22/03/2024
افطاری کے مسائل . نیز کن چیزوں سے افطار کرنا سنت ہے؟ اور افطاری میں کون سی دعا پڑھنا مسنون ہے؟
جواب..!
الحمدللہ..!
*افطار کا حکم*
افطار کرنا مسنون اور مستحب ہے واجب نہیں,اگر کوئی کسی وجہ سے یا جان بوجھ کے افطار نہیں کرتا تو وہ گناہگار نہیں ہو گا،
📚صحابی رسول قيس بن صرمة الأنصاري رضی اللہ نے رمضان میں بغیرافطارو سحری کے دوسرے دن کا روزہ رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ ہوا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قضاء کا حکم نہیں دیا اورنہ اسے غلط کہا
[صحیح البخاري،حدیث نمبر_ 1915)
_______&_____
*وصال سے ممانعت*
وصال کا معنى ہے ملانا ۔ افطاری کیے , اور آئندہ دن سحری کھائے بغیر روزہ رکھنا وصال کہلاتا ہے ۔ یا دوسرے لفظوں میں ایک دن سحری کھا کر روزہ رکھا جائے اور دوسرے یا تیسرے دن افطار کیا جائے تو یہ وصال ہے ۔ یعنی دو یا تین روزوں کو آپس میں ملا دینے کا نام وصال ہے ۔ اور شریعت اسلامیہ نے ایسا کرنے سے سختی کے ساتھ منع کیا ہے ۔البتہ نبی مکرم ﷺ کو اللہ تعالى نے اس کی اجازت دے رکھی تھی ۔ یہ آپ ﷺ کا خاصہ تھا ۔
📚سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ قَالُوا إِنَّكَ تُوَاصِلُ قَالَ إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى
رسول اللہ ﷺ نے وصال سے منع فرمایا ۔ لوگوں نے کہا آپ بھی تو وصال کرتے ہیں ! آپ ﷺ نے فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں , مجھے کھلایا اور پلایا جاتا ہے
(صحيح البخاري : 1962)
📚سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ إِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَأَيُّكُمْ مِثْلِي إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنْ الْوِصَالِ وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا ثُمَّ يَوْمًا ثُمَّ رَأَوْا الْهِلَالَ فَقَالَ لَوْ تَأَخَّرَ لَزِدْتُكُمْ كَالتَّنْكِيلِ لَهُمْ حِينَ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا
رسول اللہ ﷺ نے روزہ کے ساتھ روزہ ملانے سے منع فرمایا تو مسلمانوں میں سے کسی شخص نے کہا آپ بھی تو ایسا کرتے ہیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے میرے جیسا کون ہے ؟ میں رات گزارتا ہوں تو اللہ (خواب میں ہی) مجھے کھلا پلا دیتا ہے ۔ تو جب انہوں نے باز آنے سے انکار کیا تو آپ ﷺ نے انہیں ایک دن پھر دوسرے دن بھی وصال کروایا اور پھر انہوں نے چاند دیکھ لیا , تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر یہ (چاند ) لیٹ ہوتا تو میں تمہیں اور زیادہ (وصال) کرواتا ۔ یہ آپ ﷺ نے انہیں ڈانٹے کے لیے کیا کیونکہ وہ باز نہیں آ رہے تھے ۔
(صحيح البخاري : 1965)
______&____
*افطاری کا وقت*
سورج غروب ہوتے ہی روزہ افطار کر دیں ۔
📚رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :
إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا وَأَدْبَرَ النَّهَارُ مِنْ هَا هُنَا وَغَرَبَتْ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ
جب ادھر سے رات آ جائے اور دن ادھر کو چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ دار کی افطاری کا وقت ہوگیا
(صحيح البخاري : 1954)
_______&_____
*افطاری وقت پر کر لینی چاہیے ،کچھ لوگ افطار کا وقت ہو جانے کے باوجود بھی لیٹ کرتے ہیں ،جو کہ جائز نہیں،*
📚عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لاَ يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الفِطْرَ»
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میری امت کے لوگوں میں اس وقت تک خیر باقی رہے گی، جب تک وہ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے۔
(صحیح بخاری،حدیث نمبر_1957)
*پیش کردہ حدیث سے معلوم ہوا کہ افطارمیں جلدی کرنا چاہے ، لہٰذا جولوگ احتیاط کے نام پر تاخیر کرتے ہیں درست نہیں،*
