باب مدینة العلم

باب مدینة العلم Education

✍️ سلسلة الأحاديث المكذوبة والمحرفة على أهل البيتسوال: کیا اس حدیث کی نسبت امام جعفر صادق علیہم السلام کی طرف درست ہے:(ج...
15/08/2026

✍️ سلسلة الأحاديث المكذوبة والمحرفة على أهل البيت

سوال: کیا اس حدیث کی نسبت امام جعفر صادق علیہم السلام کی طرف درست ہے:

(جهلة شيعتنا أضر علينا من جيش يزيد - "ہمارے ناخواندہ/جاهل شیعہ ہم پر یزید کے لشکر سے بھی زیادہ نقصان دہ ہیں)؟

جواب:

۱- یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ اہل سنت اور شیعہ کے ان تمام مصادر اور کتب میں کہیں نہیں ملی جو ہم تک پہنچے ہیں۔

۲- اس مضمون سے مختلف مفہوم کے ساتھ اس سے ملتا جلتا ایک واقعہ روایت کیا گیا ہے جو کہ علمائے سو (برے علماء) اور ان کی صفات کے بارے میں امام حسن عسکری علیہ السلام سے مروی ہے۔

آپ (علیہ السلام) نے فرمایا:

ان میں سے ایک گروہ ناصبیوں کا ہے جو ہم پر براہ راست طعنہ زنی کی طاقت نہیں رکھتے، لہٰذا وہ ہمارے کچھ صحیح علوم سیکھتے ہیں اور ان کے ذریعے ہمارے شیعوں کے ہاں عزّت و مقام حاصل کرتے ہیں، جبکہ ہمارے ناصبی دشمنوں کے سامنے ہماری تنقیص (توہین) کرتے ہیں۔ پھر وہ اس میں ہماری طرف منسوب کر کے کئی گنا جھوٹ اور افترا کا اضافہ کرتے ہیں جن سے ہم بالکل بری ہیں۔ ہمارے سادھ لوح اور تسلیم ہو جانے والے شیعہ اسے ہمارے ہی علوم سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ یہ (علمائے سو) ہمارے کمزور شیعوں کے لیے حسین بن علی (علیہما السلام) اور ان کے اصحاب پر یزید کے لشکر سے بھی زیادہ نقصان دہ ہیں؛ کیونکہ یزیدی لشکر نے تو ان کی ارواح اور اموال کو چھینا تھا، جبکہ یہ برے علماء جو ناصبی ہیں اور بظاہر ہمارے دوست اور ہمارے دشمنوں کے مخالف بنتے ہیں، وہ ہمارے کمزور شیعوں کے دلوں میں شک و شبہات پیدا کر کے انہیں گمراہ کرتے ہیں اور انہیں سچے حق تک پہنچنے سے روکتے ہیں.

📚 ماخذ: التفسير المنسوب إلى الإمام العسكري: صفحہ ۳۰۱

عادل اور باکردار شیعہ علماء کی مدح و تعریف میں:

امام حسن عسکری (علیہ السلام) سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:

ہماری شریعت سے ناواقف اور ہماری ملاقات سے محروم شخص اس کے پاس ایک یتیم کی مانند ہے؛ آگاہ ہو جاؤ! جو شخص اسے ہدایت دے، اس کی رہنمائی کرے اور اسے ہماری شریعت سکھائے، وہ ہمارے ساتھ مقامِ رفیاقِ اعلیٰ (جنت کے اعلیٰ درجے) میں ہو گا۔

📚 ماخذ: التفسير المنسوب إلى الإمام العسكري: صفحہ ۳۳۹

۳- جاہل شیعوں کی مذمت:

علامہ طبرسی (رحمة اللہ علیہ) نے اپنی کتاب "الاحتجاج" میں روایت کی ہے:

اور جو توقیع (خط) حضرت صاحب الزمان (امام مہدی) صلوات اللہ علیہ کی جانب سے صادر ہوئی، اس میں تھا: "اے محمد بن علی! ہمیں جاہل اور احمق شیعوں نے تکلیف پہنچائی ہے، جن کے دین سے مچھر کا پر بھی زیادہ وزنی اور بہتر ہے۔

📚 ماخذ: الاحتجاج: جلد ۲، صفحہ ۲۸۹ (طبع دار النعمان)

+923017784945
+9647711768272

12/08/2026

🏴 السَّلامُ عَلَيْكَ يَا سَيِّدَ الْمُرْسَلِينَ، السَّلامُ عَلَيْكَ يَا قائِماً بِالْقِسْطِ، السَّلامُ عَلَيْكَ يَا فَاتِحَ الْخَيْرِ، السَّلامُ عَلَيْكَ يَا مَعْدِنَ الْوَحْيِ وَالتَّنْزِيلِ، السَّلامُ عَلَيْكَ يَا مُبَلِّغاً عَنِ اللّٰهِ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَ يُّهَا السِّراجُ الْمُنِيرُ؛

