Madeenatul Uloom Sonta Rasoolpur

Call Directions Website Contact the school

Madeenatul Uloom Sonta Rasoolpur Is Page Par Madrasa Arabia Madeenatul Uloom Sonta Rasoolpur Ke Bare Mei Malomat Dali Jayengi

ابنائے قدیم متوجہ ہوں۔خود بھی اندراج کریں اور دوسروں کا بھی کرائیں۔
24/08/2026

ابنائے قدیم متوجہ ہوں۔
خود بھی اندراج کریں اور دوسروں کا بھی کرائیں۔

۳۱ اگست فارم بھرنے کی آخری تاریخ ہےاس لئے جلد از جلد فارم بھردیں
24/08/2026

۳۱ اگست فارم بھرنے کی آخری تاریخ ہے
اس لئے جلد از جلد فارم بھردیں

آل اترپردیش کا مسابقة القرآن الکریممدرسہ عربیہ مدینة العلوم سونتہ رسول پور
21/07/2026

آل اترپردیش کا مسابقة القرآن الکریم
مدرسہ عربیہ مدینة العلوم سونتہ رسول پور




بإسمه تعالى حامدا ومصليا ومسلمادرود شریف میں آل محمدجو درود شریف نماز میں پڑھا جاتا ھے وہ نبی صلّی اللہ علیہ وسلم سےبأسا...
12/07/2026

بإسمه تعالى حامدا ومصليا ومسلما
درود شریف میں آل محمد
جو درود شریف نماز میں پڑھا جاتا ھے وہ نبی صلّی اللہ علیہ وسلم سےبأسانید صحیحہ کثیرہ منقول ھے اس میں آل محمد کا لفظ دیکھ کر بعض کم فہم اور ناواقف یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے"آل"کا رتبہ أصحاب سے زیادہ ھونا معلوم ہوتا ھے کہ نماز میں" آل"پر درود پڑھنے کی تعلیم ھے أصحاب پر نہیں اس لئے اس کی وضاحت ضروری ھے تاکہ اصل بات سامنے آجائے
یاد رکھیں کہ یہاں لفظ "آل"سے اولاد یا اہل خاندان مراد نہیں ہیں بلکہ وہ تمام لوگ مراد ہیں جنہوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلّم کا اتباع کیا جن میں صحابۂ کرام فرد کامل واکمل ہیں قرآن مجید میں "آل"کا لفظ کئی جگہ متبعین کے معنیٰ میں مستعمل ھوا ھے جیسے اللہ تعالیٰ کا قول "وأغرقنا آل فرعون"البتہ آل کی اصل "اھل"کا اطلاق زوجہ پر آیا ھے جیسے باری تعالیٰ کاقول "فالتقطہ آل فرعون"کیوں کہ باتفاق مفسرین واہل سیر اٹھانے والی فرعون کی زوجہ "آسیہ"تھیں
اسی طرح اللہ تعالیٰ کا قول "قال لأھلہ امکثوا"اور اللہ تعالیٰ کا قول "وسار بأھلہ"یہاں بھی مفسرین و مؤرخین کا اجماع ھے کہ اس سفر میں حضرتِ موسیٰ علیہ السلام کے ہمراہ ان کی زوجہ کے سوا کوئی نہ تھا
دوسری دلیل یہاں لفظ "آل"سے متبعین مراد ھونے کی یہ ھے کہ اگر "آل"سے اولاد یا اہل خاندان مراد ھوں تو خود آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلّم بھی" آل ابراہیم"میں بلا شبہ داخل ھوں گے تو درود شریف کے معنیٰ خبط بے ربط ہوجائیں گے کیونکہ مشبہ اور مشبہ بہ ایک ھوجائیں گے اور یہ جائز نہیں
محمد یامین قاسمی مبلغ دارالعلوم دیوبند




*کاتب وحی حضرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ*باسمہ تعالینداۓ اولین( اداریہ)ماہنامہ "ندائے سنت" لکھنؤ اپریل ۱۹۸۵ء*محمد یامین...
12/07/2026

