30/06/2026
اعلان مدرسہ مظاہر علوم (جدید) سہارنپور
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Jamia mazahir uloom Saharanpur official, School, mohalla Mubarak Shah mazahir uloom jadeed, Saharanpur.
30/06/2026
اعلان مدرسہ مظاہر علوم (جدید) سہارنپور
30/06/2026
انجمن کے متعلق
*مدرسہ مظاہرعلوم جدید*
*ترقیات کے پچیس سال*
**مولانا مفتی سیدمحمدصالح الحسنی*
*امین عام ونائب ناظم مدرسہ مظاہرعلوم سہارنپور**
إنّ الاشتغال بنشر اخبار الاخیار من اہل العلم والآثار من علامات سعادۃ الدنیا و سیادۃ الآخرۃ اذہم شہود اللہ فی ارضہ و لہم المراتب الفاخرۃ (التاج المکلل ص۳)
اسلاف کے تذکرے اور کارنامے ہمیں جینے کا حوصلہ دیتے ہیں ،عملی جدو جہد کا درس دیتے ہیں ،قومیں جب ترقیاتی اور فکری اعتبار سے رو بہ زوال ہوتی ہیں تو یہی تذکرے ہمارے لئےمشعلِ راہ ہوتے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ مؤرخین اور تذکرہ نگار حضرات اپنی اپنی کتابوں میں ان شخصیات کے کارناموں کو منظر عام پر لانے کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں جو تاریخ ساز ہوں ،جنھوں نے حالات و زمانے کو علم و عمل کی نئی جہت اور سمت عطا کی ہو،ماحول اور معاشرہ کے لائق تقلید کردار و عمل پیش کیا ہو۔
ایسے ہی افراد اور شخصیات کے دینی،علمی ،روحانی اور ملی خدمات کے احوال پر اس وقت ماہنامہ مظاہرعلوم سہارنپور کا ’’وفیات نمبر‘‘ قارئین کرام کے ہمدست ہے ،والد محترم حضرت مولانا سید محمد شاہد الحسنی رحمۃ اللہ علیہ کی تمنا اور خواہش تھی کہ یہ بہت پہلے شائع ہو جاتا لیکن ناگزیر اسباب کی وجہ سے اس کی اشاعت میں تاخیر ہوتی چلی گئی ،بہرحال اب یہ آپ حضرات کے سامنے ہے ۔
یہ وفیات نمبر ماہنامہ مظاہرعلوم کی انتیس سالہ تاریخ میں دوسری اہم دستاویزی اشاعت ہے ،اس سے قبل دسمبر ۲۰۰۵ء میں تاریخ مظاہرعلوم سہارنپور کے سلسلہ میں اہم مواد پر تقریباً ساڑھے پانچ سو صفحات پر مشتمل ایک دستاویزی اشاعت قارئین کرام کی خدمات میں پیش کی گئی تھی ۔
زیر نظر اشاعت ’’وفیات نمبر‘‘ سے موسوم ہے ،یعنی اِس میں ۲۰۲۰ء سے سے لے کر اس کے بعد تک کے وفات پانے والے ایسے اصحابِ علم و فضل کا تذکرہ،ان کی علمی و دینی خدمات پیش کی گئی ہیں جو برصغیر میں اپنی علمی و عرفانی اور روحانی و ملی خدمات کے حوالہ سے عوام و خواص کا مرجع رہے ہیں ،اور مظاہرعلوم سہارنپور اور یہاں کے حضرات اکابر سے انتساب و اکتسابِ فیض اور ذہنی و قلبی وابستگی خود ان کے لئے بھی باعثِ افتخار و اعزاز رہا ہے ،ایسے اصحاب و شخصیات پر بہت کچھ لکھا گیا لیکن اس وفیات نمبر میں کوشش یہ کی گئی کہ اس میں ایسے مضامین کو ہی جگہ دی جائے جو ابھی تک کہیں مطبوع نہ ہوںإلا ماشا ءاللہ ، تاکہ قارئین کرام کو ان مضامین میں جدت محسوس ہو،اور یہ مضامین ایسے لوگوں سے لکھوائے گئے ہیں جو مرحومین کے ورثاء میں ہوں یا ان کی علمی و دینی زندگی سے بہت ہی قریب رہے ہوں تاکہ صحیح معلومات قارئین تک پہونچ سکے ۔
