05/06/2025
please follow and lesson Islamic knowledge.
05/06/2025
05/06/2025
09/03/2025
09/03/2025
20/02/2025
*عمرہ اور حج کرنے والوں کے لیے سعودی عرب میں تین اہم درپیش مسائل*
(1) سعودی عرب میں وقت سے پہلے اذانِ جمعہ
(2) حرم شریف میں بعض لوگوں کا امام سے اگے کھڑے ہو کر نماز پڑھنا
(3) نماز جنازے میں جنازہ اور امام کا پیچھے ہوجانا.
ایک زمانے سے سعودی عرب میں بہت سی ایسی تبدیلیاں ہو رہی ہیں جن کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں اور ثواب کے بجائے گناہ مل رہا ہے
لیکن افسوس اس وقت اور زیادہ بڑھنے لگتا ہے جب شریعت اور مسائل کے اندر یہ لوگ تبدیلیاں کرتے ہیں
ان میں سے ایک تبدیلی اذانِ جمعہ کے سلسلے میں ہے
اس کا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ جو معتمرین اور حجاج کرام عمرہ اور حج کے لیے جاتے ہیں ان کی نماز ہی نہیں ہوتی ہے اس لیے جو حضرات عمرہ اور حج کے لیے جا رہے ہیں ان کے لیے ان باتوں کا خاص طور سے لحاظ رکھنا ضروری ہے۔
ہم یہاں بعض ایسے مسائل ذکر کر رہے ہیں کہ جن میں پہلے ترتیب کچھ اور تھی اور اب کچھ اور کر دی گئی ہے ان میں *پہلا مسئلہ* یہ ہے کہ:
حرمین شریفین میں پہلے معمول یہ تھا کہ اذان جمعہ مکروہ وقت ختم ہو جانے کے بعد دی جاتی تھی اور اس کے بعد تھوڑا سا وقت دے کر خطبہ دیا جاتا تھا لیکن شیخ سدیس حفظہ اللہ کے رئیس امور حرمین بننے کے بعد یہ معمول بدل گیا اب جمعہ کا وقت شروع ہونے سے تقریبا آدھا گھنٹہ پہلے ہی نمازِ جمعہ کی اذان دے دی جاتی ہے جس سے ہوتا یہ ہے کہ لوگ مکروہ وقت میں نماز ادا کر لیتے ہیں جب کہ مکروہ وقت میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے احادیث کے اندر اس کی ممانعت ائی ہے۔١
اسی طرح جو لوگ وقت سے پہلے مکروہ وقت میں جمعہ کی سنتیں ادا کر لیتے ہیں ان کی سنت ادا نہیں ہوتی ہیں اس لیے کہ ابھی تک تو جمعہ کا وقت ہوا ہی نہیں، لیکن پھر سوال مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ پھر سنتیں پڑھیں ؟ تو اس کی صورت یہ ہے کہ نماز کے بعد سنتیں پڑھ لیا کریں اس کی گنجائش ہے اس لیے کہ وہ شخصمجبور ہے۔
*دوسرا مسئلہ* یہ ہے کہ جماعت کی نماز میں واجب ہے کہ امام اگے کھڑا ہو اور مقتدی اس کے پیچھے جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں اپنے مساجد کے اندر اور معمول بہ ہے، امام اگے کھڑا ہوتا ہے اور سارے مقتدی اس کے پیچھے، اور یہی معمول دور صحابہ اور تابعین سے اور امت سے چلاآرہا ہے تو مسئلہ یہ ہے کہ اگر مقتدی امام سے اگے بڑھ جاتا ہے تو اس کی نماز نہیں ہوتی ہے احناف شوافع اور حنابلہ کا کی یہی رائے ہے ہاں امام مالک کے یہاں بھی بہتر طریقہ یہی ہے اگرچہ ان کا ایک دوسرا قول یہ ہے کہ اگر مقتدی امام سے اگے بڑھ گیا تو اس کی نماز کراہت کے ساتھ ہو جاتی ہے۔
حرمین شریفین کے اندر بھی پہلے یہ ہی معمول تھا
