Azimusshan Markazi Officials

Azimusshan Markazi Officials اختر قادری خلد میں چل دیا
خلدواں ہے ہر ایک قادری کے لیے

دیابنہ وہابیہ ہمیشہ سے یتیم العلم رہے ان کے پاس صرف یہی کام ہے کہ اہل سنت کی کسی بھی کتاب میں نبی اور خدا کے بارے میں کو...
15/05/2026

دیابنہ وہابیہ ہمیشہ سے یتیم العلم رہے ان کے پاس صرف یہی کام ہے کہ اہل سنت کی کسی بھی کتاب میں نبی اور خدا کے بارے میں کوئی ایک جملہ مل جاۓ رات دن اسی کوشش میں لگے رہتے ہیں اور جب مل جاتا تو تھوڑی دیر کے لیے خوب ڈینگے مارتے ہیں جب ان کا جواب دے دیا جاتا ہے تو بھیگی بلی کی طرح بل میں چھپ جاتے ہیں۔
ان کی مثال اس شخص کی طرح ہے جسے نہ اچھے کی تمیز نہ برے کی بلکہ جو چیز ملتی ہے اسے اپنے پاس جمع کرلیتا ہے اور جو شخص بھی اس کی پیروی کرتا ہے تو وہ گمراہ ہوجاتا ہے
آج کل یہ ایک اسکرین شاٹ وارئل کر رہے ہیں کہ اعلی حضرت امام احمد رضا خان قادری محدث بریلوی قدس سرہ نے اللہ تعالی کی شان میں گستاخی کی ہے اور گالیاں دیں ہیں لیکن یہ اپنے گروگھنٹالوں کو تو پڑھتے نہیں اگر پہلے اپنے گرو گھنٹالوں کو پڑھ لیا ہوتا تو اس طرح یہاں ذلیل نہیں ہوتے ۔
اعلی حضرت امام احمد رضا خان قادری محدث بریلوی قدس سرہ نے ان کے عقائد کو نقل کیا جو عقائد ان کی کتابوں میں موجود ہیں اعلی حضرت کا مقصد ان کے عقائد کا رد کرنا اور مسلمانوں کو ان سے باخبر کرنا تھا تاکہ دورسرے مسلمان ان کے مذموم عقائد سے محفوظ رہیں نہ معاذ اللہ ان عقائد کو پسند کرنا یا خود اختیار کرنا۔
مگر دیابنہ نے اس پر اعتراض کرنا شروع کردیا کہ اعلی حضرت نے اللہ تعالی کو گالیاں لکھی ہیں جب کہ یہ بات فقہی قواعد کے خلاف ہے کیوں کہ کسی کا کفر نقل کرنا کفر نہیں ہوتا ہے بل کہ اس کو اختیار کرنا کفر ضرور ہے لیکن اعلی حضرت کی عبارت سے ایسا بالکل بھی ظاہر نہیں
اب اگر یہی اصول ان کے گرو گھنٹالوں پر لاگو کیا جاۓ تو ان کی کتابوں میں بھی ایسی عبارات موجود ہیں مثلا اشرفعلی کی کتاب ارواح ثلاثہ میں ایک عبارت ہے۔
مرزا صاحب نے کہا کہ ایسے احمق خدا کو میں نہیں مانتا جس کو یہ بھی خبر نہ ہو کہ شیخین نعوذ باللہ مرتد ہوجائیں گے ایسا خدا رافضیوں کا خدا ہے(ارواح ثلاثہ، ص:22 ،حکایت: 8 ،مطبوعہ مکتبہ عمر فاروق، کراچی )
اب بتاؤ یتیم العلم لوگوں جو اعلی حضرت نے بطور رد عبارت نقل کی وہ اعلی حضرت کی کیسے ہوگئی؟
اور جو تمہارے گروگھنٹال نے عبارت نقل کی وہ اس کی کیوں نہیں ہوئی یہ دوہرا چرتر کیوں ہے؟
از عظیم الشان نوری مرکزی

حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو ماکان ومایکون کا علم غیب ہے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہےوَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِی...
13/05/2026

حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو ماکان ومایکون کا علم غیب ہے
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے
وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ ۪- فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۚ-وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۱۷۹)) ترجَمۂ کنزالایمان:اور اللہ کی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگوتمہیں غیب کا علم دے دے ہاں اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولوں پر اور اگر ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو تمہارے لئے بڑا ثواب ہے۔(پ 4،اٰل عمرٰن:179)
امام شہابُ الدّین احمد بن علی المعروف ابنِ حجر عسقلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نقل فرماتے ہیں:نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صحابَۂ کرام سے فرمایا: میری اُمّت مجھ پر ایسے پیش کی گئی جیسے حضرتِ آدم علیہ السَّلام پر پیش کی گئی تھی تو میں نے جان لیا کہ کون مجھ پر ایمان لائے گا اور کون کفر کرے گا۔ یہ بات جب منافقین تک پہنچی تو انہوں نے کہا: مَعَاذَاللہ محمد(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) گمان کرتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کون ان پر ایمان لائے گا اور کون کفر کرےگا حالانکہ ہم ان کے ساتھ ہیں اور وہ ہمیں نہیں جانتے۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔(العجاب فی بیان الاسباب ،2/798) امام بَغَوی (سالِ وفات:510ھ)،امام سراجُ الدّین عمر حنبلی (سالِ وفات:775ھ)، امام محمد بن احمد شِربِینی (سالِ وفات: 977ھ) اور امام علاءُ الدّین علی بن محمد خازن رضوان اللہ تعالٰی علیہم اَجْمعین (سالِ وفات: 741ھ)نے کچھ الفاظ کے اختلاف کے ساتھ مزید یوں بیان فرمایا ہے کہ:منافقوں کا اعتراض سُن کر ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم منبر پر کھڑے ہوئے، اللہ کریم کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا:ان لوگوں کا کیا حال ہے جو میرے علم پر اعتراض کرتے ہیں: لَا تَسْألُونِي عَن شَيءٍ فِيما بَينَكُم وَبَينَ السَّاعَةِ اِلّا نَبَّاْ تُكُم بِهٖ یعنی تمہارے اور قیامت کے درمیان جو کچھ بھی ہے تم مجھ سے ان میں سے جس کسی چیز کے بارے میں سُوال کرو گے میں تمہیں اس کی خبر دوں گا۔ حضرتِ سیّدُنا عبد اللہ بن حُذَافہ سَہمی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: مَنْ اَبِيْ يَا رَسُولَ اللّٰه؟ یعنی يارسولَ اللّٰه! میرا والد کون ہے ؟ ارشاد فرمایا: حُذافہ، پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کھڑے ہوکر عرض کی: يا رسولَ اللّٰه! صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم، ہم اللہ پاک کے ربّ ہونے، اسلام کے دین ہونے، قراٰن کے امام و پیشوا ہونے اور آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے نبی ہونے پر راضی ہوئے، اللہ پاک آپ کے درجات بلند فرمائے ہمیں معاف فرما دیجئے۔نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دو مرتبہ فرمایا: فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ تو کیا تم باز آئے ، پھر منبر سے نیچے تشریف لے آئے اس پر اللہ پاک نے یہ آیت نازل فرمائی۔(خازن،پ4، اٰل عمرٰن، تحت الآیۃ:179،1/328)

حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے علم غیب عطا فرمایا ہے جیسا کہ قرآن کریم کی متعدد آیات سے ثابت ہے:وَ مَا ك...
09/05/2026

حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے علم غیب عطا فرمایا ہے جیسا کہ قرآن کریم کی متعدد آیات سے ثابت ہے:
وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ ۪- فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۚ-وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(القرآن پ ۴ سورۃ آل عمران ۱۷۹)
ترجمہ:اور (اے عام لوگو!) اللہ تمہیں غیب پر مطلع نہیں کرتا البتہ اللہ اپنے رسولوں کو مُنتخب فرمالیتا ہے جنہیں پسند فرماتا ہے تو تم اللہ اور اس کے رسولوں پرایمان لاؤ اور اگر تم ایمان لاؤ اور متقی بنو تو تمہارے لئے بہت بڑا اجر ہے
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم غیب کے متعلق سنن ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ارشاد فرمایا: علمت مابین المشرق والمغرب “ ترجمہ: جو کچھ مشرق اور مغرب میں ہے سب میرے علم میں آگیا۔ (ترمذی،الحدیث: 3234)
اور آپ کو اللہ تعالی نے یہ طاقت عطا فرمائی ہے آپ جس جگہ چاہیں جب چاہیں جا سکتے ہیں اور مدد بھی کرتے ہیں