*کاتب وحی حضرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ*
باسمہ تعالی

نداۓ اولین( اداریہ)
ماہنامہ "ندائے سنت" لکھنؤ اپریل ۱۹۸۵ء*
محمد یامین قاسمی

کاتب وحیِ الٰہی آنحضورﷺ کے مشہور جلیل القدر صحابی سیدنا حضرت معاویہ ؓ اسلام کی اُن مقدس ومبارک ہستیوں میں سے ایک ہیں جن کے احسان امت مسلمہ کبھی فراموش نہیں کرسکتی آپ فتح مکہ کے موقع پر ایمان لائے اس کے بعدآنحضرت ﷺ کی صحبت میں رہے ‘ خود حضور پاک ﷺ نے آپ کے لئے بارہا دعا فرمائی کہ اے اللہ معاویہ ؓ کو ہادی ومہدی بنا‘ اے اللہ! معاویہ کو حساب وکتاب سکھا‘ ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ ؓ آپ ہی کی ہمشیرہ تھیں‘ حضرت علی ؓ کی وفات کے چند ماہ کے بعد تخت خلافت پر متمکن ہوئے‘ آپ کا دورِ خلافت تاریخ اسلام کے درخشاں زمانوں میں سے ہے ایک بہترین عادل حکمراں میں جو اوصاف وکمالات ہوسکتے ہیں وہ آپ کی ذاتِ گرامی میں پورے طور پر پائے جاتے تھے نہایت اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کے مالک اور بحر سیاست کے شناور تھے آپ کا دور حکومت ہر اعتبار سے ایک کامیاب دور شمار کیا جاتا ہے کہ آپ کے عہدِ حکومت میں مسلمان خوش حال رہے اور انھوں نے امن وسکون کی زندگی گزاری مجموعی طور پر حضرت معاویہ ؓ کا دورِ حکومت نہایت عدل وانصاف کا دور ہے۔
سیدنا حضرت معاویہ ؓ چونکہ صحابہ کرام ؓ کی جماعت ہی کے ایک ممتاز فرد ہیں اس لئے قرآنی ارشاد کی روشنی میں وہ بھی راشد کہے جائیں گے آپ کے ذریعہ قائم شدہ حکومت یقیناً اسلامی نظام سے ہم آہنگ ہدایت اور سلامتی سے بھرپور حکومت تھی جس میں دین اسلام کو عظمت وشوکت اور سربلندی وسرفرازی حاصل ہوئی خود حضرت حسن ؓ نے اپنے والد حضرت علی ؓ کی وصیت کے مطابق آپ کے ہاتھوں پر بیعت خلافت کی ‘ یہی وجہ ہے کہ جمہور اہل سنت وجماعت حضرت معاویہ ؓ کے دور حکومت کو خلافت عادلہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
ہماری اس گفتگو سے کوئی ہرگز یہ نہ سمجھے کہ رسول خدا کے بعد ہونے والے تمام خلفاء ؓ اور ان کی خلافتیں مساویانہ حیثیت رکھتی ہیں ایسا ہرگز نہیں چونکہ حضرات خلفائے ثلاثہ (حضرت ابوبکرؓوحضرت عمرؓ اور حضرت عثمان غنیؓ رضی اللہ عنہم اجمعین) کی خلافت راشدہ قرآن پاک کی موعودہ خلافت ہے اور یہ حضرات جماعت صحابہ ؓ میں منفرد اور سب سے بلند مقام رکھتے ہیں اسی طرح ان کے ذریعہ قائم ہونے والی خلافت راشدہ کو بھی بعد کی تمام خلافتوں سے اعلیٰ وارفع مقام حاصل ہے نیز خلفائے ثلاثہ ؓ کے بعد حضرت علیؓ کی خلافت کا درجہ ومقام ہے‘اہل سنت وجماعت کے متفقہ عقیدہ کی روشنی میں حضرت علی ؓ کی خلافت بھی ان ہی تینوں خلافتوں کی آئینہ دار ہے‘ حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کی زبان میں خلافتِ راشدہ علی منہاج النبوۃ کو خلافت خاصہ کہا جاتا ہے جس میں تمکین فی الارض‘ امن وسلامتی اور دینی سربلندی واستحکام کی وہ تمام خصوصیات کامل طور پر پائی جاتی ہیں جن کو قرآن پاک میں خلافت راشدہ کی لازمی پہچان قرار دیا گیا ہے‘ جہاں تک حضرت معاویہ ؓ کی خلافت عادلہ کا سوال ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی خلافت اپنے پیش رو خلفاء راشدین کی خلافت کے معیار کی ہرگز نہیں تھی اور خلافت راشدہ کی نسبت ان کے عہد خلافت میں نمایاں فرق تھا لیکن یہ فرق اسی حد تک تھا کہ خلفائے راشدین عزیمت وتقویٰ پر عامل تھے اور ان کا طرز معیشت نہایت سادہ اور فقیرانہ تھا حضرت معاویہ ؓ نے رخصت میں وسعت سے کام لیا اور نسبتاً فراخیِ عیش اختیار فرمائی‘ اس لئے حضرت عمر ؓ آپ کو عرب کا کسریٰ کہا کرتے تھے۔
بہر کیف حضرت معاویہ ؓ عظیم المرتبت اور اللہ کے رسول ﷺ کے محبوب صحابی ہیں ان کے بارے میں اس بات کی ادنیٰ گنجائش بھی نہیں نکل سکتی ہے کہ ان کی ذاتِ گرامی پر کسی بھی طرح حرف گیری وانگشت نمائی کی جاسکے اگر حضرت علی ؓ اور حضرات حسنین ؓ کی شان میں گستاخی کرنے سے آنحضور ﷺ کی روح کو تکلیف پہنچتی ہے تو یقیناً حضرت معاویہ ؓ کی شان میں بھی بے ادبی کرنا آپ ﷺ کی روح کو اذیت پہنچانا ہے۔




