Madrasa Abuzar Ghifari Rz.

Directions Website

Madrasa Abuzar Ghifari Rz. Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Madrasa Abuzar Ghifari Rz., Tutor/Teacher, Jasmor Road Razapur Naugawa Behat Saharanpur Uttar Pradesh 244121, Saharanpur.
(1)

Spreading the Light of Quran, Sunnah & Love of Prophet Muhammad ﷺ”
🕌 Madrasa Abuzar Ghifari Rz.
📖 Quran • Sunnah • Islamic Education
🎙 Islamic Speeches & Deeni Guidance
👤 Mufti Ibrahim Ghifari
📍 Behat, Saharanpur (U.P.)
📩 [email protected]

تھانہ بھون کا ذکر چھڑا ہے تو ایک اور شخصیت کی بات کرتے چلیں ۔ اسی تھانہ بھون میں ایک شخص ہوا کرتے تھے ، بہت بڑے عالم یا ...
28/09/2026

تھانہ بھون کا ذکر چھڑا ہے تو ایک اور شخصیت کی بات کرتے چلیں ۔ اسی تھانہ بھون میں ایک شخص ہوا کرتے تھے ، بہت بڑے عالم یا شیخ نہیں ، کوئی محدث و مفسر نہیں ، کوئی واعظ و فقیہ بھی نہیں ؛ محض حافظ قرآن اور بس ۔ کھلتا ہوا رنگ ، خوبصورت چہرہ ، اس پر چیچک کے ہلکے پھلکے داغ ، میانہ قد ، سفید پوش اور کشادہ بدن ۔ پیدائش کوئی ١٨١٥ء کے آس پاس رہی ہوگی ، ابتدائی تعلیم محض حفظ قرآن تک تھی مگر اس وقت کا حافظ مسائل شرعیہ کے استحضار میں آج کے عالم سے فائق تھا ۔ طبیعت میں انکساری اور اخفا ، مزاج میں بشاشت ، خاندانی طور پر شجرۂ فاروقی سے منسوب تھے سو جلال بھی تھا ۔ بدعت سے منتفر ، سنت کے پابند اور اعتدال پر کاربند۔ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اور شیخ محمد فاروقی دونوں کے پیر بھائی ، میاں جی نور محمد جھنجھانوی کے ممتاز خلیفہ اور جانشین ۔ بیعت ہونے گئے تو میاں جی نے کہہ دیا کہ ایک ماہ بعد آنا ؛ پھر بھی اگر بیعت کا خیال دل میں رہا تو کرلیں گے ۔ ایک ماہ تک آتے اور چپ چاپ مجلس میں بیٹھ جاتے ، ایک روز میاں جی نے خیال کیا اور بلایا ، پوچھا کہ ارادہ اب بھی وہی ہے ؟ کہنے لگے کہ اسی ارادے سے حاضر ہوتا ہوں مگر مارے ادب کے کچھ کہہ نہیں پاتا ۔ میاں جی نے ایک لاکھ پچیس ہزار مرتبہ آیت کریمہ کا ورد کرنے کو کہا ، دھن کے پکے تھے ، وہیں بیٹھے ہوئے شروع کی ، اگلے دن عصر کے وقت پورا کرکے اٹھے ، ضرورت بشری اور نماز کے علاوہ کوئی چیز حائل نہ ہوئی ۔ بیعت کرلیے گئے اور مقام اتنا بلند ہوا کہ میاں نے صراحت سے جانشین مقرر کیا ۔ سلوک کی راہ پر بہت آگے تک بڑھے یہاں تک طبیعت کو اخفاے حال پر آمادہ ہونا پڑا ، عموماً کسی کو بیعت نہ کرتے ، ذکر و اذکار میں مشغول رہتے اور مسجد پیر محمد والی میں (خانقاہ امدادیہ اشرفیہ ) ایک حجرۂ خلوت کو گلزار بنائے رکھتے ۔ یہ تھے حضرت حافظ ضامن شہید علیہ الرحمہ ۔
حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ، حافظ ضامن شہید اور شیخ محمد فاروقی؛ ان تینوں بزرگوں کی آماجگاہ وہی مسجد پیر محمد والی اور کے اردگرد کی سہ دریاں تھی ۔ وہی خلوت گاہ اور جائے ملاقات بھی ، وہی مقام وعظ و ارشاد اور مسند درس و تدریس بھی ۔ تینوں پاے کے بزرگ تھے مگر خشک تھے نہ ہی متقشف ، تینوں جمع ہوتے تو ہنسی ، دل لگی اور مزاح و مذاق چلتا رہتا ، ایک دوسرے کے مزاج کا خیال تھا اور ایک دوسرے کی عزت نفس کا بھی ۔ حافظ صاحب شہید کے مزاج پر خود کو مخفی رکھنے کا غلبہ تھا ، ہمیشہ اپنے دونوں احباب کو ترجیح دیتے اور خود کو کچھ نہ گردانتے ۔ بلا کے متبع سنت اور بدعت سے دور ۔ صاحب اہل و عیال ہونے کے باجود مستغنی اور صابر و شاکر، تمام رات عبادت میں گزرتی تھی ، اس سب کے باوجود وقت و حالات کے تقاضوں کا احساس بھی خوب تھا ۔ اس دور میں انگریز کا بڑھتا ہوا ظلم اور مسلمان حکمرانوں کی عیاشی آپ کی نظر میں تھی ، حالات کی ضرورت کے مطابق کچھ کر گزرنے کا خیال بھی تھا ، اسلام پسند لوگ تھے سو دب کر رہنے کا سوال نہیں تھا ۔
tinyurl.com/MalfoozateThanwi

