Ariful Qadri Wahidi Official

Ariful Qadri Wahidi Official Education

23/05/2024
 #पैग़ामे_सालेहात_कॉन्फ्रेंस 3 मार्च बरोज़ इतवार सुबह 10 बजे से दोपहर 1:30 बजे तकमदरसा मरकज़ मिन्हाजुस सालेहात में सिर्फ...
02/03/2024

#पैग़ामे_सालेहात_कॉन्फ्रेंस
3 मार्च बरोज़ इतवार सुबह 10 बजे से दोपहर 1:30 बजे तक
मदरसा मरकज़ मिन्हाजुस सालेहात में सिर्फ औरतों के लिए होगी
सितारगंज और अतराफ़ के हज़रात अपने घर की इस्लामी बहनों को ज़्यादा से ज़्यादा तादाद में भेजें

17/11/2021

جلوس عید میلاد النبی ﷺ میں خطاب فرماتے ہوئے
خلیفۂ حضور طاہر ملت حضرت علامہ مولانا عارف القادری واحدی صاحب قبلہ

(1)معارف طاہرملت کا بک اسٹال!!! (2)خانقاہ واحدیہ طیبیہ کا سہانامنظر!!  خلیفہ حضور طاہر ملت حضرت علامہ مولانا محمد عارف ا...
27/10/2021

(1)معارف طاہرملت کا بک اسٹال!!!
(2)خانقاہ واحدیہ طیبیہ کا سہانامنظر!!
خلیفہ حضور طاہر ملت حضرت علامہ مولانا
محمد عارف القادری واحدی دام ظلہ علینا و حضرت علامہ مولانا محمد سعید مصباحی صاحب قبلہ نیز جام میر کے ایڈیٹر حضرت علامہ قمر انجم فیضی صاحب قبلہ
کو تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔۔۔۔
یہ سب حضور طاہر ملت کی دعاؤں کا ثمرہ ہے!!!

14/08/2021

Let’s salute the martyrs for the sacrifices they made and thank them for giving us our freedom. Happy 75th Independence Day 🇮🇳

13/07/2021

सुना है सरकार जनसंख्या नियत्रंण बिल लाने जा रही है इस पर आपको बिलबिलाने की क़तई ज़रूरत नहीं है ये यूपी चुनाव से पहले अपने हार्ड कौर वोटर्स को खुश करने और अपने एजेंडे को पूरा करने का स्टेप है जो की होकर रहेगा 370 और तीन तलाक़ की तरह ।

जनसंख्या नियंत्रण बिल से ना आपको नुक़सान होने वाला और ना आपके लिये लाया जा रहा है हां ये ज़रूर है की इस बंदुक को चलाने के लिए आपके कंधे का इस्तेमाल किया जा रहा है क्योंकी इसके दो फायदे पहला पारंपरिक वोट बैंक स्थिर रहेगा और अपने लोगो को ये बताने को भी जाएगा की हमने अपना हर वादा पूरा किया और मीडीया वालो को भी झुनझुना मिल जाएगा TRP के लिए।

असल में जनसंख्या नियंत्रण बिल से सबसे ज़्यादा नुक़सान होने वाला है दलित वर्ग को,जी हां ये लोग आरक्षण को डारेक्ट नहींं हटा सकते लेकिन कानून ऐसे लेकर आएगें की आरक्षण अपने आप कमज़ोर हो जाए।

आप किसी भी सरकारी अस्पताल में जाकर RTI लगा कर पता कर लीजिये की पिछले दस सालो से आज तक किस वर्ग में सबसे ज़्यादा बच्चे पैदा हुए हैं आप हैरान रह जाऐंगे नतीजे देखकर मुसलमानो का सिर्फ हौव्वा खड़ा किया गया है जनंसख्या विस्फ़ोट के नाम पर जबकी सबसे ज़्यादा पैदावर दलित वर्ग में है आज चाहे तो डेली का रजिस्टर चैक करवा ले तहसील स्तर के शहरो का जाती वार आंकड़ो के हिसाब से दलित वर्ग की महिलाएं सबसे ज़्यादा डिलेवरी के लिए आती हैं अस्पतालों में, जिस तरह निजिकरण भी इनडारेक्टली आरक्षण ख़त्म करने के लिए लाया गया है ठीक उसी तरह दो से ज़्यादा बच्चों पर योजनाओ का लाभ ना मिलने वाला बिल भी इनके लिए ही लाया जा रहा है और मूर्ख लोग भाजपा की जय जयकार में लगे हैं।

आप अपने बच्चों की परवरिश और तालीम पर ध्यान दीजिये आप नोट कीजिये पिछले कुछ सालों से आप लोगो का सिविल सेवा, प्रशासनिक सेवा चिकित्सा सेवा में बहुत तेज़ी से वर्चस्व बढ़ा है आप अपने काम पर लगे रहिये!