*🏴 السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّها السَّيِّدُ الزَّكيُّ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّها البَرُّ الوَفيُّ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّها القائِمُ الاَمِينُ ، السَّلامُ عَليْكَ أَيُّها العالِمُ بِالتَّأْوِيلِ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّها الهادِي المَهديُّ السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّها الطّاهِرُ الزَّكيُّ ،
یا اَبا مُحَمَّدٍ یاحَسَنَ بنِ عَلِیِ اَیُّهَا المُجتَبی یَا بنَ رَسوُلِ اللّهؐ*

*🏴 ٢٨ صفر شبِ شھادت سید الانبیاء حضرت محمدِ مصطفیٰ ؐ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم و شھادت سبط اعظم سید طہ حضرت امام حسنِ مجتبیٰ ؑ کے پُردرد موقعے پر امامِ زمانہؑ کی بارگاہ میں اور آپ سب کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں*

✍️ اہلِ بیتؑ کی طرف منسوب جھوٹی اور تحریف شدہ احادیث📚 ہمارے معاشرے میں بعض اقوال ایسے ہیں جنہیں بطورِ روایت منبر و محراب...
11/08/2026

✍️ اہلِ بیتؑ کی طرف منسوب جھوٹی اور تحریف شدہ احادیث

📚 ہمارے معاشرے میں بعض اقوال ایسے ہیں جنہیں بطورِ روایت منبر و محراب سے پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ ان کی نسبت ائمۂ اہلِ بیتؑ کی طرف ثابت نہیں ہوتی۔

اسی سلسلے میں یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ واضح کیا جائے کہ ائمۂ اہلِ بیتؑ کی طرف منسوب مختلف اقوال کی نسبت شیعہ و سنی مصادر میں کس حد تک ثابت ہے؟ تاکہ منبر و محراب سے کسی قول کو ائمہؑ کی طرف منسوب کرتے ہوئے حتی الامکان احتیاط برتی جائے۔

---

❓ سوال:

کیا درج ذیل حدیث کی نسبت امام جعفر صادق علیہ السلام کی طرف درست ہے؟

««كُلُّنَا سُفُنُ النَّجَاةِ، وَلَكِنْ سَفِينَةُ جَدِّيَ الْحُسَيْنِ أَوْسَعُ، وَفِي لُجَجِ الْبِحَارِ أَسْرَعُ»»

📖 ترجمہ:
"ہم سب نجات کی کشتیاں ہیں، لیکن میرے دادا حسینؑ کی کشتی زیادہ وسیع ہے اور سمندر کی گہرائیوں میں زیادہ تیز رفتار ہے۔"

📚 منسوب حوالہ: بحار الأنوار، جلد 26، صفحہ 322، حدیث 14۔

---

📝 جواب:

1️⃣ یہ روایت اہلِ سنت اور شیعہ کے بنیادی و ثانوی مصادر میں وارد نہیں ہوئی۔

یعنی دستیاب معروف حدیثی مصادر میں اس روایت کی کوئی معتبر سند یا قابلِ اعتماد ماخذ سامنے نہیں آتا۔

2️⃣ اس روایت کے نیچے دیا گیا مذکورہ حوالہ بھی درست نہیں۔

یعنی بحار الأنوار، جلد 26، صفحہ 322، حدیث 14 کا حوالہ اس عبارت کے لیے درست نہیں ہے۔ لہٰذا اسے اس حوالے کے ساتھ حدیث کے طور پر نقل کرنا مناسب نہیں۔

3️⃣ شیخ محمد محمدی ری شہریؒ نے اس عبارت کی طرف اپنی کتاب موسوعة الإمام الحسينؑ کی جلد اول، صفحہ 15، حاشیہ نمبر 2 میں اشارہ کیا ہے اور اسے روایت کے طور پر قابلِ اعتماد ماخذ سے ثابت نہیں کیا۔

4️⃣ بعض معاصر کتب میں بھی یہ عبارت غفلت یا غلط فہمی کی بنا پر حدیث کے طور پر نقل ہوئی ہے۔

لہٰذا محض کسی موجودہ دور کی کتاب میں کسی عبارت کا حدیث کے طور پر ذکر ہو جانا اس کی صحتِ روایت کے لیے کافی نہیں۔

5️⃣ اس عبارت سے ملتا جلتا مضمون شیخ تستریؒ کی کتاب الخصائص الحسینیة کے مقدمے، صفحہ 7 پر موجود ہے۔

لیکن وہاں اسے حدیث کے طور پر نقل نہیں کیا گیا بلکہ ایک ادبی و توضیحی نثر کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ممکن ہے کہ مرورِ زمان کے ساتھ یہی عبارت عوامی سطح پر حدیث کے طور پر مشہور ہو گئی ہو۔

شیخ تستریؒ لکھتے ہیں:

««فالنبيُّ (صلّى الله عليه وآله) والأئمّةُ (عليهم السّلام) كلُّهم أبوابُ الجنان، لكنّ بابَ الحسين أوسع، وكلُّهم سُفُنُ النّجاة، ولكنّ سفينةَ الحسين (عليه السّلام) مجراها في اللُّجَجِ الغامرة أسرع، ومرساها على السّواحلِ المنجية أيسر، وكلُّهم مصابيحُ الهدى، لكنّ الاستضاءةَ بنورِ الحسين أكثرُ وأوسع، وكلُّهم كُهُوفٌ حصينة، لكنّ منهاجَ كهفِ الحسين أسمحُ وأسهل.»»

