05/08/2026
مولانا محمد عمر سربازی یہ کہتے ہیں:
🔸 آنچه من دارم اگر سگ ببیند
🔸 سگ دامن پوستین زمن برچیند !!
ترجمہ:
🔸 جو کچھ میرے پاس ہے، اگر کوئی کتا دیکھ لے،
🔸 تو وہ مجھ سے اپنی پوستین(کھال) کا دامن بھی چھین لے!
📚 مکتوباتِ سربازی، جلد 4، صفحہ 254
اور ایک اور جگہ وہ کہتے ہیں کہ:
🔻 سگِ کویِ شہانِ نقشبندم...
"میں نقشبندی علماء کی گلی کا کتا ہوں۔"
📚 مکتوباتِ سربازی، جلد 4، صفحہ 237
09/07/2026
اہلِ سنت کے علماء کے کلام میں یزید کا کفر
الباعونی لکھتے ہیں:
"اور میرا گمان نہیں کہ جس شخص نے اس (فعل) کو حلال سمجھا اور اہلِ بیتِ نبویؐ کے ساتھ ایسا طرزِ عمل اختیار کیا، اس نے اسلام کی خوشبو تک سونگھی ہو، یا حضرت محمد ﷺ پر ایمان لایا ہو، یا ایمان کی مٹھاس اس کے دل میں رچی بسی ہو۔ اور نہ ہی وہ اپنے رب پر، ایک پلک جھپکنے کے برابر بھی، ایمان رکھتا تھا، حالانکہ قیامت کے دن سب اسی کے سامنے جمع کیے جائیں گے اور اپنے رب ہی کی طرف انہیں لوٹ کر جانا ہے۔"
حوالہ: جواہر المطالب في مناقب علي بن أبي طالب، جلد 2، صفحہ 312، مجمع إحياء الثقافة الإسلامية۔
09/07/2026
اہلِ سنت کے علماء کے کلام میں یزید کا کفر
ابن قفطی نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے:
وَقَالَ ابْنُ الْقِفْطِيِّ فِي تَارِيخِهِ: إِنَّ السَّبْيَ لَمَّا وَرَدَ عَلَى يَزِيدِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، خَرَجَ لِتَلَقِّيهِ، فَلَقِيَ الْأَطْفَالَ وَالنِّسَاءَ مِنْ ذُرِّيَّةِ عَلِيٍّ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ، وَالرُّءُوسُ عَلَى أَسِنَّةِ الرِّمَاحِ، وَقَدْ أَشْرَفُوا عَلَى ثَنِيَّةِ الْعُقَابِ، فَلَمَّا رَآهُمْ أَنْشَدَ:
لَمَّا بَدَتْ تِلْكَ الْحُمُولُ وَأَشْرَقَتْ
تِلْكَ الرُّءُوسُ عَلَى رُبَى جَيْرُونَ
نَعَبَ الْغُرَابُ فَقُلْتُ: قُلْ أَوْ لَا تَقُلْ
فَقَدِ اقْتَضَيْتُ مِنَ الرَّسُولِ دُيُونِي
"جب اہلِ بیتؑ کے قیدی یزید بن معاویہ کے پاس لائے گئے تو وہ ان کے استقبال کے لیے نکلا۔ اس نے حضرت علیؑ، حضرت حسنؑ اور حضرت حسینؑ کی اولاد میں سے بچوں اور خواتین کو دیکھا، جبکہ شہداء کے سر نیزوں کی انیوں پر بلند تھے، اور وہ ثنیۃ العقاب کے مقام پر پہنچ چکے تھے۔ جب یزید نے انہیں دیکھا تو اس نے یہ اشعار پڑھے:
جب وہ سواریاں نمودار ہوئیں،
اور وہ سر جیرون کی بلند زمین پر نمایاں ہوئے،
تو کوّا بولا، میں نے کہا: تو بول یا نہ بول،
میں نے تو رسول سے اپنے قرض وصول کر لیے۔
اس کا مطلب یہ تھا کہ اس نے امام حسینؑ کو ان لوگوں کے بدلے قتل کیا جنہیں رسول اللہ ﷺ نے بدر کے دن قتل کیا تھا، جیسے اس کے دادا عتبہ اور اس کے دیگر آباء و اجداد۔
اور جو شخص اس قسم کی بات کہے، وہ اسلام سے بری ہے، اور اس کے کفر میں کوئی شک نہیں کیا جا سکتا۔
حوالہ: جواہر المطالب فی مناقب علی بن ابی طالب، جلد 2، صفحات 300–301، مجمع احیاء الثقافة الإسلامیة۔
06/07/2026