حجر اسود کے سامنے امام کھڑا ہوکر لوگوں کو نماز پڑھا دیتا اور لوگ پیچھے ہوا کرتے تھے، لیکن اب یہ طریقہ بدل گیا ہے کہ باب ملک عبدالعزیز کے پاس فرسٹ فلور پر ایک عارضی احاطہ بنا ہوا ہے امام صاحب اس میں کھڑے ہو کر نماز پڑھاتے ہیں اور ہزاروں لوگ ان کے آگے کھڑے ہو کر نماز ادا کر رہے ہوتے ہیں جمہور فقہا کے نزدیک اس صورت میں اگے رہنے والی مقتدیوں کی نماز ہی نہیں ہوگی،
اس لیے عمرہ کرنے والوں اور حج کرنے والوں کو چاہیے کہ اس حصے میں نماز ادا نہ کیا کریں اس لیے کہ امام جس ڈائریکشن میں کھڑا ہے اس میں اگر مقتدی امام سے اگے بڑھ جائے تو نماز نہیں ہوگی ہاں دوسری جو سمتیں ہیں ڈائریکشن ہیں ان میں اگے بڑھ جائے تو کوئی حرج نہیں۔٢
*تیسرا مسئلہ* یہ ہے کہ نماز جنازے کی ترتیب یہ ہے کہ جنازہ امام کے اگے ہوں اور جنازہ پڑھانے والا ، پڑھنے والے اس کے پیچھے کھڑے ہوں یہی آپ علیہ الصلوۃ والسلام اور صحابہ کرام کا معمول رہا ہے اور اب تک معمول بھی چلا آرہا ہے چنانچہ مسجد نبوی میں آج ھی اسی طرح نماز جنازہ ادا کی جاتی ہے لیکن مسجد حرام میں اب جنازے کی جگہ عام نمازوں میں امام کے لیے مقررہ جنگوں سے بھی پیچھے رکھی گئی ہے اور امام جنازے کے پیچھے کھڑا ہو کر نماز پڑھاتا ہے اور نمازہ جنازہ پڑھنے والوں کی بڑی تعداد اس طرح نماز ادا کر رہی ہوتی ہے کہ جنازہ بھی پیچھے اور امام بھی پیچھے یہ طریقہ بھی جمہور فقہاء کے طریقے کے بالکل خلاف ہے اس لیے جو لوگ امام کے اگے ہیں ان کو نماز جنازہ میں شامل نہیں ہونا چاہیے، ہاں جو لوگ امام کی سمت سے ہٹ کر کھڑے ہوں اگرچہ وہ لوگ بیت اللہ سے بہت زیادہ قریب ہیں ان کی نماز ہو جائے گی ، پہلے معمول یہی تھا کہ کہ جنازہ کعبۃ اللہ کے قریب لے جایا جاتا امام وہیں سے کھڑا ہو کر نماز جنازہ پڑھا کرتا تھا۔
اور یاد رکھنا چاہیئے کہ حرمین شریفین چونکہ امت مسلمہ کا محور ایمان ہے اس لیے دو چار ادمیوں یا کسی کمیٹی کا مل کر اپنی رائے سے کوئی مسئلہ بنا دینا اور اسی کو معمول بہا بنا لینا اس سے وہ مسئلہ نہیں بنے گا
اور اس کو تمام مسلمانوں پر نافذ کر دینا یہ ہرگز قبول نہیں کیا جا سکتا۔
ثواب دارین کے لیے اور لوگوں کی عبادات کی درستگی کے لیے آگے ارسال کرنا ہرگز نہ بھولیں ۔
"١الفتاوى الهندية (1/ 52):
"ثلاث ساعات لاتجوز فيها المكتوبة ولا صلاة الجنازة ولا سجدة التلاوة إذا طلعت الشمس حتى ترتفع وعند الانتصاف إلى أن تزول وعند احمرارها إلى أن يغيب إلا عصر يومه ذلك فإنه يجوز أداؤه عند الغروب. هكذا في فتاوى قاضي خان۔ عن عُقبة بن عامر الجُهَنِي رضي الله عنه قال: ثلاث ساعات كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يَنهَانا أن نُصَلِّي فيهن، أو أن نَقْبُر فيهن مَوْتَانَا: «حِين تَطلع الشَّمس بَازِغَة حتى ترتفع، وحِين يقوم قَائم الظَّهِيرة حتى تَميل الشَّمس، وحين تَضيَّف الشمس للغُروب حتى تَغرب».