از عظیم الشان نوری مرکزی

 #کسی  #مسلمان  #کی  #تکفیر  #کرنا کسی مسلمان کو کافر کہنا کفر ہے جب کے اس نے کوئی کفر نہ کیا ہو اور کافر کو مسلمان کہنا...
08/05/2026

#کسی #مسلمان #کی #تکفیر #کرنا
کسی مسلمان کو کافر کہنا کفر ہے جب کے اس نے کوئی کفر نہ کیا ہو اور کافر کو مسلمان کہنا بھی کفر ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے :
"ایما امرء قال لاخیہ کافر فقد باء بھا احدھما ان کان کما قال والا رجعت الیہ“ (صحیح المسلم، جلد1، صفحہ57، مطبوعہ کراچی)
ترجمہ: جو اپنے کسی (مسلمان) بھائی کو کافر کہے، تو وہ کفر دونوں میں سے کسی ایک پر لوٹتا ہے، اگر وہ شخص(جس کو کافر کہا گیا ہے)، ایسا ہی ہے، جس طرح دوسرے نے کہا(یعنی اس میں کفریہ بات ہے)،توکفراسی پرہے،ورنہ کہنے والے کی طرف کفر لوٹ آتا ہے
اعلی حضرت امام احمد رضا خان قادری بریلوی قدس سرہ العزیز نے علمائے دیوبند جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ان پر آپ نے کفر کا فتویٰ لگایا یہ فتویٰ صحیح ہے اور حق ہے یہ علمائے دیوبند خود مانتے ہیں
اور علمائے دیوبند اعلی حضرت کو مسلمان ہی نہیں بلکہ سچا عاشق رسول مانتے ہیں اگر اعلی حضرت نے بلا وجہ کافر کہا تھا جیسا کہ بہت سارے دیابنہ کہتے ہیں تو ان کی نظر اعلی حضرت کافر ہونا چاہیے مگر وہ مسلمان جانتے ہیں تو کسی کافر کو مسلمان جاننا خود کفر ہے لہذا یہ اپنے قول کے مطابق کافر ہے
اب جو اعلی حضرت کو کافر کہتے ہیں تو ان کو چاہیے کہ پہلے ان علما کو کافر کہیں جو ایک کافر کو مسلمان کہتے ہیں؟
اب رہی بات اعلی حضرت کون مسلمان کہتا ہے تو دیکھو تہمت وہابیہ میں ہے اشرف علی تھانوی نے اعلی حضرت کو مسلمان ہی نہیں بلکہ عاشق رسول مانا ہے:
مولوی اشرف علی تھانوی صاحب کو جب مولانا احمد رضا خان کے انتقال کی خبر ملی تو آپ نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ کر فرمایا: فاضل بریلوی نے ہمارے بعض بزرگوں اور اس ناچیز کے بارے میں جو فتوے دیئے ہیں وہ سب رسول اللہ ﷺ کی محبت کے جذبہ سے مغلوب ہو کر دیئے ہیں۔ اس لئے ان شاء اللہ تعالیٰ عند اللہ معذور اور مرحوم و مغفور ہوں گے۔ میں اختلاف کی وجہ سے بدگمانی نہیں کرتا۔
جو اعلی حضرت کی تکفیر کرتے ہیں وہ اپنے ایمان کی خیر منائیں
مرکزی

علمائے دیوبند آپس میں ایک دوسرے کو کافر بناتے رہے ان کے کفر کہانی ان کی زبانیمولوی اشرفعلی تھانوی صاحب نے سرکار کی شان م...
07/05/2026

