03/10/2023
میں حیران ہوں ہمارے بر صغیر کے اہل علم نے ابھی تک شیخ مختار شنقیطی صاحب کی اس کتاب کو ابھی تک اتنا ہلکا کیوں لیا ہوا ہے اور کیوں اس پر ڈبیٹس اور ڈسکشنز کا آغاز نہ ہوسکا!
بدقسمتی سے ہمارا ایک بہت بڑا طبقہ کتاب کے سائز اور ضخامت سے ہی متاثر ہوتا ہے پھر بھلے ہی اندر مواد ہو نہ ہو! شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی نظر التفات اس کتاب کی جانب نہ ہوئی ورنہ یہ کتاب اپنے موضوع پر نہایت انوکھی اور وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
03/10/2023
امام مسلم رحمہ اللّٰہ اپنی صحیح کے مقدمہ میں رواۃ(جمع راوی) پر بے لاگ نقد و جرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
" اس جرح و نقد کا تعلق حرام کردہ غیبت سے نہیں بلکہ یہ معزز و مکرم شریعت کے دفاع کا حصہ ہے"
01/10/2023
نظام القرآن پر آج کے ویبینار کا سب سے پاور فل جملہ:
"کچھ لوگ نظام القرآن کے تو قائل ہیں لیکن نظام الاسلام کے قائل نہیں ہیں! جبکہ نظام الاسلام، نظم قرآن کا بنیادی تقاضا ہے"
29/09/2023
محمد ، پیغمبر اسلام ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
آصف محمود | ترکش | روزنامہ 92 نیوز
مطالعے کا شوق بچپن ہی سے تھا ، اب جنون بن چکا ، جیب میں چند پیسے آ جائیں تو آج بھی پہلا پڑائو کسی بک شاپ پر ہوتا ہے۔ گھر میں کتابیں ہی کتابیں بکھری پڑی ہیں۔پہلے صرف میں تھا اب علی ، عائشہ اور عروہ بھی ہیں چنانچہ اب بچوں کے ادب کابھی انبار لگا ہے۔ لیکن اگر آپ مجھ سے پوچھیں آج تک جتنی بھی کتابیں میرے زیر مطالعہ رہیں ان میں سب سے اچھی کتاب کون سی ہے تو میں ایک لمحہ ضائع کیے بغیر جواب دوں گا: کانسٹنٹ ورجل جورجیو کی محمد ، پیغمبر اسلام ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)۔
اس کتاب کا مطالعہ آدمی کو ششدر کر دیتا ہے۔ رحمت دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ پر کتنی ہی کتابیں لکھی جا چکیں لیکن کانسٹنٹ ورجل جورجیو کی کتاب میں ایک غضب کی انفرادیت ہے۔
حیات طیبہ کے مختلف گوشوں سے بطور مسلمان آگہی کے باوجود اس کتاب کو پڑھتے ہوئے بہت سے ایسے مقام آتے ہیں کہ آدمی حیرت سے تھم جاتا ہے کہ اوہ ،اچھا تو یہ واقعہ یوں ہوا تھا۔خود میرے ساتھ یہ ہوا کہ میں درجنوں مقامات پر اسی کیفیت سے دوچار ہوا۔بہت سے واقعات پڑھ تو رکھے تھے لیکن ان کی معنویت تب آشکار ہوئی جب اس کتاب کو پڑھا۔ میں سمجھتا ہوں جس نے اس کتاب کا مطالعہ نہیں کیا وہ محروم رہا۔
جسے سیرت طیبہ کو اپنے پورے سیاق و سباق کے ساتھ سمجھنے کا شوق ہو وہ اس کتاب کو کھول لے،حیرتوں کا ایک جہان اس کے سامنے ہو گا ۔
میں اگر اس کتاب کی انفرادیت بیان کرنا شروع کر دوں تو اسے کالم کی تنگنائے میں سمیٹنا ممکن نہ رہے۔
آج سرکار دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ کی ولادت کا دن ہے آج کانسٹنٹ ورجل جورجیو کی کتاب کے صرف وہ اقتباسات آپ کے سامنے رکھتا ہوں جس میں ماں کے مقدس رشتے کی بات کی گئی ہے۔
’’ لوگ بی بی آمنہ ( رضی اللہ عنہا) کے گرد جمع تھے ۔ بی بی آمنہ کسی وقت زیر لب خود کلامی کرتیں۔ کم سن محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب یہ سب منظر دیکھا اور محسوس کیا کہ ان کی والدہ کوئی جواب نہیں دے رہیں تو ماں کے سینے سے لپٹ گئے اور روتے ہوئے کہا : ماں! ماں! آپ جواب کیوں نہیں دیتیں ؟ مگر ان کی روح پرواز کر چکی تھی‘‘۔
"قبر پر مٹی ڈال دی گئی۔ رشتہ دار احباب لوٹے تو دیکھتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ نہیں ہیں۔فوری واپس گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر پر بیٹھے ہوئے قدرے بلند آواز میں اپنی والدہ کو پکار کر کہہ رہے ہیں : آپ گھر کیوں نہیں چلتیں۔کیا آپ کو معلوم نہیں کہ میرا آپ کے سوا کوئی نہیں۔"
"محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماں اور باپ دونوں کھو چکے تھے۔آپ ایک گوشے میں بیٹھے رہا کرتے۔یہاں تک کہ بچے انہیں کھیلنے کی دعوت دیتے تو وہ کہتے: مجھے میرے حال پر چھوڑ دو میں تم سے کھیلنے کی ہمت نہیں پاتا۔ماں کی جدائی سے اس قدر غمزدہ تھے کہ کھانا پینا ترک دیا تھا۔ ‘‘
’’ یہ ایک فطری انداز تربیت تھاکہ وہ بچہ جس کی نہ ماں ہو ، نہ باپ، آٹھ سال کی عمر میں جو مجبور ہو جائے کہ خود کما کر روٹی کھائے اور یہ جانتا ہو کہ کسی پر تکیہ نہیں کرنا اور جو بھی مشکلات ہیں ان کا خود ہی سامنا کرنا ہے ۔بہت زیادہ مشکلات ، تنہائی اور احساس ذمہ داری نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قبل از وقت متحمل مزاج اور متین بنا دیا۔ وہ جب بھی گرم ریگزاروں میں اونٹوں کا ریوڑ لے کر جاتے، غوروفکر میں کھو جاتے۔صحرا بہر حال غوروفکر اور خود میں کھو جانے کا بہترین مقام ہیـ‘‘۔
’’ قبیلہ غفار کا مسکن مدینہ اور ینبع کے درمیان تھا ۔محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے راستے میں ’ ابوا‘ نامی ایک مقام پر توقف فرمایا۔اس لیے کہ والدہ محترمہ کی قبر وہاں تھی۔پیغمبر اسلام جب والدہ کی قبر کے نزدیک پہنچے تو اونٹ سے اتر آئے۔مسلمان جنہیں علم تھا کہ آپ کی والدہ یہاں مدفون ہیںکچھ دور ہی ٹھہر گئے۔فقط عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کہ وہ بھی رضاکاروں میں شامل تھے آپ کے ساتھ قبر تک گئے۔محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر کے مقابل دوزانو ہوئے ، قبر پر سر رکھا اور رو پڑے۔اس تاریخ تک والدہ محترمہ کو فوت ہوئے قریبا پچاس سال ہو چکے تھے مگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مانند یک طفل کہ جس کی والدہ ابھی ابھی دفن کی گئی ہو رو رہے تھیـ‘‘۔
"محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والدہ نے جو تکالیف آپ کی پرورش کے سلسلے میں اٹھائی تھیں آپ ان کو یاد کرنے لگے۔جب محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیدا ہوئے تو والد وفات پا چکے تھے اور والدہ محترمہ کا نہ اب شوہر تھا اور نہ کوئی روٹی کما کر دینے والا۔ انہوں نے ۔محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یتیمی میں پرورش کی حتی کہ وہ وفات پا گئیں۔محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر پر بیٹھے ان سختیوں کی یاد میں کھو گئے جو انہوں نے بچپن میں جھیلی تھیں۔انہیں یاد آیا کہ جب تک والدہ زندہ تھیں ہر قسم کی سختی کو جھیلنا آسان تھا۔جب آپ بچے تھے تو آپ کی والدہ گھر آنے پر ہاتھ پائوں دھوتیں۔اور جو بھی کھانا میسر ہوتا بٹھا کر کھلاتیں اور بڑے پیار سے غذا کھانے کی تلقین کرتیں۔لیکن والدہ کی وفات کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تنہا رہ گئے تھے اور جب صحرا سے ننگے پائوں واپس آتے کوئی نہ تھا جو ہاتھ پائوں دھلاتااور دست شفقت آپ کے سر پر رکھتا۔محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر والدہ کی قبر پر روئے کہ عمر بن خطاب جو بڑے سخت مزاج تھے انہوں نے عرض کی : اب بس کیجیے ورنہ نزدیک ہے میں بھی رو دوں‘‘۔
برسوں پہلے یہ کتاب مجھے جناب ڈاکٹر عاصم اللہ بخش نے عنایت کی تھی، اس کا دیباچہ بھی ڈاکٹر صاحب ہی نے لکھا ہے ۔ان برسوں میں ، کتنی ہی بار میں نے اس کتاب کو پڑھا ۔یوں سمجھیے یہ کتاب مجھ پر بیت گئی۔کچھ مقام تو ایسے بھی آئے میں نے محسوس کیا میں صدیوں پیچھے کسی صحرا میں کسی ٹیلے پر کھڑا ہوں اور یہ سب میرے سامنے ہو رہا ہے۔مشاہدے کے ساتھ ساتھ کانسٹنٹ ورجل جورجیو گویا مجھے سیاق و سباق سے بھی آگاہ کر رہا ہے۔آدمی کو اور کیا چاہیے؟
28/09/2023
عید میلاد النبی اور مولانا مودودی علیہ الرحمہ کا موقف
تحریر: ابوالاعلی سید سبحانی
