انتہائی ایماندار پولیس ملازم
بسم الله پڑھ کررشوت لینے
والا پولیس اہلکار
Online islaam acadmey_najaf ashraf
quran islaam online teaching center
20/01/2026
عَنِ الإِمَامِ الصَّادِقِ عَلَیْهِ السَّلَامُ:
«مَنْ أَرَادَ عِزًّا بِلا عَشِیرَةٍ، وَغِنًى بِلا مَالٍ، وَهَیْبَةً بِلا سُلْطَانٍ، فَلْیَنْقَلْ مِنْ ذُلِّ مَعْصِیَةِ اللَّهِ إِلَى عِزِّ طَاعَتِهِ».
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:
"جو شخص بغیر خاندان و قبیلے کے عزت، بغیر دنیوی مال و دولت کے بے نیازی، اور بغیر حکومت و اقتدار کے رعب و وقار کا طلبگار ہے، تو اسے چاہیے کہ خدا کی نافرمانی کی ذلت و خواری کو چھوڑ کر، اس کی فرمانبرداری کی سربلندی و عزت کی طرف کوچ کر جائے۔"
اخلاقی پیغام:
اس حدیثِ پاک سے ہمیں یہ قیمتی سبق ملتا ہے کہ حقیقی عزت، بے نیازی اور وقار کا سرچشمہ دنیاوی وسائل، خاندان یا سیاسی طاقت نہیں ہے۔ بلکہ یہ سب کچھ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور اطاعت سے حاصل ہوتا ہے۔ گناہ انسان کو اندرونی اور بیرونی طور پر ذلیل کرتا ہے، جبکہ اطاعتِ الہی اسے ایسا عزیز بناتی ہے جس کی کوئی مثال نہیں۔ ہمیں اپنی تمام تر کوششوں کا مرکز اللہ کی خوشنودی کو بنانا چاہیے، کیونکہ حقیقی کامیابی اور بلندی اسی میں پوشیدہ ہے۔ دنیا کے عارضی ٹھاٹھ باٹھ سے دل نہ لگائیں، بلکہ اس ہمیشہ رہنے والی عزت کو تلاش کریں جو خدا کے قرب سے ملتی ہے۔
11/01/2026
🇵🇰 مہنگائی کا طوفان
20 کلو آٹے کا تھیلا 3000 روپے کی حد عبور کر چکا ہے۔
کیا مزدور، غریب اور سفید پوش اب سانس بھی قرض پر لیں؟
ہر ہاتھ میں موبائل ہے،
اب خاموشی نہیں— آواز اٹھانے کا وقت ہے۔
📢
یہ کسی ایک فرد کا مسئلہ نہیں،
یہ ہر گھر، ہر چولہے کی جنگ ہے۔
اگر آج نہ بولے تو کل دیر ہو جائے گی۔
اپنا حصہ ڈالو،
آج — ابھی۔
✊ خاموشی نہیں، حق مانگو!
عن الإمام علي عليه السلام :
"إن البلاء للظالم أدب، وللمؤمن امتحان، وللأنبياء درجة، وللأولياء كرامة" (نهج البلاغة، الحكمة 93).
· التحليل المنطقي:
· البلاء لا قيمة ذاتية، بل قيمته بالغاية.
· الغايات متفاوتة (أدب، امتحان، درجة، كرامة).
· كل غاية تتناسب مع مرتبة المبتلى.
· إذن البلاء نظام حكيم، ليس عشوائياً.
البرهان النهائي: سلسلة منطقية متكاملة
1. الله حكيم مطلق (بديهية عقلية + قرآنية: ﴿وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ﴾).
2. الحكيم المطلق لا يفعل إلا لحكمة.
3. الخلق من غير اختيارنا فعل إلهي.
4. إذن له حكمة (القياس 1).
5. الحكمة هي: إيصالنا إلى كمالنا الممكن.
6. الكمال الممكن يقتضي:
· أ. الوجود أولاً (لا كمال في العدم).
· ب. الاختيار ثانياً (الكمال الاختياري أكمل من الجبري).
· ج. الابتلاء ثالثاً (لا يظهر الاختيار إلا بالتحدي).
· د. الجزاء رابعاً (تحقيق العدل).
إذن هي سلسلة حكيمة منطقياً.
النتيجة المنطقية الشاملة:
بناءً على المنطق الصوري والقرآن وأهل البيت (ع):
· الوجود الإجباري ليس ظلماً، بل هو منحة ضرورية للبدء.
· الاختبار ليس تعذيباً، بل هو معيار ضروري للتمييز.
· الجزاء ليس اعتباطاً، بل هو عدل ضروري للفصل.