حضرت گنگوہی اور حضرت نانوتوی علیہ الرحمہ جو حاجی صاحب کے خلیفہ ہیں حافظ صاحب سے بھی دلی تعلق رکھتے تھے ، یہ مختصر سا حلقۂ احباب تھا جنہوں نے انگریز کی بڑھتی شورش کا جائزہ لیا اور جہاد کے جواز کی صورت سامنے رکھی ، شیخ محمد فاروقی محدث تھانوی نے غالباً برعکس رائے دی اور باقی حضرت مزاحمت پر متفق ہوئے ، اس وقت شاملی انگریزی فوج کا اسلحہ خانہ اور چھاؤنی تھی ، اس سے بہتر جگہ شاید حملے کی کوئی نہ تھی سو اہل علم و عزیمت کا یہ قافلہ اپنے مجاہد احباب کی معیت میں، میدان جہاد میں قدم رنجہ ہوا اور دو سے تین روز تک بے جگری سے لڑا ۔ حافظ ضامن شہید صاحب کشف آدمی تھے ، مختلف قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو اپنی شہادت کی خبر تھی ، سو‌ میدان میں اترنے سے قبل نئے کپڑے زیب تن فرمائے اور خوشبو لگا کر حریت کا پرچم لہرانے نکلے ، انگریز فوج پسپا ہوکر ایک قلعے میں محصور ہوئی اور اس کی دیواروں میں سوراخ کرکے گولیاں برسانے لگیں ، حافظ صاحب نے اس قلعے کا دروازہ توڑا اور مسلمان فوج قلعے میں داخل ہوئی ، انگریز فوج زیادہ تھی اور جدید اسلحہ و بارود سے لبریز بھی ۔ یہ اللہ کے نام پر لڑنے والے محدود لوگ تھے اور تلواروں یا مختلف اوزاروں سے لیس ‌۔ تین دن کی سخت جان لڑائی کے بعد قلعے میں گھمسان کا رن پڑا ، حافظ صاحب جی جان سے بہادری کے جوہر دکھلارہے تھے کہ ناف سے کچھ نیچے گولی لگی ، آپ گرے تو حضرت گنگوہی آپ کو اٹھاکر قریبی مسجد میں لے آئے ، گود میں سررکھا اور وہیں جان دیدی ۔ حضرت گنگوہی نے آپ کی نعش کاندھے پر لیے ١٨ کلومیٹر پیدل سفر کرکے تھانہ بھون پہنچائی اور یہیں تدفین عمل میں آئی ۔ اس طرح راہ حق کا یہ قافلہ سالار تقریباً ٤٥ سال کی عمر میں زندہ جاوید ہوگیا ۔
راہ حق میں شہادت کا خون تھا ، آپ کے ایک رفیق و خلیفہ حکیم ضیاء الدین کے مطابق وقت تدفین نعش سے خوشبو پھوٹ رہی تھی جس کا کچھ کچھ اثر اب بھی باقی ہے ۔ حکیم الامت کے تکیے سے مشرق کی جانب چند قدم پر ایک احاطے میں ، بیریوں کی چھاؤں میں آپ کی قبر ہے ۔ آپ مزار پر جائیں گے تو ایک جلال اور بھینی خوشبو کا احساس ہوگا اور اہل دل ہوں گے تو دیکھیں گے کہ دیوبند کے خمیر میں شامل حریت کے یہ قطرے انہی اصحاب عزیمت کے رہین منت ہیں ۔

