16/02/2026
زيارةُ إدارةِ معهدِ القرآن Institute of Quran & Ahadith
إلى مؤسَّسةِ الكوثرِ في النجفِ الأشرف
في إطارِ تعزيزِ التعاونِ العلميِّ وتبادلِ الخبراتِ الأكاديمية، استقبلت مؤسَّسةُ الكوثرِ لتخصُّصاتِ العلومِ الدينية في النجفِ الأشرف وفدًا من إدارةِ معهدِ القرآن، يرافقه عددٌ من الأساتذة وأعضاءِ اللجنةِ العلميةِ في المعهد
وجاءت هذه الزيارةُ تأكيدًا على عمقِ الروابطِ العلميةِ بين المؤسَّستين، وسعيًا إلى تطويرِ مجالاتِ العملِ المشترك، ولا سيَّما في ميدانِ إعدادِ مناهجِ الخطابة، وأعمالِ التحقيقِ والترجمةِ العلمية
وقدَّم الوفدُ خلال اللقاءِ مجموعةً من المقترحاتِ الراميةِ إلى الارتقاءِ بالمستوى العلميِّ، كما اطَّلع على آراءِ المختصِّين في المؤسَّسة بشأنِ آلياتِ إعدادِ المناهجِ، وسبلِ تطويرِ مشاريعِ التحقيقِ والترجمة، إضافةً إلى مناقشةِ ترشيحِ أساتذةٍ أكفَّاءَ للقيامِ بهذه المهامِّ العلمية
وتأتي هذه الخطوةُ ضمن رؤيةٍ مشتركةٍ ترمي إلى توسيعِ آفاقِ التعاونِ العلميِّ، وتعزيزِ العملِ المؤسَّسيِّ بما يخدمُ الرسالةَ العلميةَ والدعويةَ في الحوزةِ العلميةِ المباركة.
15/02/2026
مؤسسہ الکوثر کے شعبۂ الواعظین میں مبلغین و واعظین کے لیے جاری نویں تربیتی ورکشاپ سے سماحة السید ضیاء الحسن (دام عزہ) نے خطاب فرمایا
آپ نے اپنے فکرانگیز اور تربیتی خطاب میں آیتِ کریمه قُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ
کی روشنی میں عمل کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ تبلیغ محض گفتار سے نہیں بلکہ عمل کے ذریعے ہونی چاہیے، کیونکہ جب اللہ، اس کا رسول اور مومنین اعمال کو دیکھتے ہیں تو انسان کا عمل خالصتاً اللہ کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ ریاکاری اور دکھاوے کے لیے۔ جب عمل اللہ کے لیے انجام دیا جاتا ہے تو وہی عمل بارگاہِ الٰہی میں مقبول ٹھہرتا ہے
آپ نے زور دیا کہ عمل میں اخلاص اور پاکیزگی ہو تو وہی حقیقی کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے۔ داعیٔ دین کو چاہیے کہ وہ خود کو عملی میدان میں مصروف رکھے تاکہ وہ آسمانوں میں معروف ہو۔ اسی تناظر میں آپ نے فرمایا کہ تعریف اور مدح کا اصل حق دار وہی ہوتا ہے جو خود کو اس کا اہل بنائے
میدانِ تبلیغ کو انبیاء و اولیاء کا راستہ قرار دیتے ہوئے آپ نے یہ سوال اٹھایا کہ آیا ہم اس مقدس راستے میں شامل ہونے کے اہل ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں، تو خود کو اہل بنانا ہماری ذمہ داری ہے۔ اس موقع پر آپ نے ایک حدیث کے مفہوم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: من عاشقهم صار منهم
یعنی جو ان سے محبت کرتا ہے وہ انہی میں شمار ہوتا ہے۔ لہٰذا انسان کو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ جس مکتب یا مدرسہ سے وابستہ ہے، آیا وہ واقعی امین ہے یا نہیں، جیسے دنیاوی معاملات میں امانت داری کو پرکھا جاتا ہے