📖گزشتہ سال ترکی میں ایک اخبار نے "عثمانی حکومت میں لواط" کے موضوع پر لکھی گئی ایک کتاب کے مصنف کے خلاف بہتان تراشی کا مقدمہ دائر کیا۔ بعد میں جب یہ معلوم ہوا کہ کتاب میں بیان کیے گئے تمام دعوے حقیقت پر مبنی تھے اور عثمانی حکمرانوں کے درمیان لواط ایک عام عمل تھا، تو مصنف کو بری کر دیا گیا، جبکہ مدعی کو ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔
لواط عمری مذہب کی ثقافت کی بنیاد ہے، اور تاریخ میں جتنی بھی حکومتیں اس گمراہ فرقے سے منسوب رہی ہیں، ان سب میں لواط کو فروغ دیا جاتا رہا۔
‼️ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے خلیفہ عمر بن خطاب کی سنت پر عمل کرتے تھے، کیونکہ ان کے بقول عمر بن خطاب بھی اپنے زمانے کے نمایاں مفعولین میں سے تھے۔
14/06/2026
✅ اہلِ بیت علیہم السلام سے دشمنی کا نتیجہ 🔥 جہنم کی آگ ہے 🔥
ابن حبان، جو ایک سنی عالم ہیں، روایت کرتے ہیں:
🔹 أخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ یَزِیدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَیْمُ بْنُ حَیَّانَ، عَنْ أَبِی الْمُتَوَکِّلِ النَّاجِیِّ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: "وَالَّذِی
نَفْسِی بِیَدِهِ، لَا یُبْغِضُنَا أَهْلَ الْبَیْتِ رَجُلٌ إِلَّا أَدْخَلَهُ الله النار"
🔻 حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو شخص ہم اہلِ بیت سے بغض اور دشمنی رکھے گا، اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں داخل کرے گا۔"
شعیب الارنؤوط اس روایت کی سند کے بارے میں لکھتے ہیں:
👈 إسناده حسن (اس کی سند حسن ہے)۔
📚 صحیح ابن حبان، جلد 15، صفحہ 435، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ
⁉️ پھر ان خلفاء اور بعض صحابہ، جیسے عائشہ اور معاویہ، جنہوں نے اہلِ بیتؑ سے جنگ کی یا ان سے دشمنی کی، اور عمر و ابوبکر جن کے بارے میں یہ عقیدہ رکھا جاتا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کو شہید کیا، ان کا اس صحیح حدیث کی روشنی میں کیا حکم ہے؟"
04/06/2026
حدیث غدیر وہ مشہور و معروف اور متواتر حدیث ہے جس کا انکار ممکن نہیں۔
اس حدیث کے متعلق ابن شاهين (ت ٣٨٥هـ) لکھتا ہے:
وَقَدْ رَوَى حَدِيثَ غَدِيرِ خُمٍّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ مِائَةِ نَفْسٍ، وَفِيهِمُ الْعَشَرَةُ، وَهُوَ حَدِيثٌ ثَابِتٌ، لَا أَعْرِفُ لَهُ عِلَّةً. تَفَرَّدَ عَلِيٌّ بِهَذِهِ الْفَضِيلَةِ، لَمْ يَشْرَكْهُ فِيهَا أَحَدٌ.
حديث غدیر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریباً سو صحابہ نے روایت کیا ہے جن میں عشرہ( مبشرہ) بھی شامل ہیں ،وہ ایسی ثابت حدیث ہے جس میں کسی بھی قسم کی علت نہیں پائی جاتی، اس فضیلت میں علی (علیہ السلام )منفرد ہیں اس میں کوئی آپ کا شریک نہیں ہے ۔
[الكتاب: شرح مذاهب أهل السنة ومعرفة شرائع الدين والتمسك بالسنن
المؤلف: أبو حفص عمر بن أحمد بن عثمان بن أحمد بن محمد بن أيوب بن أزداذ البغدادي المعروف بـ ابن شاهين (ت ٣٨٥هـ)
المحقق: عادل بن محمد
الناشر: مؤسسة قرطبة للنشر والتوزيع
الطبعة: الأولى، ١٤١٥هـ – ١٩٩٥م ،ص 103]
https://shamela.ws/book/13124/103