حذیفہ صبیح

28/09/2026

*تلاوتِ قرآن اللہ کا خصوصی انعام*

وحیِ الٰہی کے سب سے پہلے کلمے ’’اقْرَأْ‘‘ کا مخاطب حضرتِ انسان ہے، نہ کہ فرشتہ۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام کی حیثیت محض واسطۂ وحی کی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت براہِ راست اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوئی، جبکہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کا قرآنِ کریم لے کر آنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھ کر سنانا ان کے ذاتی اختیار کا معاملہ نہ تھا؛ بلکہ وہ صرف حکمِ خداوندی کی تعمیل کرتے تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کی مخالفت نہیں کرسکتے تھے۔

اس کے برعکس انسان کو اللہ تعالیٰ نے طاعت و معصیت دونوں کا اختیار عطا فرمایا ہے۔ وہ چاہے تو اپنے رب کی اطاعت اختیار کرے اور چاہے تو نافرمانی کی راہ پر چلے۔ یہی اختیارِ ارادہ اور اختیارِ عمل انسان کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔ اسی بنا پر تلاوتِ قرآن کا شرف بھی انسان کو عطا کیا گیا، جبکہ فرشتوں کو اس نوع کی تلاوت کا وہ حکم نہیں دیا گیا جو انسان کو دیا گیا ہے۔

علامہ ابن الصلاح رحمہ اللہ اپنے فتاویٰ میں تحریر فرماتے ہیں:

قِرَأَةُ الْقُرْآنِ کَرَامَةٌ أَکْرَمَ اللہُ بِھَا الْبَشَرَ، فَقَدْ وَرَدَ أَنَّ الْمَلَائِکَةَ لَمْ یُعْطَوْا ذٰلِکَ، وَأَنَّھَا حَرِیْصَةٌ عَلٰی اسْتِمَاعِہ مِنَ الْإِنْسِ۔

یعنی قرآنِ کریم کی تلاوت ایسی عظیم شرافت اور خصوصی کرامت ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے نوعِ انسانی کو سرفراز فرمایا ہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں کو یہ شرف عطا نہیں کیا گیا؛ اسی لیے وہ انسانوں سے قرآنِ کریم سننے کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ فرشتے ان مجالس کی تلاش میں رہتے ہیں جہاں قرآنِ کریم کی تلاوت کی جاتی ہو، اس کا مذاکرہ ہوتا ہو یا اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہو۔ چنانچہ جب اہلِ ایمان ایسی بابرکت مجلس میں جمع ہوتے ہیں تو رحمت کے فرشتے انہیں اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے، سکینت ان کے دلوں پر نازل ہوتی ہے اور فرشتے بھی اس مجلسِ قرآن کی برکتوں سے فیض یاب ہوتے ہیں۔