علمائے دیوبند آپس میں ایک دوسرے کو کافر بناتے رہے ان کے کفر کہانی ان کی زبانی
مولوی اشرفعلی تھانوی صاحب نے سرکار کی شان میں گستاخی کی تو ان کو ان کے ہی مولوی نے کافر قرار دیا پہلے ان کی کفری عبارت ملاحظہ کریں
"پھر یہ کی آپ کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہے تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور ہی کی کیا تخصیص ہے ایسا علم غیب تو زید عمر بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات کے لیے بھی حاصل ہے" (حفظ الایمان ص 8 )
اب خلیل احمد صاحب کی عبارت ملاحظہ کریں
جو شخص نبی علیہ السلام کے علم کو زید و بکر و بہائم ومجانین کے علم کے برابر سمجھے یا کہے وہ قطعا کافر ہے۔
اب آپ خود ہی فیصلہ کریں
از عظیم الشان نوری مرکزی

علمائے دیوبند کے نو عمر لڑکوں سے عشق بازیجناب مولوی نانوتوی صاحب ہی کے ایک عقیدت مند حکیم عبد السلام ملیح آبادی اپنے وال...
06/05/2026

علمائے دیوبند کے نو عمر لڑکوں سے عشق بازی
جناب مولوی نانوتوی صاحب ہی کے ایک عقیدت مند حکیم عبد السلام ملیح آبادی اپنے والد کا قصہ بیان کرتے ہیں ۔ کہ میرے والد جہاں کسی خوبصورت شے کا ذکر سنتے تو سفر کر کے اُسے دیکھنے وہاں پہنچ جاتے۔
ایک مقام پر ایک عالم رہتے تھے۔ وہ ایک لڑکے پر عاشق تھے اور اس کو بہت محبت سے پڑھاتے تھے۔ جب والد صاحب کو اس کے حسن کا قصہ معلوم ہوا۔ تو وہ حسب عادت اُسے دیکھنے چل دیئے۔ جس مسجد میں وہ رہتے تھے۔ اس کے جنوب میں ایک سہ دری تھی اور اس سہ دری کے اندر جانب غرب ایک کوٹھڑی اور اس کوٹھڑی کے آگے شمالاً اور جنوبا ایک چار پائی بچھی ہوئی تھی جس وقت والد صاحب پہنچے ہیں۔ تو اس وقت لڑ کا کوٹھری کے اندر تھا ۔ اور وہ عالم اس چار پائی سے کمر لگائے ہوئے اور کوٹھڑی کی طرف پشت کئے ہوئے بیٹھے تھے۔ والد صاحب اسباب رکھ کر ان عالم سے مصافحہ کرنے گئے۔ جب یہ سہ دری میں پہنچے ہیں، تو وہ لڑکا ان کو دیکھ کر کوٹھڑی میں سے نکلا۔ والد صاحب نے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھائے تھے کہ ان کی نظر اس لڑکے پر پڑ گئی۔ جس سے مصافحہ تو رہ گیا اور والد صاحب اس لڑکے کو دیکھنے میں مستغرق ہو گئے۔ ان عالم نے جب یہ دیکھا کہ یہ مصافحہ کرنا چاہتے تھے مگر مصافحہ نہیں کر سکے۔ تو انہوں نے منہ پھیر کر اپنے پیچھے دیکھا۔ توان کو معلوم ہوا کہ لڑکا کھڑا ہے۔ اور یہ اس کو دیکھنے میں مصروف ہیں۔ جب ان کو معلوم ہوا کہ یہ حضرت بھی ہمارے ہمرنگ معلوم ہوتے ہیں۔ تو انہوں نے اس لڑکے کو آواز دی۔ اور کہا کہ ان سے مصافحہ کرو۔ وہ لڑکا آیا اور اس نے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا اس وقت ان عالم صاحب نے یہ شعر پڑھا ہے
این است کہ خون خورده و دل برده بسے را
بسم اللہ اگر تاب نظر ہست کسےرا
(حکایات اولیا ص: ۲۵۸ حکایت: ۲۱۵ )
از محمد عظیم الشان نوری مرکزی

06/05/2026

Address

Bareilly
Shahjahanpur
242405

Telephone

+19457846878

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Azimusshan Markazi Officials posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Azimusshan Markazi Officials:

Shortcuts

Share