اس موقع سے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مظاہرعلوم کی دینی و علمی ترقیات ،اس کے مختلف شعبہ جات اور ان کی حصولیابیاں قارئین کرام کی نظر میں رہیں ۔
اس سلسلہ میں مظاہرعلوم اور اس کی تاریخ پر خاص دستگاہ رکھنے والی عظیم شخصیت حضرت والد گرامی منزلت مولانا سید محمد شاہد الحسنی ؒ کی ایک تحریر (جو انھوں نے فروری ۲۰۲۳ء میں حیدرآباد میں فضلاء مظاہرعلوم کے ایک اجلاس کے لئے لکھوائی تھی )اسے پیش کیا جاتا ہے ۔
مسند الہند حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلویؒ نے جو عظیم الشان جماعت علماء نابغہ کی تیار کی اور انھوں نے ہر ہر قدم پر اسلام اور مسلمانوں کا یہاں تحفظ کیا اس کے لیے جان و مال و عزت و آبرو کی قربانیاں دیں، اس جماعت سے منسوب جلیل القدر اور اصحاب فضل وکمال پر مشتمل حضرات میں حضرت مولانا سعادت علی فقیہ سہارنپوری بھی تھے، جنہوں نے یکم رجب ۱۲۸۳ھ / ۹؍نومبر ۱۸۶۶ء میں مظاہرعلوم کی بنیاد رکھی۔
یہ وقت وہ تھا جب کہ پورے ملک پر انگریز کا دبدبہ قائم ہوچکا تھا اور اس کی تیغ حکمرانی چل رہی تھی۔
اس وقت آپ کے معاونین میں امتیازی حیثیت سے سامنے آنے والے حضرات یہ تھے:
ز حضرت مولانا محمد مظہر نانوتوی ز حضرت مولانا احمد علی محدث سہارنپوری
ز حضرت مولانا فیض الحسن ادیب سہارنپوری ز مولانا سخاوت علی انبہٹوی
ز جناب قاضی فضل الرحمن قاضی شہر سہارنپور ز جناب حافظ فضل حق سہارنپور وغیرہ
پھر ان حضرات کے ساتھ اپنے وقت کے جید اکابر اور علماء جڑتے چلے گئے، یہاں تک کہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی کا دور مسعود آگیا، اور حضرت موصوف کی برکت سے مظاہرعلوم کو ہر طرح کی دینی و دنیوی، تعلیمی و تعمیری ترقیات ملتی چلی گئیں، ان حضرات کے اخلاص و للہیت کی برکت سے آج تک مظاہرعلوم مالا مال ہے۔
مدرسہ کے قیام کو آج تک ڈیڑھ سو سال سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے، اس درمیان میں اس نے بہت سے مدوجزر اور بہت سے انقلابات دیکھے، کتنی ہی مرتبہ اس چراغ کو پھونکوں سے بجھانے کی کوششیں کی گئیں ، لیکن فضل الٰہی نے ہمیشہ دستگیری اوراللہ کی عنایت خاصہ نے ہمیشہ اس کی بھرپور حفاظت فرمائی۔ اور ہر بڑے سے بڑا حادثہ اس کے لیے ترقی اور قدم بڑھانے کا ذریعہ بنتا چلا گیا، یقینا اس کو نصرت الٰہیہ اور تائید غیبیہ کے علاوہ کوئی دوسرا نام نہیں دیا جاسکتا، اور اس میں بھی کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ یہ نصرتیں اور تائیدیں اِن حضرات کی آہ سحرخیزی اور دعاؤں کا نتیجہ ہیں جو شروع ہی سے مظاہرعلوم کو حاصل رہیں۔
زحضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ز حضرت شاہ عبدالرحیم رائے پوری
ز حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ز شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی
ز حضرت مولانا خلیل احمد مہاجرمدنی ز مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری
ز مولانا عاشق الٰہی میرٹھی ز مولانا محمد الیاس کاندھلوی ۔
اور اس کے بعد دوسرے دور میں
ز مولانا حکیم سید محمد ایوب سہارنپوری ز شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی
ز مولانا محمد یوسف کاندھلوی ز مولانا محمدانعام الحسن کاندھلوی
زمولانا مفتی محمود حسن گنگوہی ز مولانا محمد افتخار الحسن کاندھلوی
زمولانا عبدالحلیم جونپوری ز مولانا محمد طلحہ کاندھلوی۔
اور اس کے بعد اب موجودہ تیسرے دور میں یہ حضرات اس کشتی کے ناخدا اورمحافظ بنے ہوئے ہیں۔
زحضرت الحاج حکیم کلیم اﷲ علی گڈھی ز مولانا تقی الدین ندوی مظاہری اعظم گڈھی
ز مولانا غلام محمد وستانوی مہاراشٹری زمولانا محمدعارف سہارنپوری
زمولانا محمدعبدالقوی حیدرآبادی ز مولانا مفتی معصوم ثاقب رائے چوٹی
ز مولانا مفتی سبیل احمد وانم باڑی ز مولانامحمد روح الحق ترچی
ز الحاج ابراہیم منیار سورت گجرات ز الحاج سلامت اﷲ دہلوی
ز الحاج غلام رافع خاں شروانی علی گڈھی ز مولانا سید محمد ساجد کاشفی سہارنپوری
ذی قعدہ ۱۳۲۰ھ / فروری ۱۹۳۰ء میں اس کی مجلس شوریٰ کا قیام عمل میں آیا تھا، اس کے بعدسے آج تک تاریخی تسلسل اور بھرپور روایت اور اعتماد کے ساتھ یہ اپنا کام کرتی چلی آرہی ہے۔ یہی ادارہ کی مجلس انتظامیہ ہے اور یہی اس کی ہیئت حاکمہ ہے۔
ارکان مجلس کے علاوہ ادارۂ اہتمام میں بھی ایک سے ایک منتخب روزگار ہستی مظاہرعلوم کو وقت وقت پر ملتی رہی، چنانچہ اس طویل تاریخ میں یہ یہ حضرات ہمیں اس کے بزم اہتمام پر رونق افروز نظر آتے ہیں:
زمولانا سعادت علی فقیہ سہارنپور ز مولانا محمد مظہر نانوتوی
زجناب قاضی فضل الرحمن سہارنپوری ز مولانا عنایت الٰہی سہارنپوری
ز مولانا عبداللطیف پرقاضوی ز مولانا شاہ اسعداﷲ رامپوری
ز مولانا مفتی مظفرحسین اجراڑوی ز مولانا مفتی عبدالعزیز رائے پوری
ز مولانا محمداﷲ سہارنپوری ز مولانا محمد سلمان سہارنپوری
ز مولانا محمد عاقل سہارنپوری۔
محترم سامعین! مذکورہ تمام تفصیلات کا تعلق مظاہرعلوم کے اہتمام و انتظام سے ہے جب کہ ادارہ کی دوسری اہم اساس اور بنیاد وہ تعلیم و تربیت اور تکمیلات کے وہ مختلف شعبے ہیں جو ادارہ میں نہ صرف قائم بلکہ انتہائی نیک نامی اور کامیابی کے ساتھ علمی ، تحقیقی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
چنانچہ درس نظامی کی مکمل تعلیم کے ساتھ ساتھ اس وقت ادارہ میں درج ذیل شعبے اہمیت کے حامل ہیں۔
۱- شعبہ کتب خانہ:
۱۲۸۳ھ /۱۸۶۶ء میں مظاہرعلوم کے آغاز ہی سے یہ قائم ہوگیا تھا، ایشیاء کے عظیم الشان علمی کتب خانوں میں اس کو ایک امتیازی مقام حاصل ہے۔ اورآج یہ زبردست مخطوطات، نوادرات و مطبوعات کا ذخیرہ اپنے اندر محفوظ رکھتا ہے۔ شروع سے آج تک ہر دور میں اہل علم و کمال نے اس کتاب خانہ کو اپنی قیمتی کتابوں سے نوازا ہے۔
فی الحال اس شعبہ کے ذمہ داران مولانا محی الدین ارریاوی، مولانا اخلاق الرحمن کھگڑیاوی، مولانا محمد یوسف سہارنپوری، مولانا محمد اطہر سہارنپوری ہیں۔
