28/09/2026
تھانہ بھون کا ذکر چھڑا ہے تو ایک اور شخصیت کی بات کرتے چلیں ۔ اسی تھانہ بھون میں ایک شخص ہوا کرتے تھے ، بہت بڑے عالم یا شیخ نہیں ، کوئی محدث و مفسر نہیں ، کوئی واعظ و فقیہ بھی نہیں ؛ محض حافظ قرآن اور بس ۔ کھلتا ہوا رنگ ، خوبصورت چہرہ ، اس پر چیچک کے ہلکے پھلکے داغ ، میانہ قد ، سفید پوش اور کشادہ بدن ۔ پیدائش کوئی ١٨١٥ء کے آس پاس رہی ہوگی ، ابتدائی تعلیم محض حفظ قرآن تک تھی مگر اس وقت کا حافظ مسائل شرعیہ کے استحضار میں آج کے عالم سے فائق تھا ۔ طبیعت میں انکساری اور اخفا ، مزاج میں بشاشت ، خاندانی طور پر شجرۂ فاروقی سے منسوب تھے سو جلال بھی تھا ۔ بدعت سے منتفر ، سنت کے پابند اور اعتدال پر کاربند۔ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اور شیخ محمد فاروقی دونوں کے پیر بھائی ، میاں جی نور محمد جھنجھانوی کے ممتاز خلیفہ اور جانشین ۔ بیعت ہونے گئے تو میاں جی نے کہہ دیا کہ ایک ماہ بعد آنا ؛ پھر بھی اگر بیعت کا خیال دل میں رہا تو کرلیں گے ۔ ایک ماہ تک آتے اور چپ چاپ مجلس میں بیٹھ جاتے ، ایک روز میاں جی نے خیال کیا اور بلایا ، پوچھا کہ ارادہ اب بھی وہی ہے ؟ کہنے لگے کہ اسی ارادے سے حاضر ہوتا ہوں مگر مارے ادب کے کچھ کہہ نہیں پاتا ۔ میاں جی نے ایک لاکھ پچیس ہزار مرتبہ آیت کریمہ کا ورد کرنے کو کہا ، دھن کے پکے تھے ، وہیں بیٹھے ہوئے شروع کی ، اگلے دن عصر کے وقت پورا کرکے اٹھے ، ضرورت بشری اور نماز کے علاوہ کوئی چیز حائل نہ ہوئی ۔ بیعت کرلیے گئے اور مقام اتنا بلند ہوا کہ میاں نے صراحت سے جانشین مقرر کیا ۔ سلوک کی راہ پر بہت آگے تک بڑھے یہاں تک طبیعت کو اخفاے حال پر آمادہ ہونا پڑا ، عموماً کسی کو بیعت نہ کرتے ، ذکر و اذکار میں مشغول رہتے اور مسجد پیر محمد والی میں (خانقاہ امدادیہ اشرفیہ ) ایک حجرۂ خلوت کو گلزار بنائے رکھتے ۔ یہ تھے حضرت حافظ ضامن شہید علیہ الرحمہ ۔
حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ، حافظ ضامن شہید اور شیخ محمد فاروقی؛ ان تینوں بزرگوں کی آماجگاہ وہی مسجد پیر محمد والی اور کے اردگرد کی سہ دریاں تھی ۔ وہی خلوت گاہ اور جائے ملاقات بھی ، وہی مقام وعظ و ارشاد اور مسند درس و تدریس بھی ۔ تینوں پاے کے بزرگ تھے مگر خشک تھے نہ ہی متقشف ، تینوں جمع ہوتے تو ہنسی ، دل لگی اور مزاح و مذاق چلتا رہتا ، ایک دوسرے کے مزاج کا خیال تھا اور ایک دوسرے کی عزت نفس کا بھی ۔ حافظ صاحب شہید کے مزاج پر خود کو مخفی رکھنے کا غلبہ تھا ، ہمیشہ اپنے دونوں احباب کو ترجیح دیتے اور خود کو کچھ نہ گردانتے ۔ بلا کے متبع سنت اور بدعت سے دور ۔ صاحب اہل و عیال ہونے کے باجود مستغنی اور صابر و شاکر، تمام رات عبادت میں گزرتی تھی ، اس سب کے باوجود وقت و حالات کے تقاضوں کا احساس بھی خوب تھا ۔ اس دور میں انگریز کا بڑھتا ہوا ظلم اور مسلمان حکمرانوں کی عیاشی آپ کی نظر میں تھی ، حالات کی ضرورت کے مطابق کچھ کر گزرنے کا خیال بھی تھا ، اسلام پسند لوگ تھے سو دب کر رہنے کا سوال نہیں تھا ۔
