Mufti Abdullah mazahiri

Mufti Abdullah mazahiri

Share

Islamic videos, bayanat, deeni masail ki maloomat wagera ke liye hmare channel ko subscribe krai.

Thanks.

اسلامی ویڈیوز، بیانات،اور دینی مسائل کی معلومات کے لیے ہمارے اس چینل کو سبسکرائب کریں۔ شکریہ۔

27/10/2024

ابھی یہ خبر بندے کے سامنے سے بھی گزری تھی کہ: ایک ٹور والے نے معتمرین( عمرے کے سفر پر جانے والوں) کے بیگ میں لڈو(ایک قسم کی مٹھائی) کے اندر نشہ آور کیپسول رکھے تھے، جدہ ائیر پورٹ پر سبھی کو پولس نے اپنی گرفت میں لے لیا ہے، یاد رہے سعودی ملک میں اس طرح کی حرکت پر سزائے موت ہے۔ اللہ ان کے ساتھ آسانی کا معاملہ فرمائے۔
یہ حقیقیت ہے کہ جو ٹور ایجنٹ کم خرچ اور سستے میں عمرے کا ٹور لیکر جاتے ہیں، وہ اکثر اسی طرح کی حرکتوں سے کم رقم کی تلافی اور بھرپائی کرتے ہیں، اور پہلی مرتبہ عمرے کے سفر پر جانے والے کم خرچ کے لالچ میں ان کے اس مکر و فریب کے جال اور پھندے میں پھس جاتے ہیں، اس لیے پانچ دس ہزار کے لالچ میں اپنی جان، مال، عزت و آبرو کو ہرگز داؤں پر نہ لگائیں، بلکہ اچھے ٹور سے جائیں، جو حضرات عمرے کے سفر پر متعدد مرتبہ جاچکے ہوں، ان سے ٹور کے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کریں، وہ ان شاء اللہ آپ کی اس بابت صحیح اور درست راہنمائی فرمائیں
گے۔
از: عبداللہ مظاہری سہارنپوری۔

21/10/2024

۔۔۔۔بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔۔۔۔

مخلص رفیق و صدیق کے خط پر ایک تبصرہ!

دل کی گہرائیوں سے:

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
بخیر ہے عزیزم؟

آج عصر کے بعد بندے نے کچھ تلاش کرنے کے لیے اپنی کتب کی ایک الماری کھولی( جو مسجد کے حجرے میں ہے) تلاش کے دوران ایک مرتبہ پھر مجھے وہ تھیلا ہاتھ لگ گیا، جو الماری کے ایک کونے میں مخفی طور سے رکھا ہوا تھا، میں نے فی الفور اسے اٹھایا اور کھولا تو اس سے ایک لفافہ اس کے اندر تین کاغذات یا خطوط برآمد ہوے، جن کو درست اور طے کرکے بڑے ہی محفوظ انداز میں ترتیب سے رکھا گیا تھا، بندے نے پہلا خط اور کاغذ کھولا اس سے محترم کی دو تصویریں برآمد ہوئیں، کافی دیر آنکھیں ان کی زیارت کرکے دل کو سکون و اطمینان اور فرحت و انبساط میسر کرتی رہی، اس کے بعد خط کو پڑھنا شروع کیا اور پڑھتے پڑھتے بس ماضی کی یادوں میں گم ہوگیا، زمانۂ طالب علمی ذہن میں گردش کرنے لگا، دماغ میں ایک ویڈیو سی چل گئ، آپ کا رہن سہن، آپ کا مطالعہ و کتب بینی، آپ کا حجرہ، آپ کی عادات و اخلاق و اطوار سب کچھ ہی آنکھوں کے سامنے آگیا۔
پھر دوسرا خط کھول کر پڑھنے لگا، اور آنجناب کی دل سوز تحریر کبھی ہونٹوں پر مسکراہٹ لے آتی اور کبھی آنکھیں پُر نم کرجاتی، اور کبھی آپ کے تعلقات پر رشک کرنے پر مجبور کردیتی۔
پھر تیسرا اور آخری خط کھولا اس میں بندے سے تعلق و محبت، الفت و مودت، خیر خواہی و ہم دردی وغیرہ کے جذبات نمایاں مکتوب تھے۔ اور اس تیسرے خط کے اخیر میں آپ نے یہ بھی تحریر فرمایا تھا کہ: "مجھے معلوم ہے کہ اس کاغذ کی اہمیت کچھ نہیں ہے، اس کا انجام یہ ہوگا کہ آپ اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ڈال دوگے"۔
یہ بات آپ کی بالکل غلط ثابت ہوئ، ہمارے تعلقات اتنے بھی پھس پھسے اور کمزور نہیں تھے اور نہ ہیں، جتنے آپ سمجھ بیٹھے تھے، الحمدللہ ان خطوط کو تقریباً دس سال ہوگئے ہیں اور آج بھی بالکل اپنی اصلی حالت میں محفوظ و مستور ہیں، اور ان شاء اللہ آئیندہ اور مستقبل میں بھی یادِ ماضی کے طور پر ایسے ہی محفوظ رہینگے۔
یقیناً ماضی چاہے جیسا بھی ہو اس کا اپنا ایک حسن ہوتا ہے، لیکن ماضی، ماضی میں رہنے کے لئے نہیں ہے۔ ماضی سیکھنے کے لئے ہے، ماضی ایک مشعل کی طرح ہے جو ہمارے مستقبل کی راہیں روشن کرتا ہے،’’یادِ ماضی‘‘ جو ہر انسان کا بیش قیمت سرمایہ ہوتی ہے اور جس میں دوسروں کو بھی لطف آتا ہے۔ اچھے دن چھن جائیں، جوانی رُخصت ہوجائے، آبائی وطن چھٹ جائے، دل میں بسنے والے بستی دور بسالیں ، خاندان میں ایک کے بعد دوسری اور تیسری نسل کی چہل پہل ہو جائے، تفریح کے ذرائع زمین سے آسمان پر پہنچ جائیں یا کچھ اور ہوجائے، انسان کے لئے یادِ ماضی بالکل ویسی نعمت ہے جیسی کسی ہمدم دیرینہ کے بارے میں ذوق نے کہا تھا کہ اس کا ملنا، ملاقاتِ مسیحا و خضر سے بہتر ہے۔ یادِ ماضی میں ایسا سرور ہے کہ گزرے وقتوں کے تلخ واقعات بھی انجانی لذت اور سکون فراہم کرتے ہیں ۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ان یادوں سے انسان کبھی بے لطف نہیں ہوتا۔ اس دریا کا پانی کبھی ساکت ہوتا ہے، کبھی مدھم سُروں میں بہتا ہے، کبھی اس کا بہاؤ تیز ہوجاتا ہے اور کبھی موجیں ساحل سے اپنا سر ٹکراتی ہیں ۔یادِ ماضی کی یہی خاص بات ہے۔ وہ اچھی دوست بھی ہے، اچھی کتاب بھی ہے، اچھی ہمسفر بھی ہے اور سب سے خاص بات یہ کہ کبھی بے وفائی نہیں کرتی۔
کاش! ماضی سے وابستہ یادیں، تعلقات اور محبتیں حال اور مستقبل میں دوبارہ پھر لوٹ آئیں۔