📚اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی افطار میں جلدی کرتے تھے
(صحيح مسلم ،رقم 1099)
📚صحابی رسول ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”عَجِّلُوا الْفِطْرَ؛ فَإِنَّ الْيَهُودَ يُؤَخِّرُونَ“
”افطار میں جلدی کرو کیونکہ یہودی افطار میں تاخیر کرتے ہیں
(ابن ماجه1698 ،حسن)
_______&____
*جان بوجھ کر وقت سے پہلے روزہ افطار کرنے والوں کے لیے وعید*
جس طرح سورج غروب ہو جانے کے بعد بلا وجہ تاخیر کرنا ممنوع ہے اسی طرح غروب آفتاب سے قبل جان بوجھ کر افطاری کرنا بھی ناجائز ہے ۔
📚 رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں :
بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ أَتَانِي رَجُلَانِ، فَأَخَذَا بِضَبْعَيَّ، فَأَتَيَا بِي جَبَلًا وَعْرًا، فَقَالَا: اصْعَدْ، فَقُلْتُ: إِنِّي لَا أُطِيقُهُ، فَقَالَا: إِنَّا سَنُسَهِّلُهُ لَكَ، فَصَعِدْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي سَوَاءِ الْجَبَلِ إِذَا بِأَصْوَاتٍ شَدِيدَةٍ، قُلْتُ: مَا هَذِهِ الْأَصْوَاتُ؟ قَالُوا: هَذَا عُوَاءُ أَهْلِ النَّارِ، ثُمَّ انْطُلِقَ بِي، فَإِذَا أَنَا بِقَوْمٍ مُعَلَّقِينَ بِعَرَاقِيبِهِمْ، مُشَقَّقَةٍ أَشْدَاقُهُمْ، تَسِيلُ أَشْدَاقُهُمْ دَمًا قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يُفْطِرُونَ قَبْلَ تَحِلَّةِ صَوْمِهِمْ
اس دوران کہ میں سو رہا تھا کہ خواب میں اچانک میرے پاس دو آدمی آئے , انہوں نے میرے بازوؤں سے پکڑا اور مجھے ایک دشوار گزار پہاڑ پر لے گئے , اور کہنے لگے کہ چڑھ ۔ میں نے کہا میں اسکی طاقت نہیں رکھتا ۔ تو انہوں نے کہا ہم آپ کے ساتھ تعاون کرتے ہیں ۔ میں نے چڑھنا شروع کیا حتى کہ میں جب پہاڑ کی چوٹی پر پہنچا تو وہاں سخت قسم کی آوازیں آنے لگیں۔ میں نے پوچھا کہ کیسی آوازیں ہیں ؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ جہنمیوں کی چیخ وپکار ہے ۔ پھر وہ مجھے لے کر گئے جہاں میں نے کچھ لوگوں کو پاؤں کے پٹھوں کے بل الٹا لٹکے ہوئے دیکھا ۔ جن کی باچھیں چیر دی گئی تھیں اوران سے خون بہہ رہا تھا ۔ میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو وقت سے پہلے روزہ افطار کر دیا کرتے تھے
(صحيح ابن خزيمة : 1986)
*جان بوجھ کر وقت سے قبل روزہ افطار کر دینے والوں کا اتنا عبرت ناک انجام ہے تو وہ لوگ جو روزہ رکھتے ہی نہیں ‘ بلکہ رمضان کے مہینے میں دن بھر کھاتے پیتے رہتے ہیں , ان کا انجام کیا ہوگا ؟*
________&______
*غلطی سے جلدی افطاری کربیٹھیں تو ....؟*
البتہ وہ شخص جو غلطی سے وقت سے قبل افطاری کر بیٹھے تو اس پر لازم ہے کہ حقیقت کا علم ہوتے ہی فورا کھانا پینا ترک کر دے اور اپنا روزہ مکمل کرے ۔ اور پھر جب افطار کا صحیح وقت ہو تو اس وقت روزہ افطار کرے ۔
📚کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ذی شان ہے : مَنْ أَكَلَ نَاسِيًا وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ
جس شخص نے روزہ کی حالت میں بھول کر کھا لیا ,تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنا روزہ مکمل کرے ۔ یقینًا اللہ ہی نے اسے کھلایا اور پلایا ہے،
(صحيح البخاري : 6669)
_______&____
*کس چیز سے روزہ افطار کرنا سنت ہے؟*
📚انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ :
«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ عَلَى رُطَبَاتٍ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ رُطَبَاتٌ، فَعَلَى تَمَرَاتٍ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ حَسَا حَسَوَاتٍ مِنْ مَاءٍ»
”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تازہ کجھوروں سے افطار کرتے تھے اگر یہ میسرنہ ہوتیں تو چھوہاروں سے افطار کرتے یہ بھی نہ ہوتی تو پانی کے چند گھونٹ پی لیا کرتے تھے
[سنن أبي داود، رقم 2356 ، صحیح]
________&______
*مخلوط پانی یعنی شربت وغیرہ کا استعمال بھی درست ہے*
