جمیعت اہل حدیث یونٹ نارسنگر

جمیعت اہل حدیث یونٹ نارسنگر

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from جمیعت اہل حدیث یونٹ نارسنگر, Education, Srinagar.

25/04/2026
12/04/2026

سعودی عرب کی فتویٰ کمیٹی کا "وحدتِ ادیان" کے بارے میں فیصلہ (فتویٰ نمبر 19402)
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اور درود و سلام اس نبی پر جس کے بعد کوئی نبی نہیں، اور آپ کی آل و صحابہ اور قیامت تک ان کی پیروی کرنے والوں پر۔
حمد وصلاة کے بعد:
سعودی عرب کی مستقل فتویٰ کمیٹی نے ان سوالات اور میڈیا میں شائع ہونے والی آراء کا جائزہ لیا جو "وحدتِ ادیان" (یعنی اسلام، یہودیت اور عیسائیت کو ایک دین سمجھنے یا ایک قالب میں جمع کرنے) کے بارے میں پیش کی جا رہی ہیں۔ اس میں مسجد، چرچ اور مندر کو ایک ہی جگہ بنانے، قرآن، تورات اور انجیل کو ایک ہی جلد میں شائع کرنے، اور اس موضوع پر کانفرنسیں و تنظیمیں قائم کرنے جیسے امور شامل ہیں۔
غور و فکر کے بعد کمیٹی نے درج ذیل نکات بیان کیے:
1. اسلام کے بنیادی عقائد میں سے یہ بات قطعی ہے کہ اللہ کے نزدیک صرف دین اسلام ہی سچا دین ہے، اور یہی آخری دین ہے جو پہلے تمام ادیان کو منسوخ کر چکا ہے۔
2. قرآن مجید اللہ کی آخری کتاب ہے، اور اس نے سابقہ تمام آسمانی کتابوں (تورات، زبور، انجیل) کو منسوخ کر دیا ہے اور ان پر حاوی ہے۔
3. یہ عقیدہ رکھنا ضروری ہے کہ تورات اور انجیل میں تحریف (رد و بدل) ہو چکی ہے، اور وہ قرآن کے ذریعے منسوخ ہو چکی ہیں۔
4. نبی کریم ﷺ آخری نبی اور رسول ہیں۔
5. اسلام کے اصولوں میں سے یہ بھی ہے کہ جو لوگ اسلام میں داخل نہیں ہوئے (یہودی، عیسائی وغیرہ)، ان کو کافر سمجھا جائے (بشرطیکہ ان پر حجت قائم ہو چکی ہو)، اور وہ آخرت میں عذاب کے مستحق ہیں۔
6. ان اصولوں کی روشنی میں "وحدتِ ادیان" کی دعوت ایک خطرناک اور فریب پر مبنی دعوت ہے، جس کا مقصد حق و باطل کو خلط ملط کرنا اور اسلام کو کمزور کرنا ہے۔
7. اس دعوت کے نتائج میں اسلام اور کفر، حق و باطل کے درمیان فرق کا خاتمہ، اور مسلمانوں کے عقیدۂ "ولاء و براء" کو کمزور کرنا شامل ہے۔
8. اگر کوئی مسلمان "وحدتِ ادیان" کی دعوت دیتا ہے تو یہ صریح ارتداد (دین سے نکل جانا) ہے، کیونکہ یہ اسلامی عقائد کی بنیادوں کے خلاف ہے۔
9. اس بنیاد پر درج ذیل احکام دیے جاتے ہیں:
کسی مسلمان کے لیے اس نظریے کی دعوت دینا یا اس کی تائید کرنا جائز نہیں۔
قرآن کے ساتھ تورات اور انجیل کو ایک ہی جلد میں شائع کرنا جائز نہیں۔
مسجد، چرچ اور مندر کو ایک ہی جگہ بنانا جائز نہیں، کیونکہ اس میں دوسرے ادیان کی برابری کو تسلیم کرنا شامل ہے، جو اسلام کے خلاف ہے۔

