16/09/2023
سید مودودی کا منہج اور علمی وعملی خدمات :
سید مودودی:
(1)سید مودودی رح (25 ستمبر 1903 تا 22ستمبر 1979)نے
صرف امت مسلمہ کے نہیں بلکہ اس سے بڑھ انسانیت کی راہنمائی کی وہ ایک مسلک ،مسلمانوں کے ہیرو کے بجائے انسانیت کا ہیرو ہے. جس طرح امام ابوحنیفہ رح نے قانون اور اصول قانون میں انسانیت کی راہنمائی کی اور اورآئن سٹائن نےانرجی کے فارمولے پرانرجی میں۔۔۔۔۔۔اور دونوں نے پوری انسانیت کو متاثر کیا۔۔۔۔، سید صاحب نےاسلام کو ایک مکمل نظام اور انسانیت کی فلاح کا ضامن کے طور پیش کیا.....اور انسانیت کی راہنمائی کی۔
(ب) دنیا میں یہ غالباً واحد مجدد ہے جس نے اپنی زندگی میں اپنے وقت کے باطل نظریات کو کامیابی سے چیلنج کیا. کیپٹلزم،کمیونزم، نشنلزم، الحاد ،تشکیک،تجدد،قادیانی، انکار سنت وحدیث وغیرہ جیسے نظریات وعقائد کو دلیل کے میدان میں بے بس اور لاجواب کیا۔۔۔۔وقت کےفتنوں کا علمی اور عملی طور سدباب کیا۔۔۔۔۔اس طرح
غالباً یہ پہلے مجدد ہیں جنھوں نے بیک وقت فکری اور عملی دونوں میدانوں میں موثر کام کیا۔
(ج)دین اسلام کا جامع تصور اور اس کے انفرادی، اجتماعی اور ریاستی پہلوؤں کو بیک وقت دلیل کی قوت سے واضح کیا۔۔۔۔انہوں نے واضح کیا کہ انسان کا اولین اور سب سے پہلا رشتہ اپنے خالق سے ہے اور یہ رشتہ اس کی اپنی ذات، اس کی تربیت، سیرت سازی اور تزکیہ سے ہے ۔یہ رشتہ اس کی پوری زندگی کی صورت گری کرتا ہے۔ جس طرح انسان زندگی کا حصہ دوسرے سے، خاندان اور معاشرے سے، معیشت، سیاست، اور ریاست اور بین الاقوامی دنیا سے تعلق پر مشتمل ہے، اس طرح اسلام کا منشاء یہ ہے کہ وہ سوشل سسٹم پر قائم ہے۔۔۔۔۔سید رح نے اسلام کو نہ صرف علمی میدان میں نجات کا ذریعہ ثابت کیا بلکہ عام لوگوں کے سامنے آسان اور فایدہ مند پیش کیا. قران مجید کی آفاقی تصور سے عام لوگوں کو آشنا کیا. نئے علم اکلام کے بانی بنے. امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز کا ادراک کیا، اس کا حل پیش کیا، امت مسلمہ اسلام پر شرمارہی تھی، مسلمانوں کو اس معاملے میں جرأت دی .
(د)اسلامی ریاست اور اس کے قیام کا واضح روڈ میپ دیا. اسلام کو فرد,معاشرے,ریاست اور بین الاقوامی دنیا پر غالب کرنے کا تصور دیا. اسلام کو مذہب سے بڑھ کر ایک دین اور نظام کے طور پیش کیا۔۔۔۔یہ اور اس طرح بیسیوں چیزیں ہیں.۔۔۔۔۔الغرض انہوں نے اسلام کے پورے نظام حیات کو دینی اور عقلی دلائل کے ساتھ دور حاضر کی زبان میں پیش کیا، اسلام کو انسانیت کی فلاح کے ضامن ثابت کرکے پیش کیا، دور حاضر کے ہر فتنے کا مقابلہ کیا اور اسلام کے نظام زندگی کی برتری اور فوقیت کو ثابت کیا۔۔۔۔پھر سب سے بڑھ کر اسلامی نظام کی نظری تشریح وتوضیح بھی کی ۔۔۔بلکہ یہ بھی بتایا کہ دورحاضر میں اسلامی نظام کیسے قائم ہوسکتا ہے، اور اج کے اداروں کو کس طرح اسلام کے سانچوں میں ڈھالا جاسکتا ہے۔۔۔۔یہ سب کچھ تن تنہا کیا, کوئی علمی اور عملی ٹیم اور معاشرہ کی عدم موجودگی میں کیا. حتی کہ انہیں اس پائے کے شاگرد تک نہیں ملے جو اس سے پہلے مجتہدین اور مجددین کو ملے.
