Darasgah Faizan-i-Raza Wagoora

Darasgah Faizan-i-Raza Wagoora

Share

To encourage people with respect to Islam. ENCOURAGE PEOPLE IN RESPECT OF ISLAM.

01/11/2025

30/06/2025

Katla hussain(ra) asal ma margi yazeed hai islam zinda hota hai har karbala ka baad

27/04/2024

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Mushtaq Ahmad Wani, بشیر احمد کھوکھر

20/04/2024

آپ ﷺ نے فرمایا


Hadees translation urdu

16/04/2021

٣ رمضان وِلادتِ شیخ قطب الدین بختیار کاکیؓ

شیخ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ: زندگی کے چند پہلو۔۔۔۔۔

تعرف:
سرخیل سادات اولیاء، عظیم المرتبت، فنا فی اللہ، سلطان المشائخ، زہد و استغنا کے پیکر، استقامت کے پہاڑ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کی ذات گرامی ہندوستان میں سلسلہ چشتیہ کے ان عظیم ترین اشخاص میں سے ہیں، جن کے توسط سے، جن کی نگاہ ناز سے، جن کے علوم و معارف سے، جن کے باطنی اسرار و حکم سے سلسلہ چشتیہ کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا، اور لا تعداد گم گشتہ راہ لوگوں کو ہدایت نصیب ہوئی ہے۔

ولادت با سعادت:
آپ کی تاریخ پیدائش میں قدرے اختلاف ہے، لیکن راجح قول کے مطابق آپ کی ولادت با سعادت ٣ رمضان 582 ہجری کو ماوراء النہر کے مشہور علاقہ قصبہ اوش میں ہوئی تھی۔ تاریخی روایات کے مطابق آپ کی پیدائش اگرچہ رات کے نصف حصہ میں ہوئی تھی، لیکن انوار و برکات کی تجلی نے روشنی کا ایسا سماں باندھ دیا تھا جس سے دیکھنے والوں کو صبح کا گمان ہورہا تھا۔ آپ کا سلسلہ نسب چند واسطوں سے ہوکرحضرت جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ سے ملتا ہے۔ جب آپ کی عمر محض ڈیڑھ سال تھی، آپ کے والد محترم سید کمال الدین احمد بن موسیٰ اس دار فانی سے رخصت ہوگئے۔ آپ والدہ کی زیر تربیت رہے۔

تعلیم و تربیت:
جب آپ کی عمر پانچ برس کی ہوئی تو والدہ نے ہمسائی عورت کے ہمراہ تختی وغیرہ لیکر معلم کے پاس روانہ کیا۔ درمیان راستہ میں ایک بزرگ نے بچے کو شیخ ابو حفص اوشی کے درسگاہ میں پہنچا دیا، اور شیخ سے ارشاد فرمایا کہ احکم الحاکمین کا حکم ہے کہ اس بچہ پر خصوصی توجہ دی جائے۔ کچھ دنوں تک ان کے زیرِ سایہ ظاہری علوم کی تحصیل میں مشغول رہے، بعد ازاں قاضی حمید الدین ناگوری کی خدمت میں علوم ظاہریہ کی تکمیل فرمائی۔ تاریخی روایت کے مطابق آپ نے بچپن میں ہی اپنی والدہ سے قرآن مجید کے پندرہ پارے پڑھ لئے تھے۔

بیعت و سلوک:
بلوغ کے ابتدائی زمانہ میں ہی باطنی علوم کی تحصیل کا شوق پیدا ہوا اور یہ شوق انہیں اس ولی کامل، خضر طریقت کے دربار میں پہنچا دیا جن کی رہبری و راہنمائی میں کمال و تکمیل کے مدارج تک پہنچنا مقدر تھا۔ سترہ سال کی عمر میں آپ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے دست مبارک پر بیعت ہوئے اور محض بیس سال کی عمر میں فقیہ ابو اللیث سمر قندی رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور مسجد میں ممتاز، جلیل القدر، یکتائے روزگار مشائخ عظام کی موجودگی میں خلعت خلافت سے سرفراز کئے گئے۔ آپ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے پہلے خلیفہ ہیں اور بعد کے زمانے میں شیخ کے دامن ادارت سے اس طرح منسلک ہوئے کہ زندگی بھر کیلئے اپنے شیخ کے ہوکر رہ گئے۔