📖 ترجمہ:
"پس نبی اکرم ﷺ اور تمام ائمہؑ سب کے سب جنت کے دروازے ہیں، لیکن حسینؑ کا دروازہ زیادہ وسیع ہے؛ اور وہ سب نجات کی کشتیاں ہیں، لیکن حسینؑ کی کشتی کا راستہ گہرے سمندروں میں زیادہ تیز رفتار ہے اور نجات بخش ساحلوں پر اس کا لنگر انداز ہونا زیادہ آسان ہے؛ اور وہ سب ہدایت کے چراغ ہیں، لیکن حسینؑ کے نور سے روشنی حاصل کرنا زیادہ اور وسیع تر ہے؛ اور وہ سب مضبوط پناہ گاہیں ہیں، لیکن حسینؑ کی پناہ گاہ کا راستہ زیادہ کشادہ اور آسان ہے۔"

---

📌 اس عبارت کا مفہوم کہاں سے ماخوذ معلوم ہوتا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ اس عبارت کا مضمون اور روح، اہلِ بیتؑ کے فضائل سے متعلق مروی احادیث کے مفہوم سے ہم آہنگ ہے۔

مثلاً نبی اکرم ﷺ سے منسوب مشہور حدیث:

««مَثَلُ أَهْلِ بَيْتِي كَمَثَلِ سَفِينَةِ نُوحٍ، مَنْ رَكِبَهَا نَجَا، وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا هَلَكَ»»

📖 ترجمہ:
"میرے اہلِ بیتؑ کی مثال نوحؑ کی کشتی کی مانند ہے؛ جو اس میں سوار ہوا وہ نجات پا گیا اور جو اس سے پیچھے رہا وہ ہلاک ہو گیا۔"

اسی طرح حسینؑ کے بارے میں مشہور عبارت:

««الحُسَيْنُ مِصْبَاحُ هُدًى وَسَفِينَةُ نَجَاةٍ»»

📖 ترجمہ:
"حسینؑ ہدایت کا چراغ اور نجات کی کشتی ہیں۔"

لہٰذا ممکن ہے کہ بعد کے زمانے میں اہلِ بیتؑ کے فضائل سے متعلق مختلف روایات اور مضامین کو جمع کرکے یہ ادبی عبارت مشہور ہوئی ہو، اور پھر مرورِ زمان کے ساتھ اسے امام صادقؑ کی طرف منسوب کر دیا گیا ہو۔

---

⚠️ نتیجہ:

اس بنا پر احتیاطاً اس عبارت کو امام جعفر صادقؑ کی حدیث کے طور پر نقل کرنے سے توقف کرنا چاہیے ۔

📌 لوگ اسے بطورِ قول یا ادبی کلام نقل کر سکتے ہیں، لیکن اسے امام صادقؑ کی حدیث قرار دینا درست نہیں، جب تک اس کی معتبر سند اور اصل ماخذ ثابت نہ ہو۔

🔴 اصولِ تحقیق یہی ہے کہ اہلِ بیتؑ کی طرف کسی قول کی نسبت کرنے میں احتیاط کی جائے، کیونکہ محبتِ اہلِ بیتؑ کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ان کی طرف وہی بات منسوب کی جائے جو معتبر طریقے سے ثابت ہو۔

🌹 والسلام علی من اتبع الهدى
https://chat.whatsapp.com/JMgqvaXoLFSLKL5IEr8BCa

🏴  زیارتِ اربعین ثابت نہیں؟ *مرجعِ اعلیٰ آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی (دام ظلہ العالی) کا مختصر مگر فیصلہ کن ج...
12/07/2026

🏴 زیارتِ اربعین ثابت نہیں؟

*مرجعِ اعلیٰ آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی (دام ظلہ العالی) کا مختصر مگر فیصلہ کن جواب*

ہر سال اربعینِ امام حسین علیہ السلام کے موقع پر کروڑوں عاشقانِ سید الشہداءؑ دنیا کے مختلف ممالک سے کربلائے معلیٰ حاضر ہوتے ہیں۔ یہ عشق، وفاداری اور شعائرِ حسینی سے وابستگی کا ایسا عظیم منظر ہے جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔

مگر افسوس! ہر سال کچھ لوگ اس عظیم شعیرۂ حسینی کے بارے میں شکوک و شبہات پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ زیارتِ اربعین کی کوئی شرعی بنیاد نہیں، اور کبھی لوگوں کو اس سعادت سے دور کرنے کے لیے مختلف اعتراضات کیے جاتے ہیں۔

ایسے تمام بے بنیاد دعووں کا جواب مرجعِ عالی قدر آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی (دام ظلہ العالی) کے ایک مختصر مگر نہایت واضح جواب میں موجود ہے:

