Md Mahboob Alam

Md Mahboob Alam no

24/03/2026

*بلا ضرورت اور غیر معیاری مدارس کا قیام: ایک المیہ*
آج ہمارے معاشرے میں ایک نہایت سنگین اور قابلِ توجہ مسئلہ تیزی سے سر اٹھا رہا ہے، اور وہ ہے بلا ضرورت اور بغیر معیار کے مدارس کا قیام۔ بظاہر یہ ایک دینی خدمت کا خوبصورت عنوان رکھتا ہے، مگر جب اس کی عملی صورت حال اور پس منظر کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو کئی ایسی تلخ حقیقتیں سامنے آتی ہیں جو اہلِ درد کو بے چین کر دیتی ہیں اور ہمیں سنجیدہ غور و فکر پر مجبور کرتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر بستی اور ہر گلی میں ایک نیا مدرسہ قائم کر دینا نہ وقت کی حقیقی ضرورت ہے اور نہ ہی یہ کوئی دور اندیش حکمتِ عملی۔ سوال یہ ہے کہ جب پہلے سے قائم مدارس اپنی مکمل استعداد کے ساتھ کام نہیں کر پا رہے، تو نئے اداروں کی بھرمار آخر کس مسئلے کا حل ہے؟ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر محلہ اور بستی میں ایک منظم مکتب قائم ہو، جہاں بچوں کو دین کی بنیادی تعلیم ایک واضح، مربوط اور طے شدہ نصاب کے تحت دی جائے۔ یہی مکتب ابتدائی دینی تربیت کا مضبوط سنگِ بنیاد بن سکتا ہے، نہ کہ ہر جگہ ایک نیا، کمزور اور غیر معیاری مدرسہ کھڑا کر دیا جائے۔
مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جو مدارس پہلے سے قائم ہیں، ان کی حالت بھی نہایت قابلِ تشویش ہے۔ کہیں دس بچے، کہیں بیس، اور کہیں بمشکل پچاس طلبہ—یہ اعداد و شمار خود اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ ہماری قوت منتشر ہو چکی ہے، وسائل بکھر چکے ہیں، اور ہر ادارہ تنہا اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس کے باوجود ہماری ترجیحات کا رخ اس جانب نہیں مڑتا کہ انہی اداروں کو مضبوط کیا جائے، ان کے تعلیمی معیار کو بلند کیا جائے، اور انہیں واقعی ایک مثالی دینی درسگاہ بنایا جائے۔
اس سے بھی زیادہ دردناک صورت حال یہ ہے کہ کئی مقامات پر مدارس کا نظام محض ایک رسمی ڈھانچے میں تبدیل ہو کر رہ گیا ہے۔ نہ کوئی جامع نصاب، نہ تدریس کا منظم نظام، اور نہ ہی طلبہ کی علمی و اخلاقی تربیت پر مطلوبہ توجہ۔ ایک طرف منتظمین زکوٰۃ، فطرات اور صدقات کی وصولی کے لیے سرگرم نظر آتے ہیں، اور دوسری طرف طلبہ کی بڑی تعداد مختلف تقریبات—تیجہ، چالیسواں اور دیگر مواقع—میں مصروفِ دعوت خوری دکھائی دیتی ہے۔ یہ منظر نامہ اس مقدس نظامِ تعلیم کی روح کے بالکل منافی ہے، جس کا مقصد کردار سازی اور علمِ دین کی اشاعت تھا۔
یاد رکھنا چاہیے کہ مدرسہ محض چندہ جمع کرنے یا ایک عمارت کھڑی کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک عظیم امانت، ایک مقدس ذمہ داری اور ایک ہمہ گیر مشن ہے۔ اس کا اصل مقصد ایسے افراد تیار کرنا ہے جو دین کی صحیح سمجھ رکھتے ہوں، جن کے کردار میں پختگی ہو، اور جو معاشرے کی صحیح رہنمائی کر سکیں۔ جب یہ مقصد نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے تو ادارے اپنی روح کھو بیٹھتے ہیں اور محض ایک بوجھ بن کر رہ جاتے ہیں۔
لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہم جذبات کے بجائے سنجیدگی، بصیرت اور حکمت کے ساتھ فیصلے کریں۔ نئے مدارس قائم کرنے کی دوڑ میں شامل ہونے کے بجائے موجودہ اداروں کو مستحکم کریں، ان کے نصاب کو معیاری اور مؤثر بنائیں، اساتذہ کی تربیت کو یقینی بنائیں، اور مالی و انتظامی شفافیت کو اپنی ترجیح بنائیں۔ ہر بستی میں ایک منظم مکتب کا قیام عمل میں لایا جائے، اور بڑے مدارس کو مرکزی، معیاری اور قابلِ اعتماد تعلیمی اداروں کے طور پر پروان چڑھایا جائے۔
یہ تحریر تنقید برائے تنقید نہیں، بلکہ ایک مخلصانہ دعوتِ اصلاح ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اہلِ فکر و دانش، ائمہ مساجد، مدرسین اور باشعور عوام سب مل کر اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں، اپنی ترجیحات کا از سرِ نو تعین کریں، اور ایک ایسا مضبوط لائحہ عمل ترتیب دیں جو واقعی دین کی خدمت اور آنے والی نسلوں کی صحیح دینی و اخلاقی تربیت کا ضامن بن سکے۔
📢 آخری پیغام
“مدارس کی کثرت نہیں، معیار کی ضرورت ہے — اور یہی اصلاح کی پہلی سیڑھی ہے”
منجانب
شمیم اختر بلالی مصباحی
مدرسہ اسلامیہ

