Mufti Saalim Khan

Mufti Saalim Khan

Share

this is my official page. plz like and shre

22/06/2026

Father's day exposed..





21/06/2026
17/06/2026

Jald wapas aa raha hu.. dosto dua kro..





16/06/2026

تبلیغی جماعت اور حضرت جی مولانا سعد صاحب کے خلاف مبینہ پروپیگنڈا: امت میں اختلافات اور باہمی احترام کی ضرورت

بعض لوگوں کا مؤقف ہے کہ سوشل میڈیا پر حضرت جی مولانا سعد صاحب یا دعوت و تبلیغ کے کام سے وابستہ افراد کے خلاف مسلسل تنقید اور پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، جس سے مسلمانوں کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک دعوت و تبلیغ کے کارکن عام انسان ہیں، فرشتے نہیں، اس لیے ان سے غلطی کا امکان بھی موجود ہے، لیکن کسی فرد یا چند واقعات کی بنیاد پر پورے دعوتی کام کو نشانہ بنانا درست نہیں۔

اسی تناظر میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مدارس، خانقاہوں اور دیگر دینی شعبوں میں بھی کمزوریاں موجود ہو سکتی ہیں، لہٰذا ایک دوسرے کی تحقیر یا مخالفت کے بجائے اصلاح، خیر خواہی اور اتحاد کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔ ایسے افراد یا بیانات سے احتیاط کرنا ضروری ہے جو مسلمانوں کے درمیان نفرت، تقسیم اور باہمی دشمنی کو فروغ دیتے ہوں۔ اختلاف کے باوجود احترام، عدل اور حسنِ اخلاق کو برقرار رکھنا اسلامی تعلیمات کا اہم حصہ ہے۔

Alleged Propaganda Against Tablighi Jamaat and Hazrat Ji Maulana Saad Sahib: The Need for Unity and Mutual Respect Among Muslims

Some people argue that continuous criticism and alleged propaganda on social media against Hazrat Ji Maulana Saad Sahib or those engaged in the work of Tablighi Jamaat contributes to division within the Muslim community. According to this viewpoint, those involved in preaching and religious outreach are ordinary human beings, not infallible, and therefore mistakes can occur. However, they believe that isolated errors should not be used to discredit the entire movement.

From this perspective, it is also argued that every religious institution or field may have shortcomings, including madrasas and spiritual circles. Therefore, instead of attacking one another, the focus should be on constructive reform, mutual respect, and unity. Muslims are encouraged to be cautious of rhetoric or actions that promote hostility and division, while maintaining justice, good character, and respectful disagreement.

3 Saal ka yadgaar safar , Moulana Irfan Sahab pune ( areeba tourism ) ke sath, Al-SAALIM TOURISM 15/06/2026

https://youtu.be/DZbj1wPo3P8?si=7jbMtR8l0PFxetTl

🌟 3 Saal Ka Safar, Ek Nayi Manzil 🌟

Alhamdulillah! Aaj jo main apne pairon par khada hoon
aur apni company launch kar raha hoon,
usmein sabse bada hissa Maulana Irfan Baghban Sahab pune ( Areeba tourism) ka hai.

Unki rehnumai, duaon aur bharose ne mujhe seekhne, badhne aur aage badhne ka hausla diya. Dil se shukriya Maulana Irfan Baghban Sahab.

Apne Mohsin ke ahsaan ko kabhi nahin bolna chahie,
The Sharif mein aata Hai;
"Jo logon ka shukr Ada nahin karta vah Allah ka shukr Gujar Banda nahin Ban Sakta."

Video pura dekhe.. or share kre..
Channel subscribe kre.. 👍

3 Saal ka yadgaar safar , Moulana Irfan Sahab pune ( areeba tourism ) ke sath, Al-SAALIM TOURISM 🌟 3 Saal Ka Safar, Ek Nayi Manzil 🌟Alhamdulillah! Aaj jo main apn...