[صحيح] - [رواه مسلم]۔
٢البحر الرائق :
" لأن من المعلوم أن من تقدم على إمامه فسدت صلاته، كما في جوف الكعبة؛ لتركه فرض المقام". ( ٣ / ١٤٦ )
وفیه أیضاً:
"واعلم أن شرائط القدوة مفصلة: الأولى: أن لايتقدم المأموم على إمامه مع اتحاد الجهة، فإن تقدم مع اختلافها كالتحلق حول الكعبة صح". ( ٣ / ٣٧٨)
الفتاوى الهندية (1/ 65):
"وإذا صلى الإمام في المسجد الحرام وتحلق الناس حول الكعبة وصلوا صلاة الإمام فمن كان منهم أقرب إلى الكعبة من الإمام جازت صلاته إذا لم يكن في جانب الإمام. كذا في الهداية".
٣"حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
"صَلَّيْتُ وَرَاءَ النَّبِيِّ ﷺ عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ فِي وَسَطِهَا".
(صحیح بخاری: 1335، صحیح مسلم: 964)
✍️۔۔
19/02/2025
15/02/2025
اسلام کی حقانیت:
اسلام محض ایک مذہب نہیں، بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس کی حقانیت کا ثبوت اس کی ہمہ گیری، عقلی دلائل، اور عملی نتائج میں پوشیدہ ہے۔
اسلام کی بنیادی تعلیمات توحید، رسالت، اور آخرت پر ایمان پر مشتمل ہیں۔ قرآنِ مجید، جو کہ اسلام کی بنیادی کتاب ہے، نہ صرف عقلی و سائنسی حقائق سے مطابقت رکھتی ہے بلکہ اخلاقی و روحانی طور پر بھی انسان کی فلاح کا ضامن ہے۔ نبی کریمﷺ کی سیرتِ طیبہ اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ اسلامی تعلیمات محض نظریاتی نہیں بلکہ عملی طور پر قابلِ عمل ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اسلام پر عمل کیا گیا، معاشرے میں عدل، محبت اور بھائی چارہ پروان چڑھا۔ آج بھی، اگر ہم اسلامی اصولوں کو اپنائیں تو نہ صرف انفرادی طور پر سکون حاصل کر سکتے ہیں بلکہ اجتماعی سطح پر ایک مثالی معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔
اسلام کی حقانیت صرف مذہبی دلائل تک محدود نہیں بلکہ اس کے عقائد، عبادات، اور اخلاقی اصول انسانی فطرت سے ہم آہنگ ہیں، جو ہر دور میں انسانیت کی راہنمائی کرتے رہے ہیں اور ہمیشہ کرتے رہیں گے۔✍️۔۔
follow our page and like.