سماحة السید نے علم کے حصول کے لیے صبر و استقامت کو بنیادی شرط قرار دیا اور علماء کے کردار و عمل کو نمونۂ عمل کے طور پر پیش کیا۔ بالخصوص شیخ الجامعة قدس سرہ کی علمی و عملی خدمات کو مثالی قرار دیتے ہوئے طلبہ کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی تلقین فرمائی
آخر میں آپ نے امام علیہ السلام سے مضبوط رابطہ، کثرتِ زیارت اور زیارتِ جامعہ کبیرہ کی پابندی پر زور دیا، اور دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اخلاصِ عمل اور حقیقی معنوں میں خدمتِ دین کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
14/02/2026
مؤسسہ الکوثر کے شعبۂ الواعظین میں مبلغین و واعظین کے لیے جاری آٹھویں تربیتی ورکشاپ سے سماحة السید عز الدین الحکیم (دام عزّہ) نے خطاب فرمایا اور تبلیغِ دین کے بنیادی تقاضوں پر نہایت بصیرت افروز اور فکر انگیز گفتگو کی۔
سماحة سید نے اپنے خطاب کا آغاز آیۂ تبلیغ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تبلیغِ دین ایک عظیم اور نہایت ذمہ دارانہ فریضہ ہے، تاہم ہر شخص اس منصب کا اہل نہیں ہوتا۔ آپ نے فرمایا کہ مبلغ کے لیے لازم ہے کہ میدانِ تبلیغ میں قدم رکھنے سے قبل وہ علم، بصیرت، اخلاص اور اعلیٰ اخلاق کے اسلحے سے خود کو آراستہ کرے
آپ نے فرمایا کہ جب ایک طالبِ علم دینِ الٰہی کی خاطر گھر اور اہلِ خانہ کو ترک کر کے راہِ تبلیغ میں نکلتا ہے تو اس کا بنیادی فریضہ یہ ہوتا ہے کہ وہ پہلے خود سیکھے اور پھر دوسروں تک دین کی تعلیم پہنچائے۔ طلبُ العلم درحقیقت تبلیغ کا مقدمہ ہے، لیکن محض علم حاصل کر لینا کافی نہیں، بلکہ اس علم کو مؤثر انداز میں لوگوں تک منتقل کرنا اصل ذمہ داری ہے
سماحة سید نے زور دیا کہ طالبِ علم کو ابتدائی مرحلے میں خود کو اہل، باصلاحیت اور مفید بنانا چاہیے تاکہ وہ معاشرے کے لیے حقیقی معنوں میں نافع ثابت ہو سکے۔ آپ نے فرمایا کہ مبلغ کے الفاظ سے زیادہ اس کے کردار کو پرکھا جاتا ہے۔ لوگ اس کی باتوں کے ساتھ ساتھ اس کے عمل کو بھی دیکھتے ہیں کہ آیا وہ خود اپنی تبلیغ پر عمل پیرا ہے یا نہیں، اور کیا وہ غیبت و دیگر اخلاقی آفات سے اجتناب کرتا ہے یا نہیں
آپ نے واضح کیا کہ اسی عملی پاکیزگی، تقویٰ اور اخلاقی عظمت کی بنا پر لوگ مبلغ کے ہاتھ کو بوسہ دیتے ہیں اور اسے احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، کیونکہ عوام کے نزدیک مبلغ، اقوال و سیرتِ ائمۂ اہلِ بیتؑ کا آئینہ دار ہوتا ہے اور اس کے ذریعے اس کا اللہ تعالیٰ سے تعلق محسوس کیا جاتا ہے
سماحة سید عز الدین الحکیم (دام عزّہ) نے مزید فرمایا کہ مبلغ کو کسی خاص جماعت، گروہ یا تنظیم کا نمائندہ نہیں بننا چاہیے، بلکہ اس کی اولین اور آخری وابستگی ولایتِ ائمۂ اہلِ بیت علیہم السلام سے ہونی چاہیے۔ ائمہؑ کی تعلیمات میں عرب و عجم یا کسی نسلی و لسانی امتیاز کی کوئی گنجائش نہیں، بلکہ معیار صرف تقویٰ ہے۔ تعصب اور گروہ بندی مبلغ کو اختلاف اور تنافر کی راہوں میں الجھا دیتی ہے، جو تبلیغِ دین کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے
آخر میں آپ نے تاکید فرمائی کہ مبلغ کو تزکیۂ نفس، تقویٰ، مسلسل جدوجہد، عملی تربیت اور ائمۂ اہلِ بیتؑ سے مضبوط معنوی ارتباط پر خصوصی توجہ دینی چاہیے، کیونکہ حقیقی ولایت ہی اس کی پہلی اور آخری پناہ گاہ ہے
13/02/2026
مؤسسہ الکوثر، شعبۂ الواعظین میں مبلغین و واعظین کے لیے جاری ساتھویں تربیتی ورکشاپ سے سماحۃ الشیخ علی معصومی (دام ظلّہ) نے خطاب فرمایا
جناب شیخ نے اس حدیثِ مبارکہ کو اپنے کلام کا سرنامہ قرار دیا وَأَحْبِبْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مُفَارِقُهُ، وَاعْمَلْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَجْزِيٌّ بِهِ
یعنی: جس سے چاہو محبت کرلو، تم نے ایک دن اس سے جدا ہونا ہے؛ اور جو چاہو عمل کرلو، اس کا بدلہ تمہیں ضرور ملے گا۔
آپ نے فرمایا کہ یہ ارشاد انسان کو دو بنیادی حقیقتوں کی یاد دہانی کراتا ہے: فراقِ دنیا اور حسابِ آخرت۔ اسی تناظر میں آپ نے “حبُّنا للہ و بُغضُنا للہ” کے اصول کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ مومن کی محبتیں اور نفرتیں ذاتی خواہشات یا دنیاوی مفادات کے تابع نہیں ہونی چاہئیں، بلکہ صرف اور صرف رضائے الٰہی کے تابع ہونی چاہئیں۔ اگر محبت اللہ کے لیے ہوگی تو جدائی کا صدمہ بھی ایمان کو متزلزل نہیں کرے گا، اور اگر عمل اللہ کے لیے ہوگا تو جزا کی امید انسان کو استقامت عطا کرے گی
سماحۃ الشیخ نے مزید وضاحت کی کہ ایک مبلغ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس شعور کے ساتھ زندگی گزارے کہ ہر تعلق عارضی اور ہر عمل کا حساب یقینی ہے۔ لہٰذا تبلیغ کا میدان اخلاص، زہد اور احساسِ ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے
آپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اصلاحِ معاشرہ سے پہلے اصلاحِ نفس اور اصلاحِ خاندان ناگزیر ہے۔ مبلغ کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے اپنے گھر میں دینی ماحول قائم کرے، اپنی اولاد کی صحیح تربیت کرے اور اپنے کردار کو دعوت کا عملی نمونہ بنائے
آخر میں مجلس کے اختتام پر آیت اللہ شیخ محسن علی نجفی قدس سرہ کے بلندیِ درجات کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی
12/02/2026
مؤسسہ الکوثر، شعبۂ واعظین میں مبلغین و واعظین کے دورۂ تربیت کا چھٹا سیشن منعقد
مؤسسہ الکوثر کے شعبۂ واعظین کے زیرِ اہتمام مبلغین و واعظین کے دورۂ تربیت کا چھٹا سیشن آج منعقد ہوا۔ اس موقع پر استاذِ واعظین، سماحة الشیخ کاظم بھادلی (دام ظلّہ) نے خطاب فرمایا