13/06/2026

میں دیکھ لوں یہ”انور شاہ“کا بیٹا بھی ہے یا نہیں
جس وقت حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ کی وفات ہوئی مولانا انظر شاہ صاحب کشمیریؒ کی عمر محض ساڑھے چار سال تھی،اسوقت حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے ایک خادم”مولانا محمد کابلیؒ“حضرت مولانا انظر شاہ کشمیریؒ کو کندھے پر بٹھا کر گھر سے مزار تک لائے تھے،فرطِ عقیدت میں انہوں نے حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے کفن کی اوپر والی چادر کھینچی اور بھاگ کھڑے ہوئے،اس کے بعد سے پھر کبھی وہ دیوبند نہیں آئے،چند سال پہلے حضرت مولانا انظر شاہ کشمیریؒ”پشاور“کے مضافات میں ایک بستی میں تشریف لے گئے،بعد نمازِ مغرب مسجد میں بیان کیا،یہاں سے فراغت کے بعد گاؤں والے مصافحہ کیلئے بڑھے،درمیان میں کسی عمر رسیدہ بزرگ کی آواز آئی،بھائیو!ابھی کوئی مصافحہ نہ کرے،میں دیکھ لوں یہ”انور شاہ“کا بیٹا بھی ہے یا نہیں؟
وہ آگے بڑھے اور حضرت مولانا انظر شاہ کشمیریؒ سے پوچھا اگر تم”انور شاہ“کے بیٹے ہو تو بتاؤ میں کون ہوں؟
اندھیرا تھا،نہ بلب نہ روشنی،مسجد کے اندر چراغ جل رہا تھا،حضرت مولانا انظر شاہ کشمیریؒ نے چراغ منگوایا اور دو تین سیکنڈ تک ان صاحب کو دیکھا،اور فرمایا کہ:”آپ”محمد کابلی“ہیں،اباجی(حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ) کی وفات کے وقت آپ ہی مجھے اپنے کندھے پر بٹھا کر”مزار“تک لائے تھے،اور آپ ہی کفن کی چادر کھینچ کر بھاگے تھے،یہ سننا تھا کہ مولانا محمد کابلیؒ حضرت مولانا انظر شاہ کشمیریؒ سے لپٹ کر رونے لگے،اور فرمایا کہ:”بھائیو! اپنی قسمت پر ناز کرو کہ امام العصر حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے صاحبزادے کی زیارت تمہیں نصیب ہوئی ہے،اور پھر تمام حاضرین نے ٹوٹ کر مصافحہ کئے،یہ واقعہ چالیس سال بعد کا ہے“۔(تذکرہ خانوادۂ

#ماشاءاللہ #بہت #عمدہ #تحریر
#علامہ #انورشاہ #کشمیری
#دارالعلوم #دیوبند

12/06/2026

Mashallah.. allah ka shukar hai ♥️





06/06/2026

Khaadim





M***i Saalim Khan Ishaati Official – WhatsApp channel 06/06/2026

دفاع دعوت و تبلیغ پارٹ 19

غالی متعصب و دشمن تبلیغ مفتی ارشد ڈھیری والا نے ایک سائل کے جواب میں
شریعت اسلامیہ کے قواعد و ضوابط جس اعتبار سے توڑ مروڑ اور غلط انداز میں پیش کیا ہے۔۔
آج تک کسی بھی مسلک احناف دیوبند سے تعلق رکھنے والے معتدل مفتیان نے ایسا مغالطہ امیز جواب نہیں دیا۔۔

پہلے ارشد ڈھیری والا کی تحریر ملاحظہ ہو۔۔
❌❌❌❌❌
*مروجہ تبلیغی جماعت کے متعلق کچھ اعتراضات اور انکے جوابات*

*معترض* : کوئی معتبر عالم، مولوی یا ساتھی یہ نہیں کہتا کہ محض چلنا عبادت مقصودہ ہے، اور قطع نظر کسی عبادت کا وسیلہ بننے کے ممدوح شرعی ہے۔

