Mufti Zakir Nadwi
official Page of M***i Zakir Nadwi
انتخاب مطالعہ
تحریر: *محمد طیب حؔنیف*
*تفرد و شذوذ کی حقیقت*
تفرد کسی بھی فقیہ و عالم کی اس رائے کو کہتے ہیں ''جس میں وہ شخص جمہور امت سے منفرد الگ موقف پر قائم ہو اور جمہور علماء نے اس کو قبول عام نہ بخشا ہو''. بہر صورت اس طرح کے تفردات تقریبا ہر فقیہ سے متعلق مل جاتے ہیں ؛ لیکن مسائل میں تفرد کے باوجود سلف صالحین کی جانب سے اس پر اصرار دکھائی نہیں دیتا، انہوں نے ان شذوذ کو عوام میں انتشار کا ذریعہ نہیں بنایا ؛ بلکہ ہمیشہ جمہور کی پیروی پر آمادہ کیا۔
لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جب سے ابلاغ و ترسیل کے ذرائع عام ہوئے اور سوشل میڈیا کی شکل میں ہر بندر کے ہاتھ ماچس تھما دی گئ، تب سے آزادیٔ اظہار خیال کے خوشنما خ*ل و دلفریب نعروں کی گونج میں ہر کہہ و مہہ مختلف شیطانی ہتھکنڈوں کا استعمال کرکے عوام کو گمراہی کے دہانے پر پہنچانے کی تاک میں بیٹھا ہے، انہی نادیدہ دانشور حضرات کے شذوذ و تفرد سے احتیاط برتنے سے متعلق ''معاویہ بن قرّہؒ '' فرماتے ہیں :
" إيّاكَ والشّاذَّ من العلمِ!" علمی تفردات سے خود کو بچاؤ!
(شرح علل الترمذی، لابن رجب الحنبلی، 2/ 625، مكتبة المنار)
چنانچہ حافظ ابن حجرؒ " التلخیص الحبیر" میں بحوالہ "معمرؒ " لکھتے ہیں:
لو أنّ رجلاً يأخد بقول أهل المدينة في استماع الغنيٰ،وإتيان النساء في أدبارهن، وبقول اهل الكوفة في المُسْكِرِ، كان شَرَّ عبادِ اللّٰهِ.
( التلخيص الحبير، 3/ 398، رقم الحديث: 1543، طبع: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان)
ترجمہ: "اگر کوئی شخص اہل مدینہ کی وجہ سے گانےاور بیوی کے قریب غیر فطری راستے سے جانے کے جواز کا قول اختیار کرے اور اہل کوفہ کی وجہ مسکر کو حلال پیش کرے تو وہ مخلوق خدا میں بدترین شخص ہے"۔
*ذوقِ تفرد کے نقصانات*
جمہور امت کی رائے کے برعکس راہِ تفردات اختیار کرنا ایک بڑے خطرے اور فتنے کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے اور اس پُرخار وادی میں قدم رکھنا ہی نہایت نقصان دہ عمل ہے، چنانچہ بسا اوقات ذوق انفرادیت کا یہ بڑھتا رجحان ہوائے نفس کے داؤ پیچ میں الجہاکر علمی زَلّت و لغزش کا باعث واقع ہوتا ہے، جس کی شر انگیزی اور نقصان کا ذکر ''ابوالحسن کرابیسیؒ '' نے سوال و جواب کی صورت اختیار کرکے یوں ذکر کی ہے:-
فإن قال قائل: هؤلاء من اهل العلم! قيل له: إنما يهدم الإسلامَ زلةُ عالمٍ، ولا يهدم زلةُ ألفِ جاهلٍ.
(طبقات الشافعية، 2/ 125، دار هجر للطباعة والنشر والتوزيع)
" اگر کوئی معترض یوں کہے: کہ (یہ ش*ذ رائے پیش کرنے والے ) یہ سب تو اہل علم ہیں ( جس کا نقصان بھلا کیسے متعدی ہوسکتا ہے ؟) جواب دیا جائے گا:- کہ اسلام کی قائم شدہ عمارت کو منہدم کرنے کا مؤثر سبب عالم دین کی لغزش ہی ہوسکتی ہے ؛ باقی جاہل شخص کی ہزار لغزش سے بھی اس کو نقصان نہیں پہنچ سکتا۔
اسی نقطۂ نظر کی حساسیت کو حسی مثال سمیت پیش کرتے ہوئے ''حؔافظ ابن عبد البرؒ '' لکہتے ہیں:
"شبَّهَ العلماءُ زلةَ العلم بانكسار السفينة ؛ لأنها إذا غرقت، غرقت معها خلق كثير ".