04/02/2025
کبھی خوابوں پہ مرتا ہوں، کبھی تعبیر مارے ہے
کبھی تقدیر کا لکھا ، کبھی تدبیر مارے ہے
ہوس ہے میرے اندر کی ، دغا دیتی ہے جو مجھ کو
کبھی پانے کی حسرت تو کبھی تسخیر مارے ہے
ابھی سوچوں بھلا ہے یہ، ابھی سوچوں کہ وہ اچھا
انہی سوچوں میں گم اکثر مجھے تاخیر مارے ہے
عجب فطرت ہے آدم کی وہ چاہے جو نہیں ہوتا
کہیں زندان کی خواہش، کہیں زنجیر مارے ہے
بنوں یکتا یگانہ میں، نہیں کچھ ہاتھ میں لیکن
کہاں لشکر پہ حاوی تھا کہاں اک تیر مارے ہے
کتابوں میں لکھے قصے، بتاتے ہیں مجھے کچھ اور
جو اپنا حال اب دیکھوں تو وہ تحریر مارے ہے
محبت ہے عجب پھندا ، کوئی بچتا نہیں اس سے
وہ جو اپنوں سے بچ جائے اسے رہ گیر مارے ہے
شاعر : اتباف ابرک
16/01/2025
غزہ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ صرف 42 دنوں کے لیے ہوا ہے، ہرطرف جشن کا سماں ہے خوشی کے نغمے سنائی دے رہے ہیں، یہ خوشی بجا بھی ہے رشتۂ اخوت و ایمانی کا تقاضا بھی یہ ہی ہے، مگر ہم لوگوں کی یہ خوش رسمی ہے اصل خوشی تو ان فلسطینی معصوم مظلوموں کی ہے جنھوں نے ایک سال سے زائد عرصے سے ظالم کے دھماکہ خیز حملوں میں وحشیانہ بمباری کا بے سروسامانی کی حالت میں سامنا کیا جن کی آنکھوں نے چالیس ہزار سے زائد ماؤں بہنوں ، نوجوانوں ، بوڑھے اور معصوم کلیوں کے جنازے اٹھتے دیکھے جن کے ہاتھوں نے زخموں سے چورکئیں لاکھ لوگوں کو کی مرہم پٹی کی ۔۔ جنھوں نے اپنے آرام دہ گھروں کو چھوڑ کرکھلے آسماں کے سائے تلے موسم گرما سورج کی دہکتی ہوی آگ میں گزرا، موسم سرما میں آسمان سے برستی برف ،اور ٹھنڈی طوفانی ہواؤں کے تھپیڑوں کو جھیلا،اور موسم باراں میں برستے اولوں کا سامنا کیا،لیکن قدرت کی بھی عجیب شان ہے کہ
امریکہ والوں کو محلوں سے نکال کر خیموں میں بھیج دیا، غزہ والوں کے لئے خیموں سے نکل کر گھروں میں جانے کے فیصلے کردئیے۔ وہ کتنی عظیم ذات ہے، آن کی آن میں پانسے پلٹ دیتی ہے، معیار تبدیل کردیتی ہے، غرور خاک کر دیتی ہے، چارہ گر بے چارے ہو جاتے ہیں، اور بے چارے چارہ گر بن جاتے ہیں۔ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأن سورة الرحمن: ہر دن اس کی ایک الگ ہی شان امتیازی ہے)۔ اللہ کے 29 ... سوائے کوئی معبود نہیں۔
10/01/2025
*اللہ کی کبریائی قائم ہے۔*
ذُقْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْكَرِیْمُ, اِنَّ هٰذَا مَا كُنْتُمْ بِهٖ تَمْتَرُوْنَ.
✍️: سمیع اللہ خان
کل ٹرمپ نے دنیائے عرب کو جہنم بنانے کی دھمکی دی تھی اور آج یہ تصویر سامنے آئی ہے جس میں ایک تاریخی یہودی عبادت گاہ امریکا کے کیلیفورنیا میں خدائی آگ کے قہر میں تہس نہس ہوگئی ہے! ٹرمپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ جنت اور جہنم کا مالک اللہ ہے، تم جسے جنت سمجھتے ہو وہ جنت نہیں ہے نہ ہی جس جہنم۔کی دھمکی تم دیتے ہو وہ تمہارے اختیار میں ہے! تمہیں اپنی اوقات سمجھنے کی ضرورت ہے ۔
غزہ اور فلسطین کو آگ و خون میں نہلانے والوں پر اب قدرت کی آگ برس رہی ہے، اور انہیں دنیا ہی میں جہنم۔کا مزہ چکھا رہی ہے ۔
امریکا کے لاس۔اینجلس میں ایسی آگ بھڑک اٹھی ہے جس پر قابو پانے سے دنیائی ٹکنالوجی اور اس کے دجّالی خدا بھی عاجز ہیں ۔
یہ وہ علاقہ ہے جہاں پر یھودیت کے ایسے ہمنوا ہیں جو فلسطینی خون کا نشہ کرکے مزے لیتے ہیں ۔ جو لوگ غزہ میں ظلم و ستم پر ناچتے تھے آج قدرت کے اس قہر پر چیخ و پکار مچائے ہوئے ہیں ۔: ذُقْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْكَرِیْمُ, اِنَّ هٰذَا مَا كُنْتُمْ بِهٖ تَمْتَرُوْنَ.