قرآنِ کریم کی تلاوت کی یہ عظمت اس حقیقت سے بھی آشکارا ہوتی ہے کہ فرشتے نہ صرف اہلِ قرآن کی مجالس میں حاضر ہوتے ہیں، بلکہ خود تلاوتِ قرآن کے وقت اس کے کلامِ الٰہی کو سننے اور اس سے قرب حاصل کرنے کے مشتاق رہتے ہیں۔

امام بیہقی رحمہ اللہ نے شعب الإيمان میں یہ روایت نقل فرمائی ہے:

إِذَا قَامَ أَحَدُکُمْ یُصَلِّي مِنَ اللَّیْلِ فَلْیَسْتَکْ، فَإِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا قَرَأَ فِي صَلَاتِہِ وَضَعَ مَلَکٌ فَاہُ عَلٰی فِیْہِ، وَلَا یَخْرُجُ مِنْ فِیْہِ شَیْءٌ إِلَّا دَخَلَ فَمَ الْمَلَکِ۔

ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی شخص رات کو نماز کے لیے کھڑا ہو تو مسواک کرلیا کرے؛ اس لیے کہ جب وہ نماز میں قرآنِ کریم کی تلاوت کرتا ہے تو ایک فرشتہ اپنا منہ اس کے منہ کے قریب رکھ دیتا ہے، اور اس کے منہ سے جو چیز نکلتی ہے وہ فرشتے کے منہ میں داخل ہوتی ہے۔‘‘

اسی مفہوم کی ایک روایت بعض اضافے کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے۔

پس تلاوتِ قرآن محض الفاظ کی ادائیگی کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم شرافت اور خصوصی سعادت ہے۔ جس کلام کو فرشتے سننے کے مشتاق ہوں، اسے اللہ تعالیٰ نے انسان کے سینے میں جگہ دی، اس کی زبان کو اس کی تلاوت کے لیے منتخب فرمایا اور اس کے دل کو اس کے نور سے منور ہونے کا موقع عطا کیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان، اپنے رب کے کلام کی تلاوت کرکے، ایک ایسی نعمت سے بہرہ مند ہوتا ہے جس کی تمنا فرشتے بھی کرتے ہیں۔

سورۂ نساء آیت 163 تا 170پارہ نمبر 6سلسلہ نمبر 104tinyurl.com/TafseeriFawaaid
28/09/2026

سورۂ نساء آیت 163 تا 170
پارہ نمبر 6
سلسلہ نمبر 104
tinyurl.com/TafseeriFawaaid

27/09/2026

*حضرت عیسیٰ علیہ السلام رسول بھی اور صحابی بھی ہیں*

علامہ ذہبی "تجرید" میں، حافظ ابن حجر عسقلانی "الاصابہ فی تمییز الصحابہ" میں اور علامہ زرقانی "شرح مواہب اللدنیہ" میں لکھتے ہیں:
حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام جس طرح اللہ تعالیٰ کے *نبی اور رسول ہیں، اسی طرح وہ صحابی بھی ہیں؛* کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے لیلتہ المعراج میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی زندگی اور ظاہری حیات کی حالت میں دیکھا ہے، جبکہ دیگر انبیاء علیہ السلام نے لیلتہ المعراج میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی وفات کے بعد دیکھا ہے۔

(حضرت آدم علیہ السلام سے خاتم النبیین حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم تک بحوالہ حیاتِ عیسٰی از شیخ الحدیث مولانا ادریس صاحب کاندھلوی)

https://t.me/AbuzarGhifariedu

مستقل مزاجی
26/09/2026

مستقل مزاجی

25/09/2026

क़ुरआन के बिना ज़िंदगी कभी सीधी नहीं हो सकती

> मुफ्ती इब्राहीम गिफारी
> प्रबंधक। मदरसा अबूज़र गिफारी रजि.