(ڈ)سید مودودی کا دور سیاسی علمی، انفرادی اور اجتماعی ہر لحاظ سے زبون حالی کا دور تھا سید مودودی کا دور گزشتہ ساڑھے بارہ سو سال میں سب سے زیادہ تاریک دور تھا،امت مسلمہ مکمل طور سیاسی طور افق سے غائب تھے دنیا میں بمشکل چار کمزور مسلم ممالک موجود تھے،باقی مسلم دنیا مکمل طور استعمار کے قبضے میں تھا۔۔۔۔امت مسلمہ فکری ونظریاتی اور اخلاقی انحطاط کے ساتھ ساتھ، سیاسی اور تہذیبی ہر لحاظ محکوم تھے۔۔۔۔لوگوں میں بعد میں جو بیداری ہوئی بس وہ اس قدر تھی کہ سیاسی طور ازادی ملے۔۔۔لیکن سید مودودی مغربی سامراج سے صرف سیاسی ازادی کے قائل نہیں تھے، بلکہ فکری، نظریاتی، معاشی، معاشرتی، تہذیبی ازادی کے عالمبردار تھے۔۔۔۔۔۔۔اور یہ سب کچھ اسلام کے اصولوں کے مطابق منظم کرنا چاہتے تھے۔۔۔اس مقصد کےلیے قران وسنت پر ایمان وعمل، اس کی دعوت عام کرنے، اس پر عمل کرنے،۔۔۔۔کےلیے قلم ،زبان تن من دھن وقف کیا، ایمانیات وعقائد، عبادات سے لیکر ریاستی اور بین الاقوامی امور تک انسانیت کی راہنمائی کی۔
(ذ)یاد رہے مولانا مودودیؒ انسان تھے, ان کے ساتھ اختلاف ہو سکتا ہے. خود را قم سمیت مولانا معین الدین خٹک رح مولانا گوہرالرحمان رح اور ڈاکٹر یوسف القرضاوی رح جیسے سید کے قریبی ساتھیوں اور متقدین نے علمی اختلاف کیا ہے, تاہم حقیقت یہ ہے کہ وہ انسانیت کے محسن ہیں۔
مولانا مودودیؒ کا مرکزی فوکس انسانیت کی فلاح، اسلام کا افاقی پیغام ہے۔ سید کا مخاطب انسانیت ہے۔۔۔۔مفسر، فقہی، محدث، مجدد، داعی، مربی، اور راہنما تھے رحمت اللہ تعالیٰ علیہ
(ذ) سید مودودی رح کے چھوٹے بڑے 133کتابیں ہیں، 102کتابیں ہیں اور 31،رسالے(کتابچے) اس میں 55خود سید نےتصنیف کیں اور 78،کتابوں بیانات، انٹریو وغیرہ سے اخذ ہے۔لیکن اب پتہ چلا ہے کہ سید مودودیؒ کے کئ کتب قلمی یا مسودے کی شکل میں ہیں اور چھپ نہیں گئے ہیں۔ ایک جاپانی محقیقہ کی پی ایچ ڈی تحقیق کے مطابق سید مودودی رح نے "ترجمان القران " میں کل 900 مقالے اور مضامین لکھے۔جن سے 300 کتابیں مرتب ہوئیں 50 کے لگ بھگ کتب سید مودودی رح نے خود شائع کیے، 100 کتابچے 110 مجموعے اپ کے مندوں نے شائع کیے۔
(2)پروفیسر ڈاکٹر مشتاق صاحب، ڈین قرطنہ یونیورسٹی ۔۔۔۔فرماتے ہیں ۔۔ مولانا سید ابوالاعلی مودودی رح اور ان کا منہج فکر وتحقیق۔۔۔۔
مولانا سید ابوالاعلی مودودی رح اسلامی دنیا میں تجدد اور جدیدیت کے بجائے اسلام کے روایتی منہج فکر کے علمبردار تھے۔ انہوں نے روایت کو عقل کی لیب میں جانچنے کے بجائے عقل کو روایت کی لیب میں جانچا اور پرکھا۔ دوران بحث وہ عقل کو روایت کے توضیحی معاون کے طور پر نمٹاتے تھے۔ ان کے نزدیک کسی بھی دینیاتی قضیہ کا رآس المسئلہ عقل کے بجائے روایت کی اساس پر قائم ھونا چاھئے۔ انہوں نے اسلامی مبادیات،قرانیات، تہذیب وثقافت، اسلامی سیاسیات، معاشیات، سماجیات، عائلییات، عالمیات، مطالعہ تقابل و تناظر، سیرت و تاریخ، قانون اور اصول قانون اور انسانی حقوق سے متعلق اکیلے 143 کتابیں لکھ کر اردو زبان میں ایک قابل قدر ۔۔دینیاتی ادب۔۔ فراھم کیا۔ انہوں نے اسلام کے روایتی منہج فکر کی اساس پر لینن کے فلسفہ اشتراکیت ، مغرب کے اصول سرمایہ داری اور ھیگل اور مارکس کے فلسفہ تاریخ کی ھیئت کو درھم برھم کرکے رکھ دیا۔ خلافت وملوکیت لکھ کر انہوں نے ایک طرف اسلامی سیاسیات اور ریاست داری کے ایک رخ کو سامنے رکھا اور دوسری طرف تاریخی نظائر فراھم کرکے ثابت کیا کہ بین الاقوامی انسانی قانون کی تاسیس اھل مغرب نے نہیں بلکہ محمد بن حسن شیبانی رح نے کی ھے۔۔۔۔۔