*مفتی ارشد دہلی والا*:
معترض صاحب نے کہا کہ کوئی معتبر عالم دین چلنے کو عبادت مقصودہ نہیں کہتا۔
جوابا عرض ہے کہ شرعا کیا یہ ضروری ہے کہ لوگوں کے کہنے کے بعد ہی انپر رد کیا جاۓ؟ اگر ایسا ضروری ہوتا تو التزام ما لا یلزم کی کراہت کے کیا معنی ؟ کوئی بھی شخص جو التزام ما لا یلزم کا مرتکب ہو وہ مقر نہیں ہوتا پھر بھی اسپر رد کیا جاۓ گا چاہے وہ زبان سے اسکا اقرار کرے یا نہ کرے کیونکہ اقرار سے خود اسکے حق میں ضرر لازمی کا پتہ تو چلیگا لیکن عدم اقرار سے ضرر متعدی کا عدم ضروری نہیں بلکہ اکثر و بیشتر یہ ضرر متعدی ہی ہوتا ہے اور اسکی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ عوام کا عقیدہ بھی فاسد ہوتا ہے خود دیکھ لو کہ عوام جماعت میں جانے کو اور گشت کرنے کو دین سمجھنے لگی ہے بعض تو یہ بھی سمجھنے لگے ہیں کہ صحابہ جماعت میں جاتے تھے، خیر بات کہیں اور چلی گئی ہمارا اصل مدعی تو یہ ہے کہ امر مطلق تبلیغ کی ادائگی کی تمام قیودات شرعا مباح ہیں اور یکساں ہیں انمیں سی کسی مخصوص قید مباح کو دوسری قیودات سے افضل سمجھنا اسکو حد اباحت سے خارج کرتا ہے اور یہی بدعت کو مستلزم ہے۔
ثانیا جب مولانا سعد کاندہلوی اور انکے لاکھوں کروڑوں متبعین کے یہاں تاکد اصرار التزام ما لا یلزم اور مطلق کی ایک قید مخصوص کی تفضیل کی وجہ سے گشت کذائی کا بدعت ہونا متحقق ہوگیا تو ایھام التفضیل اور فساد عقیدہ کے تعدیہ کے اندیشہ سے دیگر لوگوں کے لیۓ بھی اسکا ترک ضروری ہے گو انکے یہاں بدعت کا تحقق نہ ہوا ہو لیکن بدعت کا توہم بھی ترک کو واجب قرار دیتا ہے۔ سور مستحبہ کے التزام کو فقہاء نے اسی لیۓ مکروہ قرار دیا ہے، باوجودیکہ عوام کا عقیدہ ابتک فاسد نہیں ہوا لیکن اس التزام سے فاسد ہونے کا اندیشہ ہے۔
اگر عقیدہ کا فساد فقط لازمی ہوتا اور متعدی نہ ہوتا تو گنجائش نکل سکتی تھی لیکن اب عقیدہ کا فساد عوام میں متعدی ہو رہا ہے، تو حسما للمادہ و قطعا للذرائع اسکو ترک کرنا ضروری ہے۔
اور لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں لوگوں کے عقیدے کے فاسد ہوجانے کے بعد بھی اسکو نہ چھوڑنا یہ اصرار تاکد اور التزام ما لا یلزم نہیں تو اور کیا ہے۔
اگر امر انتظامی ہی سمجھا ہے تو چھوڑ دو، دوسرے طرق بہت ہیں جن پر امت ١٤٠٠ سال سے عمل کرتی آئی ہے، گشت کذائی مطلق تبلیغ کی کوئی نوع تو ہے نہیں، کہ لولاہ لامتنع کے بدون اسکے تبلیغ کا تحقق ہی نہ ہو، اور نہیں چھوڑتے تو امر انتظامی سے اسکا درجہ آپنے بڑھا دیا ہے۔