Copy

 غلام مصطفےٰ نعیمی روشن مستقبل دہلیآزاد بھارت کا پہلا انتخاب 1952 میں مکمل ہوا تھا۔اس الیکشن نے ملک کی اکثریت کی سوچ اور...
13/07/2021



غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

آزاد بھارت کا پہلا انتخاب 1952 میں مکمل ہوا تھا۔اس الیکشن نے ملک کی اکثریت کی سوچ اور ان کے مزاج کی جھلک دکھا دی تھی، لیڈران ملک کی بدلتی ہوا کو بھانپ چکے تھے اس لیے کانگریس کی زبردست مقبولیت کے باوجود مذہب اور ذات پر مبنی پارٹیوں نے بھی قسمت آزمائی کی اور کامیابی پائی۔انتخاب میں کانگریس سمیت 54 پارٹیاں شامل تھیں۔جن میں ہندو مہاسبھا اور جَن سَنگھ جیسی کٹّر ہندو پارٹیاں بھی میدان میں اتریں۔ڈاکٹر امبیڈکر جسیے تعلیم یافتہ شخص بھی ذات پر مبنی SCF "شیڈیول کاسٹ فیڈریشن" نامی پارٹی بنا کر میدان میں اترے۔کانگریس سب سے پرانی اور بڑی پارٹی تھی۔لاکھوں کارکنان تھے، عوامی مقبولیت سب سے زیادہ تھی اس لیے اس کے مقابلے میں کوئی پارٹی نہیں تھی۔489 سیٹوں میں سے 364 سیٹیں جیت کر کانگریس پہلے نمبر پر رہی تو دوسرے نمبر پر کمیونسٹ پارٹی آئی جسے محض 12 سیٹیں حاصل ہوئیں۔مسلم دشمنی پر مبنی ہندو مہا سبھا اور جَن سَنگھ ( جو بعد میں بی جے پی کہلائی) کو بھی عوامی حمایت حاصل ہوئی، جس کے نتیجے میں ہندو مہا سبھا کو چار اور جَن سَنگھ کو تین سیٹوں پر کامیابی ملی۔امبیڈکر صاحب خود تو الیکشن ہار گئے مگر ان کی پارٹی کے دو لوگ ممبر پارلیمنٹ بننے میں کامیاب رہے۔سب سے اہم بات یہ تھی کہ ملک کی سب سے بڑی اقلیت مسلمان پوری طرح منظر نامہ سے غائب تھے۔ان دنوں جمیعۃ علماے ہند سب سے بڑی تنظیم اور مولانا آزاد سب سے بڑے لیڈر مانے جاتے تھے۔دونوں ہی پکے کانگریسی اور سچے گاندھی وادی تھے اس لیے آزادی کے فوراً بعد لکھنؤ میں منعقدہ سیمنار میں یہ اعلان کیا گیا:
"جو ہونا تھا سو ہوگیا، لیکن اب ہندوستانی مسلمانوں کو سیاسی پارٹی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔جو حضرات الیکشن لڑنا چاہتے ہیں وہ انفرادی یا کانگریس کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں۔"

یہ اعلان آگے چل کر گویا خدائی الہام بن گیا۔سیکولرزم کے منافی قرار دے کر مسلم سیاسی پارٹی کا تصور تک گناہ عظیم بنا دیا گیا۔اس لیے یہ سوال پوری شدت سے جواب چاہتا ہے کہ جب تمام طبقات اپنے اپنے سیاسی حقوق کے لیے جد و جہد کر رہے تھے تو مسلمانوں کو سیاسی پارٹی بنانے سے کس لیے اور کس کے اشارے پر روکا گیا اور جمیعۃ کے سیاسی کرادر کا خاتمہ کیوں کیا گیا؟