( جامع بيان العلم وفضله، 2/982 دار ابن الجوزي، رقم: 1873)
" عالم کی لغزش و زلّت کو حکماء نے کشتی کے ٹوٹنے سے تشبیہ دی ہے ؛ اس لیے کہ کشتی کا ٹوٹنا بہت سے انسانوں کو ڈبو دیتا ہے" ۔
( *ماہنامہ دار العلوم دیوبند، ماہ: مئی / جون، سنہ: 2024، صفحہ: 42، طبع:مختار پرنٹنگ پریس، دیوبند*)
.. محمد عدنان وقار صد
ذو الحجہ کا چاند نظر آگیا ہے، اس لیے عید الاضحی 17 جون بروزِ پیر ہوگی ان شاءاللہ۔ اللّٰہ تعالٰی ہم سب کو اس مبارک مہینے کے فضائل وبرکات نصیب فرمائے!
آج سے 158 سال قبل 31 مئی سن 1866 کو عالمِ اسلام کے عظیم الشان ادارے دار العلوم دیوبند کی بنیاد رکھی گئی، جس نے حق جماعت اہل السنۃ والجماعۃ کی کامل اتباع اور صحیح ترجمانی کے ساتھ ساتھ دین کی تجدید، احیا، تحفظ اور اشاعت میں بہت ہی نمایاں عظیم الشان کارنامے اور وسیع خدمات سر انجام دیں۔ کروڑوں رحمتیں ہوں اس قافلۂ حق پر !
جب دُنیا کے بُت خانوں میں اصنام کی پوجا جاری ہو
جب اک انسان کی عظمت پر اِک پتھر کا دم بھاری ہو
جب من کی جمنا میلی ہو اور رُوح میں اِک بیزاری ہو
جب جھوٹ کے ان بھگوانوں سے ایمان پہ لرزہ طاری ہو
اِس حال میں ہم دیوانوں سے تُم کہتے ہو خاموش رہو
ہم اہلِ حرم ہیں ، اب ہم سے یہ کُفر گوارا کیسے ہو
ہم لوگ انالحق بولیں گے ، ہم لوگ اناالحق بولیں گے
جب مسند ، ممبر پر بیٹھی ہر ایک نظر للچاتی ہو
جب صرف دِکھاوے کی خاطر تسبیح اُٹھائ جاتی ہو
جب دین کے ٹھیکے داروں میں اِک نفس امّارہ باقی ہو
بے ذوق جہاں پر صہبا ہو ، بے ذوق جہاں پر ساقی ہو
اِس حال میں ہم دیوانوں سے تُم کہتے ہو خاموش رہو
جب اہلِ خرد کی باتوں پر کچھ جاہل شور مچاتے ہوں
جب بُلبل ہو تصویرِ چمن اور کوّے گیت سُناتے ہوں
جب چڑیوں کے ان گھونسلوں میں کچھ سانپ اُتارے جاتے ہوں
جب مالی اپنے گُلشن میں خود ہاتھ سے آگ لگاتے ہوں
اِس حال میں ہم دیوانوں سے تُم کہتے ہو خاموش رہو
جب شاہ کے ایک اشارے پر اپنوں میں نیازیں بٹتی ہوں
جب آنکھیں غُربت ماروں کی حسرت کا نظارہ کرتی ہوں
جب قلمیں ظالم جابر کی عظمت کا قصیدہ لکھتی ہوں
جب حق کی باتیں کہنے پہ انساں کی زبانیں کٹتی ہوں
اِس حال میں ہم دیوانوں سے تُم کہتے ہو خاموش رہو
جب مِصر کے ان بازاروں میں ، کنعان کو بیچا جاتا ہو
جب حرص ہوس کی منڈی میں ایمان کو بیچا جاتا ہو
جب صوم صلاۃ کے پردے میں قران کو بیچا جاتا ہو
انسان کو بیچا جاتا ہو ، یزدان کو بیچا جاتا ہو
اِس حال میں ہم دیوانوں سے تُم کہتے ہو خاموش رہو
جس دور میں کعبے والوں کو گِرجا کے نظارے بھاتے ہوں
جس دورمیں مشرق والے بھی مغرب کے ترانے گاتے ہوں
جس دور میں مُسلم لیڈر بھی کچھ کہنے سے گھبراتے ہوں
جس دور میں سبقت ، غیرت کے اسباب عدم ہو جاتے ہوں
اُس دور میں ہم دیوانوں سے تُم کہتے ہو خاموش رہو
افطاری کے مسائل . نیز کن چیزوں سے افطار کرنا سنت ہے؟ اور افطاری میں کون سی دعا پڑھنا مسنون ہے؟
جواب..!