حال ہی میں اس شعبہ کی جانب سے ’’تعارف مخطوطات‘‘ کی طباعت واشاعت کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے، جلد اول شائع ہوچکی، بقیہ جلدیں زیر طبع ہیں۔
۲- شعبہ تجوید (حفص اردو)
محدود پیمانہ پر اس شعبہ کا آغاز اگرچہ ادارہ کے دور اول ہی میں ہوچکا تھا لیکن باقاعدہ طور پر اس کا افتتاح ربیع الاول ۱۳۳۱ھ /فروری ۱۹۱۳ء میں کیا گیا۔
جناب الحاج قاری ضیاء الدین کے شاگرد رشید قاری محمد قاسم لکھنوی اس شعبہ کے لیے سب سے پہلے استاذ مقرر کئے گئے۔ موصوف کا تقرر حضرت مولانا خلیل احمد مہاجر مدنی کے انتخاب فرمانے پر ہوا تھا۔ مولانا قاری عنایت اﷲ اعظمی، مولانا قاری سعید احمد اجراڑوی، مولانا قاری محمد سلیمان دیوبندی، مولانا قاری سید محمد ابراہیم سہارنپوری، مولانا قاری رضوان نسیم دیوبندی اپنے اپنے دور میں اس شعبہ سے وابستہ رہ کر اس فن کی عظمت و شرافت کو بڑھاتے رہے۔
آج کل مولانا قاری محمد عمار سہارنپوری، مولانا قاری صلاح الدین بنگال اور مولانا قاری انیس احمد سہارنپوری، مولانا قاری محمد اسلم سہارنپوری، مولانا قاری معاذ احمد سہارنپوری، مولانا قاری احمد ہاشمی سہارنپوری اس شعبہ کے مؤقر اساتذہ میں ہیں، جو خوش الحانی اور روانی کے ساتھ بہترین اور عمدہ لب و لہجہ میں کلام اﷲ شریف کی تلاوت کرنے اور اس کی مشق وتمرین میں امتیازی حیثیت رکھتے ہیں۔
سال گذشتہ اس شعبہ کو مزید ترقی دیتے ہوئے شعبہ حفص اردو کا اس کے ساتھ الحاق کیا گیا،اوراس شعبہ کے لئےباقاعدہ مولانا قاری محمد مسعود سہارنپوری کا بھی تقرر کیا گیا ، اس سال اس شعبہ کے طلبہ کی تعداد (۲۶) ہے۔
نوٹ:حضرت والد محترم ؒ کی تحریر کے وقت اس شعبہ کا پہلا سال تھا اس لئے تعداد اسی سال کی ہے ، موجودہ سال ۱۴۴۵ھ اس شعبہ کا دوسرا سال ہے ،امسال اس شعبہ میں سال اول کے لئے ۲۵؍طلبہ کا داخلہ منظور ہوا ہے،سالِ دوم میں ۱۶؍طلبہ ہیں۔
۳- شعبہ افتاء:
یہ ادارہ کا ایک قدیم اور حساس شعبہ ہے، جو محرم الحرام ۱۳۳۸ھ / ستمبر ۱۹۱۹ء میں قائم ہوا، مولانا اشفاق الرحمن کاندھلوی، مولانا مفتی سعید احمد اجراڑوی، مولانا مفتی محمودالحسن گنگوہی مفتی اعظم، مولانا مفتی مظفرحسین اجراڑوی، مولانا مفتی سید محمد یحییٰ سہارنپوری، مولانا مفتی عبدالعزیز رائے پوری، مولانا عبدالقیوم رائے پوری اپنے اپنے زمانہ میں اس شعبہ سے وابستہ رہے۔
اس شعبہ کی جو دینی اہمیت و حیثیت ہے اسی اعتبار سے یہاں کے لیے ارباب فتویٰ کا انتخاب عمل میں آتا رہا۔
موجودہ وقت میں مولانا مفتی مقصود احمد انبہٹہ پیرزادگان ضلع سہارنپور، مولانا مفتی محمد طاہر غازی آبادی، مولانا مفتی محمد خالدسہارنپوری، مولانا مفتی محمد صالح سہارنپوری اس شعبہ کے نمائندہ حضرات ہیں جب کہ مولانا مفتی مقصود احمد اس شعبہ کے سربراہ (صدر مفتی) بھی ہیں۔