مولانا سید ابوالاعلی مودودی علیہ الرحمہ کو اللہ رب العزت نے بے پناہ حکمت وبصیرت سے نوازا تھا۔ مولانا کی تحریروں کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ کسی بھی مسئلہ پر پہلے آپ قرآن وسنت کی تعلیمات کا گہرا تجزیہ کرتے ہیں، دین کے داعیانہ کردار اور شریعت کے مصلحانہ مزاج کو پیش نظر رکھتے ہیں، اور پھر کسی بھی مسئلہ پر اپنی رائے دینے سے پہلے مالہ وماعلیہ کا خوب اچھی طرح سے تجزیہ کرلیتے ہیں، چنانچہ آپ کی فکر میں مضبوطی بھی نظر آتی ہے اور کلیئرٹی بھی، داعیانہ کردار بھی اور حکمت وبصیرت بھی۔
مولانا مودودی علیہ الرحمہ نے 1942 میں میلاد النبی کے حوالہ سے دو خطاب کیے تھے، پہلا خطاب آل انڈیا ریڈیو لاہور سے کیا تھا اور دوسرا خطاب دارالاسلام پٹھان کوٹ میں خطبہ جمعہ کے طور پر پیش کیا تھا۔ یہ دونوں خطاب بعد میں مضامین کی شکل میں ماہنامہ ترجمان القرآن اپریل 1942اور اپریل 1943 میں شائع ہوئے، یہ مضامین اپنے موضوع پر بہت ہی زبردست اور واضح رہنمائی پیش کرتے ہیں۔
مولانا مودودی علیہ الرحمہ عید میلاد النبی کو نہ تو بدعت قرار دیتے تھے اور نہ ہی اسے کوئی معیوب سرگرمی سمجھتے تھے، مولانا مودودی اس کو ایک جائز دینی سرگرمی اور ایک تاریخی دن مانتے تھے، چنانچہ بارہ ربیع الاول کے دن کو غیرمعمولی طور پر اہم قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
“آج اس عظیم الشان انسان کا جنم دن ہے، جو زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کے لیے رحمت بن کر آیا تھا اور وہ اصول اپنے ساتھ لایا تھا، جن کی پیروی میں ہر فرد انسانی، ہر قوم وملک اور تمام نوع انسان کے لیے یکساں فلاح اور سلامتی ہے۔ یہ دن اگرچہ ہر سال آتا ہے، مگر اب کی سال یہ ایسے نازک موقع پر آیا ہے، جب کہ زمین کے باشندے ہمیشہ سے بڑھ کر اس دانائے کامل کی رہنمائی کے محتاج ہیں”۔ (ترجمان القرآن، اپریل 1942)
دوسرے مضمون میں اس بات کو اور واضح لفظوں میں لکھتے ہیں:
"آج کا دن دنیا کے لیے ایک بڑی برکت کا دن ہے، کیوں کہ یہی تاریخ تھی جس میں ساری دنیا کے رہنما حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے۔ اگر چہ شریعت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کےیوم پیدایش کو عید قرار نہیں دیا گیا ہے اور نہ اس کے لیے کسی قسم کے مراسم مقرر کیے گئے ہیں، لیکن اگر مسلمان یہ سمجھ کر کہ یہ خدا کے سب سے بڑے نبی اور دنیا کے سب سے بڑے ہادی کی پیدایش کا دن ہے اور یہ وہ دن ہے جس میں انسان کے لیے خدا کی سب سے بڑی نعمت ظہور میں آئی۔ اس کو عید کی طرح سمجھیں تو کچھ بے جانہیں ہے۔” (ترجمان القرآن، اپریل1943)
مولانا مودودی کو اس بات پر بالکل بھی اعتراض نہیں تھا کہ بارہ ربیع الاول کے دن کو یادگار قرار دیا جائے یا اس دن کو عید میلاد النبی کے طور پر منایا جائے، مولانا مودودی کا کہنا صرف یہ تھا کہ اس موقع پر ہمارے جشن منانے کا انداز ہمارے دین اور ایمان کے شایانِ شان ہونا چاہیے، مولانا اس موقع پر فضول ایکٹوٹیز اور غیر سنجیدہ ہنگامہ آرائی کو غلط قرار دیتے تھے۔چنانچہ اس سلسلہ میں لکھتے ہیں:
“البتہ اس عید کے منانے کی یہ صورت نہیں کہ خوب کھاؤ پیو، چراغاں کرو، جلوس اور جھنڈے نکالو اور محض اپنی دل لگی کے لیے فضول نمایشی کام کرنے لگو۔ ایسا کرو گے تو تم میں اور جاہل قوموں میں کوئی فرق نہ رہے گا۔ جاہل قومیں بھی اپنی تاریخ کے بڑے بڑے واقعات کی یاد میلوں ٹھیلوں اور جلوسوں سے مناتی ہیں۔ اگر تم نے بھی ان کے میلوں اور تیوہاروں کی نقل اتاری تو جیسے وہ ہیں ویسے ہی تم بھی بن کررہ جاؤ گے۔ اسلام نے تو یادگار منانے کے لیے نیا ہی ڈھنگ نکالا ہے۔ سب سے بڑی یاد گار حضرت ابراہیم کی قربانی ہے۔ جسے منانے کے لیے اللہ تعالی نے عیدالاضحی کی نماز اور قربانی اور حج وطواف کا طریقہ مقرر کیا ہے۔ اس پر تم غور کرو تو اندازہ کر سکتے ہو کہ مسلمان کو اپنی تاریخ کے بڑے بڑے واقعات کی یاد کس طرح منانی چاہیے۔” (ایضاً)