13/08/2025

جنگِ آزادی میں علماء اہلِ سنت کا کردار

بنگال، ہندوستان میں عیسائیوں کے سیاسی دور کا پہلا پڑاؤ ہے۔ بنگال پر قبضہ کرنے کے بعد ان کی اپنی سیاسی طاقت بن چکی تھی اور مغل سلطان بادشاہ، شاہ عالم چوں کہ دہلی اور اس کے آس پاس ہی میں گھرا ہوا تھا اس سے زیادہ آگے بڑھنے کی اس میں طاقت وقوت بھی نہ تھی اس لئے ۱۱۷۹ھ مطابق ۱۷۲۵ء میں انگریز ، بادشاہ کے پاس پہنچے اور بادشاہ سے جبراً یہ فرمان جاری کروایا کہ بنگال، بہار، اُڑیسہ اور اِلٰہ آباد پر کمپنی کی حکومت رہےگی ان علاقوں پر مُغلیہ حکومت نہیں رہے گی ۔ بنگال اور پھر بہار، اڑیسہ اور الٰہ آباد پر قبضہ کرنے کے بعد انگریزوں نے اپنی پرانی چال لڑاؤ اور حکومت کرو کے پیشِ نظر دوسرے نوابوں اور راجاؤں کے آپس میں پھوٹ ڈالنا شروع کر دیا اِس نواب کو اُس راجہ سے لڑوایا اُس راجہ کو اِس نواب سے لڑوایا جب یہ آپس میں لڑتے ان کی طاقت کمزور ہوتی پھر انگریز مداخلت کرتا کہیں پر قبضہ کرتا کبھی کسی ایک کے ساتھ مل کر دوسری جگہ کو خالی کروا کے نصف نصف پر قبضہ کیا جاتا غرض یہ کہ اسی پالیسی لڑاؤ اور حکومت کرو پر عمل کر کے انگریزوں نے ۱۸۵۶ء میں پورے ہندوستان پر قبضہ کر لیا۔ اور پھر ۱۸۵۷ء کا زمانہ آتا ہے۔
۱۸۵۶ء کو یاد رکھئے اور اب ایک دوسرا پہلو آج کی گفتگو کا سماعت کریں ۱۸۵۷ء میں جو جنگِ آزادی لڑی گئی اس میں اہلِ سنت و جماعت کے بےشمار علماء نے حصہ لیا اور انگریزوں سے جہاد کیا جب انگریز پورے ہندوستان پر قابض ہو گئے تو انہوں نے ہندوستان میں کچھ نئے احکامات جاری کئے ان احکامات کو مجاہدِ آزادی بطلِ حریت استاذ مطلق امام منطق و فلسفہ حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمہ نے اپنی تصنیف لطیف ” الثورۃ الہندیہ" میں بیان فرمایا ہےیہ کتاب عربی زبان میں ہے اس کا خلاصہ اور ترجمہ سماعت کریں:
جب پورے ہندوستان پر انگریز قابض ہو گئے تو پھر انہوں نے کچھ خاص فرمان جاری گئے ۔ وہ خاص فرمان کیا تھے؟
(۱) پہلا فرمان یہ تھا کہ ہندوستان میں اب تک جتنے مدرسے اور جامعات اسلامی تعلیمات کی نشر و اشاعت کر رہے ہیں جہاں پر اہلِ سنت و جماعت کے علماء درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں ان تمام درسگاہوں کو بند کر دیا جائے اور اسکولیں قائم کی جائیں جو انگریزی حکومت کے زیرِانتظام ہوں گی اور اسکولوں میں بلا تفریق مذہب صرف ایک تعلیم ہوگی جو ہر مذہب کے ماننے والوں کو پڑھنا ہوگا۔ تعلیم کیا تھی ؟ شروع میں تو دوسرے سَبۡجِیۡکۡٹ رکھے جاتے لیکن آخر میں پہنچ کر وہی عیسائیت کا زہر گھولا جاتا تعلیمی لحاظ سے انگریزوں نے یہ اسکیم تیار کی۔
(۲) دوسرا حکم انہوں نے یہ نافذ کیا کہ ہندوستان میں جتنی طرح کی پیداوار ، اناج، غَلّے ہوتے ہیں اور معدنیات ہیں ان تمام کو کوئی بھی شخص براہ راست بیچ نہیں سکتا ہے بلکہ وہ ہم سے بیچےگا پھر ہم جس طرح چاہیں گے بیچیں گے۔ اس سے کیا ہوگا ؟ یہ کہ بازار پر ہمارا کنٹرول ہو جائے گا اور بازار پر کنٹرول ہونے کی وجہ سے لوگ بُھکۡمَری کے شکار ہوں گے تو پھر ہمارے دروازے پر آئیں گے اور ہم جس بَھاؤ میں چاہیں گے انھیں دیں گے اس طرح وہ معاشی بَدحالی کا شکار ہوں گے اور انسان معاشی بدحالی میں بسا اوقات دوسرے کا مذہب قبول کر لیتا ہے۔
(۳) تیسرا فرمان انہوں نے یہ جاری کیا کہ کوئی بھی مسلمان شخص ختنہ نہیں کر سکتا ہے۔ (۴) چوتھا فرمان یہ جاری کیا کہ عورتیں بغیر پردہ باہر نکلیں گی کسی کو بھی نقاب پہننے کی اجازت نہیں ہوگی۔
(۵) چونکہ اس وقت فوج میں مسلمان بھی تھے اور غیر مسلم بھی۔ اور بندوق کی گولیوں کے منھ پر چربی لگی ہوتی تھی جسے بندوق چلاتے وقت دانت سے توڑنا پڑتا تھا تو اب انگریزوں نے فوجیوں کو اپنے مذہب سے مُتَنَفِِّر کرنے اور عیسائی بنانے کے لئے کچھ گولیوں کے منھ پر خنزیر کی چربی لگائی جائے اور کچھ گولیوں کے منھ پر گائے کی چربی لگائی جائے جو مسلمان فوجی تھے ان کو خنزیر کی چربی والی گولی دی جاتی اور جو غیر مسلم تھے انھیں گائے کی چربی والی گولی دی جاتی۔ انگریزوں کی اس سازش سے لوگوں میں بد دِلِی پیدا ہو گئی اور فوج ان کے خلاف کھڑی ہو گئی۔ یہیں سے جنگِ آزادی کا آغاز ہوتا ہے۔
جنگ آزادی میں ہمارے علماء نے کس کس طرح سے اور کیا کیا حصہ لیا ہے اسے مختصراً سماعت کریں۔
اس جنگ آزادی میں جو سب سے بڑا کردار ہمیں نظر آتا ہے وہ بطل حریت علامہ فضل حق خیر آبادی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کا نظر آتا ہے۔ یہ علامہ فضل حق خیر آبادی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کون ہیں؟ سیدنا عمر فاروق عظم رضی اللہ عنہ کی ۱۹/ویں پشت میں ایران میں ایک بزرگ ہمیں نظر آتے ہیں حضرت شیر الملک، ان کے دو صاحبزادے تھے مولانا بہاؤالدین اور مولانا شمس الدین رحمهما الله یہ دونوں ایک ساتھ ایران سے ہندوستان تشریف لائے ذی عِلم عالِم و فاضِل تھے مولانا بہاؤالدین صاحب بدایوں کے مفتی مقرر کئے گئے اور حضرت شمس الدین روہتک کے قاضی اور مفتی مقرر کئے گئے۔ مولانا شمس الدین کی نسل میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی پیدا ہوئے جن کے فرزند حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اور شاہ عبدالقادر محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہم وغیرہ ہیں اور مولانا بہاؤالدین کے سلسلۂ اخلاف میں چھٹی پُشت میں ایک فرزند ہوئے شیخ ارزانی اور شیخ ارزانی کے صاحبزادے شیخ عمادالدین ہیں شیخ عماد الدین تعلیم حاصل کرنے کے لئے سِیۡتا پُور کے علاقے ہرگام گئے اور ہرگام کے قاضی وقت سے تعلیم حاصل کی۔ شیخ عمادالدین کے صاحبزادے شیخ ارشد ہوئے، شیخ ارشد ہرگام سے خیر آباد تشریف لائے اس طرح حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ سلسلہ نسب عرب سے ایران اور ایران سے بدایوں اور بدایوں سے ہرگام اور ہرگام سے خَیۡرآباد پہنچتا ہے خیرآباد میں شیخ ارشد کے یہاں علامہ فضل امام خیرآبادی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ پیدا ہوئے، فضل امام خیر آبادی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ اپنے وقت کے نہایت جلیل القدر عالِمِ دین تھے معقولات اور منقولات دونوں میں ان کا سکہ چلتا تھا، انہیں منطق و فلسفہ جسے آج کی زبان میں لُوۡجِک کہہ سکتے ہیں میں بڑا کمال حاصل تھا ایک واقعہ سماعت کریں، ایک غیر مسلم شخص تھا اس نے کچھ منطق و فلسفہ سیکھ لیا، مسلمانوں کے پاس بیٹھتا اور انہیں پریشان کرتا، اس کی خبر کسی طرح سے علامہ فضل امام تک پہنچی، علامہ فضل امام خیر آبادی نے اسے بلا کر فرمایا: ہم نے سنا ہے کہ تم نے کچھ منطق و فلسفہ سیکھ لیا ہے ؟ کہا: ہاں فرمایا: ہم چاہتے ہیں کہ ہم بھی تمہیں کچھ پڑھا دیں۔ بولا: اس سے اچھی بات کیا ہوگی آپ جیسا استاذ مجھے پڑھائے۔ فرمایا: کل سے آجانا ، دوسرے دن حضرت فضل امام خیر آبادی نے اسے ایک سبق پڑھایا اور فرمایا: جاؤ، کل آنا۔ جب وہ اگلے دن آیا توجو سبق پہلے دن پڑھایا تھا اس سبق کو علامہ فضل امام نے آج پھر پڑھایا لیکن انداز یہ تھا کہ پہلے دن جو سمجھایا تھا آج وہ سب کا سب غلط، بڑا حیران ہوا کہ کل میں ان سے جو سن کر گیا تھا سمجھا تھا کہ یہی صحیح ہے لیکن آج یہ ہو رہا ہے کہ وہ سب کا سب غلط ۔ فرمایا: اچھا کل آنا ۔ اگلے دن حضرت نے پھر اسی سبق کو پڑھایا، انداز وہی پچھلے دن جو کچھ پڑھایا تھا آج سب کا سب غلط ، اس میں کچھ بھی صحیح نہیں بچتا بہت حیران و پریشان ہوا کہ آخر کیا ماجرا ہے۔ فرمایا: ٹھیک ہے جاؤ، کل آنا۔ چالیس دن اسی طرح گزر گئے کہ ہر اگلا سبق پچھلے کو رد کر دیتا چالیسویں دن جب وہ سبق پڑھ کر اٹھا تو پاگل ہو چکا تھا ، علامہ فضل امام خیرآبادی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا: مسلمانوں کو پریشان کرتا تھا میں نے یہی چاہا تھا، ایسی ذی علم شخصیت کا نام فضل امام خیر آبادی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ ہے، اور انہیں فضل امام خیر آبادی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے دولت سرائے عالی میں جو بچہ پیدا ہوا دنیا انہیں ”علامہ فضل حق خیرآبادی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے نام سے جانتی ہے۔ کون علامہ فضل حق خیر آبادی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ؟ وہ جنہوں نے جہاد آزادی (جنگ، آزادی کہا جاتا ہے لیکن میں یہ سمجھتا ہوں اسے جنگ آزادی کے بجائے جہاد آزادی کہا جانا چاہئے ،) میں بہت ہی نمایاں کردار ادا کیا۔ جو حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے بتیسویں شہزادے ہیں۔ حاضرین گرامی ! یہاں یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ آپ شہزادے، خلیفہ دوم فاروق اعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے ہیں اور جب ہم سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا زمانہ دیکھتے ہیں تو سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے دورِخلافت میں اسلامی جہاد سب سے زیادہ عیسائیوں ہی سے ہوا ہے تو یہ والد کا ہی اثر تھا جو اس بتیسویں بیٹے میں ہمیں نظر آرہا ہے، یہ سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی جلالت تھی ، ان کی شجاعت و بہادری تھی جو علامہ فضل حق خیر آبادی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ میں ہمیں نظر آرہی ہے۔ علامہ فضل حق خیر آبادی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کی حیات طیبہ کا مختصر خاکہ بھی دیکھتے چلئے ۱۲۱۲ھ مطابق ۱۷۹۷ء میں آپ کی ولادت ہوئی اور ۱۲۲۵ھ م ۱۸۰۹ء میں صرف ۱۳/سال کی عمر میں آپ تمام علوم متداولہ پڑھ کر عالم فاضل بن چکے تھے چار(۴)سال کچھ ماہ کی عمر میں آپ نے قرآن عظیم حفظ فرمالیا تھا ، آپ حضرت شیخ دھومن دہلوی رحمۃ اللہ علیہ سے سلسلۂ چشتیہ میں مرید تھے اور آپ کا دور انگریزی دور تھا ہر جگہ انگریز قابض تھے اس لئے معاشی لحاظ سے بہت زیادہ پریشانیاں اور مشکلات و مصائب سامنے تھے کئی علماء نے انگریزی ملازمت کی مخالفت بھی کی تھی اور بعض نے حالات زمانہ کےپیش نظر اجازت بھی دی تھی علامہ فضل حق خیر آبادی نے بھی ۱۹/سال کی عمر میں ایسٹ انڈیا کمپنی میں ملازمت اختیار کی سولہ(۱۶)سال تک آپ نے ایسٹ انڈیا میں ملازمت کی اس عرصے میں آپ کا عہدہ تھا چیف کچہری ۱۸۳۱ء میں آپ نے کمپنی سے استعفیٰ دےدیا آپ کمپنی کی ملازمت تو کرتے تھے لیکن یہ ملازمت آپ کو پسند نہ تھی کیوں کہ یہ ملازمت انگریزوں کی ملازمت تھی۔ ۱۸۳۲ء سے لے کر ۱۸۵۷ء تک علامہ فضل حق خیر آبادی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ جھنجھر، الور،لکھنو اور سہارنپور میں نظر آتے ہیں آخری دور ملازمت آپ کا الور میں گزرا ہے اور اسی زمانے میں انگریزوں نے وہ نئے احکامات جاری کئے تھے جو آپ نے ابھی سماعت کئے ان نئے احکامات کے سامنے آتے ہی جہادآزادی اور انگریزوں کی زبان میں بغاوت کی شروعات ہوئی سب سے پہلے ۱۰/مئی ۱۸۵۷ء کو میرٹھ چھاؤنی کے مسلم اور غیر مسلم فوجیوں نے مشترکہ طور پر بغاوت کیا اور میرٹھ میں موجود بہت سارے عیسائیوں کو قتل کیا اور پھر یہ لوگ دہلی پہنچ گئے اور بہادر شاہ ظفر کو اپنا بادشاہ بنالیا جس وقت یہ فوج میرٹھ سے دہلی پہنچی اس زمانے میں علامہ فضل حق خیر آبادی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ الور میں موجود تھے الور سے آپ کو بلایا گیا اب تک صرف یہ چند فوجی بغاوت پر آمادہ تھے لیکن علامہ فضل حق خیر آبادی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ جب تشریف لائے اور بادشاہ سے ملاقات کی اور دہلی کی با اثر شخصیت جنرل بخت خاں کے ساتھ مل کر آپ نے لوگوں کو جہاد پر اُبھارا، جہاد پر اُبھارنے کی جو کوشش و کاوش آپ کی رہی وہ کچھ اس طرح سامنے آتی ہے۔
(۱) علامہ فضل حق خیر آبادی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے دہلی کی جامع مسجد میں نمازِجمعہ کے بعد سب سے پہلے انگریزوں کے خلاف ایک زبردست تقریر کیا تھا، اور اسی تقریر میں لوگوں کو جہاد پر آمادہ کیا ، جہاد کی فرضیت و اہمیت سے روشناس کرایا ، اس تقریر سے آپ نے عام مسلمانوں میں جہاد کی خاطر جوش و جذبہ پیدا کر دیا۔
(۲) اس کے ساتھ علامہ فضل حق خیر آبادی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے ایک دوسری کاوش یہ انجام دی کہ اسی روز نمازِجمعہ کے بعد ایک استفتاء مرتّب کیا تھا ایک سوال نامہ مرتب کیا تھا اور وہ سوال نامہ اس وقت کے اکابر اور جیّد علماء کی خدمت میں پیش کیا گیا اور اس سوال نامے میں یہی تھا کہ انگریز جو ہندوستان پر غاصبانہ قبضہ رکھا ہے اور اسلامی شعار کو مٹا رہا ہے اسلامی تعلیمات کو بند کر رہا ہےعورتوں کے حجاب پر پابندی نافذ کر دی ہے مسلمانوں کی ختنہ پر پابندی لگادی ہے کیا ایسے وقت میں مسلمانوں پر جہاد فرض ہے یا نہیں؟
جب یہ استفتاء پیش ہوا اس وقت جتنے اکابر علماء اہلِ سنت و جماعت جامع مسجد دہلی میں موجود تھے ان سب نے فتوٰی دیا کہ : آج کی حالت ایسی ہے کہ شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں مسلمانوں پر انگریزوں سے جہاد کرنا فرض ہے۔ یہ فتوئ جہاد جاری کرنے والے مندرجہ ذیل ۳۳/علماء ومفتیانِ اہل سنت تھے۔
(۱) محمد نذیر حسین صاحب
(۲) رحمت اللہ صاحب
(۳) مفتی صدر الدین آزرده صاحب
(۴) مفتی اکرام الدین صاحب
(۵) محمد میر خاں صاحب
(۶) مولانا عبدالقادر صاحب
(۷) احمد سعید احمدی صاحب
(۸) محمد ضیاء الدین صاحب
(۹) محمد عبد الکریم صاحب
(۱۰) سکندر علی صاحب
(۱۱) محمد کریم اللہ صاحب
(۱۲) مولوی محمد سرفراز صاحب
(۱۳) سید محبوب علی جعفری صاحب
(۱۴) محمد حامی الدین صاحب
(۱۵) سید احمد علی صاحب
(۱۶) الٰہی بخش صاحب
(۱۷) محمد انصار علی صاحب
(۱۸) مولوی سعید الدین صاحب
(۱۹) حفیظ اللہ خان صاحب
(۲۰) محمد نور الحق صاحب
(۲۱) حیدر علی صاحب
(۲۲) یوسف الرحمن صاحب
(۲۳) مولوی فرید الدین صاحب
(۲۴) سید عبد الحمید صاحب (۲۵) محمد ہاشم صاحب
(۲۶) محمد امداد علی صاحب
(۲۷) محمد مصطفیٰ خان صاحب
(۲۸) محمد امداد علی صاحب
(۲۹) مفتی محمد رحمت علی صاحب مفتی عدالت عالیہ
(۳۰) سید محمد صاحب
(۳۱) محمد علی حسینی صاحب قاضی القضاة
(۳۱) مولوی عبد الغنی صاحب
(۳۲) مولوی محمد علی صاحب
(۳۳) ایک اور عالم دین جن کا نام غالباً عبد الغنی صاحب سے علیہم الرحمۃ والرضوان
(فضل حق خیر آبادی، ص: ۳۶۳) یہاں یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ جب پورے ملک پر انگریز قابض تھے صنعت و تجارت سے لیکر تعلیم تک ان کے قبضہ میں تھی، لوگوں کو طرح طرح سے ستایا جا رہا تھا تو ایسی کنڈیشن میں آغاز کرنا انتہائی اہم ہوتا ہے، چاہ تو ہر کوئی رہا تھا، ہر کسی کی چاہت یہی تھی کہ انگریزوں کو سات(٧)سمندر پار واپس بھیج دیا جائے ان سے اپنے ملک کو آزاد کرالیا جائے لیکن معاملہ یہ تھا شروعات کون کرے؟ تو شروعات میرٹھ کے ان چند فوجیوں کی تھی لیکن وہ صرف فوجی تھے ان کے ساتھ دوسرے لوگ شامل نہیں ہوئےتھے لیکن علامہ فضل حق خیر آبادی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے جب یہ استفتاء علما کی خدمت میں پیش کیا اور اس پر مندرجہ بالا ۳۳/علماء نے اپنے تائیدی دستخط ثبت کئے اور پھر یہ فتوٰی دہلی کے اخبار "الظفر اردو" میں شائع ہوا اور اس کے بعد والے شمارے میں خود علامہ فضل حق خیر آبادی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے اپنا ایک فتوٰی جہاد سے متعلق لکھ کر اسے بھی اخبار "الظفر “ میں شائع کروایا، ان دونوں فتوؤں کے شائع ہونے کے بعد مؤرخین کہتے ہیں کہ: ان دو فتوؤں کے سامنے آنے کے بعد عام لوگوں میں شورش بہت زیادہ بڑھ چکی تھی اور نتیجہ تھوڑے ہی دنوں میں