نیز مولانا مفتی شعیب احمد بستوی، مولانا مفتی بشیر احمد سہارنپوری، مولانا مفتی محمد عمر سہارنپوری، مولانا احمد علی سنبھلی اس شعبہ سے وابستہ رہ کر دیگر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
امسال (۱۴۴۴ھ) میں اس شعبہ سے فارغ ہونے والے مفتیان کرام کی تعداد اڑتیس (۳۸) تھی، اس شعبہ کی اپنی مستقل لائبریری ہے، جو فقہ و فتاویٰ کی ہزاروں کتابوں پر مشتمل ہے، جن سے شب و روز طلبہ افتاء استفادہ کرتے ہیں۔اس شعبہ کا نصاب تعلیم ایک سالہ ہے۔
۴- شعبہ مکاتب دینیہ:
ارتداد زدہ علاقوں میں مسلمان بچوں کے دین و ایمان کے تحفظ کے لیے مدرسہ نے مدارس کا ایک وسیع نیٹ ورک بھی قائم کررکھا ہے، چنانچہ محرم ۱۴۱۵ھ / جون ۱۹۹۴ء سے مکاتب دینیہ کا قیام ان علاقوں میں تسلسل کے ساتھ عمل میں لایا جارہا ہے۔ موجودہ سال میں پینتالیس (۴۵) مکاتیب میں بارہ سو ستر(۱۲۷۰) بچے دینی تعلیم، قرآن مجید، دینیات وغیرہ پڑھ رہے ہیں۔ اس کے مکمل اخراجات اور تمام اساتذہ کے مشاہرات مظاہرعلوم ادا کرتا ہے۔
مکاتب دینیہ کےناظم اور سربراہ مولانا مفتی محمد صالح سہارنپوری اور مولانا عبداﷲ خالد خیرآبادی اس کے منتظم ہیں۔
۵- شعبہ تخصص حدیث شریف:
جامعہ مظاہرعلوم اپنی سنہری تاریخ کے ہر دور میں خدمت حدیث شریف میں ممتاز و منفرد رہا ہے اور اس معاملہ میں اس کا عکس ایسا منور و روشن ہے کہ جس کی دوسری کوئی نظیر نہیں ملتی۔ جن مشائخ اور اساتذہ حدیث نے مظاہرعلوم میں بیٹھ کر گیسوئے حدیث کو سنوارا اور اس علم کو پروان چڑھاکر چار چاند لگائے وہ بھی کسی طرح کم نہیں تھے۔ چنانچہ
ز حضرت مولانا احمد علی محدث سہارنپوری ز حضرت مولانا محمد مظہر نانوتوی
ز مولانا خلیل احمد مہاجر مدنی ز مولانا عبدالرحمن کاملپوری
ز مولانا محمد زکریا شیخ الحدیث مہاجر مدنی ز مولانا امیر احمد کاندھلوی
ز مولانا محمدیونس جونپوری ز مولانا محمد عاقل سہارنپوری
یہ وہ اصحاب ہیں جو ڈیڑھ سو سال سے درجہ بدرجہ منزل بمنزل مظاہرعلوم کی چہار دیواری میں آوازہائے حدیث بلند کئے ہوئے ہیں، اور بڑے نامور باکمال علماء ان حضرات سے حدیث پڑھ کر مشائخ حدیث کی فہرست میں داخل ہوگئے ہیں۔
شوال ۱۴۱۵ھ / مارچ ۱۹۹۵ء میں اس شعبہ کا آغاز ہوا۔ حضرت مولانا زین العابدین اعظمی اس شعبہ کے اولیں سربراہ تھے۔
محترم مولانا عبداللہ معروفی حال استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند نے بھی اس شعبہ میں گرانقدر خدمات انجام دی ہیں۔
آج کل مولانا محمد یوسف سورت گجراتی، مولانا خالد سعید اعظمی، مولانا عبدالعظیم دہلوی، مولانا محمد معاویہ گورکھپوری، مفتی محمد اسرار سہارنپوری اس عظیم علمی شعبہ سے وابستہ ہیں۔
اس شعبہ کی مستقل اپنی ہزاروں کتابوں پر مشتمل ایک لائبریری ہے، جہاں پر عالم عرب کی بیش قیمت اور جدید مطبوعات کا بڑا ذخیرہ محفوظ ہے، اور جو ہر وقت طلبہ کے مطالعہ میں رہتا ہے۔
نوٹ:حال ہی میں والد محترم رحمۃ اللہ علیہ کے قلم سے مظاہرعلوم کی خدمات حدیث اور ایک سوانیس متخصصین حدیث کے حالات کاجامع تذکرہ شائع ہوچکاہے،اور جس کاحسن افتتاح پورے تزک و احتشام کے ساتھ ۲۷؍رجب ۱۴۴۴ھ /۱۹؍فروری ۲۰۲۳ء میں جامعہ مظاہرعلوم میں ہوچکا ہے ۔