क़ुरआन के बिना ज़िंदगी कभी सही रास्ते पर नहीं चल सकती, चाहे इंसान उसे सुधारने की कितनी ही कोशिश क्यों न कर ले।

आप “How to Balance Your Life” के दस कोर्स कर लें, सैकड़ों किताबें पढ़ लें, लेकिन अगर ज़िंदगी में आसमानी हिदायत की रोशनी नहीं है, तो दुनिया और आख़िरत, ज़रूरत और रूहानियत के बीच सही संतुलन कायम करना मुश्किल है।

आसमानी हिदायत के बिना ज़िंदगी ऐसी है जैसे कोई मुसाफ़िर एक बड़े रेगिस्तान में कभी इधर जाए, कभी उधर, लेकिन उसे यह पता ही न हो कि मंज़िल किस तरफ है।

आज इंसान का भी यही हाल है। कभी वह पूरी तरह दुनिया और सुख-सुविधाओं के पीछे भागता है और कभी ऐसी ज़िंदगी चाहता है जिसमें दुनिया की ज़िम्मेदारियों से भी दूर हो जाए। कभी इबादत की तरफ बहुत बढ़ता है और कभी ग़फ़लत में डूब जाता है। कभी सच बोलने का इरादा करता है और कभी झूठ आसान लगने लगता है।

हम रोज़ खुद को बदलने का फैसला करते हैं, लेकिन कुछ ही समय बाद फिर पुरानी आदतों में लौट जाते हैं।

आख़िर ऐसा क्यों है?

क्योंकि हमने अपनी ज़िंदगी को उस किताब से दूर कर दिया है जो हमें सही रास्ता दिखाने के लिए आई थी।

अल्लाह तआला फरमाते हैं:

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَهْدِيْ لِلَّتِيْ هِيَ اَقْوَمُ

“बेशक यह क़ुरआन उस रास्ते की ओर मार्गदर्शन करता है जो सबसे सीधा है।”
(सूरह अल-इसरा: 9)

क़ुरआन हमें सिखाता है कि दुनिया में रहो, लेकिन दुनिया को दिल में मत बसाओ। मेहनत करो, माल कमाओ, परिवार और समाज की ज़िम्मेदारियाँ निभाओ, लेकिन अल्लाह को मत भूलो।

क़ुरआन सिर्फ़ पढ़ने की किताब नहीं है; यह ज़िंदगी जीने का रास्ता दिखाने वाली किताब है।

अगर हम चाहते हैं कि हमारी ज़िंदगी में सुकून, संतुलन और सही दिशा आए, तो हमें क़ुरआन से अपना रिश्ता मज़बूत करना होगा।

अल्लाह हमें क़ुरआन के बताए सीधे रास्ते पर चलने की तौफ़ीक़ दे। आमीन।

https://whatsapp.com/channel/0029Va4Ow8qInlqSJbGemE2H

25/09/2026

Quran ke bina zindagi kabhi seedhi nahi ho sakti

> Mufti Ibrahim Ghifari
> Director. Madrasa Abuzar Ghifari Rz.

Quran ke bina zindagi kabhi sahi raaste par nahi chal sakti, chahe insaan use sudharne ki kitni hi koshish kyun na kar le.

Aap “How to Balance Your Life” ke das course kar len, saikdon kitaben padh len, lekin agar zindagi mein aasmani hidayat ki roshni nahi hai, to duniya aur aakhirat, zaroorat aur roohaniyat ke beech sahi santulan qayam karna mushkil hai.

Aasmani hidayat ke baghair zindagi aisi hai jaise koi musafir ek bade registan mein kabhi idhar jaaye, kabhi udhar, lekin use pata hi na ho ki manzil kis taraf hai.