19/10/2024

۔۔۔۔باسمہ سبحانہ وتعالی ۔۔۔۔

*"رسمی تصوف و خلافت"!*

از✍️: عبداللہ مظاہری سہارنپوری۔

’’تصوف‘‘ جن رذائلِ اخلاق سے اپنے اندر کو پاک کرنے کی تعلیم دیتا ہے، وہ یہ ہیں :
بد نیتی ،نا شکری، جھوٹ ، وعدہ خلافی ، خیانت ، بددیا نتی ، غیبت وچغلی ، بہتان ، بد گوئی و بدگمانی، خوشامد و چاپلوسی ، بخل و حرص ، ظلم ، فخر ، ریا و نمود اور حرام خوری، و غیرہ ۔
اور جن چیزوں سے اپنے اندر کو سنوارنے کی تعلیم دیتا ہے، وہ یہ ہیں :
اخلاصِ نیت، ورع و تقویٰ ، دیانت وامانت ، عفت و عصمت ، رحم و کرم ، عدل و انصاف ، عفو و درگزر ، حلم و بردباری ،تواضع و خاکساری ، سخاوت و ایثار ، خوش کلامی وخودداری ، استقامت و استغناء وغیرہ۔ (از:رسالہ قشیریہ)
عہدِ حاضر میں دستارِ خلافت کسی کے سر پر سجنے کے لیے کبھی حسب و نسب کی متلاشی ہوتی ہے، کبھی تعلقات و چاپلوسی، ہدایا، تحائف کی متمنی ہوتی ہے، اور کبھی عہدہ و منصب کی جستجو کرتی ہے، اور جہاں، کہیں، جس، کسی میں یہ چیزیں نظر آتی ہیں بس آناً فاناً خلافت وہاں ایسی چسپاں ہوتی ہے کہ جدا ہونے کا نام ہی نہیں لیتی، موجودہ زمانے میں اس کا مشاہدہ کرنا اور اس جیسی مثالیں ملنا کوئی بعید نہیں،
بعض کو تو بندے نے یہاں تک بھی کہتے ہوے سنا کہ: فلاں بزرگ کے پاس نہیں فلاں کے پاس جانا چاہیے، کیوں کہ یہاں خلافت ملنے کے امکان زیادہ ہے(استغفراللہ)۔
ایسے بھی ہیں جو کسی اصلاحی اجلاس، یا اصلاح معاشرہ کے عنوان پر وعظ و خطابت کے لیے مدعو ہوتے ہیں، اور از خود فلاں۔۔۔خلیفۂ مجاز۔۔۔فلاں۔۔۔، یا فلاں۔۔۔خلیفۂ اجل فلاں۔۔۔، یا مجاز بیعت فلاں۔۔۔ وغیرہ کو اشتہار میں لکھوانے کو اشتہار و شہرت کا "جزءِ لا ینفک" سمجھتے ہیں۔ اگر نام کے سامنے خلیفہ کی خلافت کا مکمل تعارف نہ لکھا جاۓ تو قلب میں کبیدگی اور کشیدگی پیدا ہوجاتی ہے۔ افسوس!
جو مقصدِ اصلی تھا وہ تو معلوم نہیں اس میں کس حد تک رسائی ہوتی ہے یا نہیں، ہاں اتنا ضرور ہے کہ کسی نہ کسی طرح سعی، جد جہد اور کوششوں سے خلافت تک رسائی ہوجاتی ہے، اور نفس پھولے نہیں سماتا ہے، اور قلب میں بڑکپن کی کرنیں پھوٹنے لگتی ہے، اگر یہ سب ہو تو پھر ایسی خلافت سے وہ لوگ بھلے اور بہتر ہیں جو کسی سے سہراۓ خلافت کی تمنا تو در کنار، کسی سے بیعت بھی نہیں ہیں، کیوں کہ کم از کم ان کا نفس و قلب ان رسمی اور غیر حقیقی خلافت و بیعت سے بری ہے۔
تحریر کا مقصد کسی پر تنقید، یا کسی کی تنقیص ہرگز نہیں ہے، اس لیے اس کو نیگیٹو اور منفی پہلو کے بجائے مثبت اور پوزیٹو پہلو سے نظر کیجیے، یہ حقیقیت ہے کہ عیب سے بری اور پاک ذات خداۓ وحدہ لاشریک لہ کی ہے، ہم سب میں کوتاہیاں، خطائیں اور لغزشیں ضرور ہیں، اور ان کی درستگی کرنا، ان پر متنبہ ہونا ہی اصل تصوف و سلوک کا مقصد ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو تزکیۂ قلب کی توفیق عطافرمائے۔ قد افلح من تزکی‌۔