الحمدللہ..!
*افطار کا حکم*
افطار کرنا مسنون اور مستحب ہے واجب نہیں,اگر کوئی کسی وجہ سے یا جان بوجھ کے افطار نہیں کرتا تو وہ گناہگار نہیں ہو گا،
📚صحابی رسول قيس بن صرمة الأنصاري رضی اللہ نے رمضان میں بغیرافطارو سحری کے دوسرے دن کا روزہ رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ ہوا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قضاء کا حکم نہیں دیا اورنہ اسے غلط کہا
[صحیح البخاري،حدیث نمبر_ 1915)
_______&_____
*وصال سے ممانعت*
وصال کا معنى ہے ملانا ۔ افطاری کیے , اور آئندہ دن سحری کھائے بغیر روزہ رکھنا وصال کہلاتا ہے ۔ یا دوسرے لفظوں میں ایک دن سحری کھا کر روزہ رکھا جائے اور دوسرے یا تیسرے دن افطار کیا جائے تو یہ وصال ہے ۔ یعنی دو یا تین روزوں کو آپس میں ملا دینے کا نام وصال ہے ۔ اور شریعت اسلامیہ نے ایسا کرنے سے سختی کے ساتھ منع کیا ہے ۔البتہ نبی مکرم ﷺ کو اللہ تعالى نے اس کی اجازت دے رکھی تھی ۔ یہ آپ ﷺ کا خاصہ تھا ۔
📚سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ قَالُوا إِنَّكَ تُوَاصِلُ قَالَ إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى
رسول اللہ ﷺ نے وصال سے منع فرمایا ۔ لوگوں نے کہا آپ بھی تو وصال کرتے ہیں ! آپ ﷺ نے فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں , مجھے کھلایا اور پلایا جاتا ہے
(صحيح البخاري : 1962)
📚سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ إِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَأَيُّكُمْ مِثْلِي إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنْ الْوِصَالِ وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا ثُمَّ يَوْمًا ثُمَّ رَأَوْا الْهِلَالَ فَقَالَ لَوْ تَأَخَّرَ لَزِدْتُكُمْ كَالتَّنْكِيلِ لَهُمْ حِينَ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا
رسول اللہ ﷺ نے روزہ کے ساتھ روزہ ملانے سے منع فرمایا تو مسلمانوں میں سے کسی شخص نے کہا آپ بھی تو ایسا کرتے ہیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے میرے جیسا کون ہے ؟ میں رات گزارتا ہوں تو اللہ (خواب میں ہی) مجھے کھلا پلا دیتا ہے ۔ تو جب انہوں نے باز آنے سے انکار کیا تو آپ ﷺ نے انہیں ایک دن پھر دوسرے دن بھی وصال کروایا اور پھر انہوں نے چاند دیکھ لیا , تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر یہ (چاند ) لیٹ ہوتا تو میں تمہیں اور زیادہ (وصال) کرواتا ۔ یہ آپ ﷺ نے انہیں ڈانٹے کے لیے کیا کیونکہ وہ باز نہیں آ رہے تھے ۔
(صحيح البخاري : 1965)
______&____
*افطاری کا وقت*
سورج غروب ہوتے ہی روزہ افطار کر دیں ۔
📚رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :
إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا وَأَدْبَرَ النَّهَارُ مِنْ هَا هُنَا وَغَرَبَتْ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ
جب ادھر سے رات آ جائے اور دن ادھر کو چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ دار کی افطاری کا وقت ہوگیا
(صحيح البخاري : 1954)
_______&_____
*افطاری وقت پر کر لینی چاہیے ،کچھ لوگ افطار کا وقت ہو جانے کے باوجود بھی لیٹ کرتے ہیں ،جو کہ جائز نہیں،*