Aaj insaan ka bhi yahi haal hai. Kabhi woh poori tarah duniya aur sukh-suvidhaon ke peeche bhaagta hai aur kabhi duniya ki zimmedariyon se door hona chahta hai. Kabhi ibadat ki taraf badhta hai aur kabhi ghaflat mein doob jaata hai. Kabhi sach bolne ka irada karta hai aur kabhi jhoot aasaan lagne lagta hai.

Hum roz khud ko badalne ka faisla karte hain, lekin kuch hi waqt baad phir purani aadaton mein laut jaate hain.

Aakhir aisa kyun hai?

Kyunki humne apni zindagi ko us kitaab se door kar diya hai jo humein sahi raasta dikhane ke liye aayi thi.

Allah Ta'ala farmate hain:

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَهْدِيْ لِلَّتِيْ هِيَ اَقْوَمُ

“Beshak yah Quran us raaste ki taraf rahnumai karta hai jo sabse seedha hai.”
(Surah Al-Isra: 9)

Quran humein sikhata hai ki duniya mein raho, lekin duniya ko dil mein mat basao. Mehnat karo, maal kamao, apni zimmedariyan nibhao, lekin Allah ko mat bhoolo.

Quran sirf padhne ki kitaab nahi, balki zindagi jeene ka raasta dikhane wali kitaab hai.

Agar hum chahte hain ki hamari zindagi mein sukoon, santulan aur sahi disha aaye, to humein Quran se apna rishta mazboot karna hoga.

Allah humein Quran ke bataye seedhe raaste par chalne ki taufeeq ata farmaye. Aameen.

https://whatsapp.com/channel/0029Va4Ow8qInlqSJbGemE2H

25/09/2026

*قرآن کے بغیر زندگی کبھی سیدھی نہیں ہو سکتی*

> مفتی محمد ابراہیم غفاری
> مدرسہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ

قرآن کے بغیر زندگی کبھی سیدھی نہیں ہو سکتی، چاہے انسان اسے سنوارنے کی کتنی ہی کوشش کیوں نہ کر لے۔

آپ دس جگہوں سے “How to Balance Your Life” کے کورس کر لیں، سیکڑوں کتابیں پڑھ لیں، لیکن اگر زندگی میں آسمانی ہدایت کا نور نہیں تو دنیا و آخرت، مادیت و روحانیت اور خواہش و ذمہ داری کے درمیان حقیقی توازن قائم نہیں ہو سکتا۔

آسمانی ہدایت کے بغیر زندگی کی گاڑی ایسے ہے جیسے لق و دق صحرا میں کوئی مسافر کبھی اِدھر بھاگے، کبھی اُدھر، مگر اسے معلوم ہی نہ ہو کہ منزل کس سمت ہے۔ یہی حال آج کے انسان کا ہے؛ کبھی مادیت کی انتہا، کبھی رہبانیت؛ کبھی عبادت کی طرف رغبت، کبھی غفلت؛ کبھی سچائی کا عزم، کبھی جھوٹ کی آمادگی۔

ہم ہر روز خود کو بدلنے کا ارادہ کرتے ہیں، مگر شام تک وہی پرانی سوچ غالب آ جاتی ہے۔ کبھی اللہ اور دنیا دونوں کو راضی کرنا چاہتے ہیں اور کبھی دونوں سے بے اعتنائی برتتے ہیں۔

*یہ بے اعتدالیاں قرآن سے دوری کا نتیجہ نہیں تو اور کیا ہیں؟*

کیونکہ قرآن انسان کو وہ راستہ دکھاتا ہے جس میں نہ افراط ہے نہ تفریط، نہ بے سمتی ہے نہ بے اعتدالی۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَهْدِيْ لِلَّتِيْ هِيَ اَقْوَمُ
“بے شک یہ قرآن وہ راستہ دکھاتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھا ہے۔”