۶- شعبہ تحفظ ختم نبوت:
قادیانیت کے حملوں اور دیگر باطل تحریکوں کی یلغار روکنے اور اس میدان میں فارغین اہل علم کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور سنوارنے کے لیے جامعہ کی مجلس شوریٰ نے یہ شعبہ محرم ۱۴۱۵ھ / جون ۱۹۹۴ء میں قائم کیاتھا۔
لیکن باضابطہ طور پر ذی قعدہ ۱۴۱۸ھ/ مارچ ۱۹۹۸ء سے اس نے کام شروع کیا، اس شعبہ کے ذریعہ منتخب فارغ طلبہ کو تحریری و تقریری طور پر احقاق حق کے لیے تیار کیا جاتا ہے، ماضی میں مولانا عبدالمتین جوناگڈھ گجرات، مولانا ابوبکر شیث اس شعبہ سے وابستہ رہے۔ آج کل مولانا محمد راشد گورکھپوری، مولانا محمداکرم بستوی اور مولانا مفتی محمد جاوید رانا سہارنپوری اس شعبہ سے وابستہ ہیں۔
اس شعبہ کی مستقل ایک لائبریری ہے، جس میں ردقادیانیت وغیرہ پر ہزاروں کی تعداد میں کتابیں ہیں، جس سے منتخب طلبہ اپنی علمی تشنگی بجھارہے ہیں۔
اس شعبہ کا نصاب ایک سالہ ہے ، نیز اس شعبہ کے لیے ایک سہ ماہی کورس بھی مرتب کیا گیا ہے تاکہ جو حضرات ایک سالہ تعلیم مکمل نہ کرسکیں وہ اس سہ ماہی کورس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
یہاںسے ہر ماہ ایک مجلہ ’’پاسبان ختم نبوت‘‘ بھی شائع ہوتا آرہا ہے۔
۷- شعبہ تحقیق و تعلیق:
اس کادوسرا نام مجمع الشیخ محمد زکریا مہاجر مدنی بھی ہے۔ محدث کبیر حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی کے نام نامی پر یہ محرم۱۴۲۳ھ / مارچ ۲۰۰۲ء میں قائم ہوا۔ ماضی میں فن حدیث شریف پر آٹھ جلدوں میں عظیم الشان کتاب ’’جمع الفوائد‘‘اور متخصصین حدیث کے مختلف مقالوںکی اشاعت اسی شعبہ سےہوئی ہے۔
اور گذشتہ سالوں سے مستدلات حنفیہ پر جامع کتاب القویم فی احادیث النبی الکریم اسی شعبہ میں زیرتحقیق ہے، دو جلدیں اس کی شائع ہوچکی ہیں۔ مزید تین جلدوں کا اندازہ ہے۔
مولانا محمدطارق سہارنپوری، مولانا محمد معاویہ گورکھپوری اور مولانا محمد عثمان بجنوری اس شعبہ میں علمی و تحقیقی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
۸- شعبہ ادب عربی:
عربی زبان و ادب کی اہمیت قرآن و حدیث کی وجہ سے مسلم ہے۔
جامعہ مظاہرعلوم کے اربابِ اہتمام نے بھی زبان و بیان کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے مختلف علماء و ادباء سے طویل مشاورت کے بعد ایک جامع نصاب تیار کرکے ماہ شوال ۱۴۲۷ھ /نومبر ۲۰۰۶ء سے اس شعبہ کا آغاز کیا۔
کم و بیش ہر سال بیس طلبہ اس شعبہ سے فارغ ہوکر مختلف مدارس و جامعات میں علمی اور تحریری خدمات انجام دے رہے ہیں، اور تقریباً اس شعبہ کے تربیت یافتہ ملک کے ہر صوبہ میں موجود ہیں۔
اس شعبہ کی بھی مستقل طور سے ایک عظیم الشان لائبریری جس میں عربی زبان و ادب اور شعراء کے قدیم و جدید دواوین طالبان علوم نبوت کی علمی تشنگی بجھانے کے لئے موجود ہے