مزید لکھتے ہیں:
“تم کو سوچنا چاہیے کہ بارہ ربیع الاول کی تاریخ کس لحاظ سے تمہارے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ اس لحاظ سے نہیں کہ عرب کے ایک شخص کے گھر میں آج ایک بچہ پیدا ہوا تھا، بلکہ اس لحاظ سے کہ آج اس پیغمبر اعظم کو خدا نے زمین پر بھیجا جس کے ذریعے سے انسان کو خدا کی معرفت حاصل ہوئی، جس کی بدولت انسان نے حقیقت میں انسان بننا سیکھا، جس کی ذات تمام جہان کے لیے خدا کی رحمت تھی اور جس نے روئے زمین پر ایمان اور عمل صالح کا نور پھیلایا۔ پس جب اس تاریخ کی اہمیت اس لحاظ سے ہے تو اس کی یاد گار بھی اس طرح منانی چاہیے کہ آج کے روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور دنوں سے زیادہ پھیلاؤ۔ آپ کے اخلاق اور آپ کی ہدایات سے سبق حاصل کرو اور کم از کم آپ کی تعلیم کا اتنا چرچا تو کرو کہ سال بھر تک اس کا اثر باقی رہے۔ اس طرح یادگار مناؤ گے تو حقیقت میں یہ ثابت ہوگا کہ تم یوم میلادالنبی کو سچے دل سے عید سمجھتے ہو اور اگر صرف کھاپی کر اور دل لگیاں ہی کر کے رہ گئے تو یہ مسلمانوں کی سی عید نہ ہوگی، بلکہ جاہلوں کی سی عید ہوگی، جس کی کوئی وقعت نہیں۔” (ایضاً)
مولانا مودودی علیہ الرحمہ عید میلاد النبی کو ملت کے لیے احتساب اور جائزہ کے ایک اہم موقع کے طور پر پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
“بھائیو! عید میلاد النبی آپ مناتے ہیں، بڑی خوشی کی بات ہے، مگر صرف اتنا عرض کروں گا کہ اپنے سردار کے دربار میں حاضر ہوتے وقت ذرا یہ بھی سوچ لیا کیجیے کہ کیا منھ لے کر ہم اس روح پاک کا سامنا کررہے ہیں۔ ایک خادم سے قصور ہوجائے تو وہ اپنے صاحب کے سامنے جاتا ہوا ڈرتا ہے اور منھ چھپاتا پھرتا ہے۔ پھر کیا منھ لے کر ان کے سامنے جائیں جن کے ایک دو نہیں، خدا جانے کتنے فرمانوں کی روز ہم خلاف ورزی کرتے ہیں”۔(ایضاً)
اللہ کی رحمت ہو سیدی مودودی پر۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا مودودی علیہ الرحمہ کے یہ دونوں مضامین اپنے موضوع پر بہت ہی معتدل اور متوازن رہنمائی پیش کرتے ہیں۔
یہ دونوں مضامین “میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم” کے نام سے کتابچہ کی شکل میں مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی سے شائع ہورہے ہیں، موضوع سے دلچسپی رکھنے والے افراد کو اس کتابچہ کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔
28/09/2023
عید میلاد النبی کو دین میں ایک بدعت قرار دینا مکمل طور پر درست نہیں ہے۔ اگر ہم میلاد النبی کے اس موقع کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت، آپ کے کردار، اور آپ کے ابدی پیغام کی تبلیغ واشاعت کا ذریعہ بنالیں، تو پھر اس میں کون سی بدعت اور کون سی گمراہی ہے؟!
- الشيخ يوسف القرضاوي
17/09/2023
محض یہ بات کہہ کر آپ اپنی جان نہیں چھڑا سکتے کہ جناب احمد جاوید صاحب چونکہ عقلیات کی فیلڈ کے ماہر ہیں لہذا انہیں قرآنیات پر بات نہیں کرنی چاہئے اور آپ کے بقول یہ ان کی فیلڈ نہیں ہے۔ آپ کو چاہیے کہ بھرپور تیاری کرکے احمد جاوید صاحب کی تنقید کا رد انہی کی طرح دلائل دے کر کریں۔ ورنہ ہم بھی کافی عرصے سے یہ بات سنتے آئے ہیں کہ مودودی صاحب چونکہ کسی مدرسے کے فارغ نہیں ہیں لہذا انہیں دینی علمیات پر نہیں بولنا/لکھنا چاہیے۔ اور نتیجتاً دیکھتے ہی دیکھتے سید مودودی تاریخ کے افق پر چھاگئے اور ناقدین حضرات قصۂ پارینہ بن گئے۔
پس تحریر: ساجد احمد صاحب کی جوابی ریمارکس پر مبنی ایک مختصر ویڈیو کے ضمن میں
17/09/2023
میں حیران ہوں ہمارے اہل علم نے ابھی تک سیرئسلی احمد جاوید صاحب کی "نظم قرآن کے ایک تصور پر تنقید" والے لیکچر کو موضوع بحث کیوں نہیں بنایا!!!
