03/08/2026
🌹
**غیرت مند ہاتھی**
بادشاہ بہادر شاہ ظفر خاندانِ مغلیہ کے آخری بادشاہ تھے۔ ان کی عمر کا آخری حصہ بڑا دردناک رہا۔ انگریزوں نے انہیں گرفتار کیا، ان کے سامنے ان کے عزیز قتل کیے گئے، انہیں قید و بند کی تاریکیوں اور صعوبتوں میں پھینک ڈالا۔ وہ اردو کے اچھے شاعر بھی تھے، انہوں نے قید و بند کے عرصے میں بڑی دردناک غزلیں کہی ہیں۔ ان کے دکھ بھرے اشعار کا نمونہ ملاحظہ ہو، سنا ہے یہ اشعار ان کی لوحِ تربت پر بھی ثبت ہیں:
میرا رنگ و روپ بگڑ گیا، میرا یار مجھ سے بچھڑ گیا
جو چمن خزاں سے اجڑ گیا، میں اس کی فصلِ بہار ہوں
میری فاتحہ کے لیے کوئی آئے کیوں، کوئی چار پھول چڑھائے کیوں
کوئی آ کے شمع جلائے کیوں، میں وہ بے کسی کا مزار ہوں
ان کے داروغۂ ماہی مراتب ظہیر دہلوی نے اپنی آپ بیتی "داستانِ غدر" کے نام سے لکھی ہے۔ اس میں انہوں نے بہادر شاہ ظفر کے مشہور ہاتھی مولا بخش کا یہ حیرت انگیز واقعہ لکھا ہے کہ:
مولا بخش ایک قدیم معمر ہاتھی تھا۔ اس نے کئی بادشاہوں کو سواری دی تھی۔ اس ہاتھی کی عادتیں بالکل انسان کی طرح تھیں۔ قد و قامت میں ایسا بلند و بالا ہاتھی ہندوستان کی سرزمین میں نہ تھا اور نہ اب ہے۔ یہ ہاتھی بیٹھا ہوا بھی دوسرے کھڑے ہاتھیوں کے قد کے برابر ہوتا تھا۔ خوب صورتی میں اپنا جواب نہ رکھتا تھا۔ کسی آدمی کو، سوائے ایک خدمتگار کے، پاس نہ آنے دیتا تھا۔ جس دن بادشاہ کی سواری ہوتی تھی اس سے ایک دن پیشتر شاہی چوبدار جا کر حکم سنا دیتا تھا کہ: میاں مولا بخش! کل تمہاری نوکری ہے، ہوشیار ہو جاؤ، نہا دھو کر تیار ہو۔ جس وقت بادشاہ نقار خانے کے دروازے سے برآمد ہوتے تو یہ چیخ مار کر تین سلام دیتا اور خود ہی بیٹھ جاتا۔ جس وقت تک بادشاہ سوار نہ ہو لیں اور خواص نہ بیٹھ جائیں، ذرا مال نہ کر جنبش کر جاتا۔ جب بادشاہ سوار ہو لیتے اور فوجدار اشارہ کرتا، فوراً کھڑا ہو جاتا۔ مختصر یہ کہ جب سواری سے فرصت پاتا پھر ویسا ہی مست ہوتا جیسا تھا۔ یہ بات وہ سمجھ گیا تھا (یعنی اپنی حیثیت پہچانتا تھا)۔
یہ کمال اس ہاتھی کو حاصل تھا۔ جب فیل خانۂ شاہی پر انگریزوں کا قبضہ ہو گیا تو مولا بخش نے دانہ پانی چھوڑ دیا۔ فیل بان نے جا کر سانڈرس صاحب کو اطلاع دی کہ ہاتھی نے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے۔ سانڈرس صاحب کو یقین نہ آیا، فیل بان کو گالیاں دیں اور کہا: چلو، خود کھلوائیں گے۔ وہ پانچ روپے کے لڈو اور کچھ کچوریاں ہمراہ لے کر ہاتھی کے پاس پہنچے اور شیرینی کا ٹوکرا ہاتھی کے آگے رکھ دیا۔ ہاتھی نے جھلا کر ٹوکرے کو اس زور سے سونڈ مار کر پھینکا کہ اگر کسی آدمی کو لگتا تو کام تمام ہو جاتا۔ ٹوکرا دور جا گرا اور تمام شیرینی بکھر گئی۔ سانڈرس صاحب نے کہا: ہاتھی پاگل ہے، اسے نیلام کر دو۔ چنانچہ اسی روز صدر بازار میں لا کر کھڑا کیا گیا اور نیلامی کی بولی بولی، کوئی خریدار نہ ہوا۔ ایک پنساری نے ڈھائی روپے کی بولی دی۔ اسی بولی پر صاحب نے نیلام ختم کر دیا۔ فیل بان نے ہاتھی سے کہا:
"بھائی! تمام عمر تو نے بادشاہوں کی نوکری کی، اب تقدیر پھوٹ گئی کہ ہلدی بیچنے والے کے دروازے پر چلنا پڑا۔"
یہ سنتے ہی ہاتھی کھڑے قد سے زمین پر گر پڑا اور جاں بحق ہو گیا۔
(کتاب ہیں چین اپنا"، ص:۱۶۲-۱۶۴)
🌸🌼♥️🤲🌹
26/07/2026
25/07/2026