مولانا معاذ احمد کاندھلوی، مولانا محمد اسجد سہارنپوری، مولانا خالد سعید مبارکپوری اور مولانا ظہیر الہدیٰ کبیر نگری اس شعبہ کے نمایاں اساتذہ ہیں۔
اس شعبہ میں زیر تعلیم طالبانِ علوم نبوت کی جانب سے ہر ماہ تین عربی مجلات ’’الداعی، الدعوۃ اور الصحوہ‘‘ کے نام سے شائع ہوتے ہیں۔
۹- شعبہ تخصص فی القرآۃ:
۱۴۴۳ھ /۲۰۲۲ء میں اس کا باضابطہ قیام عمل میں آیا، اس کا ایک سالہ نصاب اور دستور العمل ہے، جس کے مطابق یہ شعبہ اپنی خدمات انجام دے رہا ہے، اس شعبہ میں اس وقت یہ تین حضرات مولانا قاری صلاح الدین ، مولانا قاری انیس احمد، مولانا قاری معاذ احمد مشغول عمل ہیں اور اس کے نگراں مولانا مفتی معصوم ثاقب رائے چوٹی (رکن مجلس شوریٰ مدرسہ مظاہرعلوم) ہیں۔
امسال ۱۴۴۴ھ /۲۰۲۳ء میں اس شعبہ سے فارغین کی تعداد (۲) ہے۔
نوٹ:سالِ رواں (۱۴۴۵ھ)میں اس شعبہ میں داخل ہونے والے طلبہ کی تعداددس (۱۰) ہے
۱۰- شعبہ تخصص فی التفسیر:
پورے نظم و ضبط اور احتیاط کے ساتھ دس طلبہ کا داخلہ لیاجاتا ہے، مولانا ساجد حسن سہارنپوری، مولانا مفتی نیرّاقبال سپولوی، مولانا محمد حیان بیگ علی گڈھی، مولانا محمد شعیب سہارنپوری،مفتی محمد جابر میواتی اس شعبہ کے مؤقر اساتذہ میں ہیں۔
اس شعبہ کے طالبانِ علوم نبوت کی جانب سے ہر ماہ ایک مجلہ ’’الفرقان‘‘ کے نام سے شائع ہوتا ہے۔
۱۱-شعبۂ تدریب فی القضاء
مسلمانوں کے باہمی نزاعات کے شرعی حل کے لئے جو کمیٹیاں اور دارالقضاء قائم ہیں اس کے لئے افراد سازی کی ضرورت کے تحت ماہ محرم ۱۴۴۵ھ میں اس شعبہ کا قیام عمل میں آیا ،اس شعبہ میں داخلہ کے لئے ضروری ہے کہ طالب علم نے افتاء کررکھا ہو،تاکہ ابواب قضاء کو بہتر طریقہ سے سمجھ سکے ۔
اس شعبہ میں امسال چار طلبہ کا داخلہ منظور کیا گیا ہے ،مولانا مفتی محمد اسرار ،مولانا مفتی محمد جاویداور مولانا مفتی شعیب احمد سہارنپوری اس شعبہ کے استاذ ہیں،فی طالب علم سات سو روپئے ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے ۔(محمد صالح)
قارئین کی معلومات کے لیے یہاں شوال ۱۴۱۹ھ سے شعبان ۱۴۴۴ھ تک آخری پچیس سالوں میں تکمیلات کے شعبوں سے فارغ ہونے والے طلبہ کی مجموعی تعداد اور ان کو ماہ بماہ دئیے جانے والے وظائف یہاں لکھے جاتے ہیں۔
شعبہ افتاء: شوال ۱۴۱۹ھ سے شعبان ۱۴۴۴ھ تک اس شعبہ میں داخلہ لے کر تعلیم و تربیت اور مشق افتاء والے اصحاب کی کل تعداد چار سو اڑسٹھ (۴۶۸) ہے۔ اور یہاں ہر زیر تربیت مفتی کے لیے سا ت سو روپئے وظیفہ ماہانہ متعین ہے۔
٭ تخصص فی الحدیث: از شوال ۱۴۱۹ھ تا شعبان ۱۴۴۴ھ۔
کل تعداد متخصصین حدیث شریف ایک سو تیس (۱۳۰) حضرات۔
اس شعبہ میں سال اول کے ہر طالب علم کے لیے پانچ سو روپئے اور سال دوم میں تکمیل کرنے والوں کے لیے سات سو روپئے منجانب مدرسہ ماہانہ وظیفہ متعین ہے۔
شعبہ تحفظ ختم نبوت: از شوال ۱۴۲۰ھ تا شعبان ۱۴۴۴ھ
اس شعبہ سے کل فارغین کی تعداد ایک بتیس (۱۳۲) ہے۔
