وَتَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْﵧ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ 酦
And leave what your Lord has created for you as mates? But you are a people transgressing
Surah no. 26
Verse no. 166
Iqra Institute Narwani Shopian
educational programs
ثابت قدمی اور اللہ کی مدد کی دعا
آل عمران 147
رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْۤ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ
اے ہمارے رب! ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرما، ہمارے کام میں تیرے حدود سے جو کچھ تجاوز ہو گیا ہو اُسے معاف کر دے، ہمارے قدم جما دے اور کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد کر
مشکوٰۃ المصابیح
کتاب: قیامت کے احوال اور دوبارہ اٹھائے جانے کا بیان
باب: حساب ، قصاص اور میزان کا بیان
حدیث نمبر: 5562
وَعَنْهَا\nقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي بَعْضِ صَلَاتِهِ:\nاللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الْحِسَابُ الْيَسِيرُ؟ قَالَ: «أَنْ يَنْظُرَ فِي كِتَابه فيتجاوز عَنْهُ إِنَّهُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَئِذٍ يَا عَائِشَة هلك» . رَوَاهُ أَحْمد\n
ترجمہ:
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو ان کی کسی نماز میں یہ دعا ((اَللّٰھُمَّ حَاسِبْنِیْ حِسَابًا یَّسِیْرًا)) ’’ اے اللہ! میرا آسان حساب لینا۔‘‘ کرتے ہوئے سنا تو میں نے عرض کیا، اللہ کے نبی! آسان حساب سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:’’ (اس سے مراد یہ ہے کہ) (اللہ تعالیٰ) اس کے نامہ اعمال پر نظر ڈال کر اس سے درگزر فرمائے گا، کیونکہ عائشہ! اس روز جس کے حساب کی جانچ پڑتال کی گئی تو وہ مارا گیا۔‘‘ اسنادہ حسن، رواہ احمد۔
سورۃ نمبر 10 يونس
آیت نمبر 45
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ كَاَنۡ لَّمۡ يَلۡبَثُوۡۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ يَتَعَارَفُوۡنَ بَيۡنَهُمۡؕ قَدۡ خَسِرَ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ اللّٰهِ وَمَا كَانُوۡا مُهۡتَدِيۡنَ ۞
ترجمہ:
اور جس دن وہ انہیں جمع کرے گا (تو وہ محسوس کریں گے) جیسے نہیں رہے وہ مگر دن کی ایک گھڑی وہ ایک دوسرے کو پہچان رہے ہوں گے۔ وہ لوگ بڑے خسارے کا شکار ہوئے جنہوں نے جھٹلادیا اللہ کی ملاقات کو اور نہ ہوئے وہ ہدایت پانے والے۔
تفسیر:
آیت 45 وَیَوْمَ یَحْشُرُہُمْ کَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْٓا الاَّ سَاعَۃً مِّنَ النَّہَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَہُمْ ط
انہیں دنیا اور عالم برزخ میں گزرا ہوا وقت ایسے محسوس ہوگا جیسے کہ وہ ایک دن کا کچھ حصہ تھا۔
قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِلِقَآء اللّٰہِ وَمَا کَانُوْا مُہْتَدِیْنَ
آگے عذاب کی اس دھمکی کا ذکر آ رہا ہے جس کے بارے میں آیت 39 میں فرمایا گیا تھا : وَلَمَّا یَاْتِہِمْ تَاْوِیْلُہٗ ط کہ اس کی تاویل ابھی ان کے پاس نہیں آئی۔
اسلام
اسلام ہی سچا مذہب ( دین) ہے جو تمام دین و دنیا کی بھلائیاں اور نیک باتیں سکھاتا ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول و پسندیدہ دین اسلام ہی ہے بقولہ تعالیٰ
