31/08/2026
🕯یا نبٌی آپٌ سے اظہار عقیدت کے لیے🙇
دل کو لفظوں کے سہارے کی ضرورت تو نہیں
میری پلکوں پہ جو لرزاں ہیں گہر کافی ہیں
پھر بھی دستور جہاں ہے کہ سر بزم سخن
نعت کا شعر کہا جائے نکالا جائے
اپنے جذبات کو اشعار میں ڈھالا جائے
مسئلہ ہےکہ وہ الفاظ کہاں سے لاؤں
جو میری کیفیت دل کے نمائندہ ہوں
مجھ سے بڑھ کر میرے اعمال پر شرمندہ ہوں
کاش ایسے بھی کچھ الفاظ ادب میں ہوتے
آپٌ کی شان رسالت کے مساوی نہ سہی
آپٌ کے نقش کف پا کا احاطہ کرتے
آپٌ اک نور ہیں اور نور کی مداحی میں
کم سے کم جگنوؤں جیسا ہی اجالا کرتے۔
ایسے الفاظ مگر عالم امِکاں میں کہاں
بس یہی سوچ کر اے صلی علی رحمت کُل
مجھ سے اک لفظ بھی قرطاس پہ لکھا نہ گیا
بے بسی حد سے بڑھی جب
میری پلکوں سے چلی
اور میرے دامن عصیاں میں اُجالا بھرتی
پھر اسی بحر مودّت کی طرف لوٹ گئی
جس کی امواج شب و روز عقیدت گر
میری پلکوں کے کناروں کو بھگو جاتی ہیں
یا نبٌی آپٌ سے اظہار محبت کے لیے
مجھ کو لفظوں کے سہارے کی ضرورت ہی نہیں
میری پلکوں پہ جو لرزاں ہیں گُہر حاضر ہیں۔😢🙏