*معترض :* جس طرح احادیث میں آتا ہے ، جو نکلا طلب علم کے لیے وہ الله کے راستے میں ہے حتی کہ لوٹے۔ یہاں خروج اور چلنا امر مستحسن کا وسیلہ بن رہا ہے، اس لیے ممدوح ہے، اسی طرح ایک حدیث میں ہے جو طالب علم حصول علم کے لیے نکلے تو فرشتے اس کے قدموں کے نیچے پر بچھا دیتے ہیں، دیکھیے یہاں بھی چلنا امر مستحسن ہوا۔

*مفتی ارشد دہلی والا* : یہاں چلنا جو امر مستحسن قرار پایا ہے وہ حصول علم کی وجہ سے ہے نہ کہ فی نفسہ چلنا امر مستحسن ہے اور یہ ہمارے خلاف نہیں

*معترض :* امر مستحسن کے لیے چلنا کوئی غیر مدرک بالقیاس بھی نہیں ہے کہ اس پر قیاس کرکے کسی دوسرے امر کی طرف تعدیہ نہیں کیا جاسکتا، اسی وجہ سے صحابی / تابعی نے جمعہ کے لیے چل کر جانے والے کے لیے ایک حدیث سے اس کے حسن کو ثابت کیا ہے۔

*مفتی ارشد دہلی والا* : ہمنے یہ کب دعویٰ کیا کہ اسکا تعدیہ ممکن نہیں، امر مطلق کی تمام قیودات مباح ہیں، مکلف کو اختیار ہے جسپر چاہے عمل کرے نیز ابو عبس رض اور عبایہ ابن رفاعہ ابن رافع ابن خدیج کے واقعہ سے اور امام بخاری کی تبویب سے بھی فی نفسہ چلنے کا استحسان ثابت نہیں ہوتا بلکہ جمعہ کی ادائگی کی وجہ سے اسمیں استحسان آیا ہے تو یہ بھی ہمارے خلاف نہیں ہوا؟

*معترض:* درحقیقت موصوف کی پوری بحث اس مفروضے پر قائم ہے کہ تبلیغی جماعت "گشت" کو بذاتہٖ ایک مستقل ممدوح شرعی اور عبادت مقصودہ عمل سمجھتی ہے، جبکہ حقیقت میں گشت کو دعوت کا ایک ذریعہ اور انتظامی طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ آگے موصوف نے خود تسلیم کیا ہے کہ تبلیغ ایک امرِ مطلق ہے اور اس کی ادائیگی مختلف مباح صورتوں سے ہوسکتی ہے۔ *یہی تو اہلِ تبلیغ کا موقف ہے۔*

*مفتی ارشد دہلی والا* : یہی معترض کی سب سے بڑی بھول ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ مروجہ تبلیغی جماعت کے نزدیک گشت کذائی کو امر انتظامی سمجھا جاتا ہے، علی سبیل التسلیم ہم کہتے ہیں کہ اگر ایک گروہ اسکو ابتک امر انتظامی ہی سمجھتا ہے لیکن مولانا سعد کاندھلوی اور انکے کروڑوں متبعین تو اسکو امر انتظامی سے بڑھا کر امر دینی قرار دے چکے ہیں، اور جب کروڑوں کی تعداد سے یہ بات ثابت ہوچکی کہ وہ ایک مباح چیز پر تاکد اصرار التزام ما لا یلزم اور مطلق کی قیودات مباحہ میں سے ایک قید مباح کی تفضیل کے قائل ہوکر بدعت کے مرتکب ہوۓ تو انکا یہ عقیدے کا فساد ان تک محدود نہیں رہیگا بلکہ یہ عوام میں متعدی ہوگا، اسی وجہ سے فقہاء سور مستحبہ کے التزام کو بھی مکروہ قرار دیتے ہیں اور صاحب ھدایہ نے اسکی علت یہ بیان کی ہے *لأن فيه هجران الباقي و إيهام التفضيل* یہاں فقهاء تو تفضیل کے فقط ایھام کی وجہ سے مستحبات کے ترک کا حکم دے رہے ہیں اور معترض صاحب تعداد کثیر کے نزدیک تفضیل کے متحقق ہونے کے بعد بھی امر مباح پر مصر ہیں۔