اِنَّ الدِّینَ عِندَاللہِ الاِسلَامُ (آل عمران)
" بیشک دین اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسلام ہی ہے "
ایضاً قال اللہ تعالیٰ
وَرَضِیتُ لَکمُ الاِسلَامَ دِینَا ( سورہ المائدہ)
" میں نے تمہارے لئے دینِ اسلام کو پسند فرما لیا ہے۔"
اور اسلام کو ماننے والے لوگ مسلمان کہلاتے ہیں۔
سورۃ نمبر 67 الملك
آیت نمبر 2
ترجمہ:
جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے اعمال کرنے والا ہے۔ اور وہ بہت زبردست بھی ہے اور بہت بخشنے والا بھی۔
تفسیر:
آیت 2 { نِ الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا } ”جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے اعمال کرنے والا ہے۔“
{ وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ۔ } ”اور وہ بہت زبردست بھی ہے اور بہت بخشنے والا بھی۔“
یہ ہے انسانی زندگی اور موت کی تخلیق کا اصل مقصد۔ جو کوئی اس فلسفے کو نہیں سمجھے گا اسے زندگی ‘ موت اور موت کے بعد پھر زندگی کی یہ باتیں محض افسانہ معلوم ہوں گی۔ جیسے ایک معروف جاہلی شاعر نے اپنی بیوی کو مخاطب کر کے کہا تھا :
حَیَاۃٌ ثُمَّ مَوْتٌ ثُمَّ بَعْثٌ حَدِیْثُ خَرَافَۃٍ یا اُمَّ عَمرو !
”کہ یہ زندگی ‘ پھر موت ‘ پھر زندگی ‘ اے اُم عمرو ! یہ کیا حدیث خرافات ہے ؟“ معاذ اللہ ! انسانی زندگی کا سفر دراصل عالم ارواح سے شروع ہو کر ابد الآباد کی سرحدوں تک جاتا ہے۔ انسان کی دنیوی زندگی ‘ موت اور بعث بعد الموت اس طویل سلسلہ ٔ حیات کے مختلف مراحل ہیں۔ جیسا کہ اس آیت میں آیا ہے : { وَکُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاکُمْج ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْـکُمْ ثُمَّ اِلَـیْہِ تُرْجَعُوْنَ۔ } البقرۃ ”اور تم مردہ تھے ‘ پھر اس نے تمہیں زندہ کیا ‘ پھر وہ تمہیں مارے گا ‘ پھر جلائے گا ‘ پھر تم اسی کی طرف لوٹا دیے جائو گے“۔ زندگی کے اس تسلسل کے اندر موت کے مرحلے کی توجیہہ میر تقی میر نے ان الفاظ میں بیان کی ہے : ؎
موت اِک زندگی کا وقفہ ہے
یعنی آگے چلیں گے دم لے کر !
بہرحال انسان کی دنیوی زندگی ایک وقفہ امتحان ہے اور موت اس وقفے کے اختتام کی گھنٹی ہے : { نَحْنُ قَدَّرْنَا بَـیْـنَـکُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ۔ } الواقعۃ۔ اس وقفہ امتحان کا انداز بالکل اسکولوں اور کالجوں کے امتحانات جیسا ہے۔ فرق بس یہ ہے کہ ان امتحانات کے لیے چند گھنٹوں کا وقت دیا جاتا ہے ‘ جبکہ انسانی زندگی کے حقیقی امتحان کا دورانیہ اوسطاً تیس چالیس برس پر محیط ہے۔ ظاہر ہے انسان کی زندگی کے ابتدائی بیس پچیس برس تو بچپنے اور غیر سنجیدہ رویے کی نذر ہوجاتے ہیں۔ پھر اگر کسی کو بڑھاپا دیکھنا نصیب ہو تو اپنی آخری عمر میں وہ { لِکَیْلَا یَعْلَمَ مِنْم بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا } الحج : 5 کی عبرت ناک تصویر بن کر رہ جاتا ہے۔ لے دے کر ایک انسان کو عمل کے لیے شعور کی عمر کے اوسطاً تیس چالیس سال ہی ملتے ہیں۔ علامہ اقبال نے اپنی مشہور نظم خضر راہ میں ”زندگی“ کے عنوان کے تحت زندگی کے اس فلسفے پر کمال مہارت سے روشنی ڈالی ہے۔ اس نظم کے چند اشعار ملاحظہ ہوں :
؎
برتر از اندیشہ سود و زیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم ِجاں ہے زندگی !