نوےہزار(۹۰,۰۰۰) عام مجاہدین بہادر شاہ ظفر کے جھنڈے تلے جمع ہو چکے تھے ، یہ نوے ہزار (۹۰,۰۰۰)مجاہدین جو جمع ہوئے یہ فوجی نہیں تھے فوج کے علاوہ شہری اور دیہاتی لوگ تھے یہ سب علامہ فضل حق خیر آبادی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ اور ان ۳۳ علماء کے فتوؤں پر جمع ہونے والے تھے، اس لئے بجا طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ باضابطہ طور سے جہادآزادی کی شروعات اہل سنت و جماعت کے ہمارے ان علماء نے کیا ہے اور ان سے فتویٰ لینے کا کام چونکہ علامہ فضل حق خیر آبادی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے کیا ہے اس لئے ہم یہ کہتے ہیں کہ مجاہدین جنگ آزادی کے "امیر کارواں" اور "سرخیل“ علامہ فضل حق خیر آبادی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ ہیں۔ اس فوج کی کچھ مقامات پر انگریزوں سے جھڑپیں بھی ہوئیں لیکن اس موقع پر بھی انگریزوں نے وہی پرانی سازش رچی کہ نوابوں اور حکومت کے لوگوں کو پھوڑنا شروع کیا جہادِآزادی کو ناکام بنانے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی۔ علامہ یہ چاہتے تھے کہ بہادر شاہ ظفر خود نکل کر میدان جنگ میں آئیں کیونکہ جب لوگ بہادر شاہ ظفر کو دیکھیں گے تو ان میں ایک نیا جذبہ، نیا ولولہ، نیا جوش پیدا ہو گا اور پھر ہم منٹوں میں انگریزوں کا صفایا کر سکتے ہیں لیکن بہادر شاہ ظفر کی بیوی اور ان کا سالہ حکیم احسن اللہ خان ان دونوں نے انگریزوں سے ساز باز کر رکھا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہادر شاہ ظفر میدان جنگ میں نہ آئے اور دوسرا بُرا کام یہ ہوا کہ بہادر شاہ ظفر نے علامہ کے مشورے کے برخلاف اپنے خاندان کے نا اہل شہزادوں کو لشکر پر سردار متعین کر دیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ جب کمان سنبھالنے والا خود ہی نا اہل ہوگا تو وہ لشکر کو کہاں لیجائے گا یہی حال ان نا اہل شہزادوں نے کیا اور یہ ساری سازشیں انگریزوں نے بہادر شاہ ظفر کے سالے احسن اللہ خاں اور ان کی بیوی کے ذریعے سے کروائیں اس طرح سے یہ جہاد آزادی جو علامہ اور دیگر علماء نے لڑا وہ ناکام ہوا لیکن یہ علماء ہارے نہیں۔
(۳)علامہ نے مجاہدین تک سامان رسد، کھانے پینے کے سامان اور دیگر اوزار و اسلحہ پہنچانے کا خود انتظام کیا ۔ لال قلعے میں ایک خاص میٹنگ ہوئی اور اس خاص میٹنگ میں علامہ نے بہت ساری باتیں پیش کیں کہ ان باتوں پر عمل ہونا چاہئے ان تجاویز کے ذریعے بہت سارےمجاہدین کی نصرت و حمایت بھی کی گئی۔ اس کے بعد پھر
(۴) مئی جون ۱۸۵۷ء میں جب بہادر شاہ ظفر کی حکومت کے آثار نظر آنے لگے چونکہ یہ وقت ایسا تھا کہ مجاہدین دم بدم آگے بڑھتے ہی جا رہے تھے جس سے یہ سماں بندھ چکا تھا کہ اب ہمارے گئے ہوئے دن واپس لوٹ آئیں گے، تو پھر یہ سوال اٹھا کہ اب اگر ہمارے دن یا پلٹ کر آتے ہیں تو ہمیں کس دستور کے تحت کس آئین کے تحت کس قانون کے تحت حکومت کو باقی رکھنا ہوگا اس پر علامہ نے بہادر شاہ ظفر سے مشورہ کیا تو بہادر شاہ ظفر نے کہا: اس دستور کو آپ ہی بنائیں۔
لہٰذا علامہ نے متوقع حکومت کا دستور بھی مرتب کیا۔ مگر وائے رے محرومی قسمت ۱۹/ستمبر ۱۸۵۷ء کو دہلی پر انگریزوں نے مکمل طور سے قبضہ کر لیا اس کے پہلے تک تو دہلی پر مغل شہزادوں کی حکومت تھی اگرچہ برائے نام ہی سہی لیکن اب جو انہوں نے قبضہ کیا تھا تو اب مکمل طور سے اپنا راستہ صاف کر لیا تھا۔ لہٰذا ، ۱۹/ستمبر سے ۲۴/ستمبر تک علامہ فضل حق خیر آبادی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ اپنے گھر دہلی میں نظر بند رہے، ۲۴/ستمبر کے بعد علامہ فضل حق خیر آبادی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ دہلی سے روانہ ہوئے اور کس حال میں روانہ ہوئے ؟ آپ سوچیں کہ جو حضرت فضل امام خیر آبادی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کا بیٹا ہو، ہزاروں علما کا استاذ ہو، اسے علم وفن سے کیسا لگاؤ رہا ہوگا، کتابوں سے کیسی محبت رہی ہوگی ، کیسا عشق رہا ہوگا مگر یہ ہنگامہ ایسا تھا کہ علامہ فضل حق خیر آبادی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ"الثورۃ الہندیہ" میں خود لکھتے ہیں کہ: میں اپنے قیمتی اور نایاب کتب خانے کو دہلی چھوڑ کر کسی طرح بچتا بچاتا اپنے وطن کو روانہ ہوا۔ دہلی سے خیر آباد کوئی بہت دور نہیں ہے مگر حالات ایسے تھے مشکلات و مصائب اتنی تھیں کہ ۲/مہینے کے بعد رام پور اور علی گڑھ ہوتے ہوئے دسمبر کے درمیانی عرصے میں علامہ فضل حق خیر آبادی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ اپنے وطن خیر آباد پہنچے ہیں۔ علامہ ہی کی طرح دوسرے بہت سارے علماء نے جہاد آزادی میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔
مولانا شاہ احمد اللہ مدراسی رحمۃ اللہ علیہ کوہی دیکھ لیں آپ عالِم ہی نہیں شیخ طریقت بھی تھے آپ کے ہزاروں مریدین تھے آپ نے اپنے بےشمار مریدوں کو اکٹھا کیا سب کو فوجی تربیت دی انگریزوں کے خلاف جہاد کیا، جہاد کرتے ہوئے لکھنؤ تک پہنچ گئے آدھے لکھنؤ پر قبضہ بھی کر لیا تھا لیکن یہاں پھر وہی معاملہ آیا کہ ایک نااہل شخص جو کہ انگریزوں کے ساتھ مل چکا تھا اس کی وجہ سے مولانا شاہ احمد اللہ مدراسی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو آدھے مقبوضہ لکھنو سے ہاتھ دھونا پڑا اور آپ شہید ہو گئے ۔