اس شعبہ میں داخلہ لینے والے ہر طالب علم کے لیے ماہانہ وظیفہ پانچ سو روپئے متعین ہے، نیز سہ ماہی کورس کرنے والوں کے لیے ماہانہ وظیفہ ایک ہزار روپئے ہے۔
تخصص ادب عربی: از شوال ۱۴۲۷ھ تا شعبان ۱۴۴۴ھ۔
کل فاضلین ادب کی تعدا د، دو سو پچھتر(۲۷۵) ہے۔ اس شعبہ کے طلبہ کے لیے پانچ پانچ سو روپئے ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے۔
شعبہ تخصص فی القرأۃ: یہ شعبہ شوال ۱۴۴۳ھ میں قائم ہوا ہے۔ پہلے سال میں یہاں تخصص کرنے والے طلبہ دوتھے۔ اس شعبہ کا ماہانہ وظیفہ سات سو روپئے متعین ہے۔
شعبہ تخصص فی التفسیر: اس شعبہ کا آغاز بھی شوال ۱۴۴۳ھ میں کیا گیا۔ آٹھ طلبہ زیر تعلیم رہے، جن کو پانچ سو روپئے ماہانہ وظیفہ دیا جارہا ہے۔
شعبہ قرأۃ حفص اردو: اس شعبہ کا قیام بھی ۱۴۴۳ھ میںعمل میں آیا ۔چھبیس( ۲۶) طلبہ اس شعبہ سے منسلک رہے، جن کو تین تین سو روپئے ماہانہ وظیفہ دیاجاتا رہا۔
شعبہ تدریب فی القضاء :اس شعبہ کا قیام محرم ۱۴۴۵ھ میں ہوا ،اس شعبہ میں چار طلبہ تدریب حاصل کررہے،فی کس سات سو روپئے ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے ۔(محمد صالح)
28/06/2026
26/06/2026
جماعت اسلامی ہند کے اعلیٰ سطحی وفد کا مدرسہ مظاہر علوم جدید سہارنپور کا دورہ
آج جماعت اسلامی ہند کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے نائب امیر جماعت اسلامی ہند مولانا ولی اللہ سعیدی فلاحی کی قیادت میں مدرسہ مظاہر علوم جدید، سہارنپور کا دورہ کیا۔
وفد میں محمد رضی الاسلام ندوی، جناب محمد احمد (سکریٹری)، ڈاکٹر رضوان احمد رفیقی فلاحی (اسسٹنٹ سکریٹری) اور مولانا اوصاف احمد فلاحی (سکریٹری شعبۂ علماء، جماعت اسلامی ہند حلقہ اترپردیش مغرب) شامل تھے۔
مدرسہ مظاہر علوم جدید پہنچنے پر وفد کا استقبال مولانا عبد اللہ خالد قاسمی خیرآبادی، ایڈیٹر ماہنامہ مظاہر علوم نے کیا۔ بعد ازاں مدرسہ کے امین عام مولانا مفتی سید محمد صالح الحسنی نے وفد سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران دینی تعلیمی خدمات، باہمی تعاون، امت کے مسائل اور اتحاد و اتفاق کی ضرورت پر گفتگو ہوئی۔ مولانا ولی اللہ سعیدی فلاحی نے جماعت اسلامی ہند کی مختلف سرگرمیوں اور علماء و مدارس سے روابط کے پروگرام کا تعارف کرایا۔
وفد نے مدرسہ کے تعلیمی شعبوں، کتب خانے اور دیگر اداروں کا معائنہ کیا۔ مدرسہ کی علمی و دینی خدمات کو سراہا گیا۔
اس موقع پر مدرسہ کی جانب سے وفد کو مطبوعات پیش کی گئیں، جبکہ وفد نے بھی جماعت اسلامی ہند کا مومنٹو اور لٹریچر پیش کیا۔
مدرسہ مظاہر علوم جدید کی جانب سے جماعت اسلامی ہند کے وفد کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور اس دورے کو دینی اداروں کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا گیا۔یہ پوسٹ فیس بک/واٹس ایپ کے آفیشل پیج کے لیے مناسب لگے گی۔
مظاہر علوم سہارنپور میں یوم عاشور کے متعلق اعلان
17/04/2026
12/04/2026
*مظاہر علوم جدید: اعلان برائے حاضری*