📚عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لاَ يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الفِطْرَ»
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میری امت کے لوگوں میں اس وقت تک خیر باقی رہے گی، جب تک وہ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے۔
(صحیح بخاری،حدیث نمبر_1957)
*پیش کردہ حدیث سے معلوم ہوا کہ افطارمیں جلدی کرنا چاہے ، لہٰذا جولوگ احتیاط کے نام پر تاخیر کرتے ہیں درست نہیں،*
📚اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی افطار میں جلدی کرتے تھے
(صحيح مسلم ،رقم 1099)
📚صحابی رسول ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”عَجِّلُوا الْفِطْرَ؛ فَإِنَّ الْيَهُودَ يُؤَخِّرُونَ“
”افطار میں جلدی کرو کیونکہ یہودی افطار میں تاخیر کرتے ہیں
(ابن ماجه1698 ،حسن)
_______&____
*جان بوجھ کر وقت سے پہلے روزہ افطار کرنے والوں کے لیے وعید*
جس طرح سورج غروب ہو جانے کے بعد بلا وجہ تاخیر کرنا ممنوع ہے اسی طرح غروب آفتاب سے قبل جان بوجھ کر افطاری کرنا بھی ناجائز ہے ۔
📚 رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں :
بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ أَتَانِي رَجُلَانِ، فَأَخَذَا بِضَبْعَيَّ، فَأَتَيَا بِي جَبَلًا وَعْرًا، فَقَالَا: اصْعَدْ، فَقُلْتُ: إِنِّي لَا أُطِيقُهُ، فَقَالَا: إِنَّا سَنُسَهِّلُهُ لَكَ، فَصَعِدْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي سَوَاءِ الْجَبَلِ إِذَا بِأَصْوَاتٍ شَدِيدَةٍ، قُلْتُ: مَا هَذِهِ الْأَصْوَاتُ؟ قَالُوا: هَذَا عُوَاءُ أَهْلِ النَّارِ، ثُمَّ انْطُلِقَ بِي، فَإِذَا أَنَا بِقَوْمٍ مُعَلَّقِينَ بِعَرَاقِيبِهِمْ، مُشَقَّقَةٍ أَشْدَاقُهُمْ، تَسِيلُ أَشْدَاقُهُمْ دَمًا قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يُفْطِرُونَ قَبْلَ تَحِلَّةِ صَوْمِهِمْ
اس دوران کہ میں سو رہا تھا کہ خواب میں اچانک میرے پاس دو آدمی آئے , انہوں نے میرے بازوؤں سے پکڑا اور مجھے ایک دشوار گزار پہاڑ پر لے گئے , اور کہنے لگے کہ چڑھ ۔ میں نے کہا میں اسکی طاقت نہیں رکھتا ۔ تو انہوں نے کہا ہم آپ کے ساتھ تعاون کرتے ہیں ۔ میں نے چڑھنا شروع کیا حتى کہ میں جب پہاڑ کی چوٹی پر پہنچا تو وہاں سخت قسم کی آوازیں آنے لگیں۔ میں نے پوچھا کہ کیسی آوازیں ہیں ؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ جہنمیوں کی چیخ وپکار ہے ۔ پھر وہ مجھے لے کر گئے جہاں میں نے کچھ لوگوں کو پاؤں کے پٹھوں کے بل الٹا لٹکے ہوئے دیکھا ۔ جن کی باچھیں چیر دی گئی تھیں اوران سے خون بہہ رہا تھا ۔ میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو وقت سے پہلے روزہ افطار کر دیا کرتے تھے
(صحيح ابن خزيمة : 1986)
*جان بوجھ کر وقت سے قبل روزہ افطار کر دینے والوں کا اتنا عبرت ناک انجام ہے تو وہ لوگ جو روزہ رکھتے ہی نہیں ‘ بلکہ رمضان کے مہینے میں دن بھر کھاتے پیتے رہتے ہیں , ان کا انجام کیا ہوگا ؟*
________&______
*غلطی سے جلدی افطاری کربیٹھیں تو ....؟*