16/09/2023
سید مودودی کا منہج اور علمی وعملی خدمات :
سید مودودی:
(1)سید مودودی رح (25 ستمبر 1903 تا 22ستمبر 1979)نے
صرف امت مسلمہ کے نہیں بلکہ اس سے بڑھ انسانیت کی راہنمائی کی وہ ایک مسلک ،مسلمانوں کے ہیرو کے بجائے انسانیت کا ہیرو ہے. جس طرح امام ابوحنیفہ رح نے قانون اور اصول قانون میں انسانیت کی راہنمائی کی اور اورآئن سٹائن نےانرجی کے فارمولے پرانرجی میں۔۔۔۔۔۔اور دونوں نے پوری انسانیت کو متاثر کیا۔۔۔۔، سید صاحب نےاسلام کو ایک مکمل نظام اور انسانیت کی فلاح کا ضامن کے طور پیش کیا.....اور انسانیت کی راہنمائی کی۔
(ب) دنیا میں یہ غالباً واحد مجدد ہے جس نے اپنی زندگی میں اپنے وقت کے باطل نظریات کو کامیابی سے چیلنج کیا. کیپٹلزم،کمیونزم، نشنلزم، الحاد ،تشکیک،تجدد،قادیانی، انکار سنت وحدیث وغیرہ جیسے نظریات وعقائد کو دلیل کے میدان میں بے بس اور لاجواب کیا۔۔۔۔وقت کےفتنوں کا علمی اور عملی طور سدباب کیا۔۔۔۔۔اس طرح
غالباً یہ پہلے مجدد ہیں جنھوں نے بیک وقت فکری اور عملی دونوں میدانوں میں موثر کام کیا۔
(ج)دین اسلام کا جامع تصور اور اس کے انفرادی، اجتماعی اور ریاستی پہلوؤں کو بیک وقت دلیل کی قوت سے واضح کیا۔۔۔۔انہوں نے واضح کیا کہ انسان کا اولین اور سب سے پہلا رشتہ اپنے خالق سے ہے اور یہ رشتہ اس کی اپنی ذات، اس کی تربیت، سیرت سازی اور تزکیہ سے ہے ۔یہ رشتہ اس کی پوری زندگی کی صورت گری کرتا ہے۔ جس طرح انسان زندگی کا حصہ دوسرے سے، خاندان اور معاشرے سے، معیشت، سیاست، اور ریاست اور بین الاقوامی دنیا سے تعلق پر مشتمل ہے، اس طرح اسلام کا منشاء یہ ہے کہ وہ سوشل سسٹم پر قائم ہے۔۔۔۔۔سید رح نے اسلام کو نہ صرف علمی میدان میں نجات کا ذریعہ ثابت کیا بلکہ عام لوگوں کے سامنے آسان اور فایدہ مند پیش کیا. قران مجید کی آفاقی تصور سے عام لوگوں کو آشنا کیا. نئے علم اکلام کے بانی بنے. امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز کا ادراک کیا، اس کا حل پیش کیا، امت مسلمہ اسلام پر شرمارہی تھی، مسلمانوں کو اس معاملے میں جرأت دی .
(د)اسلامی ریاست اور اس کے قیام کا واضح روڈ میپ دیا. اسلام کو فرد,معاشرے,ریاست اور بین الاقوامی دنیا پر غالب کرنے کا تصور دیا. اسلام کو مذہب سے بڑھ کر ایک دین اور نظام کے طور پیش کیا۔۔۔۔یہ اور اس طرح بیسیوں چیزیں ہیں.۔۔۔۔۔الغرض انہوں نے اسلام کے پورے نظام حیات کو دینی اور عقلی دلائل کے ساتھ دور حاضر کی زبان میں پیش کیا، اسلام کو انسانیت کی فلاح کے ضامن ثابت کرکے پیش کیا، دور حاضر کے ہر فتنے کا مقابلہ کیا اور اسلام کے نظام زندگی کی برتری اور فوقیت کو ثابت کیا۔۔۔۔پھر سب سے بڑھ کر اسلامی نظام کی نظری تشریح وتوضیح بھی کی ۔۔۔بلکہ یہ بھی بتایا کہ دورحاضر میں اسلامی نظام کیسے قائم ہوسکتا ہے، اور اج کے اداروں کو کس طرح اسلام کے سانچوں میں ڈھالا جاسکتا ہے۔۔۔۔یہ سب کچھ تن تنہا کیا, کوئی علمی اور عملی ٹیم اور معاشرہ کی عدم موجودگی میں کیا. حتی کہ انہیں اس پائے کے شاگرد تک نہیں ملے جو اس سے پہلے مجتہدین اور مجددین کو ملے.