(علامہ فضل حق خیر آبادی حیات و خدمات ص ۲۳۱،۲۳۰)
اسی طرح مولانا لیاقت علی الٰہ آبادی رحمۃ اللہ علیہ کو بھی دیکھیں آپ بھی عالِم و شیخ طریقت تھے آپ کے بھی ہزاروں مریدین تھے آپ نے بھی اپنے مریدین کو جہاد کے لئے آمادہ کیا اور خود بھی ان کے ساتھ مل کر جہاد آزادی میں حصہ لیا نتیجہ یہ ہوا کہ بعد میں علامہ لیاقت علی اِلٰہ آبادی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو بھی گرفتار کیا گیا اور آپ کو بھی جزیرہ "انڈمان" بھیج دیا گیا جسے کالا پانی بھی کہا جاتا ہے وہیں پر مولانا لیاقت علی صاحب الٰہ آبادی کی قبر آج بھی موجود ہے۔
(علامہ فضل حق خیر آبادی حیات و خدمات ، ص ۲۳۴، ۲۳۵)
ایسے ہی مفتی عنایت احمد صاحب کا کوروی رحمۃ اللہ علیہ ہیں یہ بھی اہلِ سنت و جماعت کے جلیل القدر عالِمِ دین گزرے ہیں آپ نے اپنے قیام بریلی کے دوران انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتوٰی دیا تھا، وہی فتوٰی بغاوت سرد ہونے کے بعد جب انگریزوں تک پہنچا تھا تو انگریزوں نے آپ کو بھی گرفتار کر لیا اور کالا پانی کی سزادی ۔
(علامہ فضل حق خیر آبادی حیات و خدمات ، ص ۲۳۲ تا ۲۳۳)
اسی طرح مفتی کفایت علی کافی مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ ہیں انہوں نے بھی انگریزوں کےخلاف جہاد آزادی میں حصہ لیا تھا اور ان کو بھی انگریزوں نے پھانسی کی سزادی تھی۔
جہاد آزادی کے قائدین علماء میں سے یہ چند کا مختصر تعارف ہے نام تو بہت سارے ہیں مگر وقت اجازت نہیں دیتا بس ایک آخری نام میں پیش کردوں
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے دادا مفتی رضا علی خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بھی جہاد آزادی میں بھر پور حصہ لیا ہے آپ بریلی میں بیٹھ کر مجاہدین کو گھوڑے ، اوزار و ہتھیار بھیجا کرتے تھے ساتھ ہی کھانے پینے کے سامان بھی بھیجا کرتے تھے اور یہ ساری چیزیں انگریزوں سے چھپا کر بھیجی جاتی تھیں ورنہ انگریز ان پر غاصبانہ قبضہ کر سکتا تھا۔
("العاقب“ کا مولانا فضل حق خیر آبادی و جنگ آزادی نمبر ص:۴۹۴)
مگر نتیجہ یہ ہوا کہ غداروں کی وجہ سے یہ جہاد آزادی ظاہراً کامیاب نہ ہو سکا اور ہمارے ان اجلہ اکابر علماء کو طرح طرح کی سزائیں دی گئیں تاریخ کہتی ہے کہ انگریزوں کے مکمل تسلّط کے بعد جب گلیوں کو دیکھا جاتا تو گلیوں میں لاشیں پڑی ہوئی نظر آتیں ، درختوں کو دیکھا جاتا تو اس پر لاشیں لٹکتی ہوئی نظر آتیں۔ غرض یہ کہ ظلم و ستم کا کوئی ایسا شعبہ نہ تھا جسے انگریزوں نے چھوڑ دیا ہو اور یہ سارے ظلم و ستم سب سے زیادہ مسلمانوں پر ڈھائے گئے تھے کیوں کہ انہیں سب سے زیادہ خدشہ اور ڈر مسلمانوں ہی سے تھا کہ ہماری حکومت کی بساط اگر کوئی پلٹ سکتا ہے تو وہ مسلمان ہے اس لئے انہوں نے سب سے زیادہ ظلم و ستم مسلمانوں پر ڈھائے تھے۔
(جنگِ آزادی میں علماء اہلِ سنت کا کردار صفحہ۱۱ تا ۲۰
مؤلف:مولانا محمد حسان ملک نوری برہانپوری)
حاضرین گرامی ! ہم پھر سرخیل مجاہدین آزادی علامہ خیر آبادی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کی طرف چلتے ہیں، خیر آباد میں علامہ فضل حق خیر آبادی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو گرفتار کر کے آپ پر مقدمہ چلایا گیا انگریز جج نے آپ کو بھی جزیرہ "انڈمان" بھیجنے کا حکم سنایا آپ کے اسیری کے دن کیسے تھے ؟ چند جملے علامہ فضل حق خیرآبادی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کی زبانی سنئے "الثورة الہندیہ" میں مجاہدین پر ہونے والے ظلم وستم کی لمبی چوڑی داستان سنانے کے بعد کہتے ہیں:
اب میرا ماجرا سنئے عیسائیوں نے مکر و فریب سے جب مجھے قید کر لیا تو ایک قید خانےسے دوسرے قید خانے میں لے جاتے رہے ایک سخت زمین سے دسری سخت زمین میں منتقل کرتے رہے مصیبت پر مصیبت ڈھاتے رہے اور غم پر غم ڈھاتے رہے (کیسے غم ؟ انتہا یہ کر دی کہ) میرا جوتا اور لباس تک اتار لیا گیا اور اس کی جگہ مجھے موٹا کپڑا پہننے کے لئے دیا گیا (جب کہ ایک وقت وہ تھا کہ علامہ فضل حق خیر آبادی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ ہاتھی کی پالکی پر آمد ورفت کیا کرتے تھے لیکن آج آپ پر مصیبتوں کے ایسے پہاڑ ڈھائے گئے کہ کہتے ہیں:)ایک شخص ہے جو بہت ہی ظالم و جابر ہے وہ طرح طرح کے سختی و مشقت کے کام بھی ہم سے کرواتا ہے انتہائی غلیظ کام بھی کرواتا ہے۔ میرا بدن زخموں سے چھلنی بن چکا ہے روح کو تحلیل کر دینے والے درد و تکلیف کے ساتھ زخموں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے وہ وقت دور نہیں جب یہ پھنسیاں مجھے ہلاکت کے قریب پہنچادیں۔ ایک زمانہ وہ بھی تھا جب عیش و مسرت ، راحت و عافیت میں زندگی بسر ہوتی تھی اب محبوس و قریبِ ہلاکت ہوں ایک زمانہ وہ بھی تھا کہ میں محسود خلائق، غنی تھا اور صحیح و سالم تھا اور اب اپاہچ و زخمی ہوں بڑی سخت مصیبتیں اورصعوبتیں جھیلنا پڑ رہی ہیں ٹوٹی ہوئی ہڈیاں جس طرح لکڑی اور پٹی کا بوجھ اٹھاتی ہیں اسی طرح ہم بھی ناقابل برد(کاپی پیسٹ(