مولانا آزاد اور جمیعۃ کے اس اعلان کو جنوبی ہند کے مسلمانوں نے سرے سے قبول نہیں کیا۔محمد اسماعیل صاحب کی قیادت میں انڈین یونین مسلم لیگ سامنے آئی۔اس پارٹی کے بانیان پہلے جناح کی مسلم لیگ میں شامل اور اپنی قیادت کی اہمیت کو اچھی طرح جانتے تھے اس لیے انہوں نے محدود پیمانے پر ہی صحیح اپنی ہی قیادت کو پروان چڑھایا لیکن شمالی ہند کے مسلمان آزاد صاحب اور جمیعۃ کی ان تھک کوششوں کے باعث مسلم پارٹی کے نام سے ہی بھاگتے رہے اور ابھی تک بھاگ رہے ہیں۔

*أزادی کے بعد مسلم پارٹی کیوں نہیں بنی؟*

آزادی تک مسلمان دو سیاسی نظریات میں تقسیم تھے، طبقہ اول کانگریس سے وابستہ اور گاندھی، نہرو کی قیادت کا حامی تھا جبکہ طبقہ دوم کے افراد مسلم لیگ کے ساتھ اور اپنی قیادت کے حامی تھے۔آزادی ملتے ہی طبقہ دوم کے افراد پاکستان ہجرت کر گیے اس طرح ملک میں صرف طبقہ اول رہ گیا جو دل وجان سے کانگریس اور گاندھی جی کا ہم نوا تھا۔مولانا آزاد کے علاوہ جمیعۃ کے صدر مولانا حسین احمد مدنی ، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی جیسے افراد کانگریس کے سب سے بڑے حامی اور وکیل ہوا کرتے تھے۔یہ حمایت غیر مشروط اور بغیر کسی یقین دہانی کے تھی، تینوں ہی حضرات کانگریس اور گاندھی جی سے انتہائی جذباتی وابستگی رکھتے تھے۔گاندھی اور نہرو پر اس قدر بھروسہ تھا کہ دستور ساز کمیٹی میں وندے ماترم جیسے شرکیہ ترانے کو قومی گیت کا درجہ دیا گیا، رہنما ہدایات کے تحت یکساں سِوِل کوڈ شامل کیا گیا مگر یہ حضرات پر اسرار طریقے پر خاموش رہے۔اس کی دو ہی وجہ ہوسکتی ہیں؛ یا تو انہیں ان معاملات کی سنگینی کا احساس نہیں ہوسکا یا پھر گاندھی نہرو پر ضرورت سے زیادہ اعتماد نے انہیں سوچنے ہی نہیں دیا۔انہیں لگتا تھا کہ گاندھی نہرو ان کے ساتھ کچھ غلط کر ہی نہیں سکتے۔
اب جہاں اعتبار واعتماد اس درجے کا ہو وہاں اپنی سیاسی پارٹی کا خیال کیوں کر آسکتا تھا؟ اسی اعتماد یا اشارے پر اپنی خود کی تنظیم جمیعۃ علماے ہند کا سیاسی کردار ختم کردیا گیا۔یہ فیصلہ کس قدر عجیب ہے کہ جب تک ملک انگریزی شکنجے میں تھا تو خوب سیاست کی گئی جب سیاست کا اصلی دور آیا تو سیاست سے توبہ کرلی گئی۔شمالی ہند میں تو مسلم پارٹی کا دروازہ بند کردیا گیا مگر جنوبی ہند میں انڈین یونین مسلم لیگ مسلم پارٹی کے طور پر سامنے آئی۔اور آج تک مسلم لیگ کیرل میں ایک مضبوط مسلم پارٹی بنی ہوئی ہے۔یہ پارٹی تنہا اقتدار میں تو نہیں آئی مگر سیاسی قوت کی بدولت شریک اقتدار رہی جس کی بدولت کیرل کے مسلمان دوسروں سے زیادہ خوش حال ہیں۔