*معترض* : اگر کسی شخص نے دعوت کے لیے:مدرسہ قائم کیا،کتابیں شائع کیں،دعوتی اجتماعات رکھے،مقررہ اوقات میں دورے کیے،یا محلوں میں جاکر لوگوں سے ملاقاتیں کیں، تو یہ سب دعوت کے وسائل ہیں۔

*مفتی ارشد دہلی والا* : یقینا یہ سب وسائل ہیں اور سب کے سب مباح اور جائز ہیں، کراہت تب آتی ہے جب انکو وسائل کے درجہ سے اوپر اٹھاکر مقاصد بنانے کی کوشش کی جاتی ہے جو مروجہ تبلیغی جماعت کرتی ہے۔
❌❌❌❌

جواب منجانب :
مفتی سالم خان اشاعتی سنگم نیر

سائل (جو تبلیغی جماعت کے موقف کی ترجمانی کر رہے ہیں) اور مفتی ارشد صاحب کے درمیان بنیادی سوال جواب
"التزامِ مالا یلزم"
(ایک ایسی مباح یا مستحب چیز کو اپنے اوپر لازم کر لینا جو شرعاً لازم نہ ہو)
اور "سدِ ذرائع" (برائی کے راستے کو روکنا) کے اصولوں پر ہے۔

مفتی ارشد ڈھیری کا پورا استدلال اس مفروضے پر قائم ہے کہ مروجہ تبلیغی جماعت کے مخصوص طریقے
(جیسے تین دن، چلہ، گشت کذائی وغیرہ) عوام کے عقیدے میں فرض یا واجب کا درجہ اختیار کر چکے ہیں، اس لیے یہ "بدعت" کے دائرے میں آ گئے ہیں اور ان کا ترک واجب ہے۔

شرعی اصول و قواعد، فقہی جزئیات اور دعوت و تبلیغ کے حقیقی مزاج کی روشنی میں
مفتی ارشد ڈھیری کے اعتراضات کا علمی، تحقیقی جواب درج ذیل ہے:
۱. "التزامِ مالا یلزم" اور مروجہ طرقِ کار کی حقیقت (امرِ انتظامی بمقابلہ امرِ شرعی)

مفتی ارشد ڈھیری کا یہ فرمانا کہ *"اگر انتظامی امر سمجھا ہے تو چھوڑ دو،
دوسرے طرق بہت ہیں اصولِ فقہ سے ناواقفیت پر مبنی ہے۔

اصولِ شرعی:
دین کے کسی بھی اجتماعی شعبے (خواہ وہ مدارس کا نظام ہو، خانقاہی سلاسل ہوں، یا دعوت کا کام) کو چلانے کے لیے کچھ ضوابط اور اوقات کی تعیین "مصلحتِ مرسلہ" اور "امرِ انتظامی"کے تحت آتی ہے۔

مدارس پر قیاس:
مدارسِ اسلامیہ میں ۸ سالہ درسِ نظامی کا نصاب، سالانہ امتحانات، درجات کی تقسیم، اور مخصوص تعطیلات؛ خانقاہوں میں مخصوص اذکار، چلت اربیعین (چلہ کشی) اور شجرہ خوانی؛ یہ سب اُمورِ انتظامیہ ہیں۔

امتِ مسلمہ صدیوں سے ان پر اصرار اور سختی سے عمل کر رہی ہے۔
اگر کوئی شخص یہ کہے کہ مدارس والے ۸ سالہ نصاب پر اصرار کرتے ہیں،
لہذا یہ بدعت ہے،
اسے چھوڑ کر کسی اور طریقے سے پڑھاؤ
تو کیا کوئی دارالافتاء اس کی بات تسلیم کرے گا؟
ہرگز نہیں۔

وجہِ اصرار:
یہ اصرار اور پابندی اس ترتیب کو "دین" یا "فرض" سمجھنے کی وجہ سے نہیں ہے،
بلکہ نظام کی بقا اور افادیت کے لیے ہے۔
اگر ترتیب اٹھا دی جائے تو پورا دعوتی یا تعلیمی ڈھانچہ بکھر جائے گا۔