(3)اصف علی صاحب لکھتے ہیں ۔
سید مودودی کا منہج کسی فرقہ، کسی متعصب گروہ اور کسی متکبر لیڈر کا نام نہیں بلکہ یہ قرآن و سنت سے ٹوٹا ہوا تعلق بحال کرنے، ایمان، عبادت، معیشت، معاشرت اور سیاست کو قرآن و سنت کی روشنی میں استوار کرنے اور مسلمانوں میں افتراق کی بجائے اتحاد و اتفاق کا عنوان ہے۔ سید مودودی باطل کے آگے جھکنے کا نہیں بلکہ باطل کو حق کے آگے جھکانے کے لیے سردھڑ کی بازی لگادینے کا نام ہے۔ سید مودودی مغربی تہذیب کی اندھی نقالی کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ اسلامی روایات و اخلاق کے تواترکے تحفظ و احیاء کے لیے ڈٹ جانے اور مغربی تہذیب کی باطل بنیادوں کو نیست و نابود کردینے کا نام ہے۔ اور آخری بات یہ کہ سید مودودی کا منہج غلطیوں پر اصرار کا نہیں بلکہ غلطیوں کا احتساب اور ان پر توبہ کرنے کا نام ہے.
(4)ایک اہلحدیث مکتبہ فکر کے بے باک عالم ربانی ...طاہر اسلام عسکری کہتے ہیں ۔۔۔
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ یہ پورے کے پورے مسلک اپنے دار الافتاؤں اور مناظرہ سنٹروں کے ساتھ ایک تنہا انسان اورفردِ واحد کے خلاف محاذ آرائی پہ کیوں تُلے ہوئے ہیں؟ اور اُس کا عالم یہ ہے کہ اپنی زندگی میں وہ چومکھی لڑائی لڑتا رہا۔ ان فرقہ پرستوں کو مسکت جواب بھی دیتا رہا؛ ساتھ غالی گم راہوں مانند منکرین ختم نبوت اور منکرین سنت کا ناطقہ بھی بند کرتا رہا؛ تجدد پسندوں کی خبر بھی لیتا رہا۔ اور مثبت طور پہ اسلامی نظام فکر و عمل کو اعلیٰ علمی استدلال کے ساتھ پیش کرتا رہا۔ قرآن مجید کا ایسا اردو ترجمہ لکھا کہ شاہ عبدالقادر کو چھوڑ کر کوئی دوسرا ترجمہ آج تک اس کی برابری کا دعویٰ بھی نہیں کر سکتا۔ مولانا اصلاحی کا ترجمہ کسی حد تک اس کے قریب ہے لیکن صاف نظر آتا ہے کہ اکثر مقامات پہ سید نے جو تعبیر یا ترکیب برت لی، اس سے بہتر ممکن نہ تھی اور چوں کہ ان سے امتیاز بھی کرنا تھا، اس لیے مولانا اصلاحی کو مجبوراً الفاظ بدلنا پڑے۔ تفسیر قرآن پہ قلم اٹھایا تو اس میدان میں بھی تخلیقی اسلوب اپنایا۔
پھر اسلام کو محض ایک نظریے یا رسوم و اعمال کے مجموعے تک محدود رکھنے کے بجاے اس نے اسے ایک زندہ اور متحرک نظام کے طور پہ پیش کیا اور اس کے لیے ایک تحریک کھڑی کی جس کی کشش کا یہ عالم تھا کہ اس زمانے کے ممتاز ترین اذہان نے اسے قبول کیا اور اس میں شمولیت اختیار کی۔ اب جب کہ اسے دنیا سے گئے بھی ربع صدی ہونے کو ہے، وہ ان فرقہ پرستوں کے اعصاب پہ سوار ہے اور یہ بجاے اس کے کہ اسلام کو درپیش حقیقی چلینجز کا جواب دیں، اس سچے خادمِ اسلام کا کفن نوچنے میں لگے ہوئے ہیں!!
شاید اس کا قصور یہ تھا کہ وہ شہ دماغ تھا مگر اسے بونوں میں جینا پڑا؛ جسے عالمی سطح پہ فکر و نظر کا امام مانا گیا گیا، اسے مقامی ملاؤں سے فتاواے تضلیل و تفسیق کے تمغے نصیب ہوئے؟!