البتہ وہ شخص جو غلطی سے وقت سے قبل افطاری کر بیٹھے تو اس پر لازم ہے کہ حقیقت کا علم ہوتے ہی فورا کھانا پینا ترک کر دے اور اپنا روزہ مکمل کرے ۔ اور پھر جب افطار کا صحیح وقت ہو تو اس وقت روزہ افطار کرے ۔
📚کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ذی شان ہے : مَنْ أَكَلَ نَاسِيًا وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ
جس شخص نے روزہ کی حالت میں بھول کر کھا لیا ,تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنا روزہ مکمل کرے ۔ یقینًا اللہ ہی نے اسے کھلایا اور پلایا ہے،
(صحيح البخاري : 6669)
_______&____
*کس چیز سے روزہ افطار کرنا سنت ہے؟*
📚انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ :
«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ عَلَى رُطَبَاتٍ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ رُطَبَاتٌ، فَعَلَى تَمَرَاتٍ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ حَسَا حَسَوَاتٍ مِنْ مَاءٍ»
”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تازہ کجھوروں سے افطار کرتے تھے اگر یہ میسرنہ ہوتیں تو چھوہاروں سے افطار کرتے یہ بھی نہ ہوتی تو پانی کے چند گھونٹ پی لیا کرتے تھے
[سنن أبي داود، رقم 2356 ، صحیح]
________&______
*مخلوط پانی یعنی شربت وغیرہ کا استعمال بھی درست ہے*
📚امام بخاری رحمہ اللہ نے باب قائم کیا ہے :
”يُفْطِرُ بِمَا تَيَسَّرَ مِنَ المَاءِ، أَوْ غَيْرِهِ“
”پانی وغیرہ جو چیز بھی پاس ہو اس سے روزہ افطار کر لینا چاہئے“
(صحیح البخاري، قبل الرقم 1956)
📚 عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،
کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں جا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے، جب سورج غروب ہوا تو آپ نے ایک شخص سے فرمایا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھول، انہوں نے کہا یا رسول اللہ! تھوڑی دیر اور ٹھہرئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھول انہوں نے پھر یہی کہا کہ یا رسول اللہ! ابھی تو دن باقی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اتر کر ستو ہمارے لیے گھول، چنانچہ انہوں نے اتر کر ستو گھولا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ رات کی تاریکی ادھر سے آ گئی تو روزہ دار کو روزہ افطار کر لینا چاہئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔
(صحیح البخاري،1956)
_________&______
*وہ چیزیں جن کے بارے مشہور کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے افطار کرتے تھے*
🚫① نمک سے افطار کرنا ثابت نہیں ، کسی بھی روایت میں اس کا ذکر نہیں,
🚫② دودھ سے افطار کرنا بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں اور رہی یہ روایت :
”كان يستحب إذا أفطر أن يفطر على لبن، فإن لم يجد فتمر، فإن لم يجد حسا حسوات من ماء“
[رواه ابن عساكر (2/ 381/ 1) ،
والضياء في "المختارة" (1/ 495)]۔
تو یہ ضعیف ہے دیکھئے:الضعيفة رقم 4269)
🚫③ آگ سے پکی ہوئی چیزوں سے افطار میں پرہیز ثابت نہیں ، اور رہی یہ روایت:
”عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يُحِبُّ أَنْ يُفْطِرَ عَلَى ثَلَاثِ تَمَرَاتٍ أَوْ شَيْءٍ لَمْ تُصِبْهُ النَّارُ“
[مسند أبي يعلى الموصلي 6/ 59]۔