🛑 السؤال:

*ینقل البعض بأنّ زيارة الأربعين للإمام الحسين (عليه السلام) غير ثابتة، فما هو رأي سماحتكم؟*

الجواب:

*لا يُصغى إلى ما يُنقل بهذا الشأن.*

🌹 ترجمہ:

*سوال: بعض لوگ کہتے ہیں کہ امام حسینؑ کی زیارتِ اربعین ثابت نہیں، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟*

*جواب: اس سلسلے میں پھیلائی جانے والی ایسی باتوں پر کوئی توجہ نہ دی جائے* ۔

🖋️ مرجعِ اعلیٰ کا یہ مختصر جواب ہر صاحبِ انصاف کے لیے کافی ہے۔

جب مرجعِ اعلیٰ کا واضح اور دو ٹوک جواب موجود ہو تو اس کے بعد بے بنیاد شبہات کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔

━━━━━━━━━━━━━━

📚 حوالہ:
الموقع الرسمي لآية الله الفقيه السيد علي السيستاني (دام ظله العالی)
https://www.sistani.org/arabic/qa/0507/

🌹 *امام زین العابدین علیہ السلام کی اپنے فرزند امام باقر علیہ السلام کو وصیتیں* 🌹امام زین العابدین علیہ السلام نے اپنے و...
11/07/2026

🌹 *امام زین العابدین علیہ السلام کی اپنے فرزند امام باقر علیہ السلام کو وصیتیں* 🌹

امام زین العابدین علیہ السلام نے اپنے وصی، فرزند ارجمند اور پانچویں امام حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کو اپنی زندگی کے آخری ایام میں اہم امور کی وصیت فرمائی۔ ان وصیتوں میں اہل بیتؑ کی پاکیزہ تعلیمات اور بلند اخلاق کی جھلک نمایاں ہے۔

*١ ـ وفادار اونٹ کے بارے میں وصیت*

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے اپنے فرزند امام باقر علیہ السلام سے فرمایا:

*«إِنِّي حَجَجْتُ عَلَى نَاقَتِي هَذِهِ عِشْرِينَ حَجَّةً، لَمْ أَقْرَعْهَا بِسَوْطٍ، فَإِذَا نَفَقَتْ فَادْفِنْهَا، وَلَا تَأْكُلْ لَحْمَهَا السِّبَاعُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ) قَالَ: مَا مِنْ بَعِيرٍ يُوقَفُ عَلَيْهِ مَوْقِفُ عَرَفَةَ سَبْعَ حِجَجٍ إِلَّا جَعَلَهُ اللَّهُ مِنْ نَعَمِ الْجَنَّةِ، وَبَارَكَ فِي نَسْلِهِ».*

"میں نے اس اونٹنی پر بیس حج کیے ہیں اور کبھی اسے کوڑے سے نہیں مارا۔ جب یہ وفات پا جائے تو اسے دفن کرنا، تاکہ درندے اس کا گوشت نہ کھائیں۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: کوئی اونٹ ایسا نہیں جسے سات حجوں تک میدانِ عرفات میں وقوف کا موقع ملے مگر اللہ اسے جنت کے جانوروں میں شامل نہ فرمائے اور اس کی نسل میں برکت نہ دے۔"

امام باقر علیہ السلام نے اپنے والد بزرگوار کی اس وصیت پر عمل فرمایا۔

*٢ ـ ظلم سے بچنے کی وصیت*

امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا:

*«يَا بُنَيَّ، أُوصِيكَ بِمَا أَوْصَانِي بِهِ أَبِي حِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ، فَقَالَ لِي: يَا بُنَيَّ، إِيَّاكَ وَظُلْمَ مَنْ لَا يَجِدُ عَلَيْكَ نَاصِرًا إِلَّا اللَّهَ».*

"اے میرے بیٹے! میں تمہیں اس وصیت کی نصیحت کرتا ہوں جس کی میرے والد نے اپنی وفات کے وقت مجھے وصیت فرمائی تھی۔ انہوں نے فرمایا: *اے بیٹے! اس شخص پر ظلم کرنے سے بچنا جس کا مددگار اللہ کے سوا کوئی نہ ہو* ۔"

*٣ ـ آخری امور کی ذمہ داری*

امام زین العابدین علیہ السلام نے امام باقر علیہ السلام کو وصیت فرمائی کہ:
*وَعَهِدَ إِلَيْهِ أَنْ يَتَوَلَّى غُسْلَهُ وَتَكْفِينَهُ وَسَائِرَ شُؤُونِهِ حَتَّى يُوَارِيَهُ فِي مَقَرِّهِ الْأَخِيرِ.*

وہ ان کے غسل، کفن اور دیگر آخری امور کی ذمہ داری انجام دیں، یہاں تک کہ انہیں ان کی آخری آرام گاہ تک پہنچا دیں۔