(ڈ)سید مودودی کا دور سیاسی علمی، انفرادی اور اجتماعی ہر لحاظ سے زبون حالی کا دور تھا سید مودودی کا دور گزشتہ ساڑھے بارہ سو سال میں سب سے زیادہ تاریک دور تھا،امت مسلمہ مکمل طور سیاسی طور افق سے غائب تھے دنیا میں بمشکل چار کمزور مسلم ممالک موجود تھے،باقی مسلم دنیا مکمل طور استعمار کے قبضے میں تھا۔۔۔۔امت مسلمہ فکری ونظریاتی اور اخلاقی انحطاط کے ساتھ ساتھ، سیاسی اور تہذیبی ہر لحاظ محکوم تھے۔۔۔۔لوگوں میں بعد میں جو بیداری ہوئی بس وہ اس قدر تھی کہ سیاسی طور ازادی ملے۔۔۔لیکن سید مودودی مغربی سامراج سے صرف سیاسی ازادی کے قائل نہیں تھے، بلکہ فکری، نظریاتی، معاشی، معاشرتی، تہذیبی ازادی کے عالمبردار تھے۔۔۔۔۔۔۔اور یہ سب کچھ اسلام کے اصولوں کے مطابق منظم کرنا چاہتے تھے۔۔۔اس مقصد کےلیے قران وسنت پر ایمان وعمل، اس کی دعوت عام کرنے، اس پر عمل کرنے،۔۔۔۔کےلیے قلم ،زبان تن من دھن وقف کیا، ایمانیات وعقائد، عبادات سے لیکر ریاستی اور بین الاقوامی امور تک انسانیت کی راہنمائی کی۔
(ذ)یاد رہے مولانا مودودیؒ انسان تھے, ان کے ساتھ اختلاف ہو سکتا ہے. خود را قم سمیت مولانا معین الدین خٹک رح مولانا گوہرالرحمان رح اور ڈاکٹر یوسف القرضاوی رح جیسے سید کے قریبی ساتھیوں اور متقدین نے علمی اختلاف کیا ہے, تاہم حقیقت یہ ہے کہ وہ انسانیت کے محسن ہیں۔
مولانا مودودیؒ کا مرکزی فوکس انسانیت کی فلاح، اسلام کا افاقی پیغام ہے۔ سید کا مخاطب انسانیت ہے۔۔۔۔مفسر، فقہی، محدث، مجدد، داعی، مربی، اور راہنما تھے رحمت اللہ تعالیٰ علیہ
(ذ) سید مودودی رح کے چھوٹے بڑے 133کتابیں ہیں، 102کتابیں ہیں اور 31،رسالے(کتابچے) اس میں 55خود سید نےتصنیف کیں اور 78،کتابوں بیانات، انٹریو وغیرہ سے اخذ ہے۔لیکن اب پتہ چلا ہے کہ سید مودودیؒ کے کئ کتب قلمی یا مسودے کی شکل میں ہیں اور چھپ نہیں گئے ہیں۔ ایک جاپانی محقیقہ کی پی ایچ ڈی تحقیق کے مطابق سید مودودی رح نے "ترجمان القران " میں کل 900 مقالے اور مضامین لکھے۔جن سے 300 کتابیں مرتب ہوئیں 50 کے لگ بھگ کتب سید مودودی رح نے خود شائع کیے، 100 کتابچے 110 مجموعے اپ کے مندوں نے شائع کیے۔
(2)پروفیسر ڈاکٹر مشتاق صاحب، ڈین قرطنہ یونیورسٹی ۔۔۔۔فرماتے ہیں ۔۔ مولانا سید ابوالاعلی مودودی رح اور ان کا منہج فکر وتحقیق۔۔۔۔
مولانا سید ابوالاعلی مودودی رح اسلامی دنیا میں تجدد اور جدیدیت کے بجائے اسلام کے روایتی منہج فکر کے علمبردار تھے۔ انہوں نے روایت کو عقل کی لیب میں جانچنے کے بجائے عقل کو روایت کی لیب میں جانچا اور پرکھا۔ دوران بحث وہ عقل کو روایت کے توضیحی معاون کے طور پر نمٹاتے تھے۔ ان کے نزدیک کسی بھی دینیاتی قضیہ کا رآس المسئلہ عقل کے بجائے روایت کی اساس پر قائم ھونا چاھئے۔ انہوں نے اسلامی مبادیات،قرانیات، تہذیب وثقافت، اسلامی سیاسیات، معاشیات، سماجیات، عائلییات، عالمیات، مطالعہ تقابل و تناظر، سیرت و تاریخ، قانون اور اصول قانون اور انسانی حقوق سے متعلق اکیلے 143 کتابیں لکھ کر اردو زبان میں ایک قابل قدر ۔۔دینیاتی ادب۔۔ فراھم کیا۔ انہوں نے اسلام کے روایتی منہج فکر کی اساس پر لینن کے فلسفہ اشتراکیت ، مغرب کے اصول سرمایہ داری اور ھیگل اور مارکس کے فلسفہ تاریخ کی ھیئت کو درھم برھم کرکے رکھ دیا۔ خلافت وملوکیت لکھ کر انہوں نے ایک طرف اسلامی سیاسیات اور ریاست داری کے ایک رخ کو سامنے رکھا اور دوسری طرف تاریخی نظائر فراھم کرکے ثابت کیا کہ بین الاقوامی انسانی قانون کی تاسیس اھل مغرب نے نہیں بلکہ محمد بن حسن شیبانی رح نے کی ھے۔۔۔۔۔