تو یہ روایت سخت ضعیف ہے دیکھئے الضعیفہ رقم 996 ۔
_________&______
*غیر مسلم کی طرف سے افطار*
اگرغیرمسلم حلال اورپاک چیز افطارکے لئے بھیجے تو جس طرح اس کی عام دعوت قبول کرنا جائز ہے اسی طرح اس کی افطار کی دعوت بھی قبول کرنا جائز ہے لیکن سیاسی افطار پارٹیوں کا معاملہ الگ ہے اس میں بڑی قباحتیں ہیں اس لئے اس سے پرہیز ہی بہترہے خواہ یہ نام نہاد مسلمانوں ہی کی طرف سے کیوں نہ ہو۔
________&______
*افطار کی مسنون دعا..؟*
روزہ بسم اللہ کہہ کر افطار کرنا چاہئے,
اس موقع پر پڑھی جانی والی دعا جو لوگوں میں مشہور ہے،
:”اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ، وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ“
[سنن أبي داود_
*البتہ افطار کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ کلمات پڑھنا ثابت ہیں*
📚 ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الْأَجْرُ
إِنْ شَاءَ اللَّه،
”پیاس بجھ گئی ، رگیں تر ہوگئیں ، اور اللہ نے چاہا تو اجر بھی ثابت ہوگیا،
[سنن ابو داود حدیث2357_صحیح]
________&_____
*کسی کو روزہ افطار کروانے کا اجر*
📚رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں :
مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَيْئًا
جس نے کسی روزہ دار کو افطاری کروائی تو اسے بھی روزہ دار جتنا اجر ملے گا , اور روزہ دار کے اجر میں سے کچھ بھی کمی نہیں کی جائے گی
(جامع الترمذي : 807)
_______&_____
*روزہ افطار کروانے والے کے لیے دعاء*
أَفْطَرَ عِنْدَكُمْ الصَّائِمُونَ وَأَكَلَ طَعَامَكُمْ الْأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمْ الْمَلَائِكَةُ
آپکے ہاں روزہ داروں نے افطاری کی , اور آپکا کھانا نیک لوگوں نے کھایا , اور فرشتے آپکے لیے دعاء کریں
(سنن أبي داود : 3854)
((( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))
مفتی تقی عثمانی نے جس طرح اصلاح فرمائی ہے قابل تعریف ہے۔
جناب عمار خان ناصر صاحب نے حضرت شیخ الاسلام مفتی تقی صاحب زید مجدہم کی خدمت میں کچھ مسائل کے متعلق اپنی ذاتی آرا پیش کی تھیں۔جس کے جواب میں مفتی صاحب نے مذکورہ امور کے متعلق نقد و اصلاح سے ہٹ کر چند رہ نما باتیں ارشاد فرمائی تھیں جو کہ مجلہ صفدر میں مکمل شائع ہوئیں۔اس مکمل کہانی میں مفتی صاحب کے خط کا یہ حصہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے جو در حقیقت تفرد یا تجدد کے شائق نئے نوجوان فضلا کے لیے ایک مرد دانا کی تریاقی نصیحت ہے۔
"چند اُصولی باتیں آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں۔
آپ کے جدِ امجد قدس سرہ اور آپ کے والد گرامی حفظہ اللہ تعالیٰ سے بندہ کا جو نیاز مندانہ تعلق ہے،اُس کی بناء پر میں آپ کو اپنا بھتیجا سمجھوں تو شاید بعید نہ ہو،اُسی تعلق اور ’’الدین النصیحۃ‘‘ کے پیش نظر یہ گزارشات پیش کررہا ہوں اور انتہائی دردمندی سے پیش کررہا ہوں اگر اِن پر غور فرمالیں تو شاید کسی طویل بحث کی ضرورت بھی نہ ہو۔
ماشاء اللہ آپ نوجوان ہیں، تازہ علم رکھتے ہیں، مطالعہ بھی وسیع ہے، اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کو تحریر و انشاء کی صلاحیت بھی خوب عطاء فرمائی ہے،اور بندہ اِن میں سے اکثر صفات سے تہی دامن ہے،البتہ عمر بے شک بندے کی زیادہ ہے اور شاید تجربہ بھی کہ:
میرے بال، دین کے مختلف شعبوں کی طالب علمی اور مختلف تحریکوں اور افکار کے مطالعے اور جائزے ہی میں سفید ہوئے ہیں۔
اِس لیے یہ گزارش ہے کہ:مندرجہ ذیل اُمور پر ٹھنڈے دل سے غور فرمالیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق سے نوازیں۔
آمین۔
۱…میں نے آپ کا مضمون پڑھا اور خالی الذہن ہو کر پڑھا،اس میں متعدد امور ایسے ہیں جن میں جمہور اُمت سے ہٹ کر آپ نے اپنی رائے ظاہر فرمائی ہے۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا ہر مسئلے کے دلائل پر گفتگو کے بغیر مضمون کا جو مجموعی طرزِ فکر ہے، وہ بندے کو نہایت خطرناک محسوس ہوتا ہے، اِس طرزِ فکر کے ساتھ انسان کسی وقت کسی بھی بڑی گمراہی میں مبتلا ہوسکتا ہے،جب ایک مرتبہ کوئی صاحبِ فکر جمہور اُمت کے مسلمات سے آزاد ہو کر اپنی راہ الگ اختیار کر لیتا ہے اور یہ تصور کرلیتا ہے کہ وہ اِن مسلمات کے بارے میں پہلی بار اصابتِ فکر کے ساتھ غور کر رہا ہے، اور چودہ صدیوں میں علمائے امت اُس اندازِ فکر سے محروم رہے ہیں، تو اُس کے اوپر کوئی روک باقی نہیں رہتی۔
ماضی میں یہی طرزِ فکر نہ جانے کتنی گمراہیاں پیدا کر چکا ہے، طٰہٰ حسین سے لے کر سرسید تک اور وحیدالدین خان صاحب سے لے کر جاوید غامدی صاحب تک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔
اپنے اپنے وقت میں اِس قسم کے طرزِ فکر نے دلائل کا زور بھی باندھا، لیکن امت اسلامیہ کا اجتماعی ضمیر رفتہ رفتہ اُسے رد کر کے اِس طرح آگے بڑھ گیا کہ اُس کا ذکر صرف کتابوں میں باقی رہ گیا۔
بالخصوص آج کے دور میں جس طرح کے افکار دین میں تحریف کے درپے ہیں، اس کے سوا سلامتی کا کوئی راستہ نہیں ہے کہ انسان علمائے امت کے سوادِ اعظم سے اور جمہور امت کے مسلّمات سے وابستہ رہے۔
بے شک انبیاء کرام علیہم السلام کے سوا کوئی معصوم نہیں، لیکن اِس کامطلب یہ نہ ہونا چاہیے کہ انسان جمہور علماء امت کے مقابلے میں خود کو معصوم سمجھنے لگے اور یہ سمجھے کہ اُن سب سے بیک وقت غلطی ہوئی ہے، مجھ سے نہیں۔
لہٰذا میں آپ سے اپنا بھتیجا ہونے کے ناطے یہ درخواست کرتا ہوں کہ اِس طرزِ فکر سے اپنے آپ کو بچائیں۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہترین صلاحیتوں سے نوازا ہے، انہیں جمہور امت کے دائرے میں رہتے ہوئے خدمتِ دین کے لیے استعمال کا بہت بڑا میدان موجود ہے، اسی میدان میں اس کو استعمال فرمائیں۔
۲…دوسرا نکتہ یہ ہے کہ جن مسائل پر آپ نے اپنی ’’اختلافی آراء‘‘ کا اظہار فرمایا ہے، ان کے بارے میں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا آپ پر یہ فریضہ عائد ہوتا تھا کہ آپ ان مسائل پر اپنی اختلافی آراء کو ظاہر اور شائع کریں؟
نیز
یہ کہ اِن افکار کی اشاعت سے فائدہ کیا حاصل ہوا؟
کیا اِس پر کوئی عملی مسئلہ موقوف تھا جو اِن کی اشاعت سے حل ہوگیا؟
بظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ اِس کے نتیجے میں ایک فکری انتشار اور رد و قدح کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہو گیا جس نے تفریقِ امت کے سوا کوئی خدمت انجام نہیں دی، اگر آپ اِن افکار کے حامل تھے بھی، تو اِن کی اشاعت نہ کرتے تو کیا ہوتا؟