29/12/2023

ہیکل سلیمانی درحقیقت ایک مسجد یا عبادت گاہ تھی۔ جو حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے جنات سے تعمیر کروائی تھی تاکہ لوگ اس کی طرف منہ کرکے یا اس کے اندر عبادت کریں۔
ہیکل سلیمانی کی تعمیر سے پہلے یہودیوں کے ھاں کسی بھی باقاعدہ ہیکل کا نہ کوئی وجود اور نہ اس کا کوئی تصور تھا۔ اس قوم کی بدوؤں والی خانہ بدوش زندگی تھی۔ان کا ہیکل یا معبد ایک خیمہ تھا۔ اس خیمے میں تابوت سکینہ رکھا ھوتا تھا جس کی جانب یہ رخ کرکے عبادت کیا کرتے تھے۔ روایات کے مطابق یہ تابوت جس لکڑی سے تیار کیا گیا تھا اسے " شمشاد کہتے ہیں۔ اور اسے جنت سے حضرت آدم علیہ السلام کے پاس بھیجا گیا تھا۔ یہ تابوت نسل در نسل انبیا سے ھوتا ھوا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تک پہنچا تھا، اس مقدس صندوق میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا من و سلویٰ اور دیگر انبیا کی یادگاریں تھیں۔ یہودی اس تابوت کی برکت سے ھر مصیبت پریشانی کا حل لیا کرتے تھے مختلف اقوام کے ساتھ جنگوں کے دوران اس صندوق کو لشکر کے آگے رکھا کرتے اس کی برکت سے دشمن پر فتح پایا کرتے۔ جب حضرت داؤد علیہ السلام کو بادشاہت عطا ھوئی تو آپ نے اپنے لئے ایک باقاعدہ محل تعمیر کروایا۔ ایک دن ان کے ذہن میں خیال آیا کہ میں خود تو محل میں رہتا ھوں جبکہ میری قوم کا معبد آج بھی خیمے میں رکھا ھوتا ہے۔ یہ بائیبل کی روایات ہے،
جیسے بائیبل میں ہے
" بادشاہ نے کہا: ’میں تو دیودار کی شان دار لکڑی سے بنے ہوئے ایک محل میں رہتا ہوں، مگر خدا وند کا تابوت ایک خیمے میں پڑا ہوا ہے( 2۔سموئیل 4؛2)۔
چنانچہ آپ نے ہیکل کی تعمیر کا ارادہ کیا اور اس کے لئے ایک جگہ کا تعین کیا گیا۔ ماھرین نے آپ کو مشورہ دیا کہ اس ہیکل کی تعمیر آپ کے دور میں ناممکن ہے آپ اس کا ذمہ اپنے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام کو دے دیجئیے۔ چنانچہ حضرت سلیمان نے (970 ق م ۔ 930 ق م ) نے اپنے دور حکومت کے چوتھے سال میں اس کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ آج اس کی بناوٹ اور مضبوطی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ تعمیر انسانوں کے بس کی بات نہیں تھی اتنے بھاری اور بڑے پتھروں کو ان جنات کی طاقت سے چنا گیا تھا جن پر حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت تھی۔ ہیکل کی پہلی تعمیر کے دوران ہی حضرت سلیمان علیہ السلام اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ لیکن جنات کو پتہ نہ چل سکا اور انہوں نے ہیکل کی تعمیر مکمل کردی۔ یہ واقعہ آپ نے پہلے بھی پڑھا ہوگا۔ کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی روح اللہ نے دوران عبادت ہی قبض کرلی لیکن اس کی ترکیب اس طرح بنی کے آپ ایک لکڑی پر سر اور کمر رکھ کر عبادت میں مصروف ہوگئے اور اس لکڑی کے سہارے سے یوں لگتا تھا کہ آپ اب بھی عبادت ہی کررہے ہیں۔ جبکہ آپ کا انتقال ہوچکا تھا۔ بہرحال یہ ہیکل، معبد یا مسجد بہت عالیشان اور وسیع و عریض تعمیر کی گئی تھی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد اس میں تین حصے کردئیے گئے تھے بیرونی حصے میں عام لوگ عبادت کیا کرتے اس سے اگلے حصے میں علما جو کہ انبیا کی اولاد میں سے ھوتے ان کی عبادت کی جگہ تھی اس سے اگلے حصے میں جسے انتہائی مقدس سمجھا جاتا تھا اس میں تابوت سکینہ رکھا گیا تھا۔ اس حصے میں کسی کو بھی داخل ھونے کی اجازت نہیں تھی۔ سوائے سب سے بڑے عالم پیش امام کے۔
وقت گزرتا رھا اس دوران بنی اسرائیل میں پیغمبر معبوث ھوتے رہے یہ قوم بد سے بدتر ھوتی رھی ، یہ کسی بھی طرح اپنے گناھوں سے توبہ تائب ھونے یا ان کو ترک کرنے کے لئے تیار نہیں تھے یہ ایک جانب عبادتیں کیا کرتے دوسری جانب اللہ کے احکام کی صریح خلاف ورزی بھی کرتے رہے۔ ان کی اس دوغلی روش سے اللہ پاک ناراض ھوگیا۔ان کے پاس ایک بہت بڑی تعداد میں انبیا بھی بھیجے گئے لیکن یہ قوم سدھرنے کو تیار نہ تھی حتی کہ ان کی شکلیں تبدیل کرکے بندر اور سؤر تک بنائی گئیں لیکن یہ گناھوں سے باز نہ آئے تب اللہ نے ان پر لعنت کر دی۔ 586 ق۔ م میں بخت نصر نے ان کے ملک پر حملہ کیا ان کا ہیکل مکمل طور پر تباہ و برباد کر دیا، ہیکل میں سے تابوت سکینہ نکالا، چھ لاکھ کے قریب یہودیوں کو قتل کیا تقریبا" دو لاکھ یہودیوں کو قید کیا اور اپنے ساتھ بابل (عراق) لے گیا شہر سے باھر یہودی غلاموں کی ایک بستی تعمیر کی جس کا نام تل ابیب رکھا گیا۔ 70 سال تک ہیکل صفحہ ھستی سے مٹا رھا۔ دوسری طرف بخت نصر نے تابوت سکینہ کی شدید بے حرمتی کی اور اسی کہیں پھینک دیا کہا جاتا ہے اس حرکت کا عذاب اسے اس کے ملک کو اس طرح ملا کہ سن 539 ق۔ م میں ایران کے بادشاہ سائرس نے بابل ( عراق) پر حملہ کر دیا اور بابل کے ولی عہد کو شکست فاش دے کر بابلی سلطنت کا مکمل خاتمہ کر دیا۔ سائرس ایک نرم دل اور انصاف پسند حکمران تھا اس نے تل ابیب کے تمام قیدیوں کو آزاد کرکے ان کو واپس یروشلم جانے کی اجازت دے دی۔ اور ساتھ میں ان کو ہیکل کی نئے سرے سے تعمیر کی بھی اجازت دے دی ساتھ میں اس کی تعمیر کے لئے ھر طرح کی مدد فراھم کرنے کا وعدہ بھی کر لیا۔
چنانچہ ہیکل کی(دوسری) تعمیر 537 ق م میں شروع ہوئی۔لیکن تعمیر کا کام سر انجام دینے والوں کو اپنے ہم وطن دشمنوں کی اتنی زیادہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑا کہ تعمیراتی کام جلد ہی عملی طور پر بند ہو گیااور دارا (Darius) اوّل کے دورِ حکومت تک مداخلت ہی کا شکار رہا۔ اُس کی حکمرانی کے دوسرے سال میں حضرت زکریا علیہ السلام نے وہاں کے گورنر زروبابل اور سردار کاہن یوشواہ (یوشع) کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ہیکل کی تعمیر ثانی کی دوبارہ کوشش کریں۔ انھوں نے مثبت ردِ عمل کا اظہار کیااور پوری قوم کی پر جوش تائیداور ایرانی حکام اور بذات خودبادشاہ کی اشیرباد سے ہیکلِ ثانی اپنی اضافی تعمیرات سمیت ساڑھے چار سال کے عرصے میں 520۔ 515 ق م پایۂ تکمیل کو پہنچا۔