10/04/2024

۔۔۔۔۔۔۔بسم اللہ الرحمن الرحیم۔۔۔۔۔۔۔۔

*عید کے دن کے اعمال*

✍️ عبداللہ مظاہری سہارنپوری۔

*١*-عید کے دن صبح سویرے اٹھنا.

*٢*- نماز فجر اپنے محلہ کی مسجد میں پڑھنا.

*٣*- جسم کے زائد بال اور ناخن وغیرہ کاٹنا.

*٤*- غسل کرنا.

*٥*- مسواک کرنا.

*٦*- جو کپڑے پاس ہوں ان میں سے *اچھے عمدہ کپڑے پہننا* ، نئے ہوں تو نئے پہن لیے جائیں، ورنہ دھلے ہوے پہنے جائیں ۓ.

*٧*-خوشبو لگانا.

*٨*- اگر صدقہ فطر ادا نہ کیا ہو تو عید کی نماز سےپہلے پہلے صدقہ فطر ادا کرنا.

*٩*- عید الفطر کی نماز کے لیے جانے سے پہلےکوئ میٹھی چیز (کجھور، چھوارے، وغیرہ) کھا لینا، (اگر میٹھی چیز نہ ہو تو کوئ بھی چیز کھا لی جائے).

*١٠*- عید گاہ کی طرف جلدی جانا.

*١١*- عید گاہ پیدل چل کر جانا ، (البتہ اگر کوئی عذر ہو تو سواری پر جانے میں کوئ مضائقہ نہیں).

*١٢*- نمازِ عید عید گاہ میں ادا کرنا (اگر کوئ عذر نہ ہو).

*١٣*- عیدگاہ کی طرف جاتے ہوئے آہستہ آواز میں تکبیرات تشریق( *اللہ اکبر، اللہ اکبر،لا الہ الااللہ واللہ اکبر،اللہ اکبر ، وللہ الحمد*) کہتے ہوے جانا.

*١٤*-نمازِ عید ادا کرنے کے بعد واپسی پر راستہ بدل کر آنا.

*١٥*- ہر کسی سے خوش اخلاقی،اور بشاشت سے پیش آنا،اور غیض و غضب سے پرہیز کرنا.

*١٦*- اپنی وسعت کے مطابق مستحقین اور مساکین کی مدد کرنا.

*١٧*- اپنی حیثیت کے مطابق اپنے گھر والوں پر کھانے وغیرہ کے اعتبار سے کشادگی کرنا.

*١٨*- ایک دوسرے کے کو مبارک باد دینا۔( بشرطیکہ اس کو لازم و ضروری نہ سمجھاجائے).

*مستفاد* من : ("رد المحتار"،"عالم گیری"، "حلبی کبیری"،"مرقاۃ" ،"حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح"، "عمدۃ الفقہ")۔
[email protected].
8394941212.

03/04/2024

Shab-e-qadr me ye dua zaroor mange.
👉 Share with your friends.

02/04/2024

Shab-e-qadr mai konsi ibadat kre?

04/03/2024

Fajar nmaz ki sunnat kb padhen?

25/02/2024

Shab-e-barat ka roza.(15 shaban)

Want your school to be the top-listed School/college in Saharanpur?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Saharanpur