؎
تو اسے پیمانہ امروز و فردا سے ناپ
جاوداں ‘ پیہم دواں ‘ ہر دم جواں ہے زندگی !
؎
قلزمِ ہستی سے تو ابھرا ہے مانند ِحباب
اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی !
ان اشعار میں علامہ اقبال نے دراصل قرانی آیات ہی کی ترجمانی کی ہے۔ مندرجہ بالا آخری شعر قلزمِ ‘ ہستی… آیت زیر مطالعہ کے مفہوم کا ترجمان ہے ‘ جبکہ پہلے شعر میں سورة البقرۃ کی آیت 154 { وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌط بَلْ اَحْیَـآئٌ …} کا بنیادی فلسفہ بیان ہوا ہے۔ ظاہر ہے عام طور پر تو زندہ جان کو ہی زندگی کا نام دیا جاتا ہے ‘ لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ حقیقی اور دائمی زندگی جان دے دینے تسلیم ِجاں سے حاصل ہوتی ہے۔
ایمان کا بیان
جب آدمی عاقل اور بالغ ہو جاتا ہے تو اس کو ایمان لانا یعنی اللہ کو ایک اور رسولوں کو برحق ماننا فرض ہو جاتا ہے۔جس کی تفصیل آگے آتی ہے، ایمان لانے کے بعد تمام عبادات فرائض و واجبات وغیرہ اس پر لازم ہو جاتے ہیں اور تمام ممنوعات و محرمات حرام ہو جاتے ہیں
فرض دو قسم کے ہیں
1. دائمی جو ہمیشہ فرض ہو اور وہ ایمان پر ثابت قدم رہنا اور حرام و کفر و شرک سے بچنا ہے۔( یہ عقائد سے تعلق رکھتا ہے )
2. وقتی جیسے نماز،روزہ،زکوٰۃ،حج وغیرہ ( ان کا حامل علمِ فِقہ ہے ) فرائض کا علم حاصل کرنا فرض ہے۔یعنی جب کسی فرض کا وقت آ جائے تو اس فرض کے متعلق احکامِ شرع کا علم حاصل کرنا بھی ضروری ہو جاتا ہے،مثلاً جب آدمی مسلمان ہوا یا بالغ ہوا تو ان چیزوں کا جاننا ضروری ہے جن کے بغیر ایمان صحیح نہیں ہوتا۔اور جب نماز فرض ہو گئی تو نماز کے احکام کا سیکھنا فرض ہے،ماہ رمضان المبارک کے آنے پر روزے کے احکام اور مالدار صاحبِ نصاب ہونے پر زکوٰۃ کے احکام کا سیکھنا علیٰ ہذالقیاس،حج و نکاح و طلاق و حیض و نفاس و بیع و شرا (خرید و فروخت) وغیرہ کے احکام کا سیکھنا اپنے اپنے وقت پر فرض ہو جاتا ہے۔ایمان و نماز روزہ اور حیض و نفاس کے احکام کا علم بقدر ضرورت حاصل کرنا ہر مومن مرد و عورت پر فرضِ عین ہے
ایمان کی تعریف
کل کے بیان میں جس چیز کو ہم نے علم اور یقین سے تعبیر کیا ہے اسی کا نام ایمان ہے۔ ایمان کے معنی جاننے اور ماننے کے ہیں ۔ جو شخص خدا کی وحدانیت اور اس کی حقیقی صفات اور اس کے قانون اور اس کی جزا و سزا کو جانتا ہو اور دل سے اس پر یقین رکھتا ہو اس کو مومن کہتے ہیں ۔ اور ایمان کا نتیجہ یہ ہے کہ انسان مسلم یعنی خدا کا مطیع و فرماں بردار ہوجاتا ہے۔
ایمان کی اس تعریف سے تم خود سمجھ سکتے ہو کہ ایمان کے بغیر کوئی انسان مسلم نہیں ہوسکتا۔ اسلام اور ایمان کا تعلق وہی ہے جو درخت کا تعلق بیج سے ہوتا ہے۔ بیج کے بغیر تو درخت پیدا ہی نہیں ہوتا۔ البتہ ہوسکتا ہے کہ بیج زمین میں بویا جائے مگر زمین خراب ہونے کی وجہ سے، یا آب و ہوا اچھی نہ ملنے کی وجہ سے درخت ناقص نکلےر۔ بالکل اسی طرح اگر کوئی شخص سرے سے ایمان ہی نہ رکھتا ہو تو یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ وہ “مسلم” ہو۔ البتہ یہ ضرور ممکن ہے کہ کسی شخص کے دل میں ایمان ہو مگر اپنے ارادے کی کمزوری یا ناقص تعلیم و تربیت اور بری صحبت کے اثر سے وہ پورا اور پکا مسلم نہ ہو۔