التعبير النهائي:
"أنت لم تُستَعبَد بالخلق، بل وُهِبتَ وجوداً لتستطيع أن تختار، ولم تُجبر على الاختيار، بل وُهِبتَ حرية لتستحق الجزاء، ولم تُعذَّب بالابتلاء، بل وُهِبتَ فرصة لتظهر فضائلك".
والحمد لله رب العالمين،
وصلى الله على محمد وآله الطاهرين.
منقول
بسم الله الرحمن الرحیم
بیماری میں گزارے گئے لمحات کی عظمت اور ان کا روحانی ثمر
عن الإمام محمّد الباقر علیہ السلام : سَهَرُ لَيْلَةٍ مِنْ مَرَضٍ أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ سَنَةٍ.(ماخذ: الکافی، جلد 3، صفحہ 114)
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے: بیماری کی ایک رات جاگنا (عبادت کی حالت میں) ایک سال کی عبادت سے افضل ہے۔
یہ حدیث مبارکہ انسان کو بیماری اور تکلیف کے بارے میں اسلام کے نہایت رحیمانہ اور حکیمانہ نقطہ نظر سے روشناس کراتی ہے۔ اس میں بیماری جیسی ظاہری مصیبت کو باطنی سعادت اور رحمت میں تبدیل کر دینے کا راز پوشیدہ ہے۔ اس حدیث کے مطابق ایک مریض کی وہ رات، جس میں وہ درد اور تکلیف کی وجہ سے بے چینی اور بے خوابی کی کیفیت سے گزر رہا ہوتا ہے، اگر وہ صبر و رضا کا دامن تھامے رکھے، تو اس کا روحانی وزن اور ثواب ایک سال کی مسلسل عبادت سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بیماری کی حالت میں انسان کی نیندیں اُڑ جاتی ہیں اور وہ ایک ایسی مجبوری اور لاچاری کے عالم میں ہوتا ہے جہاں اس کے پاس اللہ کے سوا کوئی پناہ گاہ نہیں ہوتی۔ یہ مجبوری درحقیقت عین عبادت بن جاتی ہے، کیونکہ اس میں ریا (دکھاوا) کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ یہ عمل خالصتاً اللہ کے لیے ہوتا ہے، جہاں بندہ اپنی بے بسی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور گڑگڑاہٹ اور فریاد کا اظہار کرتا ہے۔ اس طرح بیماری کی یہ تکلیف، جو ایک آزمائش ہے، گناہوں کے مٹانے اور درجات بلند کرنے کا ایک زبردست ذریعہ بن جاتی ہے۔ یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم زندگی کی مشکلات کو محض مصیبت نہ سمجھیں، بلکہ انہیں اپنے رب سے قریب ہونے، اس کی رحمت حاصل کرنے اور اس کے انعامات سے سرفراز ہونے کا ایک سنہری موقع سمجھیں۔
#حدیث #عبادت #ہدایت #نیکی
يُروى عن أمير المؤمنين الإمام عليّ (عليه السلام):
"عَجِبْتُ لِمَنْ يَرْجُو رَحْمَةً مِنْ فَوْقِهِ كَيْفَ لَا يَرْحَمُ مَنْ دُونَهُ."
📚 میزان الحکمة - ج۲، ص۱۰۴۴
امیر المؤمنین حضرت امام علی (علیہ السلام) سے روایت ہے:
"میں اس شخص پر حیران ہوں جو اوپر والے (خدا) سے رحمت کی امید رکھتا ہے، لیکن خود اپنے سے نیچے والوں پر رحم نہیں کرتا۔"
#حدیث #رحمت #اخلاق
يُروى عن أمير المؤمنين الإمام عليّ عليه السلام
الفقيه كلّ الفقيه من لم يقنط الناس من رحمة الله، ولم يؤيسهم من روح الله، ولم يؤمنهم من مكر الله.
نهج البلاغة - ج٤ ص٢٠
يُروى عن الإمام جعفر الصّادق (ع):
أيّما مؤمن أوصل إلى أخيه المؤمن معروفاً، فقد أوصل إلى رسول الله (ص).
الاختصاص - ص٣٢
11/07/2025
يُروى عن الإمام جعفر الصّادق (ع):
الماشي في حاجة أخيه كالسّاعي بين الصّفا والمروة، وقاضي حاجته كالمتشحّط بدمه في سبيل الله يوم بدر وأحد. وما عذّب الله أمّة إلّا عند استهانتهم بحقوق فقراء إخوانهم.