(3)اصف علی صاحب لکھتے ہیں ۔
سید مودودی کا منہج کسی فرقہ، کسی متعصب گروہ اور کسی متکبر لیڈر کا نام نہیں بلکہ یہ قرآن و سنت سے ٹوٹا ہوا تعلق بحال کرنے، ایمان، عبادت، معیشت، معاشرت اور سیاست کو قرآن و سنت کی روشنی میں استوار کرنے اور مسلمانوں میں افتراق کی بجائے اتحاد و اتفاق کا عنوان ہے۔ سید مودودی باطل کے آگے جھکنے کا نہیں بلکہ باطل کو حق کے آگے جھکانے کے لیے سردھڑ کی بازی لگادینے کا نام ہے۔ سید مودودی مغربی تہذیب کی اندھی نقالی کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ اسلامی روایات و اخلاق کے تواترکے تحفظ و احیاء کے لیے ڈٹ جانے اور مغربی تہذیب کی باطل بنیادوں کو نیست و نابود کردینے کا نام ہے۔ اور آخری بات یہ کہ سید مودودی کا منہج غلطیوں پر اصرار کا نہیں بلکہ غلطیوں کا احتساب اور ان پر توبہ کرنے کا نام ہے.
(4)ایک اہلحدیث مکتبہ فکر کے بے باک عالم ربانی ...طاہر اسلام عسکری کہتے ہیں ۔۔۔
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ یہ پورے کے پورے مسلک اپنے دار الافتاؤں اور مناظرہ سنٹروں کے ساتھ ایک تنہا انسان اورفردِ واحد کے خلاف محاذ آرائی پہ کیوں تُلے ہوئے ہیں؟ اور اُس کا عالم یہ ہے کہ اپنی زندگی میں وہ چومکھی لڑائی لڑتا رہا۔ ان فرقہ پرستوں کو مسکت جواب بھی دیتا رہا؛ ساتھ غالی گم راہوں مانند منکرین ختم نبوت اور منکرین سنت کا ناطقہ بھی بند کرتا رہا؛ تجدد پسندوں کی خبر بھی لیتا رہا۔ اور مثبت طور پہ اسلامی نظام فکر و عمل کو اعلیٰ علمی استدلال کے ساتھ پیش کرتا رہا۔ قرآن مجید کا ایسا اردو ترجمہ لکھا کہ شاہ عبدالقادر کو چھوڑ کر کوئی دوسرا ترجمہ آج تک اس کی برابری کا دعویٰ بھی نہیں کر سکتا۔ مولانا اصلاحی کا ترجمہ کسی حد تک اس کے قریب ہے لیکن صاف نظر آتا ہے کہ اکثر مقامات پہ سید نے جو تعبیر یا ترکیب برت لی، اس سے بہتر ممکن نہ تھی اور چوں کہ ان سے امتیاز بھی کرنا تھا، اس لیے مولانا اصلاحی کو مجبوراً الفاظ بدلنا پڑے۔ تفسیر قرآن پہ قلم اٹھایا تو اس میدان میں بھی تخلیقی اسلوب اپنایا۔
پھر اسلام کو محض ایک نظریے یا رسوم و اعمال کے مجموعے تک محدود رکھنے کے بجاے اس نے اسے ایک زندہ اور متحرک نظام کے طور پہ پیش کیا اور اس کے لیے ایک تحریک کھڑی کی جس کی کشش کا یہ عالم تھا کہ اس زمانے کے ممتاز ترین اذہان نے اسے قبول کیا اور اس میں شمولیت اختیار کی۔ اب جب کہ اسے دنیا سے گئے بھی ربع صدی ہونے کو ہے، وہ ان فرقہ پرستوں کے اعصاب پہ سوار ہے اور یہ بجاے اس کے کہ اسلام کو درپیش حقیقی چلینجز کا جواب دیں، اس سچے خادمِ اسلام کا کفن نوچنے میں لگے ہوئے ہیں!!
شاید اس کا قصور یہ تھا کہ وہ شہ دماغ تھا مگر اسے بونوں میں جینا پڑا؛ جسے عالمی سطح پہ فکر و نظر کا امام مانا گیا گیا، اسے مقامی ملاؤں سے فتاواے تضلیل و تفسیق کے تمغے نصیب ہوئے؟!
خیر، یہ لگے رہیں، خدا کی سنت ہے کہ باقی وہی رہتا ہے جو نافع ہوتا ہے؛ باقی خس و خاشاک لہروں کی نذر ہو کر رہ جاتا ہے! ان کی مفسدانہ سرگرمیاں انھی کے نامۂ اعمال کو سیاہ کریں گی، سید بادشاہ کے قافلے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈال سکیں گی؛ ان شاءاللّٰہ۔
اس وقت کرنے کا کام یہ ہے کہ سید کی تحریروں کو عام کیا جائے: خاص طور سے تنقیحات، خطبات، اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی، سنت کی آئینی حیثیت، تعلیمات، رسائل و مسائل۔
(5)شیخ حامد کمالدین لکھتے ہیں!
