18/07/2026
طاہر القادری سے عبرت حاصل کرو" کہنے والوں سے چند سوالات!
افسوس اس بات پر ہے کہ ایک طویل تحریر لکھی گئی، مگر اس میں نہ قرآن کی دلیل، نہ حدیث کا حوالہ، نہ ائمۂ اہلِ سنت کی عبارت، نہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی کسی کتاب سے اقتباس۔ صرف الزامات، جذبات اور کردار کشی۔ علمی دنیا میں اس طرزِ استدلال کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔
اگر واقعی ڈاکٹر طاہر القادری نے اہلِ سنت کے عقائد میں بگاڑ پیدا کیا ہے تو براہِ کرم کتاب کا نام، جلد، صفحہ نمبر اور اصل عبارت پیش کریں، پھر اس پر علمی رد بھی لکھیں۔ صرف "روافض کا سہولت کار" یا "گمراہ" جیسے الفاظ دہرا دینے سے نہ کوئی دعویٰ ثابت ہوتا ہے اور نہ تاریخ بدلتی ہے۔
رہی بات "حیدر، حیدر" کے مخصوص انداز کی، تو حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نام کا انکار نہیں کیا، بلکہ اس اندازِ نعرہ بازی پر تنبیہ کی جس نے سوشل میڈیا پر ایک غیر سنجیدہ رجحان اختیار کر لیا ہے۔ آج ہر شخص دیکھ رہا ہے کہ مقدس ہستیوں کے مبارک ناموں کو ٹک ٹاک، شارٹس اور مختلف ویڈیوز میں محض جوش پیدا کرنے یا پس منظر کی آواز بنانے کے لیے بار بار دہرایا جاتا ہے۔ یہی طرز بعد میں "عمر، عمر"، "ابو بکر، ابو بکر" اور دیگر مبارک ناموں کے ساتھ بھی اختیار کیا گیا۔ مسئلہ نام نہیں، بلکہ ان مقدس ناموں کے غیر موزوں اور غیر باوقار استعمال کا ہے۔
اگر کسی عالم نے اس بے ادبی کے رجحان کی نشاندہی کی ہے تو اس پر علمی گفتگو ہونی چاہیے، نہ کہ اس کی نیت پر حملے کیے جائیں۔
مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف الزام لگایا جاتا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری فلاں گروہ کو خوش کرتے ہیں، لیکن جب انہوں نے یہی بات کی تو اسی گروہ کے متعدد افراد نے ان پر سخت تنقید کی، انہیں "منافق" اور "بعضی" جیسے القابات دیے۔ اگر وہ واقعی ان کی خوشنودی کے لیے بولتے تھے تو پھر سب سے پہلے اعتراض بھی انہی کی طرف سے کیوں آیا؟ یہ حقیقت خود اس الزام کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ بعض لوگوں کی پوری دعوت اور شناخت ڈاکٹر طاہر القادری کی مخالفت کے گرد گھومتی ہے۔ دلیل کے بجائے القابات، تحقیق کے بجائے پروپیگنڈا، اور حوالہ جات کے بجائے جذباتی تقریریں پیش کی جاتی ہیں۔ حالانکہ اہلِ سنت کی علمی روایت یہ ہے کہ اختلاف دلیل سے کیا جاتا ہے، بہتان اور کردار کشی سے نہیں۔
اگر کسی کے پاس واقعی علمی اعتراض ہے تو وہ کتاب، حوالہ اور دلیل کے ساتھ سامنے آئے۔ لیکن اگر سرمایہ صرف طعنے، الزامات اور مخالف کی نیت پر حملے ہیں، تو یہ علمی قوت نہیں بلکہ علمی کمزوری کی علامت ہے۔
اہلِ علم کا راستہ ہمیشہ دلیل، تحقیق اور انصاف کا راستہ رہا ہے۔ اسی معیار پر ہر شخصیت اور ہر دعوے کو پرکھا جانا چاہیے، نہ کہ جذباتی نعروں اور غیر ثابت شدہ الزامات کی بنیاد پر۔