یہ فتویٰ واضح طور پر "وحدتِ ادیان" کے نظریے کو اسلامی عقائد کے خلاف قرار دیتا ہے اور اسے ناجائز اور گمراہ کن فکر قرار دیتا ہے۔

Shaikh Dr.Al Qoofi Hafizahullah

12/04/2026

50 مشہور من گھڑت روایات* ✍️
*1:* ایک بڑھیا نبی کریمﷺ پر کوڑا پھینکا کرتی تھی۔ من گھڑت ہے
*2:* حضرت بلالؓ شین کو سین پڑھا کرتے تھے اور انکو آذان دینے سے روکا تو سورج طلوع نہیں ہوا۔۔ دونوں روایات من گھڑت ہیں
*3:* اویس قرنی ؒ کا اپنے دانت مبارک توڑنے والی روایت من گھڑت ہے۔
*4:* حضرت عمر ؓ کے بیٹے کا زنا کرنے والا واقعہ بھی من گھڑت ہے۔
*5:* وطن کی محبت ایمان ہے۔۔۔ من گھڑت ہے
*6:* جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا اس نے اللہ کو پہچان لیا۔۔ روایت من گھڑت ہے
*7:* عالم کے پیچھے ایک نماز چار ہزار چار سو چالیس نمازوں کے برابر ہے۔۔۔روایت من گھڑت ہے
*8:* علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین جانا پڑے۔ من گھڑت ہے۔
*9:* دوران نماز حضرت علی ؓ کے بدن سے تیر نکالنے والا مشہور قصہ، من گھڑت ہے
*10:* جس کا کوئی پیر نہ ہو تو اس کا پیر شیطان ہے۔ من گھڑت ہے۔
*11:* ہاروت و ماروت اور زہرہ کا قصہ من گھڑت ہے۔
*12:* ماہ صفر یا ماہ رمضان کی بشارت دینے پر جنت کی بشارت دینا غلط ہے ایسی کوئی حدیث نہیں۔
*13:* اگر جھک جانے میں عزت کم ہو تو قیامت کو مجھ سے لے لینا۔ من گھڑت ہے
*14:* میں ایک چھپا خزانہ تھا،میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں، سو میں نے کائنات کو پیدا کیا ۔۔ من گھڑت ہے
*15:* زنا قرض ہے ، اگر تو نے اسے لیا تو ادا تیرے گھر والوں سے ہوگی۔۔ من گھڑت ہے۔
*16:* حضرت بلال ؓ کا نبی کریم ﷺ کو خواب میں دیکھ کر دمشق سے مدینہ آنا ، پھر آذان دینا اور مدینہ والوں کی آہ و بکا۔ (من گھڑت قصہ ہے)
*17:* آپ ﷺ کا دعا فرمانا کہ میری امت کا حساب میرے حوالے فرما دیجیۓ تاکہ میری امت کو دوسری امت کہ سامنے شرمندگی نا اٹھانا پڑے۔ (من گھڑت ہے)
*18:* ہر نبی کو نبوت چالیس برس بعد ملی ہے۔ (من گھڑت ہے)
*19:* درود پڑھنے پر اللہ ستر ہزار پروں والا پرندہ پیدا کریں گے جس کی تسبیح کا اجر درود پڑھنے والے کو ملے گا۔ (من گھڑت ہے)
*20:* جو شخص آذان کہ وقت باتیں کرتا ہے اسے موت کہ وقت کلمہ نصیب نہیں ہوتا۔ (من گھڑت ہے)
*21:* اللہ تعالیٰ کا نبی کریم ﷺ کو معراج کہ موقعہ پر فرمانا کہ آپ ﷺ جوتوں سمیت عرش پر آجائیں۔ (من گھڑت ہے)
*22:* فجر کی سنتیں گھر میں ادا کرنے پر روزی میں وسعت، اہل خانہ کے مابین تنازع نا ہونا ، اور ایمان پر خاتمہ۔ (یہ فضائل بے اصل ہیں
*23:* روز محشر باری تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ کون ہے جو حساب دے حضرت صدیق اکبر ؓ کے سامنے آنے پر اللہ کا غصہ ٹھنڈا ہو جائے گا۔ (سَنَداً نہیں ملتی، بیان کرنا موقوف رکھا جائے)