مثلًا: اگر رجم یا ارتداد کی سزا کے بارے میں آپ اپنا موقف شائع نہ فرماتے تو کیا نقصان ہو جاتا؟
۳…آپ کا تعلق ایک ایسے متصلب گھرانے سے ہے جس نے ہمیشہ جمہور امت کے اتباع کو اپنا شعار قرار دیا ہے، آپ کے جدِّ امجد قدس سرہ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں،اور آپ کے والد گرامی کو میں امت کی قیمتی متاع سمجھتا ہوں،اور اُن کی شخصیت کے متنازع بننے کو امت کا عظیم نقصان،آپ کے اِس قسم کے أفکار کی وجہ سے وہ جس آزمائش میں مبتلا ہو گئے ہیں، وہ کم از کم میرے لیے شدیدتشویش کا باعث ہے، انہوں نے ہمیشہ جمہور امت کی نمائندگی فرمائی ہے، اور اب بھی وہ جمہور امت سے شذوذ کے حق میں نہیں ہوسکتے[۱]
لیکن آپ کی وجہ سے لوگوں کو انہیں نشانہ بنانے کا موقع مل رہا ہے۔
اِن حالات میں بندہ کی سمجھ میں تو یہی آتا ہے کہ آپ اولاً تو یہ اعلان فرما دیں کہ: ’’میں نے جو کچھ لکھا، یا جو آراء ظاہر کیں، وہ محض احتمال یا تجویز کے طور پر برائے نقد و تبصرہ ظاہر کی تھیں، لیکن میں ان تمام مسائل میں جن میں میں نے جمہور سے ہٹ کر کوئی رائے ظاہر کی ہے، جمہور کے قول کی طرف رجوع کرتا ہوں، اور مجھے اپنی رائے پر کوئی جزم یا اصرار نہیں ہے، بلکہ جمہور کے مقابلے میں اسے متہم سمجھتا ہوں۔‘‘
مجھے احساس ہے کہ انسان جس راستے پر سالہا سال چلتا رہا ہو، اس سے یک لخت منہ موڑ لینا نفس پر بہت بھاری معلوم ہوتا ہے، لیکن یہی انسان کی عظمت کی دلیل ہے کہ وہ اس بھاری بوجھ کو اٹھانے کا حوصلہ رکھتا ہو۔
اور اگر آپ کو آپ کو اِس اقدام میں پھر بھی تأمل ہو، تو میری مؤدبانہ درخواست یہ ہے کہ براہِ کرم آپ اپنے افکار کے لیے کوئی دوسرا پلیٹ فارم استعمال کرلیں۔ اور اپنی آراء کو اپنے والد گرامی سے ملتبس ہونے سے ہر قیمت پر بچائیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اُن سے بہت کام لیا ہے، اُن پر اعتراضات کی اصل وجہ آپ بنے ہیں، ورنہ کسی کو اُن پر انگشت نمائی کی جرأت نہ ہوتی،اُن کی شخصیت کا تحفظ اور اُس پر اعتماد کا تحفظ دوسری تمام مصلحتوں اور بالخصوص بے فائدہ آراءِ ش*ذہ کی نشر و اشاعت پر بدرجہا فوقیت رکھتا ہے،اللہ تعالیٰ انہیں بایں فیوض سلامت رکھیں۔
۴…آپ نے اپنی دوسری تحریریں بھیجنے کی جو پیش کش کی ہے، اس پر ضرور عمل فرمائیں، تاکہ میں بوقت ضرورت اُن سے استفادہ کروں،لیکن میری مندرجہ بالا گزارشات اُن پر موقوف نہیں۔
ایک بات آپ سے براہِ راست پوچھنا بہتر ہے، اور وہ یہ کہ جناب جاوید غامدی صاحب کے اس اظہار کے بعد کہ :
’’اخبارِ احاد سے دین میں کوئی نیا حکم ثابت نہیں ہوسکتا۔‘‘
کیا آپ اُن کے طرزِ فکر اور اُن کے اجتہادات کو بھی اجتہادی اختلاف کے دائرے میں سمجھتے ہیں؟
اور اُن سے تلمذ پر مطمئن ہیں؟
یہ چند منتشر خیالات انتہائی درد مندی کے ساتھ اِس اُمید پر پیش کر رہا ہوں کہ آپ اِن پر ٹھنڈے دل سے غور فرمائیں گے۔
اللہ تعالیٰ گواہ ہیں کہ مذکورہ بالا تحریر کا منشا "الدین النصیحۃ" ہے، اور اِس کے سوا کچھ نہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو خاص توفیق سے نوازیں۔
آمین۔
و السلام۔"
محمدتقی عثمانی
۲۰؍شعبان۱۴۳۵ھ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Srinagar