📚 حوالہ جات:
محاسن البرقی، ج ۲، ص ۶۳۵
الخصال، ص ۱۸۵
الأمالي، ص ۱۶۱
الخرائج، ص ۲۰

02/07/2026

*ایسی وعدہ خلافی جو اذیت کا باعث ہو؟*
گھر کی بہو نے اپنی بوڑھی ساس سے کہا:
*«"امی جان! آپ فکر نہ کریں، کل صبح ڈاکٹر نے جو وقت دیا ہے، میں خود آپ کو ہسپتال لے جاؤں گی۔"»*
ساس نے اسی وعدے پر اپنے دوسرے بیٹوں یا کسی اور سے مدد نہیں مانگی۔
لیکن اگلے دن *بہو بغیر کسی شرعی عذر کے نہ گئی* ، جس کی وجہ سے بوڑھی ساس نہ صرف وقت پر ہسپتال نہ پہنچ سکیں بلکہ انہیں شدید ذہنی اذیت اور دلی دکھ بھی پہنچا۔
*شرعی حکم* :
اگر وعدہ خلافی اس طرح *کسی مؤمن کو اذیت پہنچانے، اس کی عزت و حیثیت مجروح کرنے، اس کا کوئی شرعی حق ضائع کرنے یا کسی دوسری شرعی خلاف ورزی کا سبب بن جائے، تو ایسی وعدہ خلافی فتوے کی رو سے جائز نہیں* ۔
اسی طرح اگر کوئی *وعدہ شرعاً لازم ذمہ داری سے متعلق ہو،* تو اس کی پابندی بھی شرعاً ضروری ہوتی ہے، جیسے:
*کسی کے قرض کی ضمانت قبول کرنا۔*
کسی سے کہنا: *"آپ فلاں غریب کو رقم دے دیں، بعد میں میں آپ کو ادا کر دوں گا۔"* اور وہ اس وعدے پر رقم ادا کر دے۔
*اللہ تعالیٰ سے شرعی عہد کرنا۔*
*اچھی طرح یاد رکھیں:*
ہر وعدہ خلافی کا ایک ہی حکم نہیں ہوتا، لیکن جب وعدہ توڑنے سے کسی *دوسرے پر شرعی طور پر قابلِ توجہ نقصان یا اذیت مرتب ہو،* تو معاملہ صرف اخلاقیات کا نہیں رہتا، بلکہ شرعی ذمہ داری کا بھی بن جاتا ہے۔
📚 ماخذ:
آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی (دام ظلہ)، توضیح المسائل جامع، جلد 2، مسئلہ 475۔

24/06/2026

#کیا خدا سے محبت ہے ہمیں ۔۔۔۔۔۔؟......

*علمدارِ کربلا حضرت عباس علیہ السلام کی شہادت کا مختصر بیان*کربلا میں ایک ہستی ایسی بھی تھی جس کی موجودگی سے خیموں میں س...
24/06/2026

*علمدارِ کربلا حضرت عباس علیہ السلام کی شہادت کا مختصر بیان*

کربلا میں ایک ہستی ایسی بھی تھی جس کی موجودگی سے خیموں میں سکون تھا، بچوں کے دل مطمئن تھے اور بی بی زینب سلام اللہ علیہا کو ایک مضبوط سہارے کا احساس تھا۔ وہ ہستی حضرت عباس بن علی علیہما السلام تھے۔
۔
علامہ کاظم قزوینی لکھتے ہیں:
کربلا پہنچنے کے بعد حضرت عباس علیہ السلام نے ایک خاص انداز اختیار کیا؛ رات بھر گھوڑے پر سوار ہو کر خیموں کے گرد پہرہ دیتے تاکہ آلِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کوئی آنچ نہ آئے۔

روزِ عاشورا جب اکثر اصحاب شہید ہو چکے تو حضرت عباس علیہ السلام نے امام حسین علیہ السلام سے عرض کیا:

*"يَا سَيِّدِي، لَقَدْ ضَاقَ صَدْرِي."*

*"میرے آقا! اب میرا سینہ تنگ ہو چکا ہے۔"*

امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:

*"إِذًا فَاطْلُبْ لِهَؤُلَاءِ الْأَطْفَالِ قَلِيلًا مِنَ الْمَاءِ."*

"اگر جانا ہی چاہتے ہو تو پہلے ان پیاسے بچوں کے لیے پانی لے آؤ۔"

عباس علیہ السلام مشک اٹھا کر فرات کی طرف روانہ ہوئے۔ پانی تک پہنچے، مشک بھر لی، مگر واپسی پر دشمن ہر طرف سے ٹوٹ پڑے۔ تیروں کی بارش ہونے لگی، یہاں تک کہ جسمِ عباس علیہ السلام تیروں سے بھر گیا۔

ایک ملعون نے گھات لگا کر وار کیا اور دایاں بازو قلم کر دیا۔ آپ نے بائیں ہاتھ میں علم سنبھال لیا۔ پھر دوسرا وار ہوا اور بایاں بازو بھی جدا ہو گیا۔

اسی اثنا میں ایک تیر آ کر مشک میں لگا...

پانی زمین پر بہہ گیا...

وہ پانی نہیں بہا تھا، سکینہ سلام اللہ علیہا کی امید بہہ گئی تھی...