حدیث کساء اور اس کا صحیح مطلب شیعہ لوگ" حدیث کساء" کو بڑے طمطراق سے پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ حدیث سنیوں کی صحیح ت...
11/07/2026

حدیث کساء اور اس کا صحیح مطلب
شیعہ لوگ" حدیث کساء" کو بڑے طمطراق سے پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ حدیث سنیوں کی صحیح ترین حدیث ھے
واقعہ حدیث کساء کا یہ ھے کہ جب آیت تطہیر نازل ھوئی تو سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی حضرتِ فاطمہ اور حضرات حسنین رضی اللہ عنہم کو بلایا اور اپنی کملی ان چاروں پر ڈال کر فرمایا
اللهم هؤلاء أهل بيتي فاذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرا
يا اللہ یہ لوگ میرے اہلِ بیت ہیں تو آپ ان سے رجس یعنی ناپاکی کو دور فرما اور ان کو خوب پاک فرما
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے خواہش بھی کی کہ مجھے بھی اس کملی میں داخل فرما لیجئے مگر آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے داخل نہ فرمایا اور کہا کہ" أنت علی مکانک أنت علی خیر" یعنی تم اپنی جگہ پر رھو تم اس سے اچھی حالت میں ھو شیعہ کہتے ہیں کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ھے کہ یہ چار حضرات ھی اصلی اہل بیت ہیں
جواب اس کا یہ ھے کہ اس حدیث میں تو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلّم نے دعا مانگی ھے کہ یا اللہ یہ میرے اہلِ بیت ہیں اگر یہ حضرات لفظ أہل بیت سے مراد ھوتے تو آپ دعا کیوں مانگتے ؟کیا اللہ تعالیٰ کو معلوم نہ تھا کہ آپ کے اہلِ بیت کون لوگ ہیں ؟
حضرت نے بتلایا کہ یہ لوگ میرے اہلِ بیت ہیں یہ حدیث خود بتارھی ھے کہ یہ چاروں حضرات اہل بیت میں داخل نہ تھے آپ نے ان کو داخل فرمایا
اسی لئے علماء محققین فرماتے ہیں کہ حقیقۃ اہل بیت" ازواج مطہرات"ہیں اور حکما یہ حضرات بھی ہیں
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ھوا کہ جس وقت" آیت تطہیر"
إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا
نازل ھوئی اس وقت تک یہ چاروں بزرگوار اہل بیت میں سے نہ تھے آیت کے نزول کے بعد بھی جب تک حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا نہیں فرمائی اہل بیت نہیں تھے
رہ گیا شیعوں کا یہ کہنا کہ یہ روایت سنیوں کی صحیح ترین حدیث ھے غلط ھے ہرگزیہ ھمارے یہاں کی صحیح ترین حدیث نہیں ھے