آپ نے تبلیغِ دین کی عظمت، خطابت کی اہمیت اور وعظ و خطاب کے مؤثر اسالیب پر سیر حاصل گفتگو کی۔ نکتۂ اوّل کے طور پر تیاریٔ درس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ منبر پر جانے سے قبل مکمل مطالعہ اور بھرپور تیاری ناگزیر ہے۔ اپنے ذاتی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے آپ نے بتایا کہ وہ ایک ہفتے تک روزانہ تین گھنٹے درس کی تیاری کرتے ہیں، لہٰذا بغیر تیاری کے منبر پر جانا مناسب نہیں
آپ نے حدیثِ نبوی ص نقل کی أقربكم مني يوم القيامة أحسنكم أخلاقاً
اور اخلاقِ حسنہ کی ضرورت و اہمیت پر زور دیا۔ نیز ہدایت فرمائی کہ محاضرات میں عدل و انصاف کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے
اختتام پر آپ نے تدریب و تمرین، کلام اور اشاروں میں ہم آہنگی، ضبطِ جذبات اور خود اعتمادی کو ایک کامیاب خطیب کی بنیادی صفات قرار دیا
آخر میں شہدائے اسلام اور مراجعِ عظام، بالخصوص شیخ الجامعہ آیت اللہ شیخ محسن علی نجفی قدس سرہٗ کی بلندیٔ درجات کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی
11/02/2026
مؤسسہ الکوثر، شعبۂ واعظین میں مبلغین و واعظین کے دورۂ تربیت کا پانچواں سیشن منعقد
مؤسسہ الکوثر کے شعبۂ واعظین کے زیرِ اہتمام مبلغین و واعظین کے دورۂ تربیت کا پانچواں سیشن آج منعقد ہوا، جس سے سماحۃ السید جواد الخوئی (دام ظلہ) نے خطاب فرمایا۔
سماحۃ السید نے اپنے علمی و فکری خطاب میں مبلغین و واعظین کی ذمہ داریوں، تبلیغِ دین کے اصولوں اور خطابت کے بنیادی اوصاف پر نہایت اہم نکات بیان کیے۔ آپ نے فرمایا کہ دین کا کوئی مخصوص لباس نہیں ہوتا، بلکہ اصل دین عمل اور کردار کا نام ہے۔ البتہ جب کوئی شخص لباسِ دین زیبِ تن کرتا ہے تو اس پر دینی تقاضوں کی رعایت اور ذمہ داری دوسروں کی نسبت بڑھ جاتی ہے، کیونکہ وہ دین کا نمائندہ شمار ہوتا ہے۔
آپ نے مبلغین کو آیتِ نفر کا مصداق قرار دیتے ہوئے اس آیت کی اہمیت بیان کی اور فرمایا کہ دین کی تبلیغ ایک سنجیدہ اور علمی ذمہ داری ہے، جس کے لیے مناسب تیاری اور شعور ناگزیر ہے۔ مدینہ منورہ میں دعوتِ دین کے ابتدائی دور کی صعوبتوں اور مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے کہا کہ انبیاء و اولیاء علیہم السلام نے شدید مشکلات کے باوجود دین کا پیغام پہنچایا، لہٰذا مبلغ کو بھی صبر، حکمت اور استقامت کو شعار بنانا چاہیے۔
مزید فرمایا کہ نجف اشرف مرجعیت اور تشیع کا مرکز ہے، اور یہاں سے جانے والے طلبہ و مبلغین درحقیقت مرجعیت اور مکتبِ تشیع کے سفیر ہوتے ہیں، اس لیے ان کی ذمہ داری عام افراد سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
آپ نے امام صادق علیہ السلام کے فرمان «كُونُوا دُعَاةً بِغَيْرِ أَلْسِنَتِكُمْ» کا حوالہ دیتے ہوئے تاکید کی کہ مبلغ صرف زبان سے نہیں بلکہ اپنے اخلاق، کردار اور عمل کے ذریعے دعوت دے۔