قرآن عقیدے سے عبادت تک، معاملات سے اخلاق تک، معاشرت سے زندگی کے ہر شعبے تک ایک ایسا توازن عطا کرتا ہے جو دل کا سکون، روح کا چین اور زندگی کا حسن بن جاتا ہے۔

قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ دنیا میں رہو مگر دنیا کو دل میں نہ بساؤ، مال کماؤ مگر مال کے غلام نہ بنو، عبادت کرو مگر ذمہ داریوں سے فرار نہ اختیار کرو۔

بس ضرورت یہ ہے کہ ہم قرآن کو صرف تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ زندگی کی رہنما کتاب بنائیں۔

ربِ محبت! ہمیں قرآن کے اَقْوَم راستے پر چلا اور اسی پر ثابت قدم رکھ۔ آمین۔

https://whatsapp.com/channel/0029Va4Ow8qInlqSJbGemE2H

حدیثِ پاک کا ترجمہحضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حضرت اُمِّ سائب یا اُمِّ مُسَیَّب رضی ا...
23/09/2026

حدیثِ پاک کا ترجمہ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حضرت اُمِّ سائب یا اُمِّ مُسَیَّب رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا:

«مَا لَكِ يَا أُمَّ السَّائِبِ أَوْ يَا أُمَّ الْمُسَيَّبِ تُزَفْزِفِينَ؟»

اے اُمِّ سائب! یا اے اُمِّ مُسَیَّب! تمہیں کیا ہوا، تم کیوں کانپ رہی ہو؟

انہوں نے عرض کیا: بخار ہے، اللہ تعالیٰ اسے برکت نہ دے۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

«لَا تَسُبِّي الْحُمَّى، فَإِنَّهَا تُذْهِبُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ، كَمَا يُذْهِبُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ»

"بخار کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ بخار بنی آدم کے گناہوں کو اس طرح دور کر دیتا ہے جیسے بھٹی کی دھونکنی لوہے کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔"

(صحیح مسلم)

حدیث کا آسان مطلب

اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے بخار کو گالی دینے یا برا کہنے سے منع فرمایا۔ بیماری انسان کے لیے تکلیف ضرور ہے، لیکن مومن جب صبر کرتا ہے تو وہ تکلیف اس کے گناہوں کے مٹنے کا سبب بن سکتی ہے۔

جس طرح لوہے کو آگ میں تپانے اور دھونکنی سے اس کا میل کچیل صاف کیا جاتا ہے، اسی طرح بخار کی تکلیف بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے انسان کے گناہوں کو صاف کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

سبق: بیماری میں شکایت اور بددعا کے بجائے صبر، اللہ سے اجر کی امید اور صحت کی دعا کرنی چاہیے۔

سوچو، تم اپنی پوری زندگی ایک ہی کتاب کو پڑھنے میں لگا دو اور پھر بھی اس حال میں دنیا سے چلے جاؤ کہ تم نے صرف اس کی سطح ک...
23/09/2026

سوچو، تم اپنی پوری زندگی ایک ہی کتاب کو پڑھنے میں لگا دو اور پھر بھی اس حال میں دنیا سے چلے جاؤ کہ تم نے صرف اس کی سطح کو چھوا ہے۔

اس دیوار کو دیکھ کر مجھے یہی احساس ہوا۔
سینکڑوں جلدیں۔ علماء کی نسلیں۔ ہزاروں صفحات، صرف اللہ کے کلام کو سمجھنے کے لیے۔

اور پھر بھی اللہ فرماتا ہے:
"اور اگر زمین کے تمام درخت قلم بن جائیں اور سمندر، اس کے بعد سات سمندر اور، روشنائی بن جائیں، تب بھی اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے۔"
— سورۃ لقمان: 27

اللہ اکبر۔ یہی تو قرآن کا معجزہ ہے۔

Address

Jasmor Road Razapur Naugawa Behat Saharanpur Uttar Pradesh 244121
Saharanpur
247121

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Madrasa Abuzar Ghifari Rz. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category