ایمان اور اسلام کے لحاظ سے تمام انسانوں کے چار درجے ہیں :
1 جو ایمان رکھتے ہیں اور ان کا ایمان انھیں خدا کے احکام کا پورا مطیع بنادیتا ہے۔ جس بات کو خدا ناپسند کرتا ہے، وہ اس سے اس طرح بچتے ہیں جیسے کوئی شخص آگ کو ہاتھ لگانے سے بچتا ہے اور جس بات کو خدا پسند کرتا ہے وہ اس کو ایسے شوق سے کرتے ہیں جیسے کوئی شخص دولت کمانے کے لیے شوق سے کام کرتا ہے۔
2 جو ایمان تو رکھتے ہیں مگر ان کا ایمان اتنا طاقتور نہیں ہے کہ انھیں پوری طرح خدا کا فرماں بردار بنادے۔ یہ اگرچہ کمتر درجہ کے لوگ ہیں لیکن بہرحال مسلم ہیں ۔ یہ اگر نافرمانی کرتے ہیں تو اپنے جرم کے لحاظ سے سزا کے مستحق ہیں ۔ مگر ان کی حیثیت مجرم کی ہے، باغی کی نہیں ہے۔اس لیے کہ یہ بادشاہ کو مانتے ہیں اور اس کے قانون کو قانون تسلیم کرتے ہیں ۔
3 وہ جو ایمان نہیں رکھتے مگر بظاہر ایسے عمل کرتے ہیں جو خدائی قانون کے مطابق نظر آتے ہیں ۔ یہ دراصل باغی ہیں ، ان کا ظاہری نیک عمل حقیقت میں خدا کی اطاعت اور فرماں برداری نہیں ہے۔ اس لیے اس کا کچھ اعتبار نہیں ۔ ان کی مثال ایسے شخص کی سی ہے جو بادشاہ کو بادشاہ نہیں مانتا اور اس کے قانون کو قانون ہی نہیں تسلیم کرتا۔ یہ شخص اگر بظاہر ایسا عمل کررہا ہو جو قانون کے خلاف نہ ہو تو تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ بادشاہ کا وفادار اور اس کے قانون کا پیرو ہے۔ اس کا شمار تو بہرحال باغیوں ہی میں ہوگا۔
4 وہ جو ایمان بھی نہیں رکھتے اور عمل کے لحاظ سے بھی شریر اور بدکار ہیں ۔ یہ سب سے بدتر درجہ کے لوگ ہیں ، کیونکہ یہ باغی بھی ہیں اور مفسد بھی۔
انسای طبقہ کی اس تقسیم سے یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ ایمان ہی پر دراصل انسان کی کامیابی کا انحصار ہے۔ اسلام خواہ وہ کامل ہو یا ناقص ، صرف ایمان کے بیج سے پیدا ہوتا ہے۔ جہاں ایمان نہ ہوگا وہاں ایمان کی جگہ کفر ہوگا۔ جس کے دوسرے معنی خدا سے بغاوت کے ہیں ، خواہ وہ بدتر درجہ کی بغاوت ہو یا کم تر درجہ کی ۔
عافیت کا سوال
اَللّٰهُمَّ خَلَقْتَ نَفْسِيْ وَأَنْتَ تَوَفَّاهَا، لَكَ مَمَاتُهَا وَمَحْيَاهَا إِنْ أَحْيَيْتَهَا فَاحْفَظْهَا وَإِنْ أَمَتَّهَا فَاغْفِرْ لَهَا اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ
ترجمہ:اے اللہ! آپ ہی نے میری ذات کو پیدا کیا ہے اور آپ ہی اُس کو وَفات دیں گے،آپ ہی کے قبضہ میں اُس کی موت اور زندگی ہے،(اے اللہ!)اگر آپ اُسے زندہ رکھیں تو اُس کی حفاظت کیجئے گا اور اگر اُسے موت دیدیں تو اُسے معاف کردیجئے گا اے اللہ! میں آپ سے عافیت کا سوال کرتا ہوں۔
(مسلم:2712)
صحیح بخاری
کتاب: توحید کا بیان
باب: نبی ﷺ کا اپنی امت کو اللہ تبارک وتعالی کی توحید کی طرف بلانے کا بیان
حدیث نمبر: 7371
حدیث نمبر: 7371
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ.