تحف العقول عن آل الرّسول (ص) - ص٣٠٣
موت کی حقیقت: مومن و کافر کیلئے اسکی مختلف کیفیات
قِيلَ لِلصَّادِقِ عَلَيهِ السَّلَامُ: صِفْ لَنَا الْمَوْتَ؟ فَقَالَ: "لِلْمُؤْمِنِ كَأَطْيَبِ رِيحٍ يَشُمُّهُ فَيَنْعَسُ لِطِيبِهِ وَيَنْقَطِعُ التَّعَبُ وَالأَلَمُ كُلُّهُ عَنْهُ، وَلِلْكَافِرِ كَلَسْعِ الأَفَاعِي وَلَذْعِ العَقَارِبِ أَوْ أَشَدَّ.
قِيلَ: فَإِنَّ قَوْمًا يَقُولُونَ إِنَّهُ أَصْعَبُ مِن نَشْرٍ بِالمَنَاشِيرِ وَقَرْضٍ بِالمَقَارِيضِ وَرَضْخٍ بِالأَحْجَارِ وَتَدْوِيرِ قُطْبِ الرَّحَى فِي الأَحْدَاقِ! فَقَالَ: كَذَلِكَ هُوَ عَلَى بَعْضِ الكَافِرِينَ وَالفُجَّارِ بِاللهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَلاَ تَرَوْنَ مِنْهُم مَّن يُعَانِي الشَّدَائِدَ؟ فَذَلِكُمُ الَّذِي هُوَ أَشَدُّ مِن هَذَا. أَلاَ إِنَّ مِن عَذَابِ الآخِرَةِ فَإِنَّهُ أَشَدُّ مِن عَذَابِ الدُّنْيَا."
قِيلَ لِلصَّادِقِ عَلَيهِ السَّلَامُ: أَخْبِرْنَا عَنِ الطَّاعُونِ؟ فَقَالَ: عَذَابٌ لِقَوْمٍ وَرَحْمَةٌ لآخَرِينَ.
قَالُوا: وَكَيْفَ تَكُونُ الرَّحْمَةُ عَذَابًا؟
قَالَ: أَمَا تَعْرِفُونَ أَنَّ نِيرَانَ جَهَنَّمَ عَذَابٌ عَلَى الكَافِرِ، وَخَزَنَةُ جَهَنَّمَ مَعَهُمْ فِيهَا فَهِيَ رَحْمَةٌ عَلَيهِمْ.
امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا: "ہمیں موت کی کیفیت بیان فرمائیں"۔ آپ نے فرمایا:"مومن کے لیے موت سب سے خوشبودار ہوا کی مانند ہے جسے وہ سونگھتا ہے، پھر اس کی خوشبو سے اسے اونگھ آجاتی ہے اور تمام تھکاوٹ اور درد اس سے دور ہوجاتا ہے۔ اور کافر کے لیے موت سانپوں کے ڈسنے اور بچھوؤں کے کاٹنے جیسی ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ شدید۔"
کہا گیا: "بعض لوگ کہتے ہیں کہ موت آریوں سے چیرنے، قینچیوں سے کاٹنے، پتھروں سے کچلنے اور چکی کے پاٹ کو آنکھوں میں گھمانے سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے!" آپ نے فرمایا: "یہ کیفیت بعض کافروں اور اللہ کے نافرمانوں پر ہوتی ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ ان میں سے بعض کو سخت تکلیفیں ہوتی ہیں؟ یہی وہ (موت) ہے جو ان کے لیے اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔ سنو! آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے کہیں زیادہ شدید ہے۔"
امام جعفر صادق علیہ السلام سے طاعون کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: "یہ بعض لوگوں کے لیے عذاب اور بعض کے لیے رحمت ہے۔"
انہوں نے کہا: "یہ رحمت کیسے عذاب ہوسکتی ہے؟"
آپ نے فرمایا: "کیا تم نہیں جانتے کہ جہنم کی آگ کافروں پر عذاب ہے، جبکہ جہنم کے داروغے (عذاب دینے والے فرشتے) اس میں ان کے ساتھ رہتے ہیں، تو یہ ان پر رحمت ہے۔
( علل الشرائع للشیخ الصدوق قدس سرہ : ج 1 / صفحہ 298 )
اخلاقی درس : یہ روایات ہمیں سکھاتی ہیں کہ ہر چیز میں اللہ کی حکمت پوشیدہ ہے۔ مومن کے لیے تو موت بھی رحمت بن جاتی ہے، جبکہ کافر کے لیے عذاب۔ اسی طرح طاعون جیسی مصیبت بھی بعض مومنین کے لیے رحمت کا باعث بن سکتی ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Asriya