07/06/2026
آج 20 ذی الحجہ 1447ھ مطابق 7 جون 2026ء بروز اتوار گیارہویں صدی کے ممتاز عالم و مرتاض بزرگ حضرت جمال الحق بندگی شیخ مصطفی عثمانی جون پوری ثم پورنوی قدس سرہ کے عرس مبارک کی مناسبت سے دارالعلوم طیبیہ معینیہ (طیبی مسجد) میں تقریب منعقد ہوئی۔ جس میں اساتذہ و طلبہ نے شرکت کی۔ حمد و نعت اور مناقب کا گلدستہ پیش کیا گیا نیز صاحب عرس کے احوال و آثار سے حاضرین کو آشنا کرایا گیا۔ اور فاتحہ خوانی و دعا کی گئ۔
حضرت بندگی شیخ جمال الحق قدس سرہ کا سلسلہ نسب کئی واسطوں سے خلیفہ راشد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔ آپ کی ولادت تقریبا 970 ھ میں سکلائی، ضلع لکھنؤ، یوپی میں ہوئی۔ آپ کے والد گرامی حضرت شیخ عبد الحميد عثمانی ہیں اور مورث اعلی حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کے جانثار مرید اور خواجہ نصیر الدین چراغ دہلوی کے خلیفہ حضرت مخدوم شیخ یخشی رومی ہیں۔ آپ بندگی شیخ محمد بن نظام الدین امیٹھوی سے سلسلہ چشتیہ میں بیعت تھے اور تمغہ خلافت حضرت بندگی شیخ محمد کے علاوہ شیخ قیام الدين جون پوری، شیخ فتح اللہ راج گیری اور شیخ نظام الدین نارنولی سے حاصل تھا۔ گیارہویں صدی ہجری میں شیراز ہند جون کے اجلہ علما سے علوم اسلامیہ کی تحصیل کی۔ اور وہیں شیخ نور برونوی کی دختر سے عقد مسنون ہوا اولاد میں شیخ محمد سعید عثمانی، شیخ محمد رشید عثمانی اور شیخ محمد ولید عثمانی ہیں۔ آپ کو ولایت میں سدھور کا خطہ حاصل تھا، پھر حضرت نور قطب عالم پنڈوی کے باطنی تصرف سے خطہ پورنیہ کی ولایت حاصل ہوئی، اور وہیں آپ نے خانقاہ مصطفائیہ قائم فرما کر رشد و ہدایت کا کام انجام دیا۔ اور پورنیہ میں ہی آسودہ خاک ہوۓ۔ آپ کے فرزند ارجمند اور آپ کی علمی و روحانی امانتوں کے امین شیخ محمد رشید عثمانی جونپوری رحمہ اللہ ہیں جو بر صغیر کی عظیم و قدیم خانقاہ "خانقاہ رشیدیہ" کے بانی اور "مناظرہ رشیدیہ" کے مصنف ہیں۔ آپ ایک عظیم شاعر بھی تھے، مہوشی تخلص فرماتے تھے۔ تصانیف میں بزبان فارسی "مکتوبات جمالی" ہے۔ ممتاز خلفا میں شیخ عثمان امیٹھوی ثم پورنوی، شیخ محمد رشید عثمانی، شیخ محمد رفیع پورنوی ہیں۔ آپ کے معاصر علما و مشائخ میں شیخ عبد الحق محدث دہلوی، شیخ احمد سرہندی، شاہ طیب بنارسی، راجی سید شاہ احمد مانک پوری، شیخ جمال الاولیا کوڑوی، شیخ افضل جون پوری، شیخ عبد القدوس قلندر جون پوری، شیخ شہباز بھاگل پوری، شیخ نظام الدین تھانیسری، شیخ تاج الدین سنبھلی وغیرہ ہیں۔ 20 ذی الحجہ تقریبا 1038ھ میں آپ اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ آپ کا مزار اقدس مصطفی باغ، محلہ چمنی بازار، پورنیہ، بہار میں مرجع خلائق ہے۔
29/05/2026
دارالعلوم طیبیہ معینیہ، بنارس میں "طیبی دارالافتا" کا قیام
تبصرہ نگار:
محمد شمس رضوان
متعلم: درجہ خامسہ دارالعلوم طیبیہ معینیہ