ترجمہ:
ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے زکریا بن اسحاق نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے بیان کیا، ان سے ابومعبد نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے معاذ بن جبل ؓ کو یمن بھیجا۔
Translation:
Narrated Ibn Abbas (RA) :
When the Prophet ﷺ sent Muadh to Yemen, he said to him, "You are going to a nation from the people of the Scripture, so let the first thing to which you will invite them, be the Tauhid of Allah. If they learn that, tell them that Allah has enjoined on them, five prayers to be offered in one day and one night. And if they pray, tell them that Allah has enjoined on them Zakat of their properties and it is to be taken from the rich among them and given to the poor. And if they agree to that, then take from them Zakat but avoid the best property of the people."
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَاٰ تُوا الۡيَتٰمٰٓى اَمۡوَالَهُمۡ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الۡخَبِيۡثَ بِالطَّيِّبِ ۖ وَلَا تَاۡكُلُوۡۤا اَمۡوَالَهُمۡ اِلٰٓى اَمۡوَالِكُمۡؕ اِنَّهٗ كَانَ حُوۡبًا كَبِيۡرًا ۞
ترجمہ:
اور یتیموں کے مال ان کے حوالے کر دو اور (اپنے) برے مال کو (ان کے) اچھے مال سے نہ بدلو اور ان کے مال اپنے مالوں میں شامل کر کے ہڑپ نہ کرو یقیناً یہ بہت بڑا گناہ ہے
تفسیر:
آیت 2 وَاٰتُوا الْیَتٰمٰٓی اَمْوَالَہُمْ
معاشرے کے دبے ہوئے طبقات میں سے یتیم ایک اہم طبقہ تھا۔ دور جاہلیت میں ان کے کوئی حقوق نہیں تھے اور ان کے مال ہڑپ کرلیے جاتے تھے۔ وہ بہت کمزور تھے۔
وَلاَ تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بالطَّیِّبِ
ایسا ہرگز نہ ہو کہ یتیموں کے مال میں سے اچھا اچھا لے لیا اور اپنا ردّی مال اس میں شامل کردیا۔
وَلاَ تَاْکُلُوْآ اَمْوَالَہُمْ الآی اَمْوَالِکُمْ ط اِنَّہٗ کَانَ حُوْبًا کَبِیْرًا
یتیموں کے بعض سرپرست جو تقویٰ اور خوف خدا سے تہی دامن ہوتے ہیں ‘ اوّل تو ان کا مال ہڑپ کر جاتے ہیں ‘ اور اگر ایسا نہ بھی کریں تو ان کا اچھامال خورد برد کر کے اپنا ردّی اور بےکار مال اس میں شامل کردیتے ہیں اور اس طرح تعداد پوری کردیتے ہیں۔ پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا لیتے ہیں تاکہ اسے بآسانی ہڑپ کرسکیں۔ ان کو ایسے سب ہتھکنڈوں سے روک دیا گیا۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Malik Mohalah Narwani Shopian
Srinagar
192303