11/12/2025
دکن اسٹڈیز مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد کے دوسرے دن کے سمینار کا مختصر سا خلاصہ
11 دسمبر 2025 بروز جمعرات، ہارون خان شیروانی ہال میں سمینار کے دوسرے دن کی نشست کا آغاز ڈاکٹر شباش کی نظامت سے ہوا۔ ابتدا میں محترمہ زینت خان کو مدعو کیا گیا۔ انہوں نے "دکن کے آرکائیو و ذرائع" کے موضوع پر نہایت محققانہ گفتگو پیش کی۔ دورانِ خطاب انہوں نے اپنے کتاب کا تعارف کرایا اور ان میں موجود باریک ترین علمی نکات کی طرف سامعین کو متوجہ کیا۔ شرکا نہایت توجہ کے ساتھ ان کا لیکچر سنتے رہے اور دکنی تاریخ پر تحقیق کے طریقۂ کار سے واقفیت حاصل کرتے ہوئے اپنے علم میں اضافہ کرتے رہے۔
بعد ازاں شعبہ دکن اسٹڈیز کی پروفیسر سلمہ احمد فاروقی نے زینت خان کی معرکہ آرا تصنیف The Sirens of September کے حوالے سے چند اہم نکات پیش کیے اور ان کی علمی خدمات پر اظہارِ تشکر کیا۔ اس کے بعد ڈاکٹر شاہد جمال نے بھی مذکورہ کتاب کے محاسن پر روشنی ڈالی۔
اگلے مقرر ڈاکٹر منتظر علی، Assistant Superintending Epigraphist، آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا تھے۔ ان کا موضوع "دکن کے شلالیھ اور مہریں" تھا۔ انہوں نے دکن کی مختلف اسکرپٹس کی مثالیں پیش کرتے ہوئے ان کی علمی و تاریخی اہمیت کو نہایت تفصیل سے واضح کیا۔ ساتھ ہی دہلی سلطنت کے چند اہم اسکرپٹس بھی پیش کیے اور طلبہ و طالبات کو نہایت سلیقے سے ان کی خصوصیات سے آگاہ کیا۔ دورانِ لیکچر انہوں نے عربی، فارسی اور سنسکرت خطاطی کے نمونوں کا بھی خوبصورت انداز میں تجزیہ کیا۔
اس کے بعد پروفیسر نجم الحسن، جو اس سیشن کے مہمانِ خصوصی تھے ان کو دعوتِ خطاب دی گئی۔ انہوں نے شعبہ دکن اسٹڈیز اور سمینار کے منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دو روزہ علمی سرگرمی کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔
نشست کے اختتام پر طلبہ و طالبات سے سمینار کے متعلق مختصر فیڈ بیک لیا گیا، جس میں شرکاء نے نہایت عمدہ انداز میں اپنے تاثرات پیش کیے۔ بعد ازاں تمام شریک طلبہ و طالبات کو اسنادِ شرکت (Certificates) پیش کی گئیں۔
اختتامی کلمات کے لیے ڈاکٹر شاہد جمال کو مدعو کیا گیا۔ انہوں نے سب سے پہلے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر، رجسٹرار، معزز مہمانانِ گرامی اور تمام طلبہ و طالبات کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
یوں دو دن کا یہ علمی سمینار بہترین نظم و ضبط، کامیابی اور خوشگوار ماحول کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
بقلم : معراج عالم شعبہ تاریخ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد
10/12/2025
Symbolic Representations of the Deccan (Coins, Seals, Inscriptions, Manuscripts and Artefacts)
آج، مورخہ ۱۰ دسمبر ۲۰۲۵ء کو مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی، حیدرآباد کے شعبۂ دکن اسٹڈیز کے زیرِ اہتمام دو روزہ قومی سیمینار کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات اور ریسرچ اسکالرز نے شرکت کی۔ سیمینار کا موضوع "دکن کی علامتی نمائندگی: سکہ، مہر، نقوش، مخطوطات اور نوادرات" پر تھا۔
سیمینار کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر شبھاش نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔ انہوں نے مہمانانِ گرامی کا پُرتپاک استقبال کیا اور روایتی انداز میں اُن کی شال پوشی کی۔
اس کے بعد شعبۂ دکن اسٹڈیز کی صدر و ڈائریکٹر پروفیسر سلمہ احمد فاروقی نے نہایت مہذب اور شائستہ انداز میں استقبالیہ خطاب پیش کیا۔ انہوں نے سیمینار کی علمی افادیت، مقصد اور اہم نکات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