ہندوستان آمد:
خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کی منشا پر آپ ہندوستان تشریف لائے، کچھ عرصہ خواجہ صاحب کی خدمت میں رہے، پھر انہی کے حکم پر دہلی کو اپنا مسکن بنالیا۔ دہلی کا یہ وہ زمانہ تھا جب تاتاریوں کی تباہی و بربادی نے عالم اسلام کو ناقابلِ تلافی نقصان سے دو چار کر رکھا تھا۔ اکناف عالم کے مشائخ و جلیل القدر علماء کرام دہلی میں جمع ہورہے تھے۔ دہلی اہل اللہ اور علوم و معارف کے خزینے کا مسکن بن چکا تھا۔ علماء و مشائخ اور شرعی علوم کے ان نیر تاباں کے درمیان آپ کی حیثیت آفتاب کامل کی تھی۔ جس کی ضیا پاش روشنی سے ہر کوئی مستفید ہورہا تھا۔ شہر کی آبادی سے دور غیاث پور کے علاقہ میں آپ قیام پذیر تھے۔ عوام الناس کی عقیدت کی وجہ سے آنے والوں کا تانتا بندھا رہتا لیکن آپ حالت استغراق اور وجد کی بناء پر فوری توجہ نہیں دے پاتے۔ امراء و سلاطین کی جانب سے پیش کردہ ہدایا و تحائف سے اجتناب فرماتے۔ سلطان شمس الدین التمش نے آپ کی شایان شان آپ کی پذیرائی کی۔ سلطان شمس الدین التمش کا معمول تھا کہ ہفتہ میں دوبار شیخ سے ملاقات کیلئے تشریف لاتے۔ لیکن خدائی شان کہ جس کے در پر شاہوں کا جم غفیر ہوا کرتا تھا وہ خود کبھی شاہی دربار میں نہیں پہنچا۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے اکابرین نے شاہوں کے دربار سے ہمیشہ خود کو الگ تھلگ رکھا ہے، اگر میں دربار شاہی میں حاضری دینے لگوں، تو ان نفوسِ قدسیہ کو کیا جواب دوں گا۔
ایک دفعہ آپ کے مرشد و مربی خواجہ معین الدین چشتی اجمیری دہلی تشریف لائے۔ خواجہ صاحب کے ایک پرانے شناسا نے قطب الدین بختیار کاکی کے متعلق کچھ باتیں کہہ دی۔ خواجہ صاحب نے فرمایا، بابا بختیار اتنی قلیل مدت میں اتنی شہرت ہوگئی کہ اب تمہارے خلاف باتیں بھی ہونے لگی ہے۔ ہمارے ساتھ اجمیر چلو، یہاں تمہارا کوئی قدر دان نہیں ہے۔ وہاں ہم تمہیں مخدوم بنا کر رکھیں گے۔ یہ سن کر مطیع و فرمانبردار مرید نے ارشاد فرمایا کہ، میری تو یہ مجال نہیں کہ آپ کے سامنے کھڑا رہوں، چہ جائیکہ بات بیٹھنے کی ہو۔ اسی وقت آپ خواجہ صاحب کے ہمراہ اجمیر کیلئے روانہ ہوگئے۔ دہلی والوں پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر آپ کے پیچھے ہولیا۔ عوام تو عوام خود دہلی کے سلطان شمس الدین التمش بھی اسی بھیڑ کا حصہ تھے۔ دہلی والوں کیلئے آپ کی مفارقت قابلِ برداشت نہیں تھی۔ جب خواجہ صاحب نے عوام کی یہ وارفتگی اور لگاؤ دیکھا تو یہ کہہ کر راستہ سے واپس کردیا کہ یہ شہرت و مقبولیت منجانب اللہ ہے، اب جاؤ دہلی کو تمہیں ہی سنبھالنا ہے۔
آپ ہمیشہ عبادت و ریاضت میں مشغول رہا کرتے تھے۔ ہر دن سو رکعت نفل نماز کا معمول تھا، نیز رات کو تین ہزار درود شریف پڑھا کرتے تھے۔ شادی کے بعد تین چار دنوں تک مصروفیت کی وجہ سے یہ اہتمام باقی نہیں رہا۔ آپ کے خادم انیس احمد نے خواب دیکھا کہ ایک عالیشان محل ہے۔ باہر مشائخ عظام کا بڑا مجمع ہے۔ دروازے پر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ لوگوں کا پیغام اندر پہنچا رہے ہیں۔ میں نے بھی ملاقات کا پیغام بھجوایا۔ جواب آیا کہ ابھی تم اس کے اہل نہیں ہو، البتہ قطب الدین بختیار کاکی سے عرض کرنا کہ تین دنوں سے ہمارا تحفہ نہیں آیا ہے۔
کاکی کی وجہ تسمیہ
شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب (تاریخ مشائخ چشت) میں بیان فرمایا کہ، دہلی میں قیام کے زمانے میں آپ کبھی کسی سے کچھ نہیں لیتے تھے۔ ہدایا و تحائف پیش کئے جاتے لیکن شان بے نیازی نے کبھی ان چیزوں کی جانب توجہ نہیں دی۔ جس کے نتیجہ میں بسا اوقات کئی وقتوں میں فاقہ ہوجایا کرتا تھا۔ آپ کی اہلیہ محترمہ ہمسائی عورت سے کچھ قرض لے لیا کرتی تھی۔ ایک مرتبہ ہمسائی عورت نے اہلیہ محترمہ سے کہہ دیا کہ اگر ہم قرض نہ دیں تو تم بھوکے مرجاؤ۔ یہ بات اہلیہ محترمہ کے دل کو لگ گئی۔ موقع دیکھ کر شیخ سے تذکرہ کردیا۔ شیخ نے گھر کے ایک طاق کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جب کبھی ضرورت پیش آئے وہاں سے کاک ( روٹی) لے لیا کرو۔
وفات
حضرت شیخ قطب الدین بختیار کاکی کا وصال چودہ یا چوبیس ربیع الاول کو سن 633 یا 634 ہجری بروز دو شنبہ ہے۔ آپ کا مزار دہلی کے مہرولی علاقہ میں ہے۔
وصال کے بعد جب آپ کا جنازہ تیار کرکے رکھا گیا تو خادم نے اعلان کیا کہ شیخ کی وصیت ہے کہ نماز جنازہ وہ شخص پڑھائے جس نے کبھی کسی غیر محرم کو نہ دیکھا ہو، عصر کی سنت قضاء نہ کی ہو۔ پورے مجمع پر سناٹا چھا گیا، اتنے بڑے مجمع میں کوئی آگے نہیں بڑھا، اخیر میں سلطان شمس الدین التمش خود آگے بڑھے اور فرمایا کہ میں اسے راز رکھنا چاہتا تھا، لیکن جب شیخ نے ہی راز کو افشا کردیا تو اب چھپانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
آپ کا حلقہ ادارت بہت وسیع تھا، آپ کے خلفاء کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی۔ لیکن آپ کے تین خلفاء کا سلسلہ پورے برصغیر میں جاری رہا، آپ کے سب سے مشہور خلیفہ شیخ فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ بعد کے زمانے میں خلق خدا نے ان خلفاء کے ذریعہ شیخ کے کمالات سے دینی و روحانی تسکین حاصل کی ہے۔ آج بھی پورے برصغیر میں سلسلہ چشتیہ کے اکابرین کی سند شیخ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ سے جاکر ملتی ہے۔