امریکا میں یہ تباہی مچانے والی آگ اللہ ربّ العزت کے قہر اور غضب کا بیانیہ ہے کیونکہ جب ظالم متکبر ہوجاتا ہے تو اللہ کو جلال آتا ہے ۔
مایوسی اور اندھیروں کے ظاہری منظرناموں کے دوران قدرت کی یہ کارروائیاں مستقبل کا حقیقی بیانیہ ہیں ۔ اس طرح اللہ تعالیٰ اپنے مومنین کو راحت اور ہمت کا پیغام بھیجتا ہے البتہ اسے پڑھنے کے لیے ایمان کی نظر مطلوب ہے ۔
آنے والا دور ڈونالڈ ٹرمپ اور ایلون مسک کی پسپائی کا دور ہوگا، ٹرمپ، مسک اور نیتن یاہو جیسے دجال کے ہرکارے باندھ کر ابوعبیدہ کے حضور پیش کیے جانے والے ہیں ۔
مسلم ممالک کے صہیونی حکمرانوں کا دور لد جانے والا ہے، ان کی ذلت و خواری شروع ہونے والی ہے، جو لوگ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ اب ہر حال میں فلسطین کے جانباز پسپا ہورہے ہیں وہ غلط فہمی میں مبتلا ہیں، جو لوگ مودی سے لے کر ٹرمپ اور ایلون مسک سے لےکر نیتن یاہو جیسے اسلام دشمنوں کے ظاہری عروج سے مرعوب ہیں وہ مادیت کے سیلاب کو ایمانی نظریے سے سمجھ نہیں پا رہے ہیں، عالمی کفر کے علمبرداروں کی دھمکیاں اور متکبرانہ لہجے درحقیقت ان کے زوال کی جانب سرپٹ دوڑنے کے اشارے ہیں۔
اللہ ربّ العزّت یہ دکھلا رہے ہیں کہ مسلم ممالک اگر نالائق ہو جائیں، مسلمان خواہ بزدل و بےغیرت ہو جائیں اور منافقین و مشرکین کا مادی خدائی کا علمبردار اتحاد ناقابلِ تسخیر سمجھا جانے لگ جائے تب اللہ کی قدرت حرکت میں آتی ہے اللہ ربّ العزّت بندوں کا محتاج نہیں ہے نہ ہی سنت اللہ کو اپنی کارروائی کی خاطر بندوں کی ضرورت ہے، اللہ اور اس کے فرشتے تو ہر حال میں اپنے حقیقی بندوں مؤمنین صادقین کی حمایت میں موجود ہے ۔ جب دنیا یقین کرلیتی ہے کہ اب یہ ایمان والے مٹھی بھر رہ گئے ہیں اور کفر کو غلبہ حاصل ہوچکا ہے اور دجال کی خدائی کا تخت سجایا جاچکا ہے تب اللہ ربّ العزّت اپنی کبریائی کا ایسا نظارہ کراتا ہے کہ ظالم گروہ مبہوت ہو کر رہ جاتا ہے ۔
اللہ کی کبریائی قائم ہے ۔ ایمان کی آنکھوں سے ہی اسے دیکھا اور محسوس کیا جاسکتا ہے ۔
جہنم اور جنت کا اختیار اللہ کے ہاتھوں میں ہے یہ اللہ نے ٹرمپ اور اس کے ہمنواؤں کو دکھا دیا ہے ۔