دارالعلوم طیبیہ معینیہ ۱۱ویں صدی ہجری کے عظیم جلیل القدر عالم و بزرگ اور شیخ عبد الحق محدث دہلوی کے خلیفہ و مجاز، بانی خانقاہ رشیدیہ حضرت شیخ محمد رشید عثمانی جونپوری کے شیخ طریقت، قطب بنارس حضرت مخدوم شاہ طیب فاروقی بنارسی قدس سرہ العزیز سے منسوب اور انھیں کے آستانہ اقدس کے احاطے میں قائم ایک معتبر دینی ادارہ ہے۔ جس کی بنیاد 1990 میں حضرت مجمع البحرین الشاہ مفتی عبید الرحمن رشیدی علیہ الرحمہ (گیارہویں سجادہ نشین خانقاہ رشیدیہ جونپور شریف) نے رکھی۔ منڈواڈیہ، بنارس میں حضرت مخدوم شاہ طیب کا قائم کردہ خانقاہ "خانقاہ طیبیہ معینیہ" خانقاہ رشیدیہ جون پور کے زیر اہتمام ہے، بایں سبب یہ تعلیمی ادارہ بھی مرکزی خانقاہ رشیدیہ کے ماتحت ملک کے مختلف علاقوں میں چل رہے اداروں میں سے ایک ہے۔
اپنے روز قیام سے ہی یہ علمی درسگاہ اپنی کارگزاریوں کی وجہ سے ترقیاتی منازل طے کررہی ہے۔ ملک کے مختلف علمی و عملی محاذوں پر یہاں کے فارغ التحصیل علما خدمات انجام دے رہے ہیں، جس سے یہاں کے حسن تعلیم و تربیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
علوم اسلامیہ و عصریہ کی ٹھوس اور مضبوط بنیادوں پر فراہم کی جانی والی تعلیم کے ساتھ روحانی و اخلاقی تربیت یہاں کا خاصہ ہے۔ نۓ اذہان کو تعلیمی طور پر اپیل کرنے کے لیے جدید آلات تعلیم کا انتظام اور علوم اسلامیہ کی عصری تفہیم کے لیے یہاں کے اساتذہ کی کوششیں بھی قابل قدر اور لائق تحسین ہیں۔ چناں چہ اسی انقلابی روش کو برقرار رکھتے ہوئے ادارے کے اراکین و ذمہ داران اعلی تعلیم و تربیت کے نظام کے نفاذ اور تعلیمی شعبوں کی ترقی کے لیے ہمہ دم کوشاں رہتے ہیں۔
ترقیاتی تسلسل کی ایک خوبصورت کڑی اس وقت دیکھنے میں آئی جب ذمہ دران ادارہ نے امت مسلمہ کی شرعی و عائلی مسائل کے حل و رہنمائی کے لیے اور جدید دور کے رجحان کے مطابق مسائل فقہ کی ترسیل نیز تربیت افتا کے لیے "طیبی دارالافتاء"کے نام سے ایک شعبہ قائم کرنے کا ارادہ کیا۔ جس سے تمام وابستگان ادارہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور سبھی نے اس فیصلے کا خوش دلی سے خیر مقدم کیا۔ اس پورے علمی شعبے کی خاکہ نگاری خانقاہ رشیدیہ کے صاحب سجادہ حضرت سید السادات سید شاہ معروف علی سبز پوش رشیدی دام ظلہ العالی کی سرپرستی اور دارالعلوم طیبیہ معینیہ کے جنرل سیکریٹری حضرت ڈاکٹر محمد فیض ارشد رشیدی کی تحریک پر ہوئی۔ اور امسال رمضان ہی سے اس کی تیاری کا آغاز ہوگیا۔ تعطیل کلاں کے بعد جب تعلمی سال شروع ہوا تو ذمہ داران کی مشاورت سے 14 ذیقعدہ 1447 ہجری، بمطابق دو مئی 2026 بروز سنیچر افتتاحی پروگرام کے لیے تاریخ متعین ہوئی۔ خصوصی مہمان کی حیثیت سے ہندوستان کی عظیم علمی درسگاہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور، اعظم گڑھ کے صدر مفتی، سراج الفقہا، محقق مسائل جدیدہ حضرت مفتی نظام الدین رضوی مصباحی دام ظلہ کو دعوت دی گئی، انھوں نے بطیب خاطر دعوت قبول فرمائی اور اپنی شرکت کی یقین بھی دلائی۔
2 مئی، سنیچر کو پروگرام کا آغاز صبح 8:30 سے ہوا۔ نظامت کی ذمہ داری ہمارے ادارے کے استاذ حضرت مولانا نشاط رومی مصباحی صاحب نے سنبھالی۔ تلاوت کلام ربانی کے لیے دارالعلوم کے شعبہ قرأت کے مایہ ناز استاذ حضرت قاری ظفر العلی نعیمی صاحب کو دعوت دی گئی۔ انھوں نے سات قرا کی روایت میں تلاوت فرما کر محفل کا شاندار آغاز کیا۔ اس کے بعد ناظم اجلاس حضرت مولانا نشاط رومی مصباحی صاحب نے طیبی دارالافتا کے قیام کے پس منظر اور پیش منظر پر سرسری روشنی ڈالی، انھوں نے فرمایا:
"یہ دارالافتا حضرت مخدوم شاہ طیب بنارسی رحمہ اللہ سے منسوب ہے۔ جو حضرت شیخ محدث عبد الحق دہلوی کے خلیفہ و مجاز اور ہندوستان کی عظیم و قدیم خانقاہ "خانقاہ رشیدیہ" کے بانی حضرت شیخ محمد رشید عثمانی جونپوری رحمہ اللہ کے مرشد و مربی ہیں، جس سلسلے کے مشائخ کی علمی و فقہی خدمات گراں قدر ہیں۔ خود حضرت مخدوم شاہ طیب بنارسی رحمہ اللہ بحر شریعت و طریقت کے عظیم غواص تھے، جس پر شریعت و تصوف کے احکام و مسائل کو جامع ان کی شاندار فارسی زبان میں کتاب "صلاۃ طیبی" شاہد ہے، جس کا اردو ترجمہ "دینی احکام" کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ اسی طرح اس دارالعلوم کے بانی حضرت مجمع البحرین مفتی الشاہ عبید الرحمٰن رشیدی قدس سرہ دنیاۓ فقہ و افتا میں محتاج تعارف نہیں ہیں، انھوں نے اپنی زندگی کا بیش بہا حصہ فقہ و افتا کی خدمت میں صرف فرمائی، اور اپنی شاندار تحقیقات کی بنیاد پر علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھے گۓ، ان کے ڈھیروں تحقیقی رسائل و کتب سے ان کی فقہی عظمت عیاں ہے۔ اسی علمی روایت کی بقا اور فروغ کے لیے اس دارالافتا کا قیام عمل میں آرہا ہے۔"
اس کے بعد بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم میں ہدیہ عقیدت پیش کرنے کے لیے درجہ ثانیہ کے ہونہار طالب علم محمد سائب رضا روبرو ہوۓ۔ اور کلام آسی غازی پوری سے بہترین اشعار پیش کیا۔ پھر شعبہ حفظ کے استاذ حضرت حافظ شاہ نواز طیبی صاحب نے اپنی حسین و دلکش آواز میں نعت نبی صلی اللہ علیہ و سلم سنائی، جس سے محفل کی رنگت دو آتشہ ہوگئی۔ ان کے بعد ہمارے ادارے کے موقر و بزرگ استاذ حضرت مفتی سید فاروق رضوی مصباحی دام ظلہ نے اپنا تاثراتی خطاب پیش فرمایا، جس میں انھوں نے اپنے استاذ گرامی حضرت مجمع البحرین علیہ الرحمہ کے احسانات کا ذکر فرمایا اور اس شعبے کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی۔ پھر مہمان شخصیت محقق اسلامیات حضرت ڈاکٹر سجاد عالم مصباحی صاحب صدر شعبہ تاریخ پرسیڈینسی یونیورسٹی آف کولکاتہ کو دعوت خطاب پیش کی گئی، انھوں نے نہایت عالمانہ و محققانہ انداز میں ہندوستان میں فقہ و افتا کی تاریخ پر مختصر مگر جامع گفتگو فرمائی۔ ان کے بعد وہ مہمان شخصیت جن کے خطاب لیے ہم لوگ متجسس تھے، ان کا نام حضرت ناظم اجلاس نے پکارا یعنی حضرت سراج الفقہا مفتی نظام الدین رضوی مصباحی دام ظلہ العالی۔ ناظم اجلاس نے حضرت کی علمی، قلمی و فقہی خدمات پر شاندار روشنی ڈالی، اور نہایت لطیف اسلوب بیان میں تعارف کرانے کے بعد مائک حضرت کو پیش کیا۔ تقریبا ایک گھنٹے کے خطاب میں حضرت سراج الفقہا نے فقہ و افتا کے متعلق نہایت قیمتی اور نصیحت و ہدایات سے لبریز گفتگو فرمائی۔ مفتی ہونے کے لیے کیا شرائط ہیں؟ اس منصب کے کیا آداب ہیں؟ اور تربیت افتا کی کیا اہمیت ہے؟