*مسلم پارٹی: خدشات اور حقائق*

مسلم پارٹی بنانے اور مسلم کاز کی سیاست کو لیکر ملک کے کئی صحافی، دانش ور اور خاصے پڑھے لکھے لوگ سرے سے خارج کر دیتے ہیں، ان حضرات کے خدشات کچھ اس طرح ہیں؛
🔸مسلم کاز کی سیاست کی گئی تو 80 فیصد ہندو ووٹر متحد ہوجائے گا۔
🔹مسلمان ملک میں 15 فیصد ہیں ایسے میں اکیلے کیا کر سکتے ہیں، چند سیٹیں جیت بھی لیں تو اس سے مسلمانوں کا کیا فائدہ ہوگا؟
🔹سیکولرزم کے سہارے ہی ہندو شدت پسندوں کو روکا جا سکتا ہے، بصورت دیگر مسلمان آسان نوالہ ہوں گے۔
🔸اپنی پارٹی بنانے سے مسلمان الگ تھلگ اور سیاسی طور پر اچھوت ہوجائیں گے۔
🔹 مسلمان کشمیر چھوڑ کر ملک کے کسی بھی صوبے میں حکومت سازی کی پوزیشن میں نہیں آسکتے ایسے میں اپنی پارٹی کا کیا فائدہ؟

اس طرح اور بھی کئی خدشات ہیں جن کی بنا پر مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ سیکولر پارٹیوں سے وابستہ رہنے اور انہیں ہی مضبوط بنانے کی وکالت کرتا ہے۔ہمیں اس طبقے کی نیت پر شک نہیں، یہی خدشات 1947 میں بھی تھے،انہیں خدشات کے پیش نظر مسلمان سیکولر پارٹیوں کے غیر مشروط وفادار بنے رہے۔اس وفاداری کے تحت مسلمان پہلے سے زیادہ خوش حال اور ترقی یافتہ ہونا چاہیے تھے لیکن ستّر سالہ وفاداری کے صلے میں مسلمانوں کے حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے اور مسلمان اس ملک کی سب سے پس ماندہ قوم بنا دیے گئے۔گذشتہ 74 سالوں میں سیکولر پارٹیوں نے 60 سال حکومت کی ہے اس کے بعد بھی ہماری قوم دن بدن پچھڑتی گئی۔اب ہمارے سامنے دو ہی راستے ہیں؛
1- جیسا چل رہا ہے اسی میں خوش رہیں۔
2- حالات بدلنے کی کوشش کریں۔

اگر موجودہ حالات پر مطمئن ہیں تب تو کوئی بات نہیں آنکھ بند کرکے سیکولر پارٹیوں کو ووٹ دیتے رہیں، اگر موجودہ حالات سے ناخوش ہیں اور اپنے حالات بدلنے کی خواہش ہے تو غیر مشروط وفاداری چھوڑ کر سیاسی مول تول سیکھنا ہی پڑے گا۔
(جاری)

2 ذوالحجه 1442ھ
13 جولائی 2021 بروز منگل

مفکر قوم و ملت حضرت علامہ غلام مصطفی نعیمی صاحب قبلہ اپنی تحریروں کے ذریعے سے قوم و ملت کو حالات سے آگاہ کرتے ہوئے قوم و ملت کی فلاح و بہبود کے لیے بہترین تجاویز پیش کرتے ہیں اور مفکر ہونے کا حق ادا کرتے ہیں... اللہ تبارک و تعالیٰ موصوف کو سلامت رکھے آمین...!!!!

عارف القادری واحدی
مرکز منہاج الصالحات اسلام نگر ستارگنج ضلع اودھم سنگھ نگر اتراکھنڈ

خانقاہ واحدیہ طیبیہ بلگرام شریف میں علماء، و دانشوران  کی آمد بلگرام شریف/پریس ریلیز/20 جون بروز اتوار 2021 کو خانقاہ عا...
22/06/2021