tinyurl.com/MalfoozateThanwi
حضرت گنگوہی اور حضرت نانوتوی علیہ الرحمہ جو حاجی صاحب کے خلیفہ ہیں حافظ صاحب سے بھی دلی تعلق رکھتے تھے ، یہ مختصر سا حلقۂ احباب تھا جنہوں نے انگریز کی بڑھتی شورش کا جائزہ لیا اور جہاد کے جواز کی صورت سامنے رکھی ، شیخ محمد فاروقی محدث تھانوی نے غالباً برعکس رائے دی اور باقی حضرت مزاحمت پر متفق ہوئے ، اس وقت شاملی انگریزی فوج کا اسلحہ خانہ اور چھاؤنی تھی ، اس سے بہتر جگہ شاید حملے کی کوئی نہ تھی سو اہل علم و عزیمت کا یہ قافلہ اپنے مجاہد احباب کی معیت میں، میدان جہاد میں قدم رنجہ ہوا اور دو سے تین روز تک بے جگری سے لڑا ۔ حافظ ضامن شہید صاحب کشف آدمی تھے ، مختلف قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو اپنی شہادت کی خبر تھی ، سو میدان میں اترنے سے قبل نئے کپڑے زیب تن فرمائے اور خوشبو لگا کر حریت کا پرچم لہرانے نکلے ، انگریز فوج پسپا ہوکر ایک قلعے میں محصور ہوئی اور اس کی دیواروں میں سوراخ کرکے گولیاں برسانے لگیں ، حافظ صاحب نے اس قلعے کا دروازہ توڑا اور مسلمان فوج قلعے میں داخل ہوئی ، انگریز فوج زیادہ تھی اور جدید اسلحہ و بارود سے لبریز بھی ۔ یہ اللہ کے نام پر لڑنے والے محدود لوگ تھے اور تلواروں یا مختلف اوزاروں سے لیس ۔ تین دن کی سخت جان لڑائی کے بعد قلعے میں گھمسان کا رن پڑا ، حافظ صاحب جی جان سے بہادری کے جوہر دکھلارہے تھے کہ ناف سے کچھ نیچے گولی لگی ، آپ گرے تو حضرت گنگوہی آپ کو اٹھاکر قریبی مسجد میں لے آئے ، گود میں سررکھا اور وہیں جان دیدی ۔ حضرت گنگوہی نے آپ کی نعش کاندھے پر لیے ١٨ کلومیٹر پیدل سفر کرکے تھانہ بھون پہنچائی اور یہیں تدفین عمل میں آئی ۔ اس طرح راہ حق کا یہ قافلہ سالار تقریباً ٤٥ سال کی عمر میں زندہ جاوید ہوگیا ۔
راہ حق میں شہادت کا خون تھا ، آپ کے ایک رفیق و خلیفہ حکیم ضیاء الدین کے مطابق وقت تدفین نعش سے خوشبو پھوٹ رہی تھی جس کا کچھ کچھ اثر اب بھی باقی ہے ۔ حکیم الامت کے تکیے سے مشرق کی جانب چند قدم پر ایک احاطے میں ، بیریوں کی چھاؤں میں آپ کی قبر ہے ۔ آپ مزار پر جائیں گے تو ایک جلال اور بھینی خوشبو کا احساس ہوگا اور اہل دل ہوں گے تو دیکھیں گے کہ دیوبند کے خمیر میں شامل حریت کے یہ قطرے انہی اصحاب عزیمت کے رہین منت ہیں ۔
حذیفہ صبیح