خطیب کے اوصاف بیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ ایک کامیاب خطیب کا ذوقِ سلیم رکھنا ضروری ہے۔ خطیب کا کام لوگوں کو جمع کرنا اور دلوں میں الفت پیدا کرنا ہے، نہ کہ تفرقہ ڈالنا
نیز خطیب کو چاہیے کہ وہ لوگوں سے ان کی عقل و فہم کے مطابق گفتگو کرے تَكَلَّمُوا عَلَى قَدْرِ عُقُولِهِمْ
آپ نے فرمایا کہ سید خوئی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ بھی خطیب بننے کی تمنا رکھتے تھے، کیونکہ خطابت ایک عظیم ذمہ داری ہے۔
آخر میں آپ نے شہدائے اسلام اور مراجعِ عظام، بالخصوص شیخ الجامعہ آیت اللہ شیخ محسن علی نجفی قدس سرہٗ کی بلندیِ درجات کے لیے فاتحہ خوانی کی۔
10/02/2026
مؤسسہ الکوثر، قسمُ الواعظین میں مبلغین کی تربیت کے سلسلے میں چوتھا محاضرہ
آج مؤسسہ الکوثر کے قسمُ الواعظین میں مبلغین و واعظین کی تربیت کے سلسلے میں چوتھا محاضرہ منعقد ہوا، جس سے سماحۃ السید محمد القبانچی دام عزہ نے علمی و فکری خطاب فرمایا
سماحۃ السید نے اپنے خطاب میں نظریۂ مہدویت کی اہمیت کو قرآن و سنت کے تناظر میں نہایت جامع اور مدلل انداز میں بیان کیا۔ آپ نے فرمایا کہ قرآنِ مجید میں مطلق احکام سے متعلق تقریباً 500 آیات اور عمومِ عبادات سے متعلق 110 آیات موجود ہیں، جب کہ عقیدۂ مہدویت کے بارے میں قرآنِ کریم میں 168 آیات پائی جاتی ہیں، جو اس عقیدے کی بنیادی اور غیر معمولی اہمیت کی واضح دلیل ہیں
مزید وضاحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عقیدۂ مہدویت کے بارے میں تقریباً 560 روایات منقول ہیں، جبکہ آئمۂ اہلِ بیت علیہم السلام سے اس موضوع پر تقریباً 2000 روایات وارد ہوئی ہیں، جو اس عقیدے کی مضبوط اعتقادی اور فکری بنیاد کو واضح کرتی ہیں
سماحۃ السید نے اس نکتے پر خصوصی زور دیا کہ عقیدۂ مہدویت کسی ایک فرقے یا صرف مسلمانوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ تصور تمام ادیانِ سماوی میں کسی نہ کسی صورت میں موجود رہا ہے، جو اس کے عالمی اور آفاقی پہلو کو نمایاں کرتا ہے
انہوں نے مزید بتایا کہ عصرِ غیبت سے سقوطِ صدام تک ایک اندازے کے مطابق قضیۂ امام مہدی علیہ السلام پر مختلف زبانوں میں دو ہزار سے زائد کتب تصنیف کی جا چکی ہیں، جو اس موضوع پر علمی تسلسل اور فکری گہرائی کا روشن ثبوت ہے
محاضرہ کے اختتام پر سماحۃ السید محمد القبانچی دام عزہ نے مبلغین کی تربیت کے لیے اس نوعیت کے علمی و فکری محاضرات کے انعقاد پر مؤسسہ الکوثر کے اقدام کو سراہا، اور نظریۂ مہدویت کے موضوع پر مزید خصوصی علمی دورہ جات کے اہتمام کی تلقین فرمائی
آخر میں آپ نے محسنِ ملت، استادِ بزرگوار شیخ محسن علی نجفی قدس سرہ کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا فرمائی
09/02/2026
تربیتی دورہ برائے مبلغین
مؤسسۂ الکوثر، قسمُ الواعظین کے زیرِ اہتمام ماہِ مبارک رمضان میں تبلیغ کے لیے جانے والے مبلغین و واعظین کی تربیت کے سلسلے میں دروس کا تیسرا محاضرہ منعقد ہوا، جس سے سماحة العلامة الشیخ مہدی قرشی دام عزہ نے خطاب فرمایا۔
