برفباری ،سردی،خاموشی،شاعری ، ڈرائیونگ و نمکین چائے
Mudasir NAZAR
Writer (Academic labour)
حکمت
ہمہ کس راعقل خود باکمال نماید و فرزند خود بجمال
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
شیخ مدثر نظر
سگریٹ نوشی کی پھیلتی وبا سے سماج سخت پریشان
جموں و کشمیر میں سگریٹ نوشی کا رجحان ہر آئے دن بڑھتا جا رہا ہے۔اس سے متاثر ہونے والوں میں سب بڑی تعداد سکول جاتے طلاب کی ہے ۔ہر گلی کوچے میں آپکو اس مرض میں مبتلا بچے دکھائی دیں گے۔ سماجی بے چینی ، انسانی صحت پر اس کے مضر اثرات نمودار ہو رہے ہیں۔یہ انسانی صحت کے لئے کتنا مضر ہے اسکا علم رکھنے کے باوجود لوگ اس عادت سے گریز نہیں کرتے ۔تمباکو نوشی صرف اسی شخص کے لیے نقصان دہ نہیں جو اسے استعمال کررہا ہے بلکہ اس کے اطراف موجود لوگوں کے لیے بھی کسی نقصان سے کم نہیں۔ اس سے اٹھنے والا دھواں اور اس میں موجود نکوٹین پاس بیٹھے ہوئے لوگوں میں سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں شامل ہو کر موت کی سبب بن سکتا ہے۔جو لوگ اس وبا میں مبتلا ہیں وہ وقت سے پہلے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں والدین کی لاپروائی ،ناقص توجہ غلط ماحول ،سنگت و صحبت کا اثر ہی ہے جو نوجوان سگریٹ نوشی میں مبتلا ہو رہا ہے ۔
اس وبا میں مبتلا طلاب کی یاداشت خراب ہو رہی ہے جسکے اثرات ان کے تعلیم کریر پر بھی نمودار ہو رہے ہیں ۔اس سلسلے میں محکمہ سکول ایجوکیشن نے تمام سکولوں کے اداروں کے سربراہوں سے تاکید کی ہے کہ وہ اس بدعت کو ختم کرنے کے لیے سگریٹ نوشی اور نشے کی دیگر سرگرمیوں میں ملوث طلاب کی نشاندہی کریں اور ساتھ سو گز کے دائرے میں سگریٹ فروخت کرنے والے دکانوں کا سروے اور نقشہسازی کرنے اور ان طلباء کی شناخت کرنے کی ہدایت دی ہے ۔یہ ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ طلباء اور معاشرے کو سگریٹ نوشی کی لعنت کے منفی اثرات سے آگاہ کریں۔ اگر ہم اس پیغام کو طلباء اور معاشرے تک بروقت پہنچائیں تو ہم انہیں مہذب بالغوں میں پروان چڑھانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ چونکہ استاد ایک سماجی کارکن ہے اور مہذب معاشرے کی تشکیل میں ان کا بہت بڑا کردار ہے اس لیے استایذہ کو معاشرے کی اس برائی سے نجات دلانے کی پوری کوشش کرنی چاہیے۔اس سلسلے میں ضلعی سطح کے تعلیمی آفیسر نے تعلیمی اداروں کو سو گز کے دائرے میں دکانوں کا سروے اور نقشہ سازی کرنے کا مشورہ دیا۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے سگریٹ اور دیگر مضر صحت اشیاء فروخت کرنے والی دکانوں کی فہرست مثبت انداز میں اس دفتر کو جلد از جلد ارسال کرنے کے احکامات صادر کیے ہیں ۔یہ تمام اداروں کے سربراہوں پر اثر انداز ہوتا ہے کہ وہ سگریٹ نوشی اور دیگر منشیات کی لت میں ملوث طلاب کی نشاندہی کریں تاکہ ان کی بروقت کونسلنگ کی جاسکے اور یہ لعنت خود بخود ختم ہو جائے۔ سگریٹ نوشی میں مبتلا نوجوان بالخصوص طلاب ہمارے لئے کئی سوالات کھڑا کر دیتے ہیں ۔جب ہم سگریٹ خریدنے گئے تو ہمیں کیوں نہیں روکا یا ٹوکا گیا ۔آخر وہ کون سے وجوہات ہیں کہ بچے سگریٹ نوشی کرنے پر مجبور ہوگئے.
آخر ہمارے سماج کا ذی حس طبقہ سگریٹ نوشی اور منشیات کے بڑھتےرجحان پر تماش بین کیوں ہیں ؟یہ وہ سوال ہیں جسکے جواب ہمارے پاس نہیں ہیں.میری التجاء ہے کہ باشعور افراد,انسان دوست, تمام مکتبہ فکر کے افراد اپنے معاشرے اور نئی نسل کو آگاہی فراہم کرے اس نشے جیسی لعنت سے یہ ہم سب کی زمیداری ہے۔ اس جنگ کو میں نے اور آپنے ملکر لڑنا ہے.اس کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی جائیگی۔ ہم اپنی مسقبل پود کو اہل اختیار اور بےحس طبقے کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔اگر سماج کا زی حس طبقہ اسکے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر رہا تو مستقبل قریب کے پود کی بربادی کے زمہ دار یہی لوگ ہونگے جس کا جواب انہیں ایک نا ایک دن سماج کے ساتھ ساتھ روزمحشر میں اللہ کے سامنے دینا ہوگا. نیاز مند کو پوری امید ہے کہ سماج کے زی حس لوگ مجھے ناامید نہیں کریں گے. ۔۔۔۔ نہیں تو ۔۔۔
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
ایسا نہ ہو کہ روز محشر میں
آپ بھی شرمسار ہو مجھ کو بھی شرمسار کر
حکایت
روزے بغرور جوانی سخت راندہ بودم و شبانگہ بہ پای گریوہ سست ماندہ پیر مردے ضعیف ازپس کارواں ہمی آمد گفت چہ کہ نہ جائے خفتن است گفتم چوں روم کہ نہ پائے رفتن ست گفت ایں نشیندی کہ صاحبرلاں گفت اندر فتن ونشستن بہ ،کہ دویدن وگستن
اے مشتاق کہ منزلی مشتاب
پند من کار بندو صبر آموز
اسپ تازی دوتگ رو دسشتاب
اشتر آہستہ میرود شب و روز
Drug Addiction ! A big threat to Society
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
SHADAB KAREWA
Shopian
192303