*24:* آپ ﷺ کے وصال کہ بعد جبریل علیہ السلام کا دنیا میں دس بار آنا اور دس چیزیں لے جانا۔ (سَنَداً نہیں ملتی، بیان کرنا موقوف رکھا جائے)
*25:* بے پردہ عورت جہنم میں بالوں کے بل لٹکائی جائے گی۔ (سَنَداً نہیں ملتی، بیان کرنا موقوف رکھا جائے)
*26.* آپ ﷺ نے فرمایا سب سے پہلے رب تعالیٰ میری نماز جنازہ پڑھیں گے (من گھڑت ہے)
*27:* نبی کریم ﷺ کی ولادت کے سال ہر حاملہ عورت کے گھر لڑکے کا پیدا ہونا۔ (سَنَداً نہیں ملتی، بیان کرنا موقوف رکھا جائے)
*28:* حضرت بلال ؓ کا آپ ﷺ کی اونٹنی کی نکیل پکڑ کر جنت میں داخل ہونا۔ (سَنَداً نہیں ملتی، بیان کرنا موقوف رکھا جائے)
*29:* آپ ﷺ کا ارشاد: مجھے موت کا اتنا بھروسہ بھی نہیں کہ ایک طرف سلام پھیروں تو دوسری طرف بھی پھیر سکوں گا یا نہیں۔ (سَنَداً نہیں ملتی، بیان کرنا موقوف رکھا جائے)
*30:* ابو جہل کہ ہاتھوں میں کنکریوں کا آپ ﷺ کی شہادت دینا۔ (سَنَداً نہیں ملتی، بیان کرنا موقوف رکھا جائے)
*31:* دوران نماز والدین کی پکار پر نماز چھوڑ کر جانے والی روایت (شدید ضعیف، بیان نہیں کر سکتے)
*32:* مومن کے جھوٹے میں شفاء ہے (من گھڑت)
*33:* ابو بکرصدیق ؓ کا ٹاٹ کا لباس پہننا اور باری تعالیٰ کی جانب سے ان پر سلام (من گھڑت ہے)
*34:* آپ ﷺ کا سکرات میں جبریل سے کہنا کہ میری ساری امت کی سکرات کی تکلیف مجھے دے دو۔ (سَنَداً نہیں ملتی، بیان کرنا موقوف رکھا جائے)
*35:* ایک عورت اپنے ساتھ چار اشخاص کو جہنم لے کر جائے گی۔ باپ، بھائی، شوہر، بیٹا۔ (سَنَداً نہیں ملتی، بیان کرنا موقوف رکھا جائے)
*36:* روز قیامت ایک نیکی دینے پر دو افراد کا جنت میں جانا۔ (سَنَداً نہیں ملتی، بیان کرنا موقوف رکھا جائے)
*37:* جب کوئی نوجوان توبہ کرتا ہے تو مشرق سے مغرب تک تمام قبرستان سے چالیس دن تک اللہ عذاب کو دور کر دیتا ہے۔ (سَنَداً نہیں ملتی، بیان کرنا موقوف رکھا جائے)
*38:* معراج کا خاص راز۔ حضرت عائشہ ؓ کا اپنے والد ابو بکر صدیق ؓ سے مشورہ کر کہ نبی کریم ﷺ سے معراج کی رات کی خاص باتوں میں سے ایک بات کا پوچھنا اور ابو بکر صدیق ؓ کو بتانا۔ جس کو سن کر وہ رو پڑے۔ (یہ روایت کسی مستند یا غیر مستند کتاب میں نہیں مل سکی)
*39:* ایک دفعہ نبی کریم ﷺ طواف فرما رہے تھے ایک اعرابی کو اپنے آگے طواف کرتے پایا جس کی زبان پر یا کریم یا کریم کی صدا تھی۔ حضور ﷺ نے بھی پیچھے سے یا کریم پڑھنا شروع کر دیا۔ جس پر اس نے آپ ﷺ سے فرمایا کہ آپ میرا مذاق اڑاتے ہیں۔ (یہ واقعہ بھی کسی مستند یا غیر مستند روایات میں موجود نہیں)
*40:* دو شخص حضرت عمر فاروقؓ کی مخفل میں داخل ہوئے اور ایک شخص کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ اس شخص نے ہمارے باپ کو قتل کیا ہے۔ اس شخص نے اقرار کیا اور کچھ امانتیں واپس کرنے کے لیے تین دن کی مہلت مانگی جس پر ابوذر غفاری ؓ نے ان کی ضمانت دی۔۔۔۔۔ (کسی بھی مستند یا ضعیف مصدر میں اس پورے واقعہ کا کوئی حوالہ نا مل سکا)