خیموں کے بچوں کی آس بہہ گئی تھی...

*پھر ایک لوہے کا عمود سرِ عباس علیہ السلام پر پڑا۔ علمدارِ کربلا زمین پر آ گئے اور درد بھری آواز میں پکارا:*

*"أَدْرِكْنِي يَا أَخِي!"*

"بھائی! مجھے سنبھال لیجیے!"

امام حسین علیہ السلام خیمے کے دروازے کے قریب کھڑے میدان کو دیکھ رہے تھے۔ بی بی زینب سلام اللہ علیہا نے دیکھا کہ بھائی کے چہرے کا رنگ بدل گیا ہے۔ عرض کیا:

*"بھائی جان! آپ کے چہرے پر یہ غم کیوں ہے؟"*

امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:

*"أُخَيَّةُ، لَقَدْ سَقَطَ الْعَلَمُ وَقُتِلَ أَخِي الْعَبَّاسُ."*

"بہن! علم گر گیا... اور میرا بھائی عباس شہید ہو گیا۔"

یہ سننا تھا کہ بی بی زینب سلام اللہ علیہا زمین پر بیٹھ گئیں اور روتے ہوئے پکارنے لگیں:

"*وَا أَخَاهْ! وَا عَبَّاسَاهْ*!"

"ہائے میرے بھائی! ہائے میرے عباس!"

امام حسین علیہ السلام تیزی سے فرات کی طرف پہنچے۔ دیکھا کہ عباس علیہ السلام ساحلِ فرات پر خون میں ڈوبے پڑے ہیں۔ آپ گھوڑے سے اترے، بھائی کے سرہانے بیٹھ گئے اور زار و قطار رونے لگے۔

پھر وہ جملہ فرمایا جس نے قیامت تک دلوں کو رلا دیا:

*"يَعِزُّ وَاللّٰهِ عَلَيَّ فِرَاقُكَ، الْآنَ انْكَسَرَ ظَهْرِي، وَقَلَّتْ حِيلَتِي، وَشَمِتَ بِي عَدُوِّي.*"

"خدا کی قسم! عباس، تمہاری جدائی مجھ پر بہت گراں ہے۔ آج میری کمر ٹوٹ گئی، میری تدبیر ختم ہو گئی، اور دشمن مجھ پر ہنسنے لگے۔"

*السلام علیک یا أبا الفضل العباس علیہ السلام* 💔

#کربلا

مجالس دوئم ۔۔کیا مصنوعی ذہانت مرجعِ تقلید  کی جگہ لے سکتی ہے؟کیا مصنوعی ذہانت قاضی (Judge) یا شرعی عدالت کی جگہ لے سکتی ...
23/06/2026

مجالس دوئم ۔۔

کیا مصنوعی ذہانت مرجعِ تقلید کی جگہ لے سکتی ہے؟

کیا مصنوعی ذہانت قاضی (Judge) یا شرعی عدالت کی جگہ لے سکتی ہے؟

کیا روبوٹ نماز، طواف، نکاح یا طلاق جیسے عبادات و معاملات میں انسان کی نیابت کر سکتے ہیں؟

اس سوال کا جواب دینے کے لیے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایک مرجعِ تقلید یا مجتہد کا کام صرف روایات اور فتاویٰ کو نقل کرنا نہیں ہوتا۔

مجتہد اپنی پوری علمی زندگی درج ذیل امور میں صرف کرتا ہے:

* قرآنِ کریم کا گہرا مطالعہ
* احادیث اور روایات کی تحقیق
* علمِ رجال اور اسناد کا جائزہ
* اصولِ فقہ کے قواعد کا اطلاق
* مختلف دلائل کے درمیان ترجیح قائم کرنا
* نئے اور پیچیدہ مسائل پر شرعی حکم کا استنباط کرنا

مصنوعی ذہانت ان تمام علوم سے متعلق معلومات کو جمع اور منظم کر سکتی ہے، اور بعض اوقات انہیں انتہائی تیزی کے ساتھ پیش بھی کر سکتی ہے، لیکن وہ شرعی ذمہ داری ، تقویٰ، احتیاط، اور دینی جواب دہی کی حامل نہیں ہوتی۔

فتویٰ صرف معلومات نہیں، ذمہ داری بھی ہے

جب ایک مرجع کوئی فتویٰ دیتا ہے تو وہ صرف ایک علمی رائے پیش نہیں کرتا، بلکہ اس فتویٰ کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہونے کا احساس بھی رکھتا ہے۔

اسی لیے فقہِ اسلامی میں فتویٰ دینا ایک نہایت حساس اور سنگین ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔

مصنوعی ذہانت:

* نہ مکلف ہے،
* نہ عادل ہے،
* نہ متقی ہے،
* نہ شرعی طور پر ذمہ دار ہے۔

لہٰذا وہ شرعی معنی میں “مفتی” یا “مرجع” نہیں بن سکتی، اگرچہ وہ فقہی تحقیق میں ایک طاقتور معاون کا کردار ادا کر سکتی ہے۔