"مولانا کا ایک بے مثال کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے ”دین“ کو ’خانقاہی رنگ‘ سے نکال کر ’معاشرے کا" دین " بنا دینے میں نہایت مؤثر کردار ادا کیا۔ ان کی تحریک کے نتیجے میں ’دینی عمل‘ گوشوں اور درگاہوں سے نکل کر بازاروں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ابل پڑا۔ یہاں کے چوٹی کے تعلیم یافتہ نوجوان کے اندر ”دین دار“ ہونے کا وہ اعتماد پیدا ہوا جو اِس سے پہلے اس کے یہاں تقریباً مفقود تھا۔ بے شک اِس سے پہلے یہاں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کو اقبال نے بھی ’مسلمان‘ ہونے کے معاملہ میں ایک اعتماد اور ایک ’جذبہء تازہ‘ عطا کیا تھا، مگر اِس ’جذبہ‘ کو باقاعدہ ایک ’واقعہ‘ کی صورت دینا مودودی کا ہی حصہ رہا۔ ورنہ اِس جذبہ کو اس سے پہلے ’مسلم لیگ‘ اور ’تحریکِ پاکستان‘ ایسی سرگرمیوں سے ترقی یافتہ تر اور عمیق تر کوئی صورت میسر نہ تھی۔ البتہ ’ماڈرن یوتھ‘ کو مسجدوں میں پیر سے پیر ملا کر صفیں بن کر کھڑے ہونے اور ”دین“ کیلئے سرگرم ہو جانے کا شعور دینے میں مودودی کا کردار نمایاں ترین ہے اور شاید مودودی پر بر صغیر کے حوالے سے وہ بات بدرجہء اتم صادق آتی ہے، جو محدث البانی رحمۃ اللہ علیہ نے مصر کے بانی ِ الاخوان المسلمون حسن البنا رحمۃ اللہ علیہ کی بعض لغزشوں کی بابت کئے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ: حسن البنا کے دامن میں قیامت کے روز پیش کرنے کو اگر یہی ایک چیز ہو کہ انہوں نے ہزاروں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو کلبوں اور قہوہ خانوں سے اٹھا کر مساجد میں لا کھڑا کیا تھا، تو کیا پتہ ان کو تو شاید یہی کفایت کر جائے۔
(6)...الغرض مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ بیسویں صدی کے جید عالم، مفکر، مصنف اور مجدد گزرے ہیں۔ انہوں نے فکر اسلامی کی تجدید اور احیائے اسلام کے لیے کارہائے نمایاں انجام دیے۔ سید موصوف کو علوم اسلامیہ اور علوم جدیدہ دونوں میں ید طولیٰ حاصل تھا۔ ان کا اگرچہ کوئی خاص میدان نہیں تھا تاہم انہوں نے جس موضوع اور فکر پر بھی خامہ پرسائی کی ایسا لگتا ہے کہ وہ اسی موضوع کے شہسوارہیں۔ انہوں نے قرآن پاک، حدیث، سیرت، فقہ، تاریخ، علم کلام، سیاست، معیشت، معاشرت، تحریک وتنظیم کے علاوہ باطل افکار ونظریات کے رد میں ایسی شاہکار تحریریں چھوڑیں جو طویل عرصے تک زندہ وجاوید رہیں گی۔ مولانا مودودیؒؒ کا ہر کام اپنی جگہ پر ایک اکیڈمی کی حیثیت رکھتا ہے۔ سید موصوف کے بہت سے کارنامے ہیں لیکن تین کارنامے ایسے ہیں جو ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
۱) فکر اسلامی پر بے مثال لٹریچر
(۲) احیائے دین کے لیے جماعت اسلامی کا قیام
(۳) اور عصری اسلوب میں قرآن پاک کا ترجمہ وتفسیر ’’تفہیم القرآن
۔۔۔(ڈاکٹر زاھد شاہ)
14/09/2023
تاویلات سب کرتے ہیں، تعبیرات بھی سب کرتے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ کچھ کے نزدیک یہ سب دیگر کرتے ہیں اور کچھ اپنی تاویلات اور تعبیرات کو متن کے لغوی و راست مفہوم کا نام دے دیتے ہیں. اور اس کے ماسوا کو محض تاویل سمجھتے ہیں.
اعتدال کے مقام پر وہ ہیں جو قرآن کی تاویل قرآن سے، اور مجموعی ذخیرہ احادیث سے کرتے ہیں اور اس کے بعد اہل سنت و الجماعت اور اہل بیت کے تاریخی و تمدنی تناظر کی روشنی میں کرتے ہیں جبکہ یہ سب کرتے ہوئے بھی وہ متن، فقہ، نصیحت و علم الکلام کے علمیاتی فرق کو جانتے و پہچانتے ہیں.
اطہر وقار صاحب!