۲. عوام کے "ایہامِ تفضیل" اور فسادِ عقیدہ کا رد

مفتی ارشد ڈھیری نے صاحبِ ہدایہ کے قول لأن فيه هجران الباقي و إيهام التفضيل
(کیونکہ اس میں باقی سورتوں کو چھوڑنا اور مخصوص سورت کی فضیلت کا وہم پیدا کرنا ہے)
سے استدلال کیا ہے۔ یہ استدلال یہاں چسپاں ہی نہیں ہوتا

حقیقتِ حال:
تبلیغی جماعت کا کوئی عامی یا عالم بھی یہ عقیدہ نہیں رکھتا کہ چلہ کاٹنا یا گشت کرنا نماز اور روزے کی طرح کوئی مستقل بالذات رکنِ اسلام ہے۔
عوام کے ذہن میں جو اصرار ہے،
وہ اہمیتِ عمل اور تبلیغی ضرورت کا ہے، نہ کہ وجوبِ شرعی کا۔

*ایہامِ تفضیل کا جواب:
فقہاء نے جہاں قرآن کی کسی سورت کو نماز میں لازم کرنے سے منع کیا ہے،
وہاں مصلحت یہ تھی کہ قرآن کا دوسرا حصہ معطل نہ ہو۔
تبلیغی جماعت کے طریقے سے دین کا کوئی دوسرا شعبہ معطل نہیں ہو رہا،
بلکہ گشت اور چلوت کے ذریعے مدارس آباد ہو رہے ہیں،
نمازیں قائم ہو رہی ہیں، اور خانقاہوں کو رجالِ کار مل رہے ہیں۔

اصولِ کراہت:
فقہی قاعدہ ہے کہ ایہامِ تفضیل کی وجہ سے کراہت تب آتی ہے جب اس عمل کو "دین کا لازمی حصہ" سمجھ کر غیر عمل کرنے والوں پر کفر، فسق یا گمراہی کا حکم لگایا جائے۔
تبلیغی جماعت میں جو لوگ نہیں جاتے، انہیں جماعت والے گنہگار یا دائرہ اسلام سے خارج نہیں سمجھتے،
بلکہ انہیں بھی محبت سے دعوت دیتے ہیں۔

۳ ۔"وسائل" کا "مقاصد" بن جانے کا مغالطہ

مفتی ارشد ڈھیری کا اعتراض ہے کہ *"کراہت تب آتی ہے جب وسائل کو مقاصد بنانے کی کوشش کی جاتی ہے،
جو مروجہ تبلیغی جماعت کرتی ہے۔
جواب۔
یہ ایک صریح مبالغہ آرائی اور زمینی حقائق کے خلاف ہے۔

*جماعت کا اصل مقصد کیا ہے؟
جماعت کا ہر چھوٹا بڑا یہ جانتا ہے کہ دعوت و گشت کا اصل مقصد "امت کے ہر فرد کے اندر ایمان کا یقین زندہ کرنا اور اعمالِ صالحہ کا جذبہ پیدا کرنا" ہے۔
گشت، اجتماع، اور چلہ تو اس مقصد تک پہنچنے کے "راستے" اور "وسائل" ہیں۔

* اگر کوئی طالبِ علم مدرسے کی چاردیواری اور کتاب کو ہی مقصد سمجھ لے، تو کیا مدرسہ بند کر دیا جائے گا؟
اگر کوئی مرید خانقاہ کے کمرے کو مقصد سمجھ لے، تو کیا تصوف کا انکار کر دیا جائے گا؟
نادان عوام کی انفرادی فہمی کی وجہ سے اتنے بڑے عالمی دعوتی نظام کو،
جس سے لاکھوں بے نماز، نمازی بنے اور لاکھوں گنہگاروں نے توبہ کی، بدعت کہہ کر ترک کرنے کا فتویٰ دینا "حسما للمادہ"** (جڑ کاٹنا) نہیں
بلکہ "قطعِ عضوِ صالح" (صحت مند عضو کو کاٹ پھینکنا) ہے۔