طالبِ دعا سعید نظیر

16/04/2021

٣ رمضانُ المبارک : یومِ وِصالِ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔
شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا عبدالمصطفیٰ اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا شہنشاہِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے چھوٹی مگر سب سے زیادہ پیاری اور لاڈلی شہزادی ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نام ’’فاطمہ‘‘ اور لقب ’’زہرا‘‘ اور ’’بتول‘‘ ہے۔ امام عبدالرحمن بن علی جوزی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: اعلانِ نبوت سے 5 سال قبل حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی پیدائش ہوئی۔ حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بہت سے القابات ہیں جیسے اُمت السادات، مخدومۂ کائنات، دُختر مصطفی، بانوئے مرتضیٰ، سردارِ خواتین جہاں و جناں، حضرت سیدہ، طیبہ، طاہرہ، فاطمہ زہراء اور بتول، زایہ، راضیہ، مرضیہ، عابدہ، زاہد، محدثہ، مبارکہ، ذکیہ، عذرائ، سیدۃ النسائ، خیرالنسائ، خاتونِ جنت، معظمہ، اُم الہاد، اُم الحسنین وغیرہ، جیسی عظیم کنیتیں اور کثیر القابات آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شخصیت کو ہی موزوں ہو سکتے ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ایک خاص کنیت ’’اُمّ اَبِیْھَا‘‘ بھی ہے۔ خاتونِ جنت کے باباجان رحمت عالمیان محبوب رحمن صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: اِنَّمَا سُمِّیَتْ فَاطِمَۃُ لِاَنَّ اللّٰہَ فَطَمَھَا وَمُحِبِیْھَا عَنِ النَّارِ۔ ترجمہ: اس (یعنی میری بیٹی) کا نام فاطمہ اس لئے رکھا گیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اور اس کے محبین کو دوزخ سے آزاد کیا ہے۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اِنَّ فَاطِمَۃَ اَحْصَنَتْ فَرْجَھَا فَحَرَّمَ اللّٰہُ ذُرِّیَّتھَا عَلی النَّارِ۔ ترجمہ: بیشک فاطمہ نے پاک دامنی اختیار کی اور اللہ تعالیٰ نے اس کی اولاد کو دوزخ پر حرام فرما دیا ہے۔ حضرت سیدنا اَنس بن ملک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی والدہ سے حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا ’’سیدہ چودھویں رات کے چاند کی طرح حسین و جمیل تھیں‘‘۔
طالبِ دعا سعید نظیر

