02/10/2025
اَنَا فِیْ حَضْرَۃِ التَّقْرِیْبِ وَحْدِیْ
یُصَرِّفُنِیْ وَحَسْبِیْ ذُوالْجَلَالٖ
`ترجمہ:`
میں بارگاہِ قُربِ الٰہی میں یکتا اور یگانہ ہوں ، ربِّ کریم نے مجھے بااختیار بنا دیا ہے اور عظمت و جلال والا خُدا میرے لئے کافی ہے
`تشریح:`
حضور غوثِ اعظم دستگیر رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں۔ کہ ذات الہی کے عرفان اور تقرب الی اللہ کے میدان میں میں یگانہ ہوں اور اس راہ کے راہروں سے میرے زمانے میں کوئی بھی میرا ہمسر نہیں۔ اور وہی میرا بزرگ و برتر خدا مراتب سلوک میں مجھے ایک حال سے دوسرے حال میں لے جاتا ہے۔ اور میرے لئے اسی ذوالجلال کی ذات کافی ہے۔ یعنی میرے مرتبہ اور مقام میں اس قدر بلندی ہے کہ اس تقرب کی منزل میں کوئی میرا ہمسر نہیں۔ قرب خداوندی میں، میں ہی یگانہ اور مقامات سلوک میں، میں ہی مردانہ ہوں۔ کیونکہ میرا ایک حال سے دوسرے حال میں تبدیل ہونا محض ذات باری ہی کی طرف سے ہوتا ہے اور وہی بہ تقاضائے استعداد مجھے نور خاص بخشا رہتا ہے۔ وَذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ
`لفظ اَنَا(میں):` یاد رہے کہ لفظ انا کے دو استعمال ہیں یہ دو طریق اور مطالب میں مستعمل ہوتا ہے۔ ایک تو زبان عوام میں جہاں لوگ خودی اور کبریا غرور و فخر کے لئے بولتے ہیں ۔ دوسرے جو بندگان خدا اور خاصان بارگاہ سے وحدت حقیقی کے ظہور پر تکلم میں آتا ہے اول ہر پہلو سے ناجائز اور ثانی ہر لحاظ سے عین صواب ہے۔ مثلاً فرعون نے انی انا اللہ کہا تو ملعون ہوا۔ ابلیس نے آنا خَيْرٌ مِنْهُ کہا تو مردود ہوگیا اور ذات پاک مصطفی محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے أَنَا سَيِّد وُلِدَ آدَمَ وَلَا فَخُر فرمایا تو باعث تملیک رحمت کون و مکان بنے
اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنَ الْعَارِفِينَ وَارْفَعْنَا فِي مَقَامِ الْمُحِبِّينَ الْخَاصِّينَ،وَارْزُقْنَا مِنْ فُيُوضَاتِ أَوْلِيَائِكَ الْكَامِلِينَ،
『 امين بجاه سيدنا طٰهٰ و يٰــؔـؔـؔـؔـؔـؔـؔـؔـسٓ ﷺ 』
✍︎نقشبــؔـؔـؔـؔـؔـؔـؔـؔـندی
03/06/2025
28/05/2025
07/01/2025
29/10/2024