*41:* کچرہ پھینکنے والی بڑھیا اور مکہ چھوڑ کر جانے والی بڑھیا، دونوں روایات من گھڑت ہیں اور وہ بڑھیا جس کی خدمت ابو بکر صدیق ؓ کئی سال کرتے رہے یہ روایت انتہائی ضعیف نا قابل بیان ہے۔
*42:* ایک شخص میں چار خامیاں تھی نبی کریم ﷺ کے کہنے پر اس نے جھوٹ بولنا چھوڑ دیا تو اس کے باقی سب گناہ بھی چھوٹ گئے۔ (من گھڑت ہے)
*43:* ایک عورت اپنے ساتھ چار مردوں کو جہنم لے کر جائے گی۔ باپ ، شوہر ، بھائی اور بیٹے کو۔۔ (من گھڑت ہے)
*44:* جس شخص کے یہاں بچہ پیدا ہو اور وہ اس کا نام برکت حاصل کرنے کے لئے محمد رکھے تو وہ بچہ اور اس کا والد دونوں جنت میں جائیں گے. (من گھڑت ہے)
*45:* اپنی اولاد کو رونے پر مت مارو کیوںکہ بچہ کا رونا چار مہینہ لا الہ الا اللہ ہے، اور چار مہینہ تک محمد رسول اللہ(ﷺ) ہے، اور چار مہینہ والدین کے لئے دعا ہے۔ (من گھڑت ہے)
*46:* بخیل جنت میں نہیں جائے گا اگرچہ وہ عابد ہو، اور سخی جہنم میں نہیں جائے گا اگر چہ وہ فاسق ہو۔ ( من گھڑت ہے)
*47:* ایک گھڑی غور و فکر کرنا ایک سال کی عبادت سے زیادہ بہتر ہے۔
(یہ حدیث نہیں ہے بلکہ حضرت سری سقطیؒ کا کلام ہے)
*48:* حضرت موسی علیہ السلام کو اللہ تعالی نے فرمایا کہ اے موسی جب میں آپ سے بات کرتا ہوں تو میرے اور آپ کے درمیان 70 ہزار پردے ہوتے ہیں لیکن امت محمدیہ جب افطار کے وقت دعا مانگے گی تو کوئی پردہ نہ ہوگا۔ (من گھڑت ہے)
*49:* شب قدر کے حوالے سے نوافل کی خاص تعداد یا خاص طریقے سے نماز پڑھنے والی روایات (من گھڑت ہیں)
*50:* تہمت کی جگہوں سے بچ کے رہو۔ (من گھڑت ہے)
*نوٹ:*
بیان کرنا موقوف رکھا جائے یعنی معتبر سند ملے بغیر ہر گز بیان نا کریں۔ ان روایات کی سند انتہائی جستجو کے باوجود نہیں ملی۔ لہذا حدیث رسول ﷺ میں اہتمام و احتیاط کا تقاضہ یہی ہے کہ کسی مستند سند کی دستیابی تک ان کے بیان کرنے کو موقوف رکھا جائے۔
*نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے ۔*
”مَنْ يَقُلْ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ“․(۱)
ترجمہ:”جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔ “
( صحیح بخاری 109)
متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ بولنے والا شخص جہنمی ہے۔ اس کے باوجود بہت سے لوگ دن رات اپنی تقریروں، تحریروں اور عام گفتگو میں جھوٹی، بے اصل اور من گھڑت روایتیں کثرت سے بیان کرتے رہتے ہیں۔
اور ہماری عوام بنا تصدیق کیے ایسی روایات کو سوشل میڈیا پر آئے دن شیئر کرتے رہتے ہیں۔
ان بیشمار جھوٹی من گھڑت روایات میں سے میں یہاں آپ کے ساتھ چند مشہور روایات اور واقعات شیئر کیے گئے ہیں جو ہمارے کم پڑھے لکھے خطیب حضرات بھی اکثر بیان کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی اکثر یہ روایات گردش کرتی نظر آتی ہیں۔

10/03/2026

Job Opportunity Announcement
Jamiat Ahlihadith J&K (District Islamabad/Anantnag) invites applications for teaching posts at Mahdul Huda Li-Ta'leem Al-Banaat Harnag.

📚 Posts Available:
• Teacher (Almiyat) – 02 Posts
• Teacher (Hifz) – 01 Post

🗓 Last date to apply: 11 March 2026
📍 Interview: 12 March 2026 (after Dhuhr)

Scan the QR code in the notice to apply.

19/02/2026

مقامی لباس سے ہٹ کر مختلف لباس و پوشاک پہننا:

👈 امام ابن قيم اپنی شہرہ آفاق کتاب "زاد المعاد" میں فرماتے ہیں:
"فسنته تقتضي أن يلبس الرجل مما يسره الله ببلده۔۔"
یعنی "آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا تقاضا یہی ہے کہ آدمی وہی لباس پہنے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے علاقے میں میسر کیا ہو۔۔"
مشہور سلفی عالم علامہ بکر ابو زید امام ابن قیم کے اس قول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
👈 "وبه تعلم أن ما يتدين به بعض الشبيبة من أهل عصرنا في قلب جزيرة العرب من لبس ثوب على غير عادة أهل بلده "تدينا" هو من الخروج عن العادات التي جرت عليها سنة النبي صلى الله عليه وسلم بلبس الرجل مما يسره الله ببلده، أي من لباسهم في شكله وصفته، فهذا الثوب الموفد هو في حق من يتقمصه تدينا من أهل هذه الجزيرة على خلاف السنة وخروج عن لباسهم المعروف المألوف ومدعاة للغيبة والتمييز والشهرة والإشارة إليه بالأصابع بالخفة وفقدان التوازن..."
👈 "۔۔اس سے پتہ چلا کہ ہمارے زمانے میں جزیرہ عرب کے بعض نوجوان جو دینی وضع قطع اختیار کرنے کے لئے اپنے علاقے کی عادت سے مختلف لباس پہنتے ہیں، وہ اس سنت رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کہ ادمی وہی لباس پہنے جو (باعتبار صورت و صفت) اس کے علاقے میں میسر یا رائج ہو، سے روگردانی کرنے کے مترادف ہے۔ پس سنت کی مخالفت اور اپنے علاقے کے معروف و مالوف لباس سے ہٹ کر ایسا لباس دینداری سمجھ کر پہننا جو پیٹھ پیچھے باتیں بننے کا یا لوگوں کا خفت سے اس لباس کی طرف اشارے کرنے یا ایسے شخص کے ذہنی توازن سے متعلق شبہہ ہونے کا باعث بنے ( ایسے لباس کا شمار لباس شہرت میں ہوگا..)"
لباسِ شہرت کی تعریف امام ابن تیمیہ نے یوں بیان کی ہے
👈 "ويحرم لبس الشهرة وهو ما قصد به الإرتفاع وإظهار الترفع أو إظهار التواضع والزهد لكراهة السلف لذلك"
"لباس شہرت ایسا لباس ہے جو دوسروں پر برتری ظاہر کرنے یا زہد و تواضع ظاہر کرنے کے ارادے سے پہنا جائے۔ سلف صالحین ایسے لباس کو ناپسند کیا کرتے تھے اور اسی وجہ سے ایسا لباس پہننا حرام ہے"
👈 إمام مرداوی "الإنصاف" میں لکھتے ہیں "يكره لبس ما فيه شهرة أو خلاف زي بلده من الناس على الصحيح من المذهب"
یعنی ہمارے حنبلی مذہب میں ایسا لباس پہننا جس میں شہرت کا پہلو ہو یا اپنے علاقے میں رائج لباس سے مختلف ہو، مکروہ ہے۔
شارح بخاری امام ابن بطال تحریر فرماتے ہیں
"الذي ينبغي للرجل أن يتزي بزي أهله ما لم يكن إثما، لأن مخالفة الناس في زيهم ضرب من الشهرة."
"آدمی کو چاہئیے کہ اپنے لوگوں میں رائج لباس ہی پہنے الا یہ کہ اس لباس میں گناہ کا کوئی پہلو ہو کیونکہ لباس میں مقامی لوگوں کی مخالفت کرنا بھی شہرت کی ایک قسم ہے۔"
👈 علامہ ابن عثیمین رقم طراز ہیں
"وثوب الشهرة ليس له كيفية معينة أو صفة معينة, وإنما يراد بثوب الشهرة ما يشتهر به الإنسان, أو يشار إليه بسببه, فيكون متحدث الناس في المجالس, فلان لبس كذا, فلان لبس كذا, وبناء على ذلك قد يكون الثوب الواحد شهرة في حق إنسان, وليس شهرة في حق الآخر, فلباس الشهرة إذن هو ما يكون خارجا عن عادات الناس بحيث يشتهر لابسه وتلوكه الألسن۔۔۔"
👈 "لباسِ شہرت کی کوئی معین صفت اور کیفیت نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا لباس ہے جس سے کسی انسان کی تشہیر ہو یا اس کی طرف اشارے اور توجہ مرکوز ہو اور لوگ مجالس میں اس شخص کے بارے میں چہ می گوئییاں کریں کہ دیکھو فلاں نے ایسا پہنا ہے ویسا پہنا ہے۔ یہ سب مد نظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ جو لباس کسی شخص کے لیے لباسِ شہرت کا درجہ رکھتا ہو ممکن ہے وہی لباس دوسرے شخص کے لئے لباسِ شہرت نہ ہو۔ پس لباسِ شہرت دراصل ایسا لباس ہے جو لوگوں کی عام معاشرتی عادت کے خلاف ہو اور پہننے والا دوسروں سے نمایاں معلوم ہو اور لوگ اس کے بارے میں باتیں بنانے لگ جائیں۔۔۔"
امام احمد نے ایک شخص کو کالے اور سفید لکیروں والی چادر لپیٹے دیکھا تو اس سے کہا، "یہ چادر اتار دو اور اپنے علاقے کے لوگوں میں رائج لباس پہنو۔ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ یہ حرام ہے، اگر تم مکہ یا مدینہ میں ہوتے تو ہرگز تم کو منع نہیں کرتا (یعنی اس لئے کہ یہ وہاں معروف لباس ہے)"۔
ان تمام عبارات سے واضح ہے کہ بہتر یہی ہے کہ ایک شخص اپنے علاقے میں رائج لباس ہی زیب تن کرے اور بالخصوص دینی وضع سمجھ کر مقامی لباس سے مختلف لباس نہ پہنے۔

👈 مشاہدہ: کشمیر میں سلفی فکر سے وابستہ نوجوانوں کی کثیر تعداد 'دینی' وضع اختیار کرنے کے لئے عربی "ثوب", 'شماغ', 'غترہ' یا 'بشت' پہنتی ہے۔ اسی طرح یہاں دینی شعور رکھنے والے طبقے میں 'ازہری' اور 'شامی' ٹوپیاں بھی راوج پا رہی ہیں۔ ایسے لباس سے احتراز ہی بہتر کہ ممکن ہے یہ لباسِ شہرت کے زمرے میں آتا ہو۔ واللہ اعلم

از برادر سہیل خالق
copied🌹

Want your school to be the top-listed School/college in Srinagar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Srinagar