یہاں ایک بات یہ بھی سمجھنے کی ھے کہ شیعہ آیت تطہیر پیش کرکے ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اہل بیت سے رجس کو دور کرنے اور پاک کرنے سے ان کا معصوم ھونا مراد ھے تو اس سلسلہ میں عرض ھے کہ
اگر رجس سے مطلق گناہ اور اس کے دور کرنے اور پاک کرنے سے معصوم بنادینا مراد ھے پھر تو تمام صحابہ خصوصاً اہل بدر کا معصوم ھونا بھی لازم آۓ گا کیوں کہ ان کے لئے بھی اسی قسم کا لفظ دوسری آیت میں نازل ھوا ھے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
ولكن يريد ليطهركم وليتم نعمته عليكم ولعلكم تشكرون
اور
ليذهب عنكم رجس الشيطان
غور کیا جائے تو صحابہ کے لئے ایک بات زائد ارشاد ھوئی ھے جو آیت تطہیر میں نھیں ھے وہ زائد بات یہ ھے کہ ھم اپنی نعمت تم پر پوری کرنا چاہتے ہیں ۔نعمت کا پورا کردینا ایک ایسا جامع کلمہ ھے کہ تمام فضائل وکمالات کو حاوی اور شامل ھے اس کا استعمال قرآن مجید میں انبیاء علیہم السلام کے لئے ھوا ھے ایک جگہ یہ لفظ حضرتِ ابراہیم حضرت اسحاق حضرت یعقوب علیہم السلام کے لئے آیا ھے اور ایک جگہ سردار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وارد ھوا ھے
محمد یامین قاسمی مبلغ دارالعلوم دیوبند




دائیں سےحضرت مولانا محمد یامین صاحب قاسمی مبلغ دارالعلوم دیوبندبحرالعلوم حضرت مولانا نعمت اللہ صاحب اعظمی استاذ حدیث دار...
07/07/2026

دائیں سے
حضرت مولانا محمد یامین صاحب قاسمی مبلغ دارالعلوم دیوبند

بحرالعلوم حضرت مولانا نعمت اللہ صاحب اعظمی استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند

حضرت مولانا عبدالسلام صاحب ناظم شعبہ کمپیوٹر دارالعلوم دیوبند
مدرسہ عربیہ مدینة العلوم سونتہ رسول پور میں




دائیں سےمولانا زبیر یامین ناظم تعلیمات مدرسہ عربیہ مدینة العلوم سونتہ رسول پورمولانا جاوید اختر ندوی صاحب ڈائریکٹر دارال...
06/07/2026

دائیں سے
مولانا زبیر یامین ناظم تعلیمات مدرسہ عربیہ مدینة العلوم سونتہ رسول پور

مولانا جاوید اختر ندوی صاحب ڈائریکٹر دارالہدی اسلامک اکیڈمی جلال آباد

قاری محمد راشد اختر صاحب مہتمم جامعہ ام القری شمس پور کلاں

حضرت مولانا محمد یامین صاحب قاسمی مبلغ دارالعلوم دیوبند

جامعہ ام القری شمس پور کے دفتر میں




Address

Sonta Rasoolpur
Shamli
247777

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Madeenatul Uloom Sonta Rasoolpur posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Madeenatul Uloom Sonta Rasoolpur:

Shortcuts

Share

Category