بعد ازاں مہمانِ خصوصی پروفیسر ارجن راؤ کو مدعو کیا گیا۔ انہوں نے موضوع کی جامع وضاحت پیش کرتے ہوئے دکن میں رائج مختلف اسکرپٹ، اُن کی تاریخی نوعیت اور فنِ خطاطی کی اہمیت کو مدلل انداز میں بیان کیا۔ انہوں نے یونیورسٹی اور شعبۂ دکن اسٹڈیز کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ شعبہ تحقیقی کام، خصوصاً سکّوں اور اسکرپٹس کے مطالعے میں قابلِ قدر رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
اس کے بعد دوسرے مہمانِ مقرر مسٹر امار بر سنگھ کو مدعو کیا گیا مسٹر اماربر سنگھ نے اپنے خطاب میں وضاحت کی کہ کسی بھی قدیم سکے یا نوادرات پر تحقیق کرنا ایک نہایت پیچیدہ عمل ہے، بالخصوص جب مواد سرکاری اداروں یا سرکاری محفوظات سے متعلق ہو۔ انہوں نے موضوع "دکن کے سکے" پر گفتگو کرتے ہوئے مختلف مؤرخین کے نظریات کا حوالہ دیا، دکن کے مختلف حکمران خاندانوں اور اُن کے جاری کردہ سکّوں کا تعارف پیش کیا، نیز دہلی سلطنت کے چند خاندانوں کے سکّوں کا تقابلی جائزہ بھی پیش کیا۔ انہوں نے دکن کی سیاسی تاریخ، بالخصوص دکن کے پانچ حصوں میں تقسیم ہونے کے پس منظر کو بھی نہایت وضاحت سے بیان کیا۔
اس کے بعد ڈاکٹر غلام احمد رضا کو مدعو کیا گیا سر نے "فارسی مسودات کا تجزیہ اور تشخیص" کے موضوع پر نہایت ہی مبسوط اور تحقیقی خطاب پیش کیا۔ انہوں نے فارسی مخطوطات کی پہچان، ترتیب، تشخیص اور متن کے تجزیے کے بنیادی اصولوں کو معتبر حوالوں کی روشنی میں بیان کیا۔ اسی طرح سر اپنے لیکچر کے دوران متعدد قدیم اسکرپٹس ،عربی اور فارسی کا مطالعہ کرایا اور اُن کے قرأت کے طریقے عملی مثالوں کے ذریعے واضح کیے۔
یوں آج کے سیمینار کا پہلا دن بحسن و خوبی اپنے اختتام کو پہنچا۔
متعلم: معراج عالم
شعبۂ تاریخ
مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی، حیدرآباد
03/12/2025
تو ہے
چاندنی رات میں احساس کا ساحل تُو ہے
میری غزلوں کے بھی اشعار کا حاصل تُو ہے
خواب جاگیں تو تجھے سوچتے رہنے کا عمل
خواب سو جائیں تو پھر خوابوں کا محمل تُو ہے
دل کی دھڑکن میں دھڑکتا ہے فقط نام ترا
میری خاموش نگاہوں کا بھی حاصل تُو ہے
تیری تصویر کو لفظوں میں پرویا میں نے
شعر کہنے کی مری پہلی ہی منزل تُو ہے
وقت رُکتا نہیں، لمحات بدل جاتے ہیں
پر جہاں ٹھہرے نظر، پھرسرِمحفل تُو ہے
یہ حقیقت ہے کہ معراجؔ کا ایماں ہے یہی
اس کی ہستی کا سبب، اس کے مقابل تُو ہے
معراج عالم
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد
01/12/2025
مولانا آزاد کی فکر و نظر
اک حرف تھا قرآن کی تفسیر بن گیا
آزادؔ نُور وہ ہے، جو تقدیر بن گیا
خود قید میں بھی رہ کے لکھا جس نے حریت
اک قید کا وہ لمحہ بھی تفسیر بن گیا
کتنا ہی اعلیٰ ظرف اور اعلیٰ خیال تھے
وہ مردِ حق، جو قوم کی تعبیر بن گیا
تعلیم کے تھے موتی، اور خوشبوئے سخن
ہر لفظ اُن کا جیسے کہ تنویر بن گیا
اے قوم وہ دن نہ بھولو کبھی تم
جس چیز کو بھی لکھا وہ تاریخ بن گیا ۔
معراج عالم
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد
11/11/2025
https://youtube.com/shorts/mE7wZKzRoTE?si=v4YXdkFXySCv8ufz
Please like share suscribe and comments
یوم آزاد تقاریب کے موقع پر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد کے مشاعرہ میں شرکت کرتے ہوئے
11 November 2025
Mushayirah Maulana Azad National Urdu university Hyderabad ایک قید کا لمحہ تفسیر بن گیا
17/10/2025
گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
14/10/2025
کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے ایک ٹوٹا ہوا تارہ
13/10/2025
نہ کر تقدیر کا شکوہ مقدر آزماتاجا
ملے گی خود بخود منزل قدم آگے بڑھاتا جا
Urdu Shayri & Articles
B.A Arts in Maulana Azad National Urdu University Lucknow campus
M.A Arts and social sciences