۴. احادیثِ خروج اور چلنے پر اعتراض کا اصولی جواب
سائل نے جب علم کے لیے نکلنے اور جمعہ کے لیے پیدل چلنے کی احادیث پیش کیں،
تو مفتی ڈھیری نے کہا: *"یہاں چلنا حصولِ علم یا جمعہ کی وجہ سے مستحسن ہے، فی نفسہ نہیں"*۔

*جماعت کا جواب:
یہی تو سائل کا بھی استدلال ہے!
تبلیغی جماعت میں بھی خروج (نکلنا) اور گشت (چلنا) فی نفسہٖ مقصود نہیں ہے،
بلکہ "امت کی اصلاح، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر" کے عظیم ترین قرآنی مقصد کے لیے ہے۔
جب حصولِ علم کے لیے چلنا ممدوح ہے، تو ایمان کی دعوت اور مسلمانوں کو نماز کی طرف بلانے کے لیے چلنا بدرجہ اولیٰ ممدوح اور سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہوگا۔

۵. مولانا سعد کاندھلوی کے بیانات اور اصرار کی حقیقت

مفتی ارشڈ ڈھیری نے کروڑوں متبعین اور مولانا سعد صاحب کا حوالہ دے کر تفضیلِ مطلق کا دعویٰ کیا۔

*علمی جواب:
اگر قیادت کے بعض بیانات میں دعوت کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے سخت الفاظ استعمال ہوئے ہیں،
تو وہ "زجر و توبیخ"اور "ترغیب و ترھیب" کے باب سے ہیں،
نہ کہ تشریع (نئی شریعت سازی) کے باب سے۔

محدثین اور فقہاء کے ہاں فضائلِ اعمال اور ترغیب کے لالچ میں مبالغہ آمیز اسلوب اور صیغہ ہائے تاکید کا استعمال معروف ہے۔
اس کو بنیاد بنا کر پورے نظام پر بدعت کا حکم لگانا انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔

خلاصہ کلام (اصولی فیصلہ)
مفتی ارشد ڈھیری کا استدلال فقہی باریکیوں کی حد تک تو علمی نظر آتا ہے،
لیکن حکمتِ دین اور مصالحِ امت کے ترازو میں پورا نہیں اترتا۔

قاعدہِ فقهیہ:
الوسائل لها أحكام المقاصد (وسائل کا وہی حکم ہوتا ہے جو مقاصد کا ہوتا ہے)۔

چونکہ امت کی اصلاح اور دین کی دعوت فرضِ کفایہ (اور موجودہ حالات میں فرضِ عین کے قریب) ہے،
اس لیے جو مباح وسائل (جیسے موجودہ دعوتی نظام) اس مقصد کو حاصل کرنے میں سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہو رہے ہیں،
انہیں بدعت کہہ کر چھوڑنے کا مشورہ دینا امت کو مزید زوال کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔
اگر کہیں عوام کے عقیدے میں غلو پیدا ہو رہا ہے، تو علماء کا کام "اصلاحِ عقیدہ"ہے، نہ کہ "عملِ خیر کی بندش"۔۔
ذلک ذکری لذاکرین۔۔۔
جاری
https://whatsapp.com/channel/0029Va97hS3Id7nMjv45B807
➖➖➖➖➖➖➖➖
مزید مضامین اور دعوت تبلیغ پر اعتراضات کے جوابات کے لیے چینل فالو کریں

M***i Saalim Khan Ishaati Official – WhatsApp channel Follow M***i Saalim Khan Ishaati Official's WhatsApp channel. Deeni masail aur Islami maloomat hasil karne ke liye channel follow Karen 👍💞. Join 1.8K followers for the latest updates.

Want your school to be the top-listed School/college in Sangamner?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Sangamner
422605