خانقاہ واحدیہ طیبیہ بلگرام شریف میں علماء، و دانشوران کی آمد

بلگرام شریف/پریس ریلیز/
20 جون بروز اتوار 2021 کو خانقاہ عالیہ واحد یہ طیبیہ بلگرام شریف میں علماء، و دانشوران کی آمد ہوئی،
اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کے لئے ایک اہم نشست
کا انعقاد کیاگیا، جس کی سرپرستی حضرت علامہ مولانا الحاج الشاہ سید میر محمد سہیل میاں صاحب قبلہ ولی عہد خانقاہ عالیہ واحدیہ طیبیہ بلگرام شریف نے فرمائی، جس میں خصوصی طور پر نوجوان محقق حضرت مولانا ڈاکٹر محمد اشرف الکوثر مصباحی نئی دہلی، خلیفہ حضور طاہر ملت حضرت علامہ مولانا محمد اسرار احمد فیضی واحدی صدر رضا اکیڈمی ضلع گونڈہ، خلیفہ حضور طاہر ملت حضرت مولانا قاری محمد عارف القادری واحدی صاحب قبلہ بانی و ناظم مرکز منہاج الصالحات اودھم سنگھ نگر اترا کھنڈ، حضرت مولانا فہیم احمد مصباحی صاحب قبلہ، استاذ انجمن مدرسہ زینت الاسلام امر ودھا کانپور دیہات، حضرت مولانامحمد اویس مصباحی صاحب قبلہ قنوج ، مولانا محمد قمرانجم قادری فیضی، چیف ایڈیٹر "ماہنامہ جام میر " بلگرام شریف کی شرکت رہی، اس اہم نشست میں "ماہنامہ جام میر" بلگرام شریف کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا، نیز قدوۃ السالکین تاجدار بلگرام، مجدد اعظم حضرت علامہ الشاہ سید میر عبدالواحد بلگرامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نیز مشائخ بلگرام کے افکار ونظریات، اقوال وفرمودات، دینی،مذہبی، ملی، ادبی، مسلکی خدمات کو تحقیقی ومعروضی انداز میں عصری اسلوب اور قالب میں ڈھال کر ارباب علم ودانش اور علم تحقیق دوست حضرات کے سامنے پیش کرنے کی سعی کی جائے گی، اس اہم میٹنگ میں حضرت مولانا ڈاکٹر محمد اشرف الکوثر مصباحی صاحب قبلہ نئی دہلی ، نے فرمایا کہ مجھے بر صغیر کے اس عظیم روحانی مرکز میں پہلی بار حاضری کا شرف حاصل کرکے بے پناہ خوشی ہورہی ہے ان شاء اللہ العزیز مستقبل میں یہاں کے مشائخ، علماء، اور دیگر بزرگان دین کی مخلتف الجہات خدمات کو علمی و تحقیقی انداز میں دنیا کے سامنے لانے کے لئے جو بھی ضرورت پیش آئے گی، اپنی وسعت اور فرصت کے مطابق ہمیشہ حاضر خدمت رہوں گا، عصر حاضر میں سواد اعظم مسلک اہلسنت یعنی مسلک اعلی حضرت کے مطابق تصلب فی الدین کے ساتھ پیر طریقت حضرت علامہ مولانا سید سہیل میاں صاحب قبلہ مدظلہ العالی کی نگرانی میں جو مختلف الجہات تعمیری ،علمی، فکری، ادبی،خدمات انجام دی جارہی ہیں، وہ قابل تعریف ہیں،ہم لوگوں کو چاہئے کہ یہاں کے بزرگوں کے روحانی وعلمی اقدار اور فیوض وبرکات کی ترویج واشاعت میں حتی الوسع تعاون کریں تاکہ ملک عزیز کے نازک حالات میں ہاں انسانیت امن وسکون کی متلاشی ہے، لوگ ایسے تاریخی روحانی مراکز سے استفادہ کرکے ملک میں ،اخوت ومحبت، امن وامان کی فضا قائم کر سکیں، اس اہم ترین نشست میں ان علماء کرام دانشوران کے علاوہ حضرت حافظ قاری عبدالقادرواحدی صاحب، حضرت صوفی سرفراز واحدی صاحب بھی موجود تھے،

20/06/2021

सितारगंज to बिलग्राम शरीफ़
حضور تاجدارِ بلگرام و شہزادگان کی زیارت کا شرف حاصل ہوگا اور بالخصوص حضور سہیل ملت و علامہ ڈاکٹر اشرف الکوثر مصباحی و مفتی اسرار احمد فیضی واحدی و علامہ قمر انجم فیضی سے کچھ اہم موضوعات پر گفت و شنید کا موقع ملے گا.....
ان شاءاللہ تعالیٰ

Address

Sitarganj
262405

Telephone

+919927015586

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ariful Qadri Wahidi Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Ariful Qadri Wahidi Official:

Shortcuts

Share

Category