فقہی تحقیق میں AI کا ممکنہ کردار

مستقبل میں مصنوعی ذہانت درج ذیل امور میں فقہاء کی مدد کر سکتی ہے:

* ہزاروں روایات کو چند لمحوں میں تلاش کرنا۔
* مختلف فقہی آراء کا تقابلی مطالعہ پیش کرنا۔
* روایات کے مابین مشترک اور مختلف نکات کو واضح کرنا۔
* سابقہ فتاویٰ اور علمی ذخیرے کو منظم کرنا۔
* پیچیدہ علمی مواد کا خلاصہ تیار کرنا۔

اس اعتبار سے AI فقہاء کے لیے ایک جدید تحقیقی آلے (Research Tool) کی حیثیت اختیار کر سکتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے آج کمپیوٹر، ڈیجیٹل کتب خانے اور سرچ انجن استعمال کیے جاتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت علم تک رسائی، تحقیق اور معلومات کے تجزیے میں ایک غیر معمولی معاون ثابت ہو سکتی ہے، لیکن موجودہ فہم کے مطابق وہ انسانی شعور، اخلاقی ذمہ داری، تقویٰ، اجتہاد اور شرعی جواب دہی کی حامل نہیں ہے۔

لہٰذا AI مجتہد کی مدد تو کر سکتی ہے، مگر خود مجتہد یا مرجعِ تقلید کی جگہ نہیں لے سکتی۔

کیا مصنوعی ذہانت قاضی (Judge) یا شرعی عدالت کی جگہ لے سکتی ہے؟

یہ سوال مرجعیت کے مسئلے سے بھی زیادہ حساس ہے، کیونکہ قضاوت (Judiciary) صرف قوانین اور احکام کو جاننے کا نام نہیں، بلکہ ان کا عملی اطلاق بھی ہے۔

ایک قاضی کو بہت سے امور کا جائزہ لینا پڑتا ہے، مثلاً:

* فریقین کے بیانات سننا
* گواہوں کی سچائی اور اعتبار کا اندازہ لگانا
* قرائن اور شواہد کا تجزیہ کرنا
* مقدمے کے حالات و ظروف کو سمجھنا
* انصاف اور مصلحت کے درمیان توازن قائم کرنا

مصنوعی ذہانت ان میں سے بعض امور میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، مثلاً:

* قانونی اور فقہی متون کی تیز رفتار تلاش
* سابقہ فیصلوں کا تجزیہ
* دستاویزات کا جائزہ
* شواہد کی درجہ بندی

لیکن قضاوت صرف معلومات کے تجزیے کا نام نہیں ہے۔

قاضی کی بصیرت اور انسانی فہم

بسا اوقات ایک مقدمے میں وہ عوامل فیصلہ کن ہوتے ہیں جو محض تحریری ریکارڈ میں موجود نہیں ہوتے۔

مثال کے طور پر:

* کسی گواہ کے لہجے سے ظاہر ہونے والی جھجھک
* کسی شخص کے خوف یا اضطراب کی کیفیت
* سماجی اور نفسیاتی حالات
* نیت اور ارادے کے پوشیدہ پہلو

ان امور کو سمجھنے کے لیے انسانی بصیرت، تجربہ اور عملی حکمت درکار ہوتی ہے۔

اسی وجہ سے اسلامی فقہ میں قاضی کے لیے صرف علمی قابلیت کافی نہیں سمجھی گئی، بلکہ عدالت، دیانت، تقویٰ اور دیگر اخلاقی صفات کو بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔

کیا AI مستقبل میں قاضی بن سکتی ہے؟

ممکن ہے مستقبل میں مصنوعی ذہانت اتنی ترقی کر جائے کہ وہ قانونی اور فقہی مواد کا انسانوں سے بہتر تجزیہ کر سکے۔

لیکن تب بھی ایک بنیادی سوال باقی رہے گا:

اگر AI کوئی غلط فیصلہ دے دے تو اس کی شرعی اور اخلاقی ذمہ داری کس پر ہوگی؟

انسانی قاضی اپنے فیصلے کا ذمہ دار ہوتا ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت اپنے اعمال کی ذمہ داری قبول نہیں کر سکتی۔

اسی لیے زیادہ معقول امکان یہ ہے کہ AI مستقبل میں قاضی کی معاون بنے، نہ کہ خود قاضی۔

شرعی معاملات میں AI کا مفید استعمال

مصنف کے مطابق مصنوعی ذہانت کے بہت سے مثبت استعمالات ہو سکتے ہیں، مثلاً:

* اوقاتِ نماز کا تعین
* قبلہ کی سمت معلوم کرنا
* فلکیاتی حسابات
* چاند کی پیدائش اور رؤیت سے متعلق معلومات کا تجزیہ
* فقہی تحقیقات میں مدد
* دینی تعلیم اور تربیت میں معاونت

ان شعبوں میں AI ایک طاقتور آلہ ثابت ہو سکتی ہے، لیکن فیصلہ سازی اور شرعی ذمہ داری کا مرکز بدستور انسان ہی رہے گا۔