آپ نے اپنے بصیرت افروز خطاب میں مبلغین کو قیمتی نصائح سے نوازا اور مؤثر اسلوبِ تبلیغ پر خصوصی زور دیا۔ بالخصوص نوجوانوں کے ساتھ خصوصی نشستوں کے انعقاد کی اہمیت پر تاکید فرمائی، تاکہ نئی نسل کو بہتر انداز میں دین سے جوڑا جا سکے
آپ نے محسنِ ملت، استادِ بزرگوار شیخ محسن علی نجفی (قدس سرہٗ) کی تبلیغی میدان میں کی جانی والی خدمات کو سراہتے ھوئے اسلوب تبلیغ کو نمونہ عمل قرار دیا اور آپ قدس سرہ کی بلندیٔ درجات کے لئے خصوصی دعا فرمائی
08/02/2026
تربیتی دورہ برائے مبلغین
مؤسسۂ الکوثر، قسمُ الواعظین کے زیرِ اہتمام ماہِ مبارک رمضان میں تبلیغ کے لیے جانے والے مبلغین و واعظین کی تربیت کے سلسلے میں دروس کا دوسرا محاضرہ سماحة الشیخ قیصر عباس (دام توفیقہ) نے ارشاد فرمایا۔
اپنے خطاب میں آپ نے ماہِ رمضان المبارک میں مؤثر تبلیغ کے بنیادی اصولوں پر روشنی ڈالی اور دینی مطالب کے انتخاب و ترتیب کے لیے معتبر علمی کتب سے استفادہ کی اہمیت بیان کی۔ بالخصوص آپ نے ماہِ رمضان میں تفسیر الکوثر سے بھرپور استفادہ کرنے کی تلقین کی اور فرمایا کہ یہ تفسیر اپنے عام فہم،مدلل اور عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ اسلوب کی وجہ سے مبلغین کے لیے ایک نہایت مفید اور قابلِ اعتماد ذریعہ ہے، جس کے ذریعے قرآنی معارف کو عوام تک مؤثر انداز میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔
محاضرہ کے اختتام پر محسنِ ملت، استادِ بزرگوار شیخ محسن علی نجفی (قدس سرہٗ) کے بلندیٔ درجات کے لیے خصوصی دعا کی گئی، نیز اسلام آباد میں پیش آنے والے افسوسناک دھماکے میں شہید ہونے والے شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے بھی دعا کا اہتمام کیا گیا
07/02/2026
تربیتی دورہ برائے مبلغین
مؤسسۂ الکوثر قسمُ الواعظین کے زیرِ اہتمام ماہِ مبارک رمضان میں تبلیغ کے لیے جانے والے مبلغین و واعظین کی تربیت کے سلسلے میں دروس کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ اس سلسلے کا پہلا محاضرہ سماحة الشیخ ظفر عباس شہانی (دام توفیقہ) نے ارشاد فرمایا
آپ نے اپنے ایمان افروز خطاب میں مبلغین اور واعظین کو اس جانب متوجہ کیا کہ دعوتِ دین محض الفاظ تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ کردار، اخلاق اور عملی نمونے کے ذریعے لوگوں کو دینِ مبین کی طرف راغب کرنا اصل رسالی ذمہ داری ہے۔
خصوصی طور پر ماہِ مبارک رمضان میں اپنی تبلیغی و دعوتی ذمہ داریوں کو نہایت احسن، مؤثر اور بااخلاص انداز میں ادا کرنے کی تلقین فرمائی۔
محاضرے کے اختتام پر محسنِ ملت، استادِ بزرگوار شیخ محسن علی نجفی قدس سرہٗ کے بلندیٔ درجات، نیز اسلام آباد میں پیش آنے والے دھماکے میں شہید ہونے والے شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی دعا کی گئی