07/03/2016
شادی کے بعد شوہر کا نام اپنے نام کیساتھ لگانا کیسا ہے
جو عورتیں اپنے والد کا نام ہٹا کر اسکی جگہ اپنے شوہر کا نام اپناتی ہیں وہ غور کریں کہ یہ حرام ہے۔ مان لو کسی عورت کا شادی سے پہلے نام فاطمہ مقصود علی تھا اور شادی کے بعد اپنے شوہر کے نام کیساتھ جوڑ کر فاطمہ ساجد رکھ دیا۔ یہ حرام ہے۔ اس کی اجازت نہیں کہ کوئ اپنے باپ کا نام ہٹا کر اپنے شوہر کا نام اپنے نام کے آگے لگاۓ۔ یہ کفار کا طریقہ ہے۔ ہمیں اسکو اپنانے سے بچنا چاہیۓ۔
حضور علیہ السلام کی حدیث کی روشنی میں دیکھیں:-
📌رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کا ارشاد ہے" جس نے اپنے نام کو اپنے والد کے نام کے علاوہ اپنے نام میں کسی دوسرے کا نام جوڑا (جو اس کا باپ نہیں) اس پر اللہ تعالی اور اسکے فرشتوں کی لعنت ہے"۔
{ابن ماجہ حدیث نمبر2599}
📌حضرت ابو در رضی اللہ تعالی عنہ نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و سلم نے فرمایا" کسی آدمی نے اپنے والد کے سوا اپنی شناخت کسی اور کیساتھ ملائ اس نے کفر کیا۔ جس نے اس شخص سے اپنے نام کو جوڑا جو اس کا باپ نہیں وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے"۔
{بخاری شریف حدیث نمبر3508}
📌حضرت سعد بن ابی وقاس یا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و سلم نے فرمایا" جو یہ کہتا ہے کہ وہ مسلمان ہے اور وہ کسی کیساتھ خود کو جوڑتا ہے جو اسکا باپ نہیں یہ جان کر کہ وہ اسکا حقیقی باپ نہیں: جنت اس کے لیۓ حرام ہے"۔
{بخاری شریف حدیث نمبر 4072}
اس سے زیادہ اور کیا وارننگ ہوسکتی ہے کہ یہ کفار کا طریقہ ہے۔
📌حضرات یہ کفار کا طریقہ تھا اور آج ہماری بہنیں بڑے شوق سے اسکو اپناتی ہیں۔ یاد رہے باپ کا رشتہ کسی بھی نۓ رشتے کی وجہ سے نہیں ٹوٹتا اور اولاد کی شناخت اور پہچان اسکے والد کے نام سے ہوگی۔
📌اگر شوہر کا نام لگانا جائز اور صحیح ہوتا تو حضور علیہ السلام کی بیویوں نے بھی اپنا نام بدلا ہوتا کیونکہ ان کے شوہر تو دنیا کے افضل ترین شخص تھے۔ حضرت ختیجہ رضی اللہ عنہا ہمیشہ ختیجہ بنت خوالد رہیں۔ حضرت عائیشہ رضی اللہ عنہا ہمیشہ تا عمر عائیشہ صدیقہ رہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی بیٹی تھیں۔ یہاں تک حضور علیہ السلام کی وہ بیویاں جن کے والد کفار تھے آپ علیہ السلام نے ان کے نام کا لقب بھی کبھی تبدیل نہیں کیا۔ حضرت صفیہ بنت حیایہ رضی اللہ تعالی عنہا کا باپ یہودی تھا اور حضور علیہ السلام کا جانی دشمن بھی تھا۔ حضور علیہ السلام نے اپنی بیوی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کیساتھ ان کے لقب کو بدلنے کے بجاۓ ویسے ہی برقرار رکھا۔
📌جنت میں عورتوں کی سردار حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا ہمیشہ فاطمہ بنت محمد(صلی اللہ علیہ و سلم) رہیں۔ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے نام کے ساتھ اپنے نام کو کبھی نہیں جوڑا۔
گزارش
📌جس بہن نے غلطی سے ایسا کیا ہے یا کسی شوہر نے لاعلمی میں ایسا کیا ہو وہ اللہ تعالی کے حضور سچی توبہ کرے اور اپنے والد کا نام واپس اپنے نام کیساتھ جوڑے۔ ہمیں اپنے اعمال کا حساب اپنے اللہ عزوجل کو دینا ہے اور یہ سراسر اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کی نافرمانی ہے۔ حضرات اس پوسٹ کو پڑھنے کے بعد زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ بات ہرمسلمان تک پہنچے اور وہ اس پر عمل کرے اور آپ کو بھی نیت خیر کا ثواب ملے۔
وماعلیناالالبلاغ