Darul Ilm

Darul Ilm

Share

we the daily wagers of Allah

02/03/2025

پ کہئے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں موجود ہے یہ سب کس کی ملکیت ہے ، آپ کہہ دیجئے کہ سب اللہ ہی کی ملکیت ہے ، اللہ نے مہربانی فرمانا اپنے اوپر لازم فرما لیا ہے تم کو اللہ قیامت کے روز جمع کرے گا ، اس میں کوئی شک نہیں ، جن لوگوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا ہے سو وہ ایمان نہیں لائیں گے ۔

26/02/2025
26/02/2025

سیرتِ طیبہ ایک بحرِ ناپیدا کنار
سیرتِ طیبہ ایک بحرِ ناپیدا کنار
Shuja Mushtaq
12
Last Updated: 50 seconds ago
Seerah
محسن خان



سیرتِ رسول ﷺ ایک ایسا بحرِ ناپیدا کنار ہے جس پر صدیوں سے اہلِ قلم اپنی عقیدت و محبت نچھاور کرتے رہے ہیں۔ اگر قدیم و جدید تمام تصنیفی ذخائر پر نظر ڈالی جائے، تو بادی النظر میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ مزید کسی تحریر کی حاجت باقی نہیں رہی۔ لیکن سیرت محض ایک تاریخی بیانیہ نہیں، بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے۔ایسی حقیقت جو ہر عہد میں نئے انداز سے جلوہ گر ہوتی ہے اور جس پر جتنا غور کیا جائے، اس کے اسرار و معانی اتنے ہی زیادہ روشن ہوتے جاتے ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف قرآنِ حکیم نے اشارہ کیا:

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنة

یعنی رسول اللہ ﷺ کی زندگی تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے۔

(سورة الأحزاب:٢١)

یہی وہ نکتہ ہے جو انسانی فکر کو اس حقیقت پر مائل کرتا ہے کہ سیرت کی توضیح و تعبیر محض ایک علمی مشق نہیں، بلکہ ایک روحانی تقاضا بھی ہے۔

بقول مولانا ابو الحسن ندوی رحمہ اللہ:

سیرت اپنے حسن و جمال ، اپنی موزونیت و لطافت اور اپنی اثر انگیزی و دل آویزی کے لیے کسی بڑے آدمی کی سفارش کسی حکیم کے علم و دانش اور کسی ادیب اور صاحب قلم کے انداز نگارش یا رنگینی بیان کی محتاج نہیں ، اس کے لیے زیادہ سے زیادہ ایک مصنف کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے، وہ حسن بیان ، حسن ترتیب اور حسن انتخاب ہے۔"

(دیکھیے نبیِ رحمت،ص ١٤)

غرض،

ہر دور اپنے مخصوص فکری و تمدنی پسِ منظر کے ساتھ سیرتِ طیبہ کے اُن پہلوؤں کو اجاگر کرنے کا متقاضی ہوتا ہے، جو اس زمانے کے فکری سوالات اور اخلاقی خلشوں کا جواب بن سکیں۔

یہی وجہ ہے کہ سیرت پر جتنا بھی لکھا جائے، جتنا بھی غور کیا جائے، اس کی رفعت اور اس کے جمال میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں:

"من تعلم السيرة فقد تعلم الدين كله."

یعنی جس نے سیرت کو سیکھ لیا، اس نے دین کو مکمل طور پر سیکھ لیا۔

(مناقب الشافعي للبيهقي،ج٢،ص ٢٠٨ )

یہی وہ حقیقت ہے جو سیرت نگاری کو ایک دائمی علمی ضرورت بناتی ہے۔

یہی سبب ہے کہ سیرت کی تحریریں محض ماضی کی گرد میں لپٹی ہوئی یادداشتیں نہیں بلکہ ایک روشن مینار ہیں، جو ہر زمانے کے قافلۂ انسانیت کو منزل کا پتہ دیتے ہیں۔ اس لیے جتنا بھی لکھا جا چکا ہو، جتنا بھی کہا جا چکا ہو، سیرت نگاری کا دائرہ کبھی محدود نہیں ہوسکتا، کیونکہ ہر نئے قلم کی نوک سے اس بحرِ ناپیدا کنار کی ایک نئی جہت آشکار ہوتی ہے۔

ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمہ نے بجا فرمایا ہے:

سیرت ایک لامتناہی اور متلاطم سمندر ہے۔ علم سیرت محض ایک شخصیت کی سوانح عمری نہیں ہے، بلکہ یہ ایک تہذیب ، ایک تمدن، ایک قوم ، ایک ملت اور ایک الہی پیغام کے آغاز اور ارتقاء کی ایک انتہائی اہم انتہائی دلچسپ اور انتہائی مفید داستان ہے۔ سیرت ایک ایسا دریائے متلاطم ہے جس کے درہائے نا سفتہ لامتناہی ہیں۔ ایک مغربی مستشرق نے کسی دوست نے نہیں بلکہ ایک دشمن نے ، یہ اعتراف کیا تھا کہ آنحضور ﷺ کے سیرت نگاروں کا سلسلہ لامتناہی ہے۔ لیکن اس میں جگہ پانا قابل عزت اور باعث شرف ہے۔

(دیکھیے محاضرات سیرت،ص ١٥)

مضمون میں پیش کردہ آراء سے العلم کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے، اور نہ ہی ان آراء کو العلم کے نقطہ نظر یا پالیسی سے منسوب کیا جائے۔

Copied br mohsin khan

Darul Ilm 26/02/2025

Ibn Taymiyyah (1263-1328 CE) was a renowned Islamic scholar, theologian, and jurist. He emphasized the importance of education in Islam. Here are some key points about Ibn Taymiyyah's views on education:

1. *Seeking Knowledge is Obligatory*: Ibn Taymiyyah believed that seeking knowledge is a fundamental obligation (fard) for every Muslim, as it enables them to understand and practice their faith correctly.

2. *Importance of Critical Thinking*: He encouraged critical thinking and analysis in education, emphasizing the need to question and evaluate information to arrive at the truth.

3. *Focus on Islamic Sciences*: Ibn Taymiyyah advocated for a strong foundation in Islamic sciences, including the Quran, Hadith, and jurisprudence (fiqh).

4. *Rejection of Blind Taqlid*: He rejected blind taqlid (imitation) and emphasized the importance of understanding the underlying principles and evidence-based reasoning.

5. *Education for All*: Ibn Taymiyyah believed that education should be accessible to all, regardless of social class or background.

6. *Role of Teachers*: He emphasized the crucial role of teachers in shaping the minds and characters of students, and encouraged teachers to be knowledgeable, wise, and compassionate.

7. *Integration of Faith and Knowledge*: Ibn Taymiyyah advocated for an integrated approach to education, combining faith and knowledge to produce well-rounded individuals who are both knowledgeable and righteous.

Ibn Taymiyyah's views on education continue to influence Islamic thought and education to this day.

Darul Ilm we the daily wagers of Allah

Want your school to be the top-listed School/college in Srinagar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Kokernag
Srinagar
192202