15/05/2026
دیابنہ وہابیہ ہمیشہ سے یتیم العلم رہے ان کے پاس صرف یہی کام ہے کہ اہل سنت کی کسی بھی کتاب میں نبی اور خدا کے بارے میں کوئی ایک جملہ مل جاۓ رات دن اسی کوشش میں لگے رہتے ہیں اور جب مل جاتا تو تھوڑی دیر کے لیے خوب ڈینگے مارتے ہیں جب ان کا جواب دے دیا جاتا ہے تو بھیگی بلی کی طرح بل میں چھپ جاتے ہیں۔
ان کی مثال اس شخص کی طرح ہے جسے نہ اچھے کی تمیز نہ برے کی بلکہ جو چیز ملتی ہے اسے اپنے پاس جمع کرلیتا ہے اور جو شخص بھی اس کی پیروی کرتا ہے تو وہ گمراہ ہوجاتا ہے
آج کل یہ ایک اسکرین شاٹ وارئل کر رہے ہیں کہ اعلی حضرت امام احمد رضا خان قادری محدث بریلوی قدس سرہ نے اللہ تعالی کی شان میں گستاخی کی ہے اور گالیاں دیں ہیں لیکن یہ اپنے گروگھنٹالوں کو تو پڑھتے نہیں اگر پہلے اپنے گرو گھنٹالوں کو پڑھ لیا ہوتا تو اس طرح یہاں ذلیل نہیں ہوتے ۔
اعلی حضرت امام احمد رضا خان قادری محدث بریلوی قدس سرہ نے ان کے عقائد کو نقل کیا جو عقائد ان کی کتابوں میں موجود ہیں اعلی حضرت کا مقصد ان کے عقائد کا رد کرنا اور مسلمانوں کو ان سے باخبر کرنا تھا تاکہ دورسرے مسلمان ان کے مذموم عقائد سے محفوظ رہیں نہ معاذ اللہ ان عقائد کو پسند کرنا یا خود اختیار کرنا۔
مگر دیابنہ نے اس پر اعتراض کرنا شروع کردیا کہ اعلی حضرت نے اللہ تعالی کو گالیاں لکھی ہیں جب کہ یہ بات فقہی قواعد کے خلاف ہے کیوں کہ کسی کا کفر نقل کرنا کفر نہیں ہوتا ہے بل کہ اس کو اختیار کرنا کفر ضرور ہے لیکن اعلی حضرت کی عبارت سے ایسا بالکل بھی ظاہر نہیں
اب اگر یہی اصول ان کے گرو گھنٹالوں پر لاگو کیا جاۓ تو ان کی کتابوں میں بھی ایسی عبارات موجود ہیں مثلا اشرفعلی کی کتاب ارواح ثلاثہ میں ایک عبارت ہے۔
مرزا صاحب نے کہا کہ ایسے احمق خدا کو میں نہیں مانتا جس کو یہ بھی خبر نہ ہو کہ شیخین نعوذ باللہ مرتد ہوجائیں گے ایسا خدا رافضیوں کا خدا ہے(ارواح ثلاثہ، ص:22 ،حکایت: 8 ،مطبوعہ مکتبہ عمر فاروق، کراچی )
اب بتاؤ یتیم العلم لوگوں جو اعلی حضرت نے بطور رد عبارت نقل کی وہ اعلی حضرت کی کیسے ہوگئی؟
اور جو تمہارے گروگھنٹال نے عبارت نقل کی وہ اس کی کیوں نہیں ہوئی یہ دوہرا چرتر کیوں ہے؟
از عظیم الشان نوری مرکزی