16/10/2025
Tajamul Nigah - The Humble
Educational Videos
16/10/2025
لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي كَبَد
ترجمہ:
"بے شک ہم نے انسان کو مشقت (تکلیف و محنت) میں پیدا کیا ہے۔"
تفسیر:
تفسیر ابن کثیر:
ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ
اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایسی حالت میں پیدا کیا ہے کہ اسے ہمیشہ محنت و مشقت اٹھانی پڑتی ہے — پیدائش سے لے کر موت تک۔
انسان دنیا میں آرام کے لیے نہیں، بلکہ آزمائش، جدوجہد، اور عمل کے لیے آیا ہے۔
وہ کبھی روزی کے لیے محنت کرتا ہے، کبھی صحت و بیماری کا سامنا کرتا ہے، کبھی دشمنوں سے لڑتا ہے، اور کبھی اپنے نفس سے۔
تفسیر جلالین:
“فِي كَبَدٍ” سے مراد ہے: سختی، مشقت، اور دقت۔
یعنی انسان کی تخلیق ہی ایسی ہے کہ وہ دنیا میں کسی نہ کسی مصیبت اور کوشش میں مبتلا رہتا ہے۔
یہ اس کی فطرت کا حصہ ہے۔
تفسیر فی ظلال القرآن (سید قطب):
یہ آیت انسان کے وجود کی حقیقت بتاتی ہے۔
انسان کا سفر — بچپن، جوانی، بڑھاپا — سب محنت اور جدوجہد سے بھرا ہوا ہے۔
یہ بات یاد دہانی ہے کہ دنیا کی راحتیں وقتی ہیں، اصل سکون آخرت میں ہے۔
خلاصہ:
اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ انسان کی فطرت ہی جدوجہد اور کوشش کی ہے۔
زندگی کی مشکلات انسان کے لیے سزا نہیں بلکہ امتحان ہیں، تاکہ وہ محنت کر کے اپنا درجہ بلند کرے۔
آنحضرت ﷺ نے فرمایا مدینہ عائر پہاڑی سے لے کر فلاں مقام تک حرم ہے ، جس نے اس حد میں کوئی بدعت نکالی یا کسی بدعتی کو پناہ دی تو اس پر اللہ اور تمام ملائکہ اور انسانوں کی لعنت ہے ، نہ اس کی کوئی فرض عبادت مقبول ہے نہ نفل اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمام مسلمانوں میں سے کسی کا بھی عہد کافی ہے اس لیے اگر کسی مسلمان کی ( دی ہوئی امان میں دوسرے مسلمان نے ) بدعہدی کی تو اس پر اللہ اور تمام ملائکہ اور انسانوں کی لعنت ہے ۔ نہ اس کی کوئی فرض عبادت مقبول ہے نہ نفل ، اور جو کوئی اپنے مالک کو چھوڑ کر اس کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے کو مالک بنائے ، اس پر اللہ اور تمام ملائکہ اور انسانوں کی لعنت ہے ، نہ اس کی کوئی فرض عبادت مقبول ہے نہ نفل ۔
صحیح بخاری 1870
14/05/2025
14/05/2025
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Hamzah Colony Nadigam
Shopian
192303
09/07/2025