خیر، یہ لگے رہیں، خدا کی سنت ہے کہ باقی وہی رہتا ہے جو نافع ہوتا ہے؛ باقی خس و خاشاک لہروں کی نذر ہو کر رہ جاتا ہے! ان کی مفسدانہ سرگرمیاں انھی کے نامۂ اعمال کو سیاہ کریں گی، سید بادشاہ کے قافلے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈال سکیں گی؛ ان شاءاللّٰہ۔
اس وقت کرنے کا کام یہ ہے کہ سید کی تحریروں کو عام کیا جائے: خاص طور سے تنقیحات، خطبات، اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی، سنت کی آئینی حیثیت، تعلیمات، رسائل و مسائل۔
(5)شیخ حامد کمالدین لکھتے ہیں!
"مولانا کا ایک بے مثال کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے ”دین“ کو ’خانقاہی رنگ‘ سے نکال کر ’معاشرے کا" دین " بنا دینے میں نہایت مؤثر کردار ادا کیا۔ ان کی تحریک کے نتیجے میں ’دینی عمل‘ گوشوں اور درگاہوں سے نکل کر بازاروں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ابل پڑا۔ یہاں کے چوٹی کے تعلیم یافتہ نوجوان کے اندر ”دین دار“ ہونے کا وہ اعتماد پیدا ہوا جو اِس سے پہلے اس کے یہاں تقریباً مفقود تھا۔ بے شک اِس سے پہلے یہاں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کو اقبال نے بھی ’مسلمان‘ ہونے کے معاملہ میں ایک اعتماد اور ایک ’جذبہء تازہ‘ عطا کیا تھا، مگر اِس ’جذبہ‘ کو باقاعدہ ایک ’واقعہ‘ کی صورت دینا مودودی کا ہی حصہ رہا۔ ورنہ اِس جذبہ کو اس سے پہلے ’مسلم لیگ‘ اور ’تحریکِ پاکستان‘ ایسی سرگرمیوں سے ترقی یافتہ تر اور عمیق تر کوئی صورت میسر نہ تھی۔ البتہ ’ماڈرن یوتھ‘ کو مسجدوں میں پیر سے پیر ملا کر صفیں بن کر کھڑے ہونے اور ”دین“ کیلئے سرگرم ہو جانے کا شعور دینے میں مودودی کا کردار نمایاں ترین ہے اور شاید مودودی پر بر صغیر کے حوالے سے وہ بات بدرجہء اتم صادق آتی ہے، جو محدث البانی رحمۃ اللہ علیہ نے مصر کے بانی ِ الاخوان المسلمون حسن البنا رحمۃ اللہ علیہ کی بعض لغزشوں کی بابت کئے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ: حسن البنا کے دامن میں قیامت کے روز پیش کرنے کو اگر یہی ایک چیز ہو کہ انہوں نے ہزاروں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو کلبوں اور قہوہ خانوں سے اٹھا کر مساجد میں لا کھڑا کیا تھا، تو کیا پتہ ان کو تو شاید یہی کفایت کر جائے۔
(6)...الغرض مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ بیسویں صدی کے جید عالم، مفکر، مصنف اور مجدد گزرے ہیں۔ انہوں نے فکر اسلامی کی تجدید اور احیائے اسلام کے لیے کارہائے نمایاں انجام دیے۔ سید موصوف کو علوم اسلامیہ اور علوم جدیدہ دونوں میں ید طولیٰ حاصل تھا۔ ان کا اگرچہ کوئی خاص میدان نہیں تھا تاہم انہوں نے جس موضوع اور فکر پر بھی خامہ پرسائی کی ایسا لگتا ہے کہ وہ اسی موضوع کے شہسوارہیں۔ انہوں نے قرآن پاک، حدیث، سیرت، فقہ، تاریخ، علم کلام، سیاست، معیشت، معاشرت، تحریک وتنظیم کے علاوہ باطل افکار ونظریات کے رد میں ایسی شاہکار تحریریں چھوڑیں جو طویل عرصے تک زندہ وجاوید رہیں گی۔ مولانا مودودیؒؒ کا ہر کام اپنی جگہ پر ایک اکیڈمی کی حیثیت رکھتا ہے۔ سید موصوف کے بہت سے کارنامے ہیں لیکن تین کارنامے ایسے ہیں جو ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
۱) فکر اسلامی پر بے مثال لٹریچر
(۲) احیائے دین کے لیے جماعت اسلامی کا قیام
(۳) اور عصری اسلوب میں قرآن پاک کا ترجمہ وتفسیر ’’تفہیم القرآن
۔۔۔(ڈاکٹر زاھد شاہ)