26/02/2021

13 رجب المُرجب
جشنِ نزولِ پُرنور عصمتِ کَعبۃُ ﷲ ، عینؑ ﷲ ، نورؑﷲ ، یدؑ ﷲ ، اسدؑ ﷲ ، ولیؑ ﷲ ، امامِ مبینؑ ، حیدرِ کرارؑ ، ابوترابؑ ، شیرِ خداؑ ، فاتحِ خیبرؑ ، قلِ ایمان ، امام المتقین، دامادِؑ نبیﷺ ، شوہرِ بتولؐ ، امیرالمومنین مولاۓ کائنات امام علیؑ ابنِ ابی طالبؑ علیہ السلام تمام مُومنِین کو مُبارک ھُو..💛💛❤❤

منظر فضائے دہر میں سارا علیؑ کا ہے
جس سمت دیکھتا ہوں نظارا علیؑ کا ہے

15/02/2021

رجب المرجب کا مہینہ شروع ہو چکا ہے۔رجب اسلامی وقمری سال کا ساتواں مہینہ ہے ،اس کا شمار حرمت کے چار مہینوں میں ہوتا ہے،حرمت کے چار مہینے جس طرح قبل ازاسلام معزز ومحترم جانے جاتے تھے اسی طرح بعد از اسلام بھی ان کو وہی حیثیت حاصل ہے بلکہ زیادہ ،اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا ہے ﴿ِانَّ عِدَّةَ الشُّہُورِ عِندَ اللّہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْراً فِیْ کِتَابِ اللّہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَات وَالأَرْضَ مِنْہَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ذَلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ﴾(سورة التوبة،آیت:36پارہ:10)یعنی حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالی کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے،جو اللہ تعالی کی کتاب(لوح محفوظ)کے مطابق اس دن سے چلی آ رہی ہے جس دن اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا تھا،ان (بارہ مہینوں )میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں،یہی دین (کا) سیدھا سادہ(تقاضا) ہے۔

ذوالقعدہ،ذوالحجہ،محرم اور رجب یہ حرمت کے چار مہینے ہیں ان مہینوں میں جہاں نیک کام کا اجرو ثواب دوگنا ہو جاتا ہے ،اسی طرح گنا ہ کے ارتکاب پر وبال اور عذاب بھی دوسرے مہینوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے،علامہ قرطبی فرماتے ہیں”فیضٰعف فیہ العقاب بالعمل السيّء کما یضاعف بالعمل الصالح“(تفسیر قرطبی :8/134،دار الکتب المصریہ)

حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں :”تمام انبیاء علیہم السلام کی شریعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ ان چار مہینوں میں ہر عبادت کا ثواب زیادہ ہوتا ہے اور ان میں کوئی گناہ کرے تو اس کا وبال اور عذاب بھی زیادہ ہوتا ہے۔“حضرت مفتی صاحب ”منھاأربعة حرم“کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں، ”ان کو حرمت والا دو معنی کے اعتبار سے کہا گیا ہے، ایک تو اس لیے کہ ان میں قتل وقتال حرام ہے،اور دوسرا اس لیے کہ یہ مہینے متبرک اور واجب الاحترام ہیں ۔ان میں عبادات کا ثواب زیادہ ملتا ہے ۔ان میں پہلا حکم تو شریعت ِاسلام میں منسوخ ہوگیا مگر دوسرا حکم (احترام وادب)اور ان میں عبادت گزاری کا اہتمام اسلام میں ابھی باقی ہے۔“(معارف القرآن:4/370تا372)

رجب عربی زبان کا لفظ ہے۔ ترجیب سے مشتق ہے۔ اس کے معنی تعظیم وتکریم کے آتے ہیں،بعض حضرات نے اس کا معنی ”ڈرنا “سے کیا ہے،جس کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے مہینوں کی طرح اس مہینہ میں بھی اللہ تعالی سے خوب ڈرنا چاہیے۔یہ مہینہ حرمت کے مہینوں میں ہونے کی وجہ سے محترم اور متبرک ہے اسی طرح اس میں عبادت کا اجر وثواب بھی زیادہ ہے،اس مہینے کے بہت سے فضائل احادیث مبارکہ میں وارد ہوئے ہیں۔احادیث مبارکہ میں اس مہینہ میں روزے رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے اوراس پر بہت زیادہ اجروثواب کی خوشخبری دی گئی ہے۔

رجب کا مہینہ شروع ہوتا تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے”اللّٰھمّ بارک لنا في رجب وشعبان،وبلّغنا رمضان“ یعنی:اے اللہ!رجب اور شعبان کے مہینے میں ہمیں برکت عطا فرما ئیے اور ہمیں رمضان تک پہنچا دیجئے۔(شعب الایمان :5،348، رقم:3534، مکتبة الرشد، ریاض)۔

طالبِ دعا: سعید نظیر

10/02/2021
Want your school to be the top-listed School/college in Srinagar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Khosapora Wagoora
Srinagar