا تین گروہ ایسے تھے جنہوں نے امام حسین علیہ السلام کی ھل من ناصر کی صدا پر لبیک کہا مگر!!!!!
تب تک بہت دیر ہو چکی تھی
پہلا گروہ توابین کا تھا
یہ وہ لوگ تھے جو دس محرم امام کی نصرت کے لیئے نہیں پہنچے
عاشورہ کے بعد ان لوگوں نے قیام کیا
5000 کی تعداد میں تھے مگر سب مارے گئے
کیونکہ
بہت دیر ہو چکی تھی
دوسرا گروہ مدینہ کے تقریباً دس ہزار افراد پر مشتمل تھا جنہوں نے عاشورہ کے بعد قیام کیا مگر سب مارے گئے
کیوں؟
کہ بہت دیر ہو چکی تھی
جس لشکر نے مدینہ پر حملہ کیا یزید نے ان کو کہا کہ تمہارے لیئے 3 دن تک مدینہ کے لوگوں کا مال اور ان کی ناموس حلال ہیں
(یہ واقعہ حرہ کہلاتا ہے جس میں مسجد نبوی میں گھوڑے باندھے گئے اور منجنیق سے خانہ کعبہ پر آگ پھینکی گئی)
اس تاراجی کی وجہ بھی یہی تھی کہ
تب تک
بہت دیر ہو چکی تھی روایات میں ملتا ہے کہ حضرت امام سجاد علیہ السلام نے اہل بیت ع کو اس وقت مدینہ سے نکال لیا تھا آپ نے ایک صحرا میں جا ڈیرہ لگایا تھا تاکہ مدینہ کے اندر ہونے والے اس سانحہ سے محفوظ رہ سکیں
(اس قیام کی بھی حضرت نے کھل کر اس لیئے بھی حمایت نہیں کی کیونکہ
بہت دیر ہو چکی تھی
تیسرا گروہ حضرتِ مختار کا تھا
اس گروہ نے بہت سی سخت جنگیں کیں مگر 15000 افراد کے مارے جانے کے بعد شکست کھا گیا
7000 قیدی ہوئے جنکو قتل کر دیا گیا...
مجموعاً تقریباً 22000 افراد قتل ہو گئے
کیوں؟
کہ بہت دیر ہو چکی تھی!!!!!!
جن لوگوں نے مدینہ چھوڑتے وقت امام حسین ع کا ساتھ نہیں دیا
جن لوگوں نے امام ع کے کوفے میں داخلے کے موقع پر ساتھ نہیں دیا
اور عاشور میں امام کی شہادت کے بعد امام ع کی نصرت کے لیئے نکلے
مگر کوئی فائدہ نہ ہوا الٹا سب مارے گئے
کیوں؟
کہ بہت دیر ہو چکی تھی
جن جن لوگوں نے یہ قیام کیا امام سجاد علیہ السلام نے ان سب کا کوئی خاص استقبال نہیں
(یعنی عملا" ساتھ شامل نہیں ہوئے)
کیونکہ
ان لوگوں کے قیام میں بہت دیر ہو چکی تھی!!!!
بہت فرق ہے ان 72 افراد میں کہ جو بروقت امام کی نصرت کے لییے حاضر ہوئے اور امام کی نصرت کی ان 35 ہزار افراد کے درمیان جنہوں نے امام کے قتل ہوجانے کے بعد قیام کیا اور مارے گئے
کیونکہ
بہت دیر ہو چکی تھی
ہمیں متوجہ رہنا ہو گا کہ ہم کہیں امامِ وقت سے پیچھے تو نہیں رہ گئے؟؟
کہیں ھم سے بھی دیر نہ ہو جائے!!!!!
کیونکہ
الْمُتَقَدِّمُ لَهُمْ مارِقٌ، وَالْمُتَاَخِّرُ عَنْهُمْ زاهِقٌ وَاللّازِمُ لَهُمْ لاحِقٌ*_
هر که بر ایشان تقدم جوید از دین بیرون رفته و کسى که از ایشان عقب ماند به نابودى گراید.
جو ان سے آگے بڑھے گا
وہ دین سے خارج ہو گیا
اور جو پیچھے رہ گیا ہلاک ہو گیا
والسلام
(ایک برادر کی فارسی پوسٹ کا ترجمہ کوثر عباس قمی)
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Najaf Ashraf
Najaf
54001