کیا روبوٹ نماز، طواف، نکاح یا طلاق جیسے عبادات و معاملات میں انسان کی نیابت کر سکتے ہیں؟

یہ سوال مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی ترقی کے ساتھ زیادہ اہم ہوتا جا رہا ہے۔ اگر مستقبل میں ایسے روبوٹ وجود میں آ جائیں جو انسانوں کی طرح بات کر سکیں، چل پھر سکیں اور پیچیدہ اعمال انجام دے سکیں، تو کیا وہ انسانوں کی طرف سے عبادات اور شرعی اعمال انجام دے سکتے ہیں؟

عبادت کا جوہر کیا ہے؟

اسلامی تعلیمات کے مطابق عبادت صرف ظاہری حرکات و سکنات کا نام نہیں ہے۔

نماز محض قیام، رکوع اور سجدے کا مجموعہ نہیں، بلکہ:

* نیت (Intent)
* قصدِ قربت (اللہ سے قربت کا ارادہ)
* اخلاص
* شعور و توجہ

بھی اس کے بنیادی ارکان ہیں۔

اسی طرح روزہ، حج اور دیگر عبادات کا حقیقی مقصد انسان کی روحانی تربیت اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کو مضبوط کرنا ہے۔

روبوٹ اور نیت کا مسئلہ

فقہ اسلامی میں اکثر عبادات کی صحت کے لیے نیت ضروری ہے۔

روبوٹ اگر نماز کے تمام ظاہری اعمال بھی انجام دے دے تو وہ:

* قصدِ قربت نہیں رکھتا۔
* اللہ کی عبادت کا ارادہ نہیں رکھتا۔
* ثواب کی امید یا عقاب کا خوف نہیں رکھتا۔
* روحانی شعور نہیں رکھتا۔

لہٰذا وہ شرعی معنی میں عبادت انجام نہیں دے سکتا۔

طواف، نماز اور دیگر اعمال کی نیابت

بعض عبادات میں فقہ اسلامی نے نیابت کی اجازت دی ہے، جیسے کسی مرحوم کی طرف سے حج یا بعض اعمال انجام دینا۔

لیکن نیابت کرنے والا شخص خود ایک شعور رکھنے والا، مکلف اور صاحبِ نیت انسان ہونا چاہیے۔

مصنوعی ذہانت یا روبوٹ چونکہ مکلف نہیں ہیں، اس لیے ان کے ذریعے انجام دی گئی نیابت شرعی اعتبار سے محلِ اشکال ہوگی۔

نکاح اور طلاق کے معاملات

نکاح اور طلاق عبادات نہیں بلکہ شرعی معاملات (Transactions) میں شمار ہوتے ہیں۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر روبوٹ یا AI عقدِ نکاح کے الفاظ پڑھ دے یا طلاق کا صیغہ جاری کر دے تو کیا وہ معتبر ہوگا؟

فقہی اعتبار سے معاملہ الفاظ کی ادائیگی تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ:

* ارادہ
* اختیار
* قانونی و شرعی اہلیت
* نمائندگی کی حیثیت

بھی اہم ہیں۔

اگر AI صرف ایک آلہ (Tool) کے طور پر کسی انسان کے حکم پر الفاظ منتقل کرے تو اس کی حیثیت مائیکروفون یا کمپیوٹر جیسی ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر اسے مستقل فاعل (Independent Agent) تصور کیا جائے تو موجودہ فقہی اصولوں کے مطابق اسے شرعی شخصیت حاصل نہیں ہے۔

خلاصہ

مصنوعی ذہانت اور روبوٹ بہت سے دینی اور فقہی امور میں معاونت فراہم کر سکتے ہیں، لیکن:

* ان کے پاس شعور نہیں۔
* ان کے پاس نیت نہیں۔
* وہ شرعی طور پر مکلف نہیں۔
* وہ اخلاقی اور قانونی ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔

اسی وجہ سے موجودہ اسلامی فقہی اصولوں کی روشنی میں وہ انسان کی جگہ عبادات یا شرعی ذمہ داریوں کو مکمل طور پر انجام نہیں دے سکتے۔

نتیجۂ بحث

مصنوعی ذہانت ایک عظیم علمی اور تکنیکی نعمت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اسے اس کے صحیح مقام پر رکھا جائے۔

یہ:

* علم تک رسائی آسان بنا سکتی ہے،
* تحقیق میں مدد دے سکتی ہے،
* فقہی اور دینی مواد کو منظم کر سکتی ہے،
* اور علماء و محققین کے لیے ایک طاقتور معاون بن سکتی ہے۔

لیکن یہ انسانی عقل، شعور، اخلاقی ذمہ داری، اجتہاد، مرجعیت اور روحانی تجربے کا مکمل متبادل نہیں بن سکتی۔

اسی لیے مسلمان AI سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، مگر عقیدہ، اجتہاد، فتویٰ، قضاوت اور عبادت جیسے بنیادی دینی امور میں انسانی عقل اور اہلِ علم کی ضرورت برقرار رہے گی۔

Address

Najaf Ashraf
Najaf
54001

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when باب مدینة العلم posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category