لیکن اس بار اس میں تابوت سکینہ نہیں مل سکا ۔ اس کے بارے آج تک معلوم نہیں ھوسکا کہ بخت نصر نے اس کا کیا کیا۔ کچھ لوگوں کا کہنا ھے کہ اس مقدس صندوق کی مزید توھین سے بچانے کے لئے اسے اللہ پاک کے حکم سے کسی محفوظ مقام پر معجزانہ طور پر چھپا دیا گیا جس کا کسی انسان کو علم نہیں۔لیکن یہودی اس کی تلاش میں پورے کرہ ارض کو کھود ڈالنا چاھتے ھیں۔
ایک اور دلچسپ بات عام طور پر تاریخ دان ہیکل کی دو دفعہ تعمیر اور دو دفعہ تباھی کا ذکر کرتے ھیں۔ تاریخ کے مطالعے سے ایک بات میرے سامنے آئی کہ ایسا نہیں ، اس ہیکل کو تین بار تعمیر کیا گیا لیکن اس کے ساتھ بھی ایک دلچسپ کہانی وجود میں آئی۔ ھیروڈس بادشاہ جو کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے چند سال پہلے کا بادشاہ ہے اس نے جب اس کی بہتر طریقے سے تعمیر کی نیت کی تو یہودیوں کے دل میں ایک خوف پیدا ھوا کہ اگر اسے نئے سرے سے تعمیر کے لئے گرایا گیا تو دوبارہ تعمیر نہیں ھوگا۔ ھیروڈس نے ان کو بہلانے کے لئے کہا کہ وہ صرف اس کی مرمت کرانا چاھتا ھے اسے گرانا نہیں چاھتا۔ چنانچہ سن 19 ق م میں اس نے ہیکل کے ایک طرف کے حصے کو گرا کر اسے تبدیلی کے ساتھ اور کچھ وسیع کرکے تعمیر کروایا یہ طریقہ کامیاب رھا اور یوں یہودیوں کی عبادت میں خلل ڈالے بغیر تھوڑا تھوڑا کرکے ہیکل گرایا جاتا اور اس کی جگہ نیا اور پہلے سے مختلف ہیکل وجود میں آتا رھا۔ یہ کام اٹھارہ ماہ میں مکمل ھوا اور یوں تیسری بار ھیروڈس کے ذریعے ایک نیا ہیکل وجود میں آ گیا۔ کچھ عرصہ بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ھوا، اللہ کے اس رسول پر ایک بار پھر یہودیوں نے حسب معمول مظالم کے پہاڑ توڑنے شروع کر دئیے۔ دراصل وہ اپنے مسیحا کے منتظر تھے جو دوبارہ آ کر ان کو پہلے جیسی شان و شوکت عطا کرتا ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب کرنے کی کوشش کا واقعہ پیش آیا ، آپ کے مصلوب ھونے کے 70 سال بعد ایک بار پھر یہودیوں پر اللہ کا عذاب نازل ھوا۔ اس بار اس عذاب کا نام ٹائٹس تھا۔ یہ رومی جرنیل، بابل کے بادشاہ بخت نصر سے بھی زیادہ ظالم ثابت ھوا۔ اس نے ایک دن میں لاکھوں یہودیوں کو تہہ تیغ کر دیا۔ اس نے ھیروڈس کے بنائے ھوئے عظیم الشان ہیکل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ اور یہودیوں کو ھمیشہ کے لئے یروشلم سے نکال باھر کیا۔
یہودی پوری دنیا میں بکھر کر اور رسوا ھوکر رہ گئے۔ کم و بیش اٹھارہ انیس سو سال تک بھٹکنے کے بعد برطانیہ نے جب فلسطین پر قبضہ کیا تو ساتھ ہی ایک ناجائز بچےاسرائیل کو فلسطین میں جنم دے دیا۔ اور یوں صدیوں سے دھکے کھانے والی قوم کو ایک بار پھر اس ملک اسرائیل میں اکٹھے ھونے رھنے کی اجازت مل گئی۔ لیکن یہ قوم اپنی ھزاروں سال پرانی گندی فطرت سے باز نہ آئی ۔ یہ برطانیہ کے جنم دئیے ھوئے اسرائیل تک محدود نہ رھے ایک بار پھر ھمسایہ ممالک کے لئے اپنی فطرت سے مجبور ھوکر مصیبت بننے لگے۔ 5 جون 1967 کو اس نے شام کی گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا۔ 1968 میں اردن کے مغربی کنارے پر قابض ھوگئے۔ اسی سال مصر کے علاقے پر بھی کنٹرول کر لیا۔ آج اس قوم کی شرارتیں اور پھرتیاں دیکھ کر اندازہ ھوتا ہے کہ یہ آج سے دو تین ھزار سال پہلے بھی کس قدر سازشی رہے ہوں گے۔ جس کی وجہ سے اللہ نے ان پر لعنت کر دی تھی۔ مسلمان ممالک کی بے غیرتی اور بزدلی کی وجہ سے اب اس نے پوری دنیا کے مسلمان ممالک میں آگ لگا کر رکھ دی ہے۔
اب ان کا اگلا مشن جلد ازجلد اسی ہیکل کی تعمیر ھے اور اس ہیکل میں تخت داؤد اور تابوت سکینہ کو دوبارہ رکھنا ہے تاکہ ایک بار پھر یہ اپنے مسایا (یہودی زبان کا لفظ ) مسیحا کے آنے پر پوری دنیا پر اپنی حکومت قائم کر سکیں۔ وہ یہ کام انتہائی تیزرفتاری سے کر رہے ھیں۔ اس ہیکل کی تعمیر کے نتیجے میں یہ پوری دنیا جنگ کی آگ میں لپٹ جائے گی۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اسرائیل کے دارالخلافہ کی تبدیلی کا اعلان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ لیکن مسلمان اقوام کو کوئی پرواہ نہیں۔

آپ اندازہ کیجئے یہودیوں کو جس بستی تل ابیب میں بخت نصر نے قیدی بنا کر رکھا تھا وہ اس کو آج تک نہیں بھولے ، انہوں نے اسرائیل بنانے کے بعد اپنے ایک شہر کا نام تل ابیب رکھ لیا۔ جبکہ ھم مسلمان اس مسجد اقصی کو بھی بھول چکے ھیں جہاں ھمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کا سفر شروع کیا تھا۔ یہودی آج تک بار بار گرائے گئے ہیکل کو نہیں بھولے حتی کہ اس میں رکھے تابوت سکینہ کی تلاش میں پوری دنیا کو کھود دینا چاہتے ہیں جبکہ ہم کو یہ بھی یاد نہیں کہ عراق میں کتنے انبیا اولیاء کے مزارات پچھلے کچھ عرصہ میں بم لگا کر شہید کر دئیے گئے ہیں۔ ۔

Address

Wb
Ukhra
713363

Opening Hours

9am - 5pm

Telephone

+919434675695

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Md Mahboob Alam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category