📚امام بخاری رحمہ اللہ نے باب قائم کیا ہے :
”يُفْطِرُ بِمَا تَيَسَّرَ مِنَ المَاءِ، أَوْ غَيْرِهِ“
”پانی وغیرہ جو چیز بھی پاس ہو اس سے روزہ افطار کر لینا چاہئے“
(صحیح البخاري، قبل الرقم 1956)
📚 عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،
کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں جا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے، جب سورج غروب ہوا تو آپ نے ایک شخص سے فرمایا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھول، انہوں نے کہا یا رسول اللہ! تھوڑی دیر اور ٹھہرئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھول انہوں نے پھر یہی کہا کہ یا رسول اللہ! ابھی تو دن باقی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اتر کر ستو ہمارے لیے گھول، چنانچہ انہوں نے اتر کر ستو گھولا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ رات کی تاریکی ادھر سے آ گئی تو روزہ دار کو روزہ افطار کر لینا چاہئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔
(صحیح البخاري،1956)
_________&______
*وہ چیزیں جن کے بارے مشہور کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے افطار کرتے تھے*
🚫① نمک سے افطار کرنا ثابت نہیں ، کسی بھی روایت میں اس کا ذکر نہیں,
🚫② دودھ سے افطار کرنا بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں اور رہی یہ روایت :
”كان يستحب إذا أفطر أن يفطر على لبن، فإن لم يجد فتمر، فإن لم يجد حسا حسوات من ماء“
[رواه ابن عساكر (2/ 381/ 1) ،
والضياء في "المختارة" (1/ 495)]۔
تو یہ ضعیف ہے دیکھئے:الضعيفة رقم 4269)
🚫③ آگ سے پکی ہوئی چیزوں سے افطار میں پرہیز ثابت نہیں ، اور رہی یہ روایت:
”عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يُحِبُّ أَنْ يُفْطِرَ عَلَى ثَلَاثِ تَمَرَاتٍ أَوْ شَيْءٍ لَمْ تُصِبْهُ النَّارُ“
[مسند أبي يعلى الموصلي 6/ 59]۔
تو یہ روایت سخت ضعیف ہے دیکھئے الضعیفہ رقم 996 ۔
_________&______
*غیر مسلم کی طرف سے افطار*
اگرغیرمسلم حلال اورپاک چیز افطارکے لئے بھیجے تو جس طرح اس کی عام دعوت قبول کرنا جائز ہے اسی طرح اس کی افطار کی دعوت بھی قبول کرنا جائز ہے لیکن سیاسی افطار پارٹیوں کا معاملہ الگ ہے اس میں بڑی قباحتیں ہیں اس لئے اس سے پرہیز ہی بہترہے خواہ یہ نام نہاد مسلمانوں ہی کی طرف سے کیوں نہ ہو۔
________&______
*افطار کی مسنون دعا..؟*
روزہ بسم اللہ کہہ کر افطار کرنا چاہئے,
اس موقع پر پڑھی جانی والی دعا جو لوگوں میں مشہور ہے،
:”اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ، وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ“
[سنن أبي داود_
*البتہ افطار کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ کلمات پڑھنا ثابت ہیں*
📚 ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الْأَجْرُ
إِنْ شَاءَ اللَّه،
”پیاس بجھ گئی ، رگیں تر ہوگئیں ، اور اللہ نے چاہا تو اجر بھی ثابت ہوگیا،
[سنن ابو داود حدیث2357_صحیح]
________&_____
*کسی کو روزہ افطار کروانے کا اجر*
📚رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں :
مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَيْئًا
جس نے کسی روزہ دار کو افطاری کروائی تو اسے بھی روزہ دار جتنا اجر ملے گا , اور روزہ دار کے اجر میں سے کچھ بھی کمی نہیں کی جائے گی
(جامع الترمذي : 807)
_______&_____
*روزہ افطار کروانے والے کے لیے دعاء*
أَفْطَرَ عِنْدَكُمْ الصَّائِمُونَ وَأَكَلَ طَعَامَكُمْ الْأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمْ الْمَلَائِكَةُ
آپکے ہاں روزہ داروں نے افطاری کی , اور آپکا کھانا نیک لوگوں نے کھایا , اور فرشتے آپکے لیے دعاء کریں
(سنن أبي داود : 3854)
((( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))