اور تربیت افتا کے حوالے سے اسلاف کرام کے ہاں کیا اہتمام رہا ہے؟ صرف دو سالہ کورس کی تکمیل سے یہ ملکہ نہیں آۓ گا بلکہ کسی حاذق مفتی کی بارگاہ میں رہ کر ایک طویل عرصہ گزارنا پڑتا ہے، اس حوالے سے آپ نے مشائخ کی تاریخ بیان فرمائی اور خود اپنے بارے میں فرمایا کہ میں نے حضرت شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمہ اللہ کی بارگاہ میں بیس سال مشق افتا کیا اور تربیت لی۔ پھر اس کے بعد بیان فرمایا کہ ایک مفتی کے لیے وسیع المطالعہ ہونا کتنا ضروری ہے؟ اور اس حوالے سے اپنے تجربات پیش کیے اور اس کام سے منسلک لوگوں کے لیے گراں قدر ہدایات بھی بیان کیے۔ آخر میں آپ نے دارالافتاء کے کارپردازوں کا نام اعلان کرتے ہوۓ حضرت مفتی سید فاروق رضوی، مصباحی کا نام صدر دار الافتا کے طور پیش فرمایا اور دارالعلوم کے دو مؤقر استاذ حضرت مفتی میر عمران مصباحی اور مفتی غلام اشرف مصباحی صاحبان کے نام بحیثیت مفتی پیش کرتے ہوۓ فرمایا کہ جب کبھی انہیں میرا تعاون درکار ہو تو میں ضرور ان کی اعانت کروں گا۔ اس موقع پر شہر بنارس کی مشہور شخصیات اور دیگر اداروں کے اساتذہ و ذمہ داران بھی شریک تھے۔ اخیر میں تاثرات پیش کرنے کے لیے قاضئ شہر بنارس حضرت مولانا جمیل احمد قادری مدعو ہوۓ انھوں نے اپنی نیک خواہشات و خیالات کا اظہار فرمایا۔ اخیر میں اس دارالعلوم کے سرپرست حضرت ڈاکٹر محمد فیض ارشد رشیدی نے مہمانوں کی بارگاہ میں ہدیہ تشکر پیش فرمایا اور دارالعلوم و دارالافتا کے متعلق اپنے عزائم کا ذکر کیا۔ اس علمی تقریب کا اختتام حضرت قاری ظفر العلی صاحب کے صلوۃ و سلام پر ہوا۔ اس کے بعد سارے علما دارالافتا میں تشریف لے گۓ اور پہلے فتوی اور اس پر حضرت سراج الفقہا کی تائیدی دستخط سے افتتاح ہوا۔ اس موقع پر کثیر علما و معززین و عمائدین نے شرکت فرمائی، سب کا نام پیش کرنا دشوار ہے۔ اوپر مذکورہ شخصیات کے علاوہ ان میں سے بعض نمایاں شخصیات یہ ہیں:
● حضرت مفتی مظفر حسین رضوی شیخ الحدیث و صدر شعبہ افتا دارالعلوم فاروقیہ، بنارس
● حضرت مولانا یعقوب مصباحی
صدر المدرسين دارالعلوم غوثیہ حنیفہ، بجرڈیہ، بنارس
● حضرت مفتی عارف صاحب
استاذ مدرسہ مدینۃ العلوم جلالی پورہ، بنارس
● حضرت مفتی سبطین رضا مصباحی
استاذ دارالعلوم غوثیہ حنفیہ، بجرڈیہ، بنارس
● حضرت مولانا فیضان رضا صاحب
استاذ جامعہ حمیدیہ، شکر تالاب، بنارس
اور اساتذہ دارالعلوم طیبیہ معینیہ میں:
● حضرت علامہ عارف اللہ خان فیضی مصباحی(شیخ الحدیث)
● حضرت مولانا عبد السلام رشیدی ( پرنسپل)
● حضرت مفتی حسنین رضا مصباحی(صدر المدرسين)
● حضرت مولانا شہروز عالم مصباحی(استاذ)
● حضرت مولانا ابرار رضا مصباحی (شاہ عبد العلیم آسی فاؤنڈیشن)
● حضرت مولانا عامر غزالی ازھری(استاذ)
● حضرت مولانا ارسلان احمد مصباحی (استاذ)
● حضرت مولانا مدثر جمال مصباحی (استاذ)
● حضرت حافظ و قاری عبد الحفیظ طیبی (استاذ شعبہ حفظ)
● حضرت ولانا قاضی مظہر رضا طیبی (جوائنٹ مینیجر)
● حضرت مولانا مدثر طیبی (انچارج)
اس پروگرام میں شریک ہوکر مختلف امور میں اپنے حصے پیش کیے۔ یہ پورا دورانیہ ظہر تک چلا۔ بعد نماز ظہر تمام علما و شرکا کی ضیافت کرائی گئی۔ بعدہ انھیں روانہ کیا گیا۔
27/05/2026
عید قرباں مبارک ہو۔
"تقبّل الله أضحيتكم، وغفر ذنوبكم، وجعلها في ميزان حسناتكم."
24/05/2026
Some glimpses of memorable moments