03/05/2026
Job apportunity for chefs noumaan sumbal bazar
Spreading the message of Islam ...
03/05/2026
Job apportunity for chefs noumaan sumbal bazar
20/03/2026
Admission open for hifiz o nazirah Class Farsi and Arabic Awal
21/02/2026
Ramzan appeal
Glimpses of Final exam held at madrasa Idaratun noumaan sumbal sonawari
Mashallah beautiful view of Makkahtul mukaramah 🫀
Beautiful view of Makkahtul mukaramah 🫀
Allah k Samne Rone me kaisi Sharm
Allah unse khush hoota jo usse mangte hai
Dream of every muslim to call Ya Rasool Allah saw
Beautiful view of Makkahtul mukaramah in Saudi Arabia
This video never gets old little boy recite Qur'an
30/12/2025
ابو عبیدہ کیسے شہید ہوئے؟
ہفتہ کی شام، 30 اگست 2025ء کو، سرزمین قدس میں غداری کی بدترین مثال سامنے آئی۔ ایک غدار نے طویل عرصے بعد اپنے اہلِ خانہ سے ملاقات کے دوران نقاب پوش مجاہد کی موجودگی کی اطلاع اسرائیلی خفیہ ادارے شاباک کو دے دی۔
شاباک نے اس اطلاع کو غنیمت اور ایک نایاب موقع سمجھا، کیونکہ اس سے پہلے اس مجاہد کو شہید کرنے کی 14 کوششیں ناکام ہو چکی تھیں۔ فوراً فوجی قیادت کا ہنگامی اجلاس ہوا اور فیصلہ کیا گیا کہ ایسے خاص طیارے استعمال کیے جائیں جو صرف مزاحمتی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔
اگرچہ انہیں معلوم تھا کہ حذیفہ کحلوت ایک مخصوص فلیٹ میں موجود ہے، پھر بھی پورے رہائشی عمارت کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا، تاکہ ہدف کے مارے جانے کی مکمل یقین دہانی ہو جائے اور ساتھ ہی پورے خاندان سے انتقام لیا جا سکے۔
اس حملے میں بین الاقوامی طور پر ممنوعہ آتش گیر اور حرارتی بم استعمال کیے گئے، جو پہلے ہوا میں آتش گیر ایندھن کا بادل چھوڑتے ہیں، پھر اچانک آگ بھڑک اٹھتی ہے، جس سے شدید حرارت اور مہلک دباؤ پیدا ہوتا ہے۔ یہ آگ انسانی جسموں کو جلا کر ختم کر دیتی ہے، آکسیجن کو کھینچ لیتی ہے، اور نہ انسان بچتا ہے نہ عمارت۔
یوں ہمارے ہیرو شہید ہو گئے، ان کی اہلیہ شہید ہوئیں اور ان کے معصوم بچے: لیان، منّة اللہ اور یمان بھی شہادت پا گئے۔
ان کا پاکیزہ جسم مکمل طور پر مٹ گیا، گویا دشمن ان کا نشان تک ختم کرنا چاہتا تھا۔
ان کے ساتھ ان کے خاندان “الکحلوت” کے 40 افراد بھی شہید ہوئے۔ کیونکہ پورا فلیٹ مکمل طور پر تباہ ہوگیا تھا۔
وہ پیٹھ پھیر کر نہیں بلکہ سینہ تان کر شہید ہوئے۔ ان کی شہادت سے پہلے ایک وعدہ اور بشارت بھی تھی۔
یہ خواب انہوں نے اپنے داماد ڈاکٹر منذر العامودی کو سنایا تھا، جس میں انہیں رسول اللہ ﷺ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا، آپ فرما رہے تھے:
“تم آج شہید ہو جاؤ گے۔”
چنانچہ اس دن انہوں نے غسل کیا، خود کو سنوارا، جیسے کسی دلہن سے ملنے جا رہے ہوں۔
انہوں نے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے بعد شہادت پائی، اپنے دین اور وطن کا دفاع اپنے خون سے کیا۔ پوری امت نے ان پر گریہ کیا، مساجد، محرابیں اور میدانِ جنگ ان کے غم میں ڈوب گئے۔
ہم یہ نہیں سمجھتے کہ شہداء مر جاتے ہیں، وہ تو رخصت ہو کر ہم پر گواہ بن جاتے ہیں۔
اللہ ہمارے ہیرو حذیفہ